نتائج کی نمائش 1 تا: 6 از: 6

موضوع: تحقيق تاريخ پيدائش رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Oct 2012
    پيغامات
    299
    شکریہ
    0
    6 پیغامات میں 6 اظہار تشکر

    تحقيق تاريخ پيدائش رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم

    رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم کي صحيح تاريخ پيدائش نو (9) ربيع الاول ہي ہے ۔
    اس تاريخ کي تحقيق نہايت ہي آسان طريقے سے آپ خود بھي سمجھ سکتے ہيں
    ليکن اس سے قبل چند بنيادي باتيں سمجھنا ضروري ہيں:
    1- موجودہ رائج شدہ عيسوي کيلينڈر کے رائج ہونے سے پہلے سال کو 360 دن کاسمجھا جاتا تھا ليکن سن 47ق م ميں شاہ روم جوليس سيزر کے حکم پر رومي اہلعلم نے موسموں کا اندازہ لگانے کے بعد سال کو 365 دن 6گھنٹے يعني تين سالتک سال 365 دن اور چوتھے سال 366 دن يعني ليپ کا سال شمار کرنا شروع دياليکن سن 8 ق م ميں رياضي دانوں نے يہ تحقيق پيش کي کہ سورج کے گرد زمين کےايک چکر کي مدت کي مناسبت سے تقريبا 14 منٹ في سال زيادہ شمار ہوتے ہيںچنانچہ انہوں نے پوري صدي کو ليٹ کا سال شمار نہ کرنے کا حکم صادر کر دياليکن سترھويں صدي ميں پوپ گريگري سيزدھم نے اس حساب ميں بھي غلطي ثابت کرتےہوئے اور سورج کے گرد زمينکے ايک چکر اور سال کے دورانيے ميں مطابقتپيدا رہنے کے ليے ہر چوتھي صدي کو ليپ کا سال قرارد ديا ۔جبکہ باقي صديوںمثلا 1500 , 1700 کي طرح کے سالوں کو 365 دنوں کا سال شمار کيا جانے لگا۔اور يہي کيلينڈر آج تک رائج ہے ۔
    ..
    2- ہجري تقويم کا دارومدار چاند کي زمين کے گرد گردش پر ہے ۔ ماہرين فلکيات اور ہيت دانوں کےبہت محتاط حساب کے مطابق چاند زمين کے گرد ايک چکر 29 دن 12گھنٹے 44 منٹ 2.8 سيکنڈ ميں مکمل کرتا ہے۔ يعني ہجري مہينے کا دورانيہ 29 دن 12گھنٹے 44منٹ 2.8 سيکنڈ يعني 29.5305879دن بنتا ہے
    تو ايک ہجري سال کا دورانيہ 29.5305879 ضرب 12 يعني کل 354.3670555 دن بنتا ہے
    3- ايک اہم ترين بات ذہن نشيں رہے کہ منازل قمر ميں بےترتيبي پائي جاتي ہے جس کي وجہ سے عام ہجري سالوں اور ليپ سالوں ميں کوئيخاص ترتيب قائم نہيں رہتي ليکن اتنا ضرور ہے کہ 30ہجري سالوں ميں 11 سالليپ کے ہوتے ہيں يعني مکمل 355 دنوں کے ۔
    ان بنيادي باتوں کو سمجھنے کے بعد اب ہم چلتے ہيںرسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم کي تاريخ پيدائش کي تحقيقکي طرف۔
    بلحاظ تقويم قمري
    نبي کريم صلى اللہ عليہ وسلم کا سال ولادت 53ق ھ (قبل از ہجرت)
    محرم الحرام 53ق ھ سے ذوالحجہ 1431 تک کل سال بنے 1431+53= 1484 سال
    ايک ہجري سال کا دورانيہ = 354.3670555 دن
    1484 سالوں کے کل دن 1484* 354.3670555 = 525880.710362 دن
    يعني يکم محرم الحرام سن 53ق ھ تا يکم محرم الحرام 1432ھ کل دن 525880 دن
    (اعشاريہ کا جو فرق ہے وہ منازل قمر کي بناء پر ہے )
    تو 9 ربيع الاول 53ق ھ تا يکم محرم الحرام 1432ھ کل دن بنے محرم کے تيس اورصفر کے 29 اور ربيع الاول کے 8 دن نفي کرکے يعني 67 - 525880 = 525813 دن ۔
    دنوں کي تعداد بلحاظ شمسي تقويم:
    9 ربيع الأول سن 53 ق م بمطابق 22 اپريل 571م سے يکم محرم الحرام 1432ھ بمطابق 7 دسمبر 2010م تک بننے والے کل دن معلوم کرنے کے ليے :
    يکم جنوري تا 7 دسمبر کل دن = 340 دن
    (7ستمبر کو شمار نہيں کيا گيا کيونکہ 7 ستمبر کو يکم محرم 1432ھـ تاريختھي اور ہميں صرف اور صرف ہجري سالوں کے دن شمار کرنا ہيں تاکہ مکمل 1431سالوں کے دن سامنے آسکيں )
    22 اپريل 571م سے 31 دسمبر 571م تک کل دن = 254 دن
    يکم جنوري 572م تا 31 دسمبر 600م تک کل دن = 365*29 + 7ليپ کے دن = 10592 دن
    يکم جنوري 601م تا 31 دسمبر 700م تک کل دن = 365 * 100 + 24 ليپ کے دن = 36524 دن
    يکم جنوري 701م تا 31 دسمبر 800 تککل دن = 365*100 + 25 ليپ کے دن (800 ليپ ) = 36525 دن
    يکم جنوري 801م تا 31 دسمبر 900م تک کل دن = 365 ضرب 100 جمع 24 ليپ کے دن = 36524 دن
    يکم جنوري 901 تا 31 دسمبر 1000 م تک کل دن = 365ضرب 100 جمع 24 ليپ کے دن = 36524 دن
    يکم جنوري 1001 تا 31 دسمبر 1100 م کل دن = 365 ضرب 100 جمع 24 ليپ کے دن = 36524 دن
    يکم جنوري 1101م تا 31 دسمبر 1200م کل دن = 365 ضرب 100 جمع 25 ليپ کےدن (1200 ليپ سال تھا) =36525 دن
    يکم جنوري 1201 تا 31 دسمبر 1300م کل دن = 365ضرب 100 جمع 24 ليپ کے دن = 36524 دن
    يکم جنوري 1301 تا 31 دسمبر 1400م کل دن = 365 ضرب 100 جمع 24 ليپ کے دن = 36524 دن
    يکم جنوري 1401م تا 31 دسمبر 1500م کل دن = 365ضرب 100 جمع 24 ليپ کے دن = 36524 دن
    يکم جنوري 1501م تا 31 دسمبر 1600م کل دن = 365ضرب 100 جمع 25ليپ کے دن (1600 ليپ تھا) 36525 دن
    يکم جنوري 1601 تا 31 دسمبر 1700م کل دن = 365 ضرب 100 جمع 24 ليپ کے دن = 36524 دن
    يکم جنوري 1701م تا 31 دسمبر 1800م کل دن = 365 ضرب 100 جمع 24 ليپ کے دن = 36524 دن
    يکم جنوري 1801 تا 31 دسمبر 1900م کل دن = 365 ضرب 100 جمع 24 ليپ کے دن = 36524 دن
    يکم جنوري 1901 تا 31 دسمبر 2000 م کل دن 365 ضرب 100 جمع 25 ليپ کے دن ( 2000 ليپتھا) = 36525 دن
    يکم جنوري 2001 تا 31 دسمبر 2009م کل دن 365 ضرب 9 جمع 2 ليپ کے دن = 3287 دن

    پس ثابت ہوا کہ 22 اپريل 571م تا 7 دسمبر 2010م تک کل دن 525813 دن بنتے ہيں
    چونکہ 9 ربيع الاول 53 ق ھ سے يکم محرم الحرام 1432ھ تک بننے والے دن بحسابقمري تقويم بھي 525813 ہي بنتے ہيں تو ثابت ہوا کہ 22 اپريل 571م بمطابق 9ربيع الأول 53 ق ھ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم کي تاريخ پيدائش ہے
    اب اس تاريخ پيدائش کا دن معلوم کرنے کے ليے انہي دنوں کو ہفتوں ميں تقسيم کريں
    يعني
    525813 تقسيم 7 = 75116 ہفتے اور 1 (ايک ) دن
    تو سات دسمبر 2010م کو دن تھا منگل
    لہذا منگل سے ايک دن پيچھے جائيں تو کونسا دن بنتا ہے = سموار کا
    ليجئے جناب
    رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم کي تاريخ پيدائش اور يوم پيدائش کا آسان ساطريقہ تحقيق جسکے ذريعہ سے آپ شمسي يا قمري تقويم ميں سے جس تقويم کو چاہيںاپنا کر صحيح دن اور تاريخ معلوم کر سکتے ہيں
    اور ہماري اس تحقيق کا خلاصہ نکالا کہ
    رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم سموار کے دن 9 ربيع الأول 53 سال قبل از ہجرت بمطابق 22 اپريل 571 ميلادي کو اس دنيا ميں تشريف لائے

  2. #2
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Oct 2012
    پيغامات
    299
    شکریہ
    0
    6 پیغامات میں 6 اظہار تشکر

    یومِ ولادت کی تاریخ

    یومِ ولادت کی تاریخ
    تمام مؤرخین اور اصحاب ِسیر کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آنحضرتﷺ کی ولادت باسعادت سوموار کے دن ہوئی جیسا کہ صحیح مسلم وغیرہ کی درج ذیل روایت سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جب اللہ کے رسولﷺ سے سوموار کے روزہ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپﷺنے ارشاد فرمایا:
    ’’ذاک یوم ولدت فیہ ویوم بعثت أو أنزل علی فیہ‘‘
    ’’یہی وہ دن ہے جس میں میں پیدا ہوا اور جس میں مجھے منصب ِرسالت سے سرفراز کیا گیا۔‘‘ (مسلم: کتاب الصیام: باب استحباب صیام ثلاثۃ ایام ؛۱۱۶۲)
    البتہ اس بات میں اختلاف ہے کہ حضورﷺ کی تاریخ ولادت کیا ہے۔ حافظ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں کہ اس بات پر اتفاق ہے کہ
    حضورﷺعام الفیل (یعنی جس سال ابرہہ نے ہاتھیوں کے لشکر سے بیت اللہ شریف پر حملہ کیا)میں پیدا ہوئے۔
    نیز فرماتے ہیں کہ
    اس میں بھی اختلاف نہیں کہ آپ ﷺ سوموار کے روز پیدا ہوئے۔ نیز لکھتے ہیں کہ جمہور اہل علم کا مسلک یہ ہے کہ آپﷺ ماہ ربیع الاول میں پیدا ہوئے لیکن یہ کہ آپ ﷺاس ماہ کے اول، آخر یا درمیان یا کس تاریخ کو پیدا ہوئے؟ اس میں مؤرخین اور سیرت نگاروں کے متعدد اقوال ہیں کسی نے ربیع الاول کی دو تاریخ کہا، کسی نے آٹھ، کسی نے دس، کسی نے بارہ، کسی نے سترہ، کسی نے اٹھارہ اور کسی نے بائیس ربیع الاول کہا۔ پھر حافظ ابن کثیر نے ان اقوال میں سے دو کو راجح قرا ردیا، ایک بارہ اور دوسرا آٹھ اور پھر خود ان دو میں سے آٹھ ربیع الاول کے یوم ولادت ہونے کو راجح قرار دیا۔ (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو البدایۃ والنھایۃ: ص۲۵۹ تا ۲۶۲؍ ج۲)
    علاوہ ازیں بہت محققین نے ۱۲ کی بجائے ۹ ربیع الاول کو یومِ ولادت ثابت کیا ہے ، مثلاً
    قسطنطنیہ کا مشہور ہیئت دان:قسطنطنیہ (استنبول) کے معروف ماہر فلکیات اور مشہورہیئت دان محمود پاشا فلکی نے اپنی کتاب ’التقویم العربی قبل الاسلام‘ میں ریاضی کے اصول و قواعد کی روشنی میں متعدد جدول بنا کر یہ ثابت کیا ہے کہ
    ’’عام الفیل ماہ ربیع الاول میں بروز سوموار کی صحت کو پیش نظر اور فرزند ِرسول ’حضرت ابراہیمؑ ‘ کے یومِ وفات پرسورج گرہن لگنے کے حساب کو مدنظر رکھا جائے تو آنحضرت ﷺ کی وفات کی صحیح تاریخ ۹ ربیع الاول ہی قرار پاتی ہے اور شمسی عیسوی تقویم کے حساب سے یومِ ولادت کا وقت ۲۰ ؍اپریل ۵۷۱ء بروز پیر کی صبح قرار پاتا ہے۔‘‘ (بحوالہ محاضراتِ تاریخ الامم الاسلامیہ از خضری بک :ص۶۲ ج۱/ حدائق الانوار:ص۲۹ ؍ج۱)
    رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے زیر اہتمام سیرت نگاری کے عالمی مقابلہ میں اوّل انعام پانے والی کتاب ’الرحیق المختوم‘ کے مصنف کے بقول
    ’’رسول اللہ ﷺ مکہ میں شعب بنی ہاشم کے اندر ۹؍ ربیع الاول سن۱، عام الفیل یوم دو شنبہ (سوموار) کو صبح کے وقت پیدا ہوئے۔‘‘ (ص:۱۰۱)
    برصغیر کے معروف مؤرخین
    مثلاً علامہ شبلی نعمانی، قاضی سلیمان منصور پوری، اکبر شاہ نجیب آبادی وغیرہ نے بھی ۹؍ ربیع الاول کے یوم ولادت ہونے کو ازروئے تحقیق ِجدید صحیح ترین تاریخ ولادت قرار دیا ہے۔ (دیکھئے:سیرت النبی از شبلی نعمانی : ص۱۷۱؍ ج۱/تاریخ اسلام از اکبر شاہ :ص۸۷ ؍ج۱/رحمۃ للعالمین از منصور پوری: ص۳۶۱ ؍ج۲)

  3. #3
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Oct 2012
    پيغامات
    299
    شکریہ
    0
    6 پیغامات میں 6 اظہار تشکر

    12 ربیع الاول یوم وفات ہے !

    12 ربیع الاول یوم وفات ہے !
    جمہور مؤرخین اور سیرت نگاروں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ۱۲؍ ربیع الاول حضور ﷺ کا یوم وفات ہے۔ بطورِ مثال چند ایک حوالہ جات سپردِ قلم کئے جاتے ہیں:
    1۔ابن سعد، حضرت عائشہ اور حضرت عبداللہ بن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ ربیع الاول کی بارہ تاریخ کو فوت ہوئے۔ (طبقات ابن سعد : ص۲۷۲ ج۲)
    2۔حافظ ذہبی نے بھی اسے نقل کیا ہے ۔ (دیکھئے تاریخ اسلام از ذہبی: ص۵۶۹)
    3۔حافظ ابن کثیر ابن اسحق کے حوالہ سے رقم طراز ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ۱۲؍ ربیع الاول کو فوت ہوئے۔ (البدایۃ والنھایۃ: ۲۵۵؍۵)
    4۔مؤرخ ابن اثیر رقم طراز ہیں کہ نبی اکرمﷺ۱۲؍ ربیع الاول بروز سوموار فوت ہوئے۔ (اسدالغابۃ: ۴۱؍۱/الکامل:۲۱۹؍۴)
    5۔حافظ ابن حجرؒ نے بھی اسے ہی جمہور کا موقف قرار دیا۔ (فتح الباری ۲۶۱؍۱۶)
    6۔محدث ابن حبان کے بقول بھی تاریخ وفات ۱۲ ربیع الاول ہے۔ (السیرۃ النبویۃ لابن حبان: ص۴۰۴)
    7۔امام نووی نے بھی اس کی تائید کی ہے۔ (شرح مسلم :۱۵؍۱۰۰)
    8۔مؤرخ و مفسر ابن جریر طبری نے بھی ۱۲؍ ربیع الاول کو تاریخ وفات قرار دیا ہے۔ (تاریخ طبری:۲۰۷؍۳)
    9۔امام بیہقی کی بھی یہی رائے ہے۔ (دلائل النبوۃ: ۲۲۵؍۷)
    10۔ملا علی قاری کا بھی یہی فیصلہ ہے ۔ (مرقاۃ شرح مشکوٰۃ: ۱۰۴؍۱۱)
    11۔سیرت نگار مولانا شبلی نعمانی کا بھی یہی فتویٰ ہے۔ (سیرت النبی: ص۱۸۳؍ج۲)
    12۔قاضی سلیمان منصور پوری کی بھی یہی رائے ہے۔ (رحمۃ للعالمین:ص۲۵۱ ج۱)
    13۔صفی الرحمن مبارکپوری کا بھی یہی فیصلہ ہے۔ (الرحیق: ص۷۵۲)
    14۔ابوالحسن علی ندوی کی بھی یہی رائے ہے۔ (السیرۃ النبویۃ: ص۴۰۴)
    15۔مولانا احمد رضا خان بریلوی کا بھی یہی فیصلہ ہے کہ اللہ کے رسولﷺ۱۲ ربیع الاوّل کو فوت ہوئے۔ (ملفوظات)

  4. #4
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    تحقيق تاريخ پيدائش رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم

    اس بارے ہم بچپن میں سنا کرتے تھے کہ آج بارہ وفات یعنی بارہ ربیع الاول ہے ، اس پر کبھی بھی اختلاف نہیں ہوا ،

    پیدائش کی تاریخ پر البتہ کچھ اختلاف ہیں ، اس میں کچھ 9 ربیع الاول ، یا دس یا 12 ربیع لاول کہتے ہیں ، اور اغلبیت 12 ربیع الاول کو ہی تاریخ پیدائش ہی سمجھتے ہیں ،
    ،،،،،،،،،،،،،،، سب بہتر بات اللہ تعالی ہی جانتے ہیں ،

  5. #5
    مبتدی
    تاريخ شموليت
    May 2013
    پيغامات
    2
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    جواب: تحقيق تاريخ پيدائش رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم

    مکرمی جناب!
    آپکا سیرت کی کتب کی تفصیل والا صفحہ دیکھا تو آپ کے دوسرے مضامین دیکھنے کی خواہش ہوئی۔۔۔۔ماشاءاللہ آپکا ذہن خوب کام کرتا ہے۔۔۔۔
    مگر سوال یہ ہے کہ آپ ایسی "فضولیات" یعنی نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تاریخ پیدائش بذریعہ حساب کتاب معلوم کرنے" کی طرف آپ نے بلا وجہ اپنا ذہن خرچ کر دیا
    اور ایک سادہ سے پیارے سے معاملے کو اتنا لمبا چوڑا مضمون لکھ کر گمراہ کرنے کی نادانستہ کوشش کردی۔۔۔۔

  6. #6
    مبتدی
    تاريخ شموليت
    May 2013
    پيغامات
    2
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    جواب: تحقيق تاريخ پيدائش رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم

    نبی پاک صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تاریخ ولادت ۱۲ ربیع الاول ہی ہے۔۔۔۔۔شکریہ

متشابہہ موضوعات

  1. فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم
    By ساجد تاج in forum میری پسندیدہ شاعری
    جوابات: 6
    آخری پيغام: 12-25-2012, 10:58 PM
  2. اُمتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم
    By ساجد تاج in forum میری پسندیدہ شاعری
    جوابات: 0
    آخری پيغام: 12-23-2012, 01:04 PM
  3. عاشق رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم
    By زوہا in forum حمد و نعت
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 07-04-2012, 11:19 PM
  4. جوابات: 0
    آخری پيغام: 02-09-2011, 01:13 AM
  5. جوابات: 2
    آخری پيغام: 01-30-2011, 09:55 PM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University