نتائج کی نمائش 1 تا: 5 از: 5

موضوع: سلطان سلیم یاووز

  1. #1
    رکنِ خاص ابوسفیان کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Apr 2012
    پيغامات
    425
    شکریہ
    90
    13 پیغامات میں 18 اظہار تشکر

    سلطان سلیم یاووز

    [size=x-large][align=center]


    سلیم اول
    ♔♔♔
    سلیم اول (المعروف سلیم یاووز) (پیدائش: 10 اکتوبر 1465ء، انتقال 22 ستمبر 1520ء) 1512ء سے 1520ء تک سلطنت عثمانیہ کے سلطان تھے۔ سلیم کے دور میں ہی خلافت عباسی خاندان سے عثمانی خاندان میں منتقل ہوئی اور مکہ و مدینہ کے مقدس شہر عثمانی سلطنت کا حصہ بنے۔ اس کی سخت طبیعت کے باعث ترک اسے "یاووز" یعنی "درشت" کہتے ہیں۔

    تخت نشینی

    انہوں نے اپنے والد بایزید ثانی کو تخت سے اتارا اور خود حکومت سنبھالی۔ قانون کے مطابق انہوں نے تخت سنبھالتے ہی اپنے تمام بھائیوں اور بھتیجوں کو قتل کر ڈالا

    فتوحات

    سلیم اول سلطنت عثمانیہ کے عظیم فاتحین میں سے ایک تھا اور اس کی خصوصیت یہ تھی کہ اس نے مغرب کی جانب پیش قدمی کے بجائے مشرق کو میدان جنگ بنایا کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ جب تک سلطنت عثمانیہ کے برابر میں صفوی اور مملوک حکومتیں قائم ہیں تب تک یورپ میں پیش قدمی نہیں کی جاسکتی۔ اس نے جنگ مرج دابق اور جنگ ردانیہ میں مملوکوں کو شکست دے کر شام، فلسطین اور مصر کو عثمانی قلمرو میں شامل کیا۔ مملوکوں کی اس شکست سے حجاز اور اس میں واقع مکہ و مدینہ کے مقدس شہر بھی عثمانی سلطنت کے زیر اثر آگئے۔ اس فتح کے بعد قاہرہ میں مملوکوں کے زیر نگیں آخری عباسی خلیفہ المتوکل ثالث سلیم اول کے ہاتھوں خلافت سے دستبردار ہوگیا اور یوں خلافت عباسی خاندان سے عثمانی خاندان کو منتقل ہوگئی۔

    سلیم نے اپنے لئے حاکم الحرمین کے بجائے خادم الحرمین الشریفین کا لقب پسند کیا اور خلافت حاصل کرکے خلیفہ و امیر المومنین کہلایا۔

    مصر سے نمٹنے کے بعد سلیم نے ایران کی صفوی سلطنت کے خلاف جنگ کا آغاز کیا اور شاہ اسماعیل اول کو جنگ چالدران میں بدترین شکست دی اور صفویوں کے دارالحکومت تبریز پر بھی قبضہ کرلیا تاہم اس نے قدرت پانے کے باوجود ایران کو اپنی سلطنت میں شامل نہیں کیا۔ سلیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اہل تشیع سے شدید نفرت کرتا تھا اور ایران میں اہل تشیع کی اکثریت کو ایران پر قبضہ نہ کرنے کی اہم ترین وجہ سمجھا جاتا ہے۔

    اپنے دور حکومت میں سلیم نے عثمانی سلطنت کا رقبہ 25 لاکھ مربع کلومیٹر سے 65 لاکھ مربع کلومیٹر تک پہنچادیا۔

    مصر کی مہم سے واپسی کے بعد سلیم نے جزیرہ رہوڈس پر چڑھائی کی تیاری شروع کی تاہم اس دوران وہ بیمار پڑ گیا اور 9 سال تک پایۂ تخت سنبھالنے کے بعد انتقال کرگیا۔ اس وقت اس کی عمر 54 سال تھی۔

    سلیم فارسی اور ترک دونوں زبانوں میں شاعری بھی کرتا تھا۔

    سلیم ایک بہترین فاتح ہونے کے باوجود ظالم شخص تھا اس لئے ترک اسے یاووز یعنی مہیب کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اس کا دور حکومت مختصر لیکن فتوحات کے لحاظ سے سب سے اہم تھا۔

    ♔ ♔ ♔ ♔ ♔ ♔ ♔ ♔ ♔ ♔ ♔ ♔ ♔
    [size=xx-small]
    ویکیپیڈیا® [/align][/size]
    [/size]

  2. #2
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    831
    شکریہ
    246
    110 پیغامات میں 168 اظہار تشکر

    سلطان سلیم یاووز

    بہت بہت شکریہ جناب مفید معلومات کا

  3. #3
    رکنِ خاص ابوسفیان کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Apr 2012
    پيغامات
    425
    شکریہ
    90
    13 پیغامات میں 18 اظہار تشکر

    سلطان سلیم یاووز


  4. #4
    رکنِ خاص نگار کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2011
    پيغامات
    5,360
    شکریہ
    663
    357 پیغامات میں 424 اظہار تشکر

    سلطان سلیم یاووز

    اضافی معلومات پہنچانے پہ آپ کا بہت بہت شکریہ

  5. #5
    رکنِ خاص ابوسفیان کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Apr 2012
    پيغامات
    425
    شکریہ
    90
    13 پیغامات میں 18 اظہار تشکر

    سلطان سلیم یاووز

    پسند کرنےکا
    شکریہ ❦

متشابہہ موضوعات

  1. اب وینڈوز 7 اردو زبان میں ،، اپنی زبان کو فروغ دیں
    By یاسرمحمود in forum انفارمیشن ٹیکنالوجی
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 01-03-2012, 09:12 AM
  2. ونڈوز سیون میں پوشیدہ تھیمز
    By این اے ناصر in forum سیکھیں اور سکھائیں
    جوابات: 4
    آخری پيغام: 04-18-2011, 01:31 PM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University