نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: حضرت ابو ايوب انصاری

  1. #1
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    حضرت ابو ايوب انصاری

    [align=center]حضرت ابو ايوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ ♥
    =======================

    [/align]
    خالد بن زيد سے کہہ دو کہ وہ نماز پڑھائيں
    يہ آواز حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کی تھی۔آپ نے يہ الفاظ اس وقت ارشاد فرمائے تھے جب عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر کا باغيوں نے محاصرہ کر رکھا تھا اور مسجد نبوی ميں نمازی امام کے انتظار ميں کھڑے تھے۔۔۔صحابہ رضی اللہ تعالی عنہ جان نہ سکے کہ” خالد بن زيد” کون ھيں۔جب صفوں سے يہ پکارا گيا تو سب منتظر ين حيران ھو کر اس و جيہہ اور خو بصورت چہر ے کو ديکھنے لگ گئے۔جنھيں وہ خا لد بن زيد کے نام سے زيادہ “ابو ايوب انصا ری رضی اللہ تعالی عنہ ” کی کنيت سے جانتے تھے۔
    حضرت ابو ايوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رفيق سفر و حضر
    راہ علم ميں آبلہ پائی کے درد سے لذت آشنا غلام رسول اتباع رسول کی روشنيوں سے نور مند عظيم صحابی
    پير ی کی حواس شکن عمر ميں شباب زليخا کی تصو ير حق گو ئی کے خوف آ فرين پل صراط پر شعلہ نظر بر ق سوار اہل تا ريخ نے سلسلہ نسب يوں بيان کيا ھے۔
    خالد بن زيد کليب بن ثعلبہ بن عبد عوف خزرجی
    آپ کی والدہ ماجدہ کا اسم گرامی ھند بنت سعد خزرجی تھا۔مولد مد ينتہ الرسول اور سن ولادت ہجرت سے ا کيس سال پہلے عام الفيل تھی۔آپ کے خاندان بنو نجار کو عربوں ميں نہايت مقبوليت اور وقار حاصل تھا۔سعادتوں کی انتہا کہ یہی خانوادہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نانہال ھونے کے فضل سے بہرہ مند تھا۔حضرت ابو ايوب انصا ر ی رضی اللہ تعا لی عنہ اس عظيم خاندان کے رئيس تھے۔
    آپ کی زندگی کے افق پر سعادتوں اور تابندہ بختگيوں کا سورج اس وقت طلوع ھوا جب آپ حضرت مصعب رضی اللہ عنہ کی دعوتی سرگرميوں کے نتيجہ ميں اسلام کی چو کھٹ پر بوسہ زن ھوئے۔اسلام کے نو ر نے ان کے دل ميں حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم کو ديکھنے کی تڑپ پيد ا کر دی۔زيارت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا شوق ان کو ہمہ دم بے تاب رکھتا۔آپ ہميشہ حضر ت مصعب رضی اللہ عنہ سے پوچھتے جان کائنات کے حضور حاضری کب ھو رھی ھے۔
    اعلان نبو ت کا تيرھوان سال تھا کہ دل بے تاب سے اٹھنے والی آرزؤں کو مثردہ تکميل سنايا گيا اور ايک قا فلہ جاں مست اور کاروان دنيا سوز رحمت عالمياں صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور عاجز ی دينے کے لئے روانہ ھوا۔پچھتر افراد کے اس عظيم کارواں ميں حضرت ابو ايوب انصاری رضی اللہ تعا لی عنہ بھی شامل تھے۔شب عقبہ کی تنہائيوں ميں حضرت ابو ايوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ اپنے باقی ساتھيوں کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دست تقدير بدل ميں ہاتھ دے کر جو پيما ن وفا با ندھ رھے تھے وہ يہ تھا۔
    خدائے بزرگ و بر تر اور
    رب ذوالجلال کی قسم
    ھم اپنی جانوں اور مالوں کے سا تھ
    آپ کی حفاظت کريں گے
    ھم نا مرد نہيں
    ھم نے تلواروں کے سايوں ميں پرورش پائی ھے
    رسالتما ب صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کے لئے مدينہ کی طرف روانہ ھو ئے تو راستے ھی ميں حضرت ابو ايوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف سے ہزاروں سال پہلے لکھا ھوا تبع الحمير ی کا خط ايک قاصد کے ذريعے پہنچا جسے پڑ ھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا د فرمايا
    مرحبا يا اخ الصالح ، مرحبا اے ميرے صالح بھائی
    سوال يہ ھے کہ حضر ت ابو ايوب انصاری رضی اللہ تعا لی عنہ نے سالہا سال سے اپنے خا ندان ميں چلنے والی اس امانت کے پہنچانے کے لئے اسی وقت کا انتخاب کيوں فر مايا۔سوائے اس توجیہہ کے اور کيا معقول وجہ ھو سکتی ھے کہ آمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خو شيوں ميں مد ينہ کے کوچہ و بازار بھی گويا جشن منا رھے تھے۔وادی پرنور کا ھر ذرہ مسرتوں کی لہروں ميں ڈوبا ھوا تھا۔ھر گھر اور ھر در انتظار کے شو ق ميں “والضحی”کی روشنيوں سے جگمگا رہا تھا۔لوگ بے پاياں شوق اور فراواں سينوں ميں سجائے ھر صبح شہر سے باھر نکل آتے۔درد انتظار ميں سوز سے معمور اشعار پڑھے جاتے۔بچياں دف بجاتيں اور پردردگيتوں سے فضا لرز اٹھتی۔عشاق،رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ياد کرتے اور آنسو بہاتے۔وہ لوگ جو چلچلا تی دھوپ ميں سارا سارا دن حرہ کی گرمی ميں زيارت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا شوق لئے کاٹ ديتے ان ميں حضرت ابو ايوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ بھی ھوتے اور اس اميد سے کہ ميری تاريخی امانت کا حامل خط مير ے شوق فراواں کا مظہر بن کر شا يد مجھے ميزبانی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے منتخب کروا دے۔
    ايک روز دن کی روشنيوں کو رات کے اندھيرے الوداع کہنے کے لئے تياری کر رھے تھے کہ ايک يہودی نے يہ آواز لگائی۔
    “بنو قيلہ تمہارے صاحب آ پہنچے ھيں”
    يہ آواز کيا ابھری کہ قبا و مد ينہ کی فضائيں جھوم اٹھيں۔
    نعر ے گونجے
    گيت تھر ائے
    دف بجے
    بچوں نے مرحبا مرحبا کی صداؤں سے جنون و جذب کا عجب سماں باندھ ديا۔قبا کی وادی حسن افروز نغموں کی صداؤں سے لبريز ھو گئ۔
    طلع البدر علينا
    من ثنيات الوداع
    وجبت شکر علينا
    ما دعا للہ داع
    حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے چند دن قبا ھی ميں قيام فرمايااور پھر ضيائے حق اور نور رب يثرب کی طرف بڑھا اور اپنی نگاہ تز کيہ نواز سے اسے دھو کر رکھ ديا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی قصوا پر سوار تھے۔ھر شخص محو انتظار تھا کہ اسکی قيام گاہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم مدينہ ميں اپنا آستاں قرار ديں گے ليکن کو کبہ نبو ی آگے ھی آگے بڑھتا جا رہا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فر ما رھے تھے۔
    خلوا سبيلھا فانہا مامورة
    اونٹنی کا راستہ چھو ڑ دو يہ اللہ کی طر ف سے مامور ھے۔
    قصو ا آگے بڑ ھتی گئی اور اس قعطعہ ارض پر جا پہنچی جہاں لا کھو ں فرشتوں کا نزول ھوتا رھتا ھے۔”مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم”کاجہا ں بڑا دروازہ ھے بالکل اس جگہ پہنچ کر اونٹنی بيٹھ گئی ليکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نيچے نہ اتر ے۔اونٹنی پھر اٹھی اور تھو ڑی دور جا کر واپس آگئی اور پہلے والی جگہ پر پاؤں جما کر بيٹھ گئی۔اس جگہ کے بر ابر ميں مٹی سے بنا ھوا چھو ٹا سا ايک گھر تھا جس ميں ديناوی ساز و سامان کی بہتات نہ تھی۔گھر کا مالک نہايت انکساری کے ساتھ کہہ رہا تھا۔”يا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم يہ مسکين ابو ايوب انصا ری کا گھر ھے اجا زت ھو تو سامان اتارلوں۔”حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم نے تسکين قلوب اور تا ليف ارواح کے لئے قرعہ ڈلوايا اور حسن اتفاق کہ قرعہ پھر حضرت رضی اللہ تعا لی عنہ کے نام نکل پڑا۔اس پر حضرت ابو ايوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ اہلاً و سہلاً کہتے ھوئے اپنے گھر لے گئے۔
    حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو ايوب انصاری رضی اللہ تعا لی عنہ کے گھر تقر يبا ًپانچ مہينے تک فروکش رھے۔اس عر صہ ميں حضرت ابو ايوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کی نيازمندی کے جو مناظر سامنے آئے وہ انہی کا حصہ ھيں۔ايک مر تبہ پانی کا گھڑا ٹوٹ گيا اور خطرہ ھوا کہ کہيں پانی نيچے بہہ کر نبی کر يم صلی اللہ علیہ وسلم کی اذيت کا سبب نہ بن جا ئے۔آپ نے اپنا لحاف اٹھا کر پانی پر ڈال ديا اور خود شب سرما جاگ کر کاٹ لی۔نبی کريم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا کہ مير ا نيچے رہنا ابو ايوب اور ام ايوب کے لئے سوہان روح بنا ھوا ھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اوپر تشريف لے گئے اور حضرت ابو ايوب نے اپنے کنبہ کے ساتھ سکونت نيچے رکھ لی۔
    صحبت رسول کريم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے اندر اطاعت اور اتباع کا جذبہ اس قدر پختہ کر ديا تھا کہ جب رحمت عا لم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا بچا ھوا کھانا آپ کو عنايت فرماتے تو حضرت ابو ايوب انصا ری رضی اللہ تعالی عنہ نبی کريم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگليوں کے نشان تلاش کرتے اور پھر ان پرانگلياں رکھ رکھ کر طعام تناول فر ما تے۔
    ايک مرتبہ نبی کريم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا تناول نہ فرمايا۔حضرت ابو ايوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ چونکہ ميزبان تھے۔آپ نے استفسار فرمايا کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانا نہ کھانے کا سبب کيا ھے۔نبی کريم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمانے لگے کہ کھانے ميں لہسن تھا اور ميں لہسن پسند نہيں کرتا۔حضرت ابو ايوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمايا يا رسول اللہ جو آپ کوناپسند ھے اسے ميں ہميشہ نا پسند رکھوں گا۔
    حضرت ابو ايوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ کی کتاب زندگی اگر غور سے پڑھی جائے تو چند چيزيں نہايت نماياں دکھائی ديں گی۔
    عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم
    راہ دين ميں جہاد
    اصول دين پر استقامت
    طلب علم ميں شوق فراواں
    حق گوئی ميں شمشير آب دار بنے رہنا
    عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اندازہ اس بات سے لگايا جا ئے کہ وصال نبو ی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ قبر انور پر ايک روز اس طر ح مستاں و پیچاں بيھٹے تھے کہ بار بار آپ کا سر ناز ضريح مبارک سے جا لگتا تھااتفاق سے مروان کا وہاں سےگذر ھوا اوراس نے حضرت کے اس فعل پر اعتراض داغ ديا۔حضرت ابو ايوب انصاری رضی اللہ تعالی عنہ فر مانے لگے تمہيں يہ مٹی دکھائی ديتی ھے ميں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س حاضر ھوا ھوں۔
    غلبہ حق کے لئے جب بھی حضو ر صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کےلئے پکارا۔حضرت ابو ايوب رضی اللہ تعالی عنہ ان کے ساتھ رھے۔بدر،احد،خندق اور ديگر کون سی جگہ ھے جہاں اس مجاہد نے مال و جان کی قربانی نہ دی ھو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفاء کے درو ميں جتنی بھی لڑائياں ھوئيں۔حضرت ابو ايوب رضی اللہ تعالی عنہ ديگر مجاہدين کے ہمرکاب رھے۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلا فت ميں امير مدينہ ھونے کا شرف بھی حاصل رہا۔اس دوران آپ کی ذات سے اہل مد ينہ نہايت خوش تھے۔حضرت حيدر کرار رضی اللہ تعالی عنہ سے آپ کو نہايت پيار تھا۔اسی حوالہ سے آپ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے ہميشہ پر جوش رفيق رھے۔ايک موقع پر فر مانے لگے مجھے کيا ھے کہ ميں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی کا ساتھ نہ دوں۔لوگو ! تمہيں ياد نہيں کہ جب مدينہ ميں حضور صلی اللہ علیہ وسلم ايک ايک مہاجر اور ايک ايک انصاری کو بھائی بھا ئی بنا رھے تھے۔مجھے مصعب بن عمير رضی اللہ تعالی عنہ کا بھائی بنايا اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے لئے کہا کہ علی دنيا اور آخرت ميں ميرا بھائی ھے۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت آپ کی چشم نم سے ہميشہ عکس ريز رہتی۔محبوب خدا کی ياد نے آپ کو حفظ حد يث اور طلب دين کا متوالا بنا ديا تھا۔حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ تعالی عنہ جس زمانہ ميں مصر کے گورنر تھے حضرت ابو ايوب رضی اللہ تعا لی عنہ کو پتہ چلا کہ ايک حديث آپ کے پاس محفوظ ھے۔آپ نے پيرانہ سالی ميں مصر کا سفر فرمايا۔وہاں پہنچ کر آپ نے حضرت عقبہ رضی اللہ تعالی عنہ سے حد يث سيکھی اور واپس مد ينہ شريف کی طرف کوچ فرمايا۔حضرت عقبہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کچھ دن آپ کو روکنا چاہا ليکن آپ نے يہ کہہ کر اجازت لے لی کہ تمہاری مہمان نوازی سے مجھے مد ينتہ الرسول صلی اللہ علی نبيناالکريم کا سفر زيادہ محبوب ھے۔

  2. #2
    رکنِ خاص ابوسفیان کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Apr 2012
    پيغامات
    426
    شکریہ
    94
    14 پیغامات میں 19 اظہار تشکر

    حضرت ابو ايوب انصاری

    [align=center]



    ايک مر تبہ آپ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعا لی عنہ کے پاس بصرہ تشريف لائے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعا لی عنہ نے اپنا گھر انکے لئے خالی کر ديا اور کہا ابو ايوب تم وہ ھو جس نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اپنا گھر خالی کر ديا تھا۔

    طبيعت ميں حيا کا غلبہ حد درجہ زيا دہ تھا۔اگر کہيں غسل کر نا ھوتا تو چار طرف کپڑا تان ليتے اور کمال ستر کا اہتمام فر ماتے۔

    قرآن مجيد کی تلاوت سے شغف کی حد تک محبت تھی۔ساری ساری رات عبادت ميں کٹ جا تی۔قرآن مجيد کی تلاوت فر ماتے رہتے اور نبی کريم صلی اللہ علیہ وسلم پر درودوسلام بھيجتے رہتے۔

    آپ بڑے جذب وشوق سے لوگوں کو حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی يہ حد يث سناتے۔

    جب نماز پڑھو تو يوں کہ معلوم ھو کہ يہ تمہاری زندگی کی آخری نماز ھے۔

    ايسی بات مت کرو جس پر تمہيں بعد ميں معذرت خواہ ھو نا پڑے۔

    جوکچھ لوگوں کے ہاتھ ميں ھو اس سے ما يوس رہنے کا الزام برتو۔

    ٥٧ ھ ميں مسلمان جب روم پر حملہ آور ھو رھے تھے تو حضرت ابو ايوب انصاری رضی اللہ تعا لی عنہ پيرانہ سالی کے با وجود سينے ميں شوق جہاد لئے اس کا روان عشق ميں شامل تھے۔اس مو قع پر آپ نے تا ريخی جملہ ادا فر مايا تھا کہ"ہلاکت جہاد ميں نہيں ترک جہاد ميں ھے"۔سوئے اتفاق کہ اس سفر جہاد ميں ايک بيماری پھيل گئی اور سينکڑوں لوگ وبا کا شکار ھو گئے۔

    حضرت خالد بن زيد

    ميزبان رسولﷺ

    غلام نبیﷺ

    امين علم

    رشک صداقت

    داعی حب و عشق بھی اسی وبا کا شکار ھو گئے۔جب بيما ری بڑھ گئی تو آپ نے فرمايا۔

    اذھبوا بحسبانی۔۔۔۔۔

    بعيدا۔۔۔۔۔

    بعيدا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فی ارض الروم

    سن لو !

    تم ميرے انتقال کے بعد۔۔۔۔۔

    ميرا جنازہ اٹھاکر۔۔۔۔۔

    دور بہت دور تک۔۔۔۔۔

    جہاں تک ھو سکے۔۔۔۔۔۔

    ميری ميت جا کر دفنا دينا۔۔۔۔۔

    اس لئے انہيں يقين تھا کہ دعا ئے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ان کا قيامت تک حصار ھو گی۔

    ايک مو قع پر آپ جان دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفا ظت ميں پہرہ دے رھے تھے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو ديکھ کر اتنا خوش ھو ئے کہ آپ نے دعا فرمائی۔

    "اے ابو ايوب ! اللہ تمہيں

    اپنی امان ميں رکھے کہ تم

    نے اسکے نبی کی نگہبانی کی"۔

    آج بھی استنبول ميں انکے مزار کے گرداگرد دعائے رسول کے اس حصا ر کو ديکھا جا سکتا ھے۔

    صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم

    کے روضہ سے پھو ٹنے والی روشنی يورپ کی طرف بڑھ رھی ھے۔

    اللہ اکبر !

    ميزبان رسول فيض رسول کا قا سم بن کر۔۔۔۔۔

    نئے سے نئے جہاں دہليز نور پر کھينچ رہا ھے۔۔۔۔۔ ! !

    سلام ھو اس کی ذات پر۔۔۔۔۔ ! !

    سلام ھو اس افکار پر۔۔۔۔۔ ! !

    سلام ھو اس کے زند ہ جذبوں پر۔۔۔۔۔ ! !

    سلام ھو اس کے اشواق واذواق پر۔۔۔۔۔ ! !

    اور سلام ھو اس کی راہ پر چلنے والوں پر۔۔۔۔۔ ! !

    اللہ اکبر !

    کتنا عظيم انسان تھا۔۔۔۔۔ ! !

    مولا ھميں بھی ان کی راہ دے دے۔۔۔۔۔ ! ! !
    ★☆✮✯★☆✮✯★☆✮✯★☆✮✯
    [/align]

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University