نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: صُفّہ اور اصحابِ صُفّہ

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Oct 2012
    پيغامات
    299
    شکریہ
    0
    6 پیغامات میں 6 اظہار تشکر

    صُفّہ اور اصحابِ صُفّہ

    مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے ساتھ مسجد کے باہر کی طرف جانب شمال ایک چبوترہ تھا۔ اس چبوترے پر ساری مسجد نبوی کی طرح کھجور کی پتیوں سے ایک چھپر ڈال دیا گیا تھا۔ اس کو صفۃ المسجد کہا جاتا تھا جو بعد کو مختصر ہو کر ’’الصفّہ‘‘ کہلانے لگا۔ مختلف زمانوں میں وہ صحابہ رضی اللہ عنہم جو بے خانماں تھے، وہ اس چبوترے پر رہا کرتے تھے اور دن کے وقت وہاں بیٹھ کر دوسرے صحابہ کرام بھی قرآن مجید یاد کرتے تھے۔ مختلف اوقات میں مختلف بزرگوں کی یہی چبوترہ رہائش گاہ رہا ہے، کسی کے لیے طویل مدت تک اور کسی کے لیے بہت تھوڑی مدت تک، اور شاید کسی کے لیے شروع سے وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ مستقل اقامت گاہ نہیں رہا۔ یہ قدسی صفات بزرگ زمانۂ قیام صفّہ میں اپنا زیادہ وقت قرآن مجید اور کلام رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ علم دین حاصل کرنے میں صرف کیا کرتے تھے یا پھر ان کی خدمات کی انجام دہی میں اپنا وقت صرف کرتے تھے جو وقتاً فوقتاً حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ان کے سپرد کی جاتی تھیں۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام قبائل تک پہنچاتے، کبھی کبھی نو مسلم جماعت کو قرآن مجید کی تعلیم دینے کے لیے بعض دوسرے مقامات پر بھی متعین کیے جاتے تھے، ان بزرگوں کو اسلامی تاریخ اور سیر میں اصحاب صفّہ، اہل صفّہ اور ارباب صفّہ سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس مختصر سی تحریر میں ان ہی بزرگوں اور ان کے ’’الصفّہ‘‘ کا ذکر مقصود ہے۔ وما التوفیق الا من اللہ العلیم الحکیم

    لفظی تشریح:

    مادۂ صف کے اصلی معنیٰ ہیں، انسانوں ، جانوروں یا کسی شے کا ترتیب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہونا۔ اسی لیے تحریر میں حروف اور الفاظ کے برابر قائم ہونے کو صفّہ اور اور سطر بھی کہتے ہیں۔ کسی بڑی تعمیر کے برابر کوئی چبوترہ بیٹھنے کے لیے بنا دیا جائے تو صفّۃ البناء یا صفّۃ البیت کہتے ہیں۔ مسجد کے ساتھ ایسی نشست گاہ بنائی جائے تو اسے صفّۃ المسجد کہا جاتا ہے۔ بعض لوگوں نے یہ فرق بھی بتایا ہے کہ بیٹھنے کی یہ جگہ کھلی ہو تو شرفتہ اور اگر چھپر ہو تو اسے سقیفہ یا صفّہ کہا جائے گا۔ سقیفہ بہت بڑے چوبارے کو کہتے ہیں اور صفّہ چھوٹے سے مُسقّف چبوترے کو۔

    صفّہ کیسے بنا؟

    مسجد نبوی کے ساتھ صفّہ مدینہ منورہ کے یا عام عرب آبادیوں کے لیے کوئی نادر اور جدید بات نہ تھی۔ گھروں کے ساتھ، باغوں میں، اور شکار گاہوں میں اس طرح کی بیٹھکیں بنائی جاتی تھیں اور انہیں صفّہ ہی کہا جاتا تھا۔ گھوڑے کی زین اور اونٹ کی کاٹھی پر نرم جگہ بنانے کے لیے نرم گھاس کی ایک گدی بناتے تھے، اسے بھی صفّۃ الرّحال کہتے تھے۔

    پہلی ہجری کے ماہ ربیع الاوّل میں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مخلص و بے مثال دوست اور امتی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ
    کو ساتھ لے کر مدینہ منورہ کے قریب مقام قبا میں تشریف لائے تو آپ نے نزول قرآن مجید کے بعد پہلی مسجد مقام قبا میں تعمیر فرمائی۔ مہاجر صحابہ رضی اللہ عنہم کی بڑی تعداد پچھلے چند ماہ کے اندر تھوڑے تھوڑے آگے پیچھے ہجرت کر کے یہاں پہنچ چکی تھی۔ اور اب یہ طے شدہ بات تھی کہ آئندہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مستقل قیام گاہ یثرب ہی ہو گا اور اسی کو اسلامی تبلیغ کے مرکز ہونے کا شرف حاصل ہونے والا ہے۔ مسلمانوں نے دار الہجرۃ یثرب کو’’ مدینۃ النبی‘‘ کہنا شروع کیا جو بعد کو المدینہ کے نام سے مشہور ہوا۔ قرآن حکیم میں اس شہر کے دونوں نام یثرب اور المدینہ کا ذکر آیا ہے۔

    اب مدینہ میں چند لوگ تو وہ آ گئے جو ہجرت کر کے آئے اور کوئی ٹھکانا نہ ہونے کی وجہ سے مسجد نبوی میں رات گزارنے کے لیے ٹھہرے۔ اسلامی تبلیغ کا دائرہ وسیع ہوا تو دور افتادہ قبیلوں سے لوگ دین کی تعلیم حاصل کرنے کو آنے لگے۔ وہاں مدینہ میں کوئی مہمان خانہ یا ہوسٹل تو نہ تھا۔ ابتداءً جو مہاجرین آئے تھے، ان کے اور انصار مدینہ کے ما بین مواخاۃ یعنی بھائی چارہ قائم کر دیا گیا تھا اور وہ اپنے انصاری بھائیوں کی مدد سے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن دو چار ایسے بھی تھے، جن کا بھائی چارہ نہیں ہوا تھا اور بعض ایسے بھی تھے کہ وہ مستقل طور پر مدینہ میں رہنے بسنے کو نہیں آئے تھے بلکہ کچھ دنوں کے لیے آئے تھے کہ اس مختصر سی مدت میں دین اسلام کی تعلیم خود زبان فیض رسان وحی و نبوت سے حاصل کریں اور اس کے بعد واپس جا کر اپنے قبیلوں کو دین کی تعلیم دیں۔

    ایک بات یہ بھی اب نئی پیدا ہو گئی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سرداری میں اب مدینہ کی شہری مملکت وجود میں آ گئی تھی۔ سربراہ قوم کو اس کی ضرورت تھی کہ اس کے احکام انتظامی کی تعمیل اور دوسری آبادیوں کو اس کے احکام پہنچانے کے لیے رضاکاروں کی ایک جماعت ہر وقت اس کے پاس موجود ہو جو بسر و چشم اس کے احکام کی تعمیل کے لیے تیار رہے، جہاں بھیجا جائے فوراً روانہ ہو جائے اور جس کو اطلاع پہنچانے کا کام اس کو سپرد کیا جائے وہ اس کام کی تکمیل میں اپنے گھریلو کاموں کی وجہ سے عاجز نہ ہو۔ یہ بالکل ظاہر ہے کہ ایک دن میں ساری امور کی تکمیل ممکن نہیں ہوتی۔ کسی حکومت و مملکت کے ضروری اجزا کی تکمیل ہمیشہ آہستہ آہستہ اور تدریجی طور پر ہوتی ہے، اس لیے ایسے رضاکاروں کے لیے سر چھپانے کی جگہ بھی فوراً کہاں بن سکتی تھی، اس صورت میں مسجدکے پاس ایک چھوٹا سا چبوترہ جس پر کھجور کی پتیوں سے چھپر ڈال دیا گیا تھا وقتی طور پر ضرورت کی تکمیل کے لیے بنا لیا گیا تھا۔ اسی چبوترے کو زمانہ کی عام بولی کے بموجب صفّۃ المسجد کہتے تھے۔

    دو یا تین صحابیان کرام کے سوا کوئی بہت بڑی تعداد اصحاب صفّہ کی ہمیشہ نہیں رہتی تھی۔ کبھی دو تین شخص ہی ہوتے تھے اور کبھی دس بیس۔ یہ بھی خیال صحیح نہیں ہے کہ یہ لوگ ہر وقت تسبیح و تہلیل میں لگے رہتے تھے اور کچھ نہ کرتے تھے۔ صفّہ کوئی مٹھ یا گھور تپسیا کا آشرم نہ تھا جہاں لوگ ہر وقت یا کم از کم روزانہ مقررہ وقت پر گیان، دھیان، مراقبہ اور مکاشفہ میں مشغول ہوتے تھے۔ یا یہ لوگ ایسے تھے کہ دنیاوی علاقات سے ہمیشہ کے لیے دستبردار ہو کر بُدھ مت کے مونڈوں کی طرح زندگی بسر کرتیتھے۔ حضرت بلال، حضرت عبداللہ بن ام عبد، حضرت ابو ہریرہ، حضرت عبداللہ بن امّ مکتوم رضی اللہ عنہم وغیرہ تو مشہور اصحاب صفّہ میں سے ہیں۔ ان کی سوانح عمریوں سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ جہاد میں شریک ہوتے تھے، مال غنیمت میں سے حصہ بھی پاتے تھے، انہوں نے شادیاں بھی کیں، صاحبِ اولاد ہوئے، ان سے نسلیں چلیں اور آج تک بعض کی نسلیں موجود ہیں۔ کیا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی حضرت سعید ابن المسیب رضی اللہ عنہ کے نکاح میں نہ تھیں، کیاحضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ۳۹ھ، میں تقریباً ایک سو پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں چھوڑ کر وفات نہیں پائی۔

    صحابہ و صحابیات کے معروف ضخیم تذکرہ مثلاً الاستیعاب لابن عبدالبر المتوفی ۴۶۳ھ، اُسد الغابہ لابن الجزری المتوفی ۶۳۰ھ، اور الاصابہ لابن حجر العسقلانی المتوفی ۸۵۲ھ، کو پوری طرح چھان ڈالیے ایسے پانچ اصحاب کا تذکرہ بھی نہیں ملے گا جنہوں نے چھ سات سال صاحب الصفّہ کی حیثیت سے زندگی بسر کی ہو، اور تین صحابہ حضرت ابوہریرہ، حضرت انس اور حضرت بلال رضی اللہ عنہم کے علاوہ کسی چوتھے صحابی کا ذکر نہیں ملے گا۔ جنہوں نے مقیم صفّہ ہونے کی چھوٹی یا بڑی مدت میں خود اپنے لیے معاش محنت مزدوری، زراعت یا ملازمت سے حاصل نہ کی ہو اور ایک بھی ایسے صاحب الصفّہ صحابی کا ذکر نہیں ملے گا جنہوں نے پھونگیوں، نہنگوں، راہبوں اور جوگیوں کی طرح تارک الدنیا بن کر گیان و دھیان میں زندگی بسر کی ہو۔وقتی طور پر ہفتہ دو ہفتہ کے لیے فقر و فاقہ کے ساتھ خیرات و مبرات پر بسر کرنے والے بھی دو چار ہی ملیں گے۔ جن میں مذکورہ بالا تینوں بزرگ داخل ہیں۔ یہ یادرکھنا چاہیے کہ بعض اصحابِ صفّہ سرکاری نوکر تھے، کوئی صدقہ کے اونٹوں کی نگرانی پر، کوئی زکوٰۃ کی وصولی پر اور کوئی تعلیم قرآن مجید پر مامور تھا۔ خوش حال صحابہ ان کی کبھی کبھی امداد بھی کرتے تھے لیکن امداد پر ہی ان کا گزارہ نہیں ہوتا تھا، بلکہ وہ اپنی محنت اور وقت کے عوض تنخواہیں اور اجرتیں پاتے تھے۔ بعض وہ لوگ بھی تھے جو دوسرے صحابہ کے زراعتی و تجارتی کاموں میں شریک ہو کر مزدوریاں کرتے تھے اور فارغ وقت تعلیم حاصل کرتے تھے۔ متعدد بزرگ وہ بھی تھے جنہوں نے دو چار مہینے صفہ پر رہنے کے بعد اتنی مزدوری کما لی کہ نکاح کر کے اپنا گھر بسا لیا، پھر بھی محنت مزدوری سے جو وقت بچ گیا وہ صفہ پر پابندی کے ساتھ بیٹھ کر علم دین حاصل کرنے میں صرف کرتے رہے۔

    غرض یہ کہ صفّہ ایک جگہ تھی جس پر مختلف اوقات میں اور مختلف مدتوں کے لیے حسب ذیل مقاصد سے مدینہ منورہ آنے والے لوگ مقیم ہوتے رہے۔

    (الف) وہ لوگ جو صرف اللہ کے لیے ملی خدمات انجام دینا چاہتے تھے، یعنی تحریک اسلامی کے مخلص رضاکار تھے لیکن یہ لوگ مستقلاً صفہ پر نہیں رہتے تھے اور نہ بڑی مدت تک وہاں مقیم رہتے بلکہ اکثر وہ تعمیل ارشاد نبوی کے لیے دوسرے مقامات پر سفر میں ہوتے تھے۔

    (ب) وہ لوگ جو بہت غریب تھے اور مواخاۃ کے بعد آئے تھے، ان کا کوئی رشتہ دار مدینہ منورہ میں تھا اور نہ کوئی دوست۔ یہ لوگ کوئی ٹھکانا مل جانے اور آباد کاری کی کوئی صورت پیدا ہونے تک صفّہ پر رہا کرتے تھے۔

    (ج) وہ لوگ جو تعلیم حاصل کرنے کے لیے تھوڑے دنوں کے لیے مدینہ منورہ آتے تھے، لیکن چونکہ وہاں ان کے لیے کوئی ہوسٹل یا مہمان خانہ نہ تھا اس لیے وہ اپنے قیام کی مدت صفّہ پر گزارتے تھے۔ ان لوگوں کے متعلق قرآن مجید میں خصوصی حکم دیا گیا تھا: وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ اسْتَجَارَکَ فَاَجِرْہُ حَتّٰی یَسْمَعَ کَلٰمَ اللّٰہِ ثُمَّ اَبْلِغْہُ مَاْمَنَہٗ ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ۔اور اگر کوئی مشرکین میں سے تمہاری پناہ میں آ جائے تو اسے پناہ دے دو تا کہ اللہ کا کلام سنے پھر اسے اس کی امن کی جگہ پہنچا دو، یہ اس لیے ہے کہ یہ لوگ بے علم ہیں۔(سورۃ التوبہ، آیت:۷)

    وَ مَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ طَآءِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَیْھِمْ لَعَلَّھُمْ یَحْذَرُوْنَ۔ایمان والوں کے لیے یہ مناسب نہیں کہ سب لوگ بکھر جائیں۔ کیوں نہ ہر گروہ سے کچھ لوگ (ٹھہر جائیں) تا کہ دین میں سمجھ بوجھ حاصل کر یں اور جب واپس اپنی قوم میں جائیں تو ان کو اللہ کا خوف دلائیں، شاید وہ لوگ کفر سے پرہیز کرنے لگیں۔ (سورۃ التوبہ، آیت:۱۲۲)

    (د) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے والے غیر مسلم مہمان ۔

    (ھ) وہ لوگ جو وقتاً فوقتاً وفود کی صورت میں یا تنہا مدینہ منورہ میں آیا کرتے تھے تا کہ ہدایات نبوی سے بہریاب ہوں۔

    ّصُفّہ کب بنا تھا؟

    صُفّہ جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے مسجد نبوی مدینہ منورہ سے ملحق ایک مسقّف چبوترہ تھا۔ اس کا محل وقوع یہ ہے کہ مسجد نبوی کے صحن سے باہر مشرق کی طرف قبلہ سے مخالف سمت یعنی شمال میں مسجد کے دروازہ سے باہر ایک چبوترہ تھا، کہیں اس کی پیمائش کا ذکر تو روایات میں نظر سے نہیں گزرا لیکن اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تقریباً ۲۰ فٹ طویل اور تقریباً۱۵ فٹ عریض چبوترہ تھا۔

    یہ چبوترہ کب بنایا گیا تھا، اس کا ذکر کہیں نہیں ملتا۔ لیکن چونکہ ۲ھ میں غزوہ بدر سے پہلے اور ۱۱ھ میں وفاتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صفّہ اور اہل صفّہ کا کوئی ذکر نہیں ملتا اس لیے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ صفہ تقریباً سات یا آٹھ سال تک قائم رہا۔ اس اثنا میں مندرجہ بالا چاروں قسم کے لوگ مختلف اوقات میں مختلف مدتوں کے لیے مقیم رہے۔

    اگر صفّہ کوئی مستقل خانقاہ یا زاویہ ہوتا تو عہد صدیقی و عہد فاروقی میں بھی قائم رہتا، ختم نہ ہو جاتا۔ ہمیں تاریخی روایتوں میں وفاتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صفّہ واہل صفّہ کا کوئی ذکر نہیں ملتا ہے، اور نہ عہد فاروقی میں جو وظائف مجاہدین اور امّہات المؤمنین کے لیے مقرر کیے گئے اس سلسلہ میں اہلِ صفّہ کا کوئی ذکر ملتا ہے۔

    صفّہ کب بنا تھا، اس کے لیے صفّہ کا محل وقوع خود ایک دلیل ہے۔ صفّہ مسجد نبوی سے باہر جانب شمال میں تھا اور یقیناًوہ تحویل قبلہ یعنی ۱۵ شعبان ۲ھ کے بعد ہی بنا ہو گا۔ کیونکہ اس وقت مسجد نبوی کا قبلہ جانب شمال تھا۔ جب کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا تو جنوبی رخ پر قبلہ کی دیوار بنائی گئی اور شمالی رخ خالی ہو گیا۔ پھر حدود مسجد سے باہر شمالی رخ پر یہ چبوترہ بنا ہو گا، بہرحال اس کے بعد بھی کوئی ذکر اس کا غزوۂ بدر کبریٰ سے پہلے نہیں ملتا ہے۔ غزوۂ بدر کبریٰ رمضان ۲ھ میں ہوا تھا۔

    اصحاب الصُفّہ:

    مختلف اوقات میں کتنے لوگ صُفّہ پر قیام پذیر ہوئے، ان کی مکمل یا غیر مکمل کوئی فہرست مہیا کرنا ممکن نہیں ہے۔ سات یاآٹھ سال کی مدت میں جب کہ صفۃ المسجد واردان مدینہ کے لیے وقتی قیام گاہ رہا۔ سیکڑوں ہی اشخاص کو اس چبوترے پر قیام پذیر ہونے کا موقع ملا، کہاں اس کا کوئی رجسٹر تھا، یا اس سلسلہ میں کوئی یادداشت تیار کی جاتی تھی جو فہرست مہیا کی جائے۔ سیکڑوں سال کے بعد سیرت نگار حضرات نے ان کی تعداد بھی مختلف بتائی ہے، کوئی کہتا ہے کہ ان کی تعداد چار سو تک پہنچتی ہے، کوئی کہتا ہے کہ ستر اسی تک، لیکن یہ سب محض قیاسی باتیں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ و صحابیات رضی اللہ عنہم کے تذکرہ میں سب سے بڑی کتاب جو اس وقت ہمارے ہاتھوں میں ہے وہ امام ابن حجر العسقلانی المتوفی ۸۵۲ھ کی کتاب الاصابہ ہے۔ اس میں یقینی و غیر یقینی صحابہ و صحابیات کے جملہ اسما بارہ ہزار سے کم ہیں، اور ان میں سے بھی بہتوں کا کوئی حال درج نہیں ہے۔ حالانکہ یہ سب کو معلوم ہے کہ حجۃ الوداع میں آپ کے ساتھ حج کرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار یا اس کے قریب قریب تھی۔ اس طرح شرکائے حجۃ الوداع میں سے شاید ساٹھ فیصد کے نام بھی ہم تک نہیں پہنچے ہیں، تو یہ کہاں ممکن ہے کہ سارے اصحابِ صُفّہ کی فہرست مہیا ہو سکے۔

    الحاکم نے المستدرک میں جلد۳، صفحہ ۱۸، میں حسب ذیل اصحاب کے اسمائے گرامی اصحابِ صُفّہ میں لکھے ہیں، لیکن ظاہر ہے کہ یہ وہ چند اسمائے گرامی ہیں جو امام الحاکم کو مل سکے ہیں۔ یہ کوئی فہرست نہیں ہے۔ بہرحال وہ اسمائے گرامی یہ ہیں:

    (۱) حضرت ابو عبیدہ عامر بن الجراح ؓ (۲) حضرت عبداللہ بن مسعودؓ

    (۳) حضرت بلال بن رباح ؓ (۴) حضرت عمار بن یاسرؓ

    (۵) حضرت مقداد بن عمر وؓ (۶) حضرت خباب بن ارتؓ

    (۷) حضرت صہیب بن سنانؓ (۸) حضرت زید بن الخطابؓ

    (۹) حضرت کنانہ بن حصینؓ (۱۰) حضرت ابو کبشہؓ (مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )

    (۱۱) حضرت صفوان بن بیضاءؓ (۱۲) حضرت ابو عبس بن جبرؓ

    (۱۳) حضرت سالم مولیٰ ابو حذیفہؓ (۱۴) حضرت مسطح بن اثاثہؓ

    (۱۵) حضرت مسعود بن ربیع ؓ (۱۶) حضرت عکاشہ بن محصنؓ

    (۱۷) حضرت عمیر بن عوفؓ (۱۸) حضرت عویم بن ساعدہؓ

    (۱۹) حضرت ابو لبابہؓ (۲۰) حضرت کعب بن عمیرؓ

    (۲۱) حضرت خبیب بن سیافؓ (۲۲) حضرت عبداللہ بن انیسؓ

    (۲۳) حضرت ابوذر جندب غفاریؓ (۲۴) حضرت عتبہ بن مسعود ہذلیؓ

    (۲۵) حضرت عبداللہ بن عمرؓ (۲۶) حضرت سلمان الفارسیؓ

    (۲۷) حضرت حذیفہ بن الیمانؓ (۲۸) حضرت حجاج بن عمر الاسلمیؓ

    (۲۹) حضرت ابوہریرہ عبدالرحمن بن صخر الدوسیؓ (۳۰) حضرت ابو الدّرداء عویمر بن عامرؓ

    (۳۱) حضرت عبداللہ بن زید جہنیؓ (۳۲) حضرت ثوبانؓ ( مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)

    (۳۳) حضرت معاذ بن الحارثؓ (۳۴) حضرت سائب بن الخلادرؓ

    (۳۵) حضرت ثابت بن ودیعہؓ

    اس سے بڑی کوئی فہرست میری نظر سے نہیں گزری۔ ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء، جلد۱، صفحہ :۳۳۹ اور السمہودی نے وفاء الوفاء، جلد ۱، صفحہ :۳۲۹ میں اصحابُ الصُفّہ کے کچھ احوال لکھے ہیں، ان لوگوں نے بھی اس سے بڑی کوئی فہرست پیش نہیں کی ہے۔

    اس فہرست پر نظر ڈالنے سے یہ دو باتیں واضح ہو جاتی ہیں کہ:

    (۱) مقامی بزرگوں میں سے کوئی مدنی صحابی ان میں نہیں ہے۔

    (۲) ان بزرگوں میں اکثر وہ ہیں جن کی اولاد تھی۔ یہ لوگ کسی طرح تارک الدنیا خانقاہی فقراء نہ تھے۔ یہ مزدوریاں بھی کرتے تھے، جہاد میں بھی شریک ہوتے تھے اور مال غنیمت بھی حاصل کرتے تھے۔ مثلاً:

    حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ، حضرت زید بن الخطاب رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، حضرت ابوالدّرداء رضی اللہ عنہ کے احوال تو تذکروں میں کسی نہ کسی قدر تفصیل کے ساتھ مل ہی جاتے ہیں۔ یہ لوگ صاحبِ اولاد، صاحبِ جائیداد اور صاحبِ مال تھے۔ انہیں تارک الدنیا خانقاہی کیسے کہا جا سکتا ہے۔

    اللہ ہی جانتا ہے کہ لوگوں نے یہ کیوں اور کس بنیاد پر مشہور کر دیا ہے کہ اصحابِ صُفّہ پھونگیوں اور جوگیوں کی طرح تارک الدنیا لوگ تھے، یا یہ لوگ ہمیشہ خیرات و مبرات پر زندگی بسر کرتے رہے۔ بلکہ اس فہرست میں تو ایسے لوگ بھی ہیں جو خود صاحبِ نصاب تھے اور پابندگی کے ساتھ زکوٰۃ ادا کرتے تھے، اور ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے بڑی بڑی سرکاری ملازمتیں کیں، گورنر رہے، افسر مال رہے، فوجوں کے کماندار رہے۔ نعوذ باللہ یہ لوگ خیرات خور قلندر تو نظر نہیں آتے۔ ایسی زندگی تو اسلام نے نہیں سکھائی، اور نہ ایسے لوگ صحابہ کرام میں ہوتے تھے۔ قرآن مجید نے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھ جو لوگ تھے ان کی کیفیت یہ بتائی ہے:مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗٓ اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَہُمْ تَرٰہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوْہِہِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کافروں پر سخت ہیں، آپس میں رحم دل ہیں، تم انہیں دیکھو گے کہ وہ رکوع و سجدہ بھی کرتے ہیں، اور اللہ کی دی ہوئی روزی اور مال و دولت بھی تلاش کرتے ہیں اور اللہ کی رضا بھی چاہتے ہیں ان کے چہروں پر سجدوں کے نشان بھی ہیں۔(سورۃ الفتح، آیت:۲۹)

    یہ کہاں ممکن تھا کہ یہ لوگ مجہول، بے حرکت، خیرات خور اور رہبان ہوتے اور پھر بھی اللہ تعالیٰ ان کی یہ صفات بیان فرماتا ، وہ لوگ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بالارادہ اور دوامی طور پر ترک کرتے اور پھر بھی اللہ تعالیٰ ان کی تعریف فرماتا؟ تعالیٰ اللّٰہ علوّا کبیرًا(

  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    صُفّہ اور اصحابِ صُفّہ

    جزاک اللہ خیرا۔

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University