دُنیا میں ہر انسان چوبیس گھنٹوں میں سے تقریباً آٹھ گھنٹے نیند میں گزارتا ہے (یہ اوسطاً مقدار ہے)۔ بالفرض ایک انسان کی عمر ساٹھ سال ہے، تو اس کا مطلب اس نے اپنی زندگی کا ایک تہائی حصہ یعنی بیس سال صرف نیند میں گزارے ہیں۔
لوگوں کا عام معمول ہے کہ کام کاج سے فارغ ہوئے، کھایا پیا، باتیں کیں اور پھر بستر پر دراز ہو کر نیند کی آغوش میں چلے گئے۔ نیند ایک ایسا عمل ہے جس پر نہ کوئی ثواب ہے اور نہ کوئی عذاب، لیکن ہم معمولی سی ہمت کر کے زندگی کے اس ایک تہائی حصے کو بھی مفت میں قیمتی بنا سکتے ہیں، عبادت اور موجبِ ثواب بنا سکتے ہیں۔ مگر وہ کیسے؟ ۔۔۔۔۔۔۔ آپ صرف یہ چند کام کیجئے:
(۱)۔۔۔نمازِ عشاء اور نمازِ فجر باجماعت اَدا کیجئے۔
(۲)۔۔۔ باوضو (مسواک کے ساتھ) ہو کر سوئیے اور سوتے وقت کی دُعاؤں کا اہتمام کیجئے۔
(۳)۔۔۔اِس نیت سے سوئیے کہ یہ میرے آقا سیّد الکونین ﷺ کی سنت ہے، اور میں اس نیت سے سو رہا ہوں کہ میرے جسم کی تھکاوٹ و سُستی دُور ہو تاکہ میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت و عبادت کر سکوں اور فرائض کی ادائیگی کر سکوں۔
اور ان تین باتوں کو ایک فقرے میں بھی لکھا جا سکتا ہے یعنی ‘‘اپنی نیند کے پورے عمل کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق بنائیے’’۔منجملہ فوائد ایک یہ کہ آپ کی زندگی کا ایک تہائی حصہ عبادت میں گزرے گا بغیر کسی مشقت کے، دوسرا یہ کہ صرف عبادت ہی نہیں بلکہ اس عمل کی برکات آپ کی دُنیاوی زندگی میں بھی نظر آئیں گی۔ آج سے ہی اس سستے نسخہ پر عمل شروع کر دیجئے۔