نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: غزوات نبویﷺ اور ان میں شریک صحابہ کرامؓ کی تعداد

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Oct 2012
    پيغامات
    299
    شکریہ
    0
    6 پیغامات میں 6 اظہار تشکر

    غزوات نبویﷺ اور ان میں شریک صحابہ کرامؓ کی تعداد

    حضورﷺ نے مدینہ کی دہ سالہ زندگی میں کم وبیش۸۸/مہمات بھیجی تھیں ،ان میں سے کچھ ایسی تھیں جن کی قیادت کسی صحابی کے سپرد تھی یہ سرایا کہلاتی ہیں اور بعض کی قیادت خود رسول اللہﷺ نے کی تھی اور یہ غزوات کے نام سے مشہور ہیں ، ان کی تعداد ۲۶ہے ۔
    ۱۔ غزوۂ وَدّان یا ابواء۔ ۲۔غزوۂ بُواط۔ ۳۔غزوۂ ذات العشیرہ۔ ۴۔بدر اولی۔ ۵۔بدرکبریٰ۔ ۶۔بنی سلیم۔ ۷۔سویق۔ ۸۔غطفان یا ذی امر۔۹۔بحران۔۱۰۔احد۔۱۱۔حمر اءالاسد۔۱۲۔بنی نضیر۔۱۳۔ذات الرقاع۔۱۴۔بدرالآخرہ۔۱۵۔دو مۃ الجندل۔ ۱۶۔خندق۔ ۱۷۔بنی قریظہ۔ ۱۸۔بنی لحیان۔ ۱۹۔ذی قرد۔ ۲۰۔بنی المصطلق۔ ۲۱۔حدیبیہ۔ ۲۲۔خیبر۔ ۲۳۔فتح مکہ۔ ۲۴۔حنین۔ ۲۵۔طائف۔ ۲۶۔تبوک۔
    بعض نے غزوات کی تعداد۲۷لکھی ہے انہوں نے غزوۂ خیبر اور وادی القری کو الگ الگ غزوہ شمار کیا ہے ،جنہوں نے۲۶ لکھی ہے انہوں نے ان دونوں غزوات کو ایک ہی شمار کیا ہے اور وجہ یہ لکھی ہے کہ حضور ﷺ خیبر سے فارغ ہو کر مدینہ واپس نہیں آئے تھے؛ بلکہ وہیں سے وادی القری چلے گئے تھے ۔
    قتال
    ان (۲۷) غزوات میں سے۹/میں قتال اور جنگ ہوئی ہے :۱۔بدر۔ ۲۔احد۔ ۳۔خندق۔ ۴۔قریظہ۔ ۵۔مصطلق۔ ۶۔خیبر۔ ۷۔فتح مکہ۔ ۸۔حنین۔ ۹۔طائف ۔بقول واقدی:گیارہ غزوات میں جنگ ہوئی ہے،۹/مذکورہ بالااورایک غزوہ وادی القری اورایک یوم الغابہ میں ۔ (۱)
    ان تمام غزوات میں مخالفین کے کل قیدی (۶۵۶۴)اور کل مقتول (۷۵۹)تھے اور مسلمانوں میں سے کل شہید (۲۵۹) اور صرف ایک بزرگ قید ہوئے ، یقینی طور پر تحقیق ہے کہ دشمنوں کے ان قیدیوں میں سے (۶۳۴۸) کو حضور ﷺ نے بغیر کسی شرط کے آزاد فرمادیا تھا ،صرف ایک شخص کو قصاص میں قتل کیا گیا تھا ،باقی (۲۱۵)میں سے غزوہ بدر کے (۷۰)قیدیوں کو فدیہ کے عوض رہا کردیا گیا تھا ،اب بچے (۱۴۵)قیدی ،تو بدیہی بات ہے کہ جس رحمۃ للعالمینﷺ نے صرف ایک غزوہ حنین کے چھ ہزار سے زیادہ قیدیوں کو آن واحد میں آزادی بخش دی تھی ، اس ذات مقدس نے ان تھوڑے سے افراد کو بھی اپنی رحمت و عفو سے محروم نہ رکھا ہو گا ۔
    اس مقالہ میں قاری وباحث کی سہولت کے لئے غزوات کی الگ اور سرایا کی الگ ترتیب دی گئی ہے ،نیز تفصیل سے پہلو تہی کرتے ہوئے اختصار کو برتا گیا ہے؛کیونکہ کسی مجلاتی مقالہ کے چند صفحات اس طویل ترین موضوع کے لئے کافی نہیں ہو سکتے ، پہلے غزوات کو بیان کیاگیا ہے ، جن کی مختصر تفصیل اور تاریخی ترتیب یہ ہے:
    غزوات سنہ ۲ھ
    ۱۔ صفر ۲ھ مطابق اگست ۶۲۳ء میں"غزوہ وَدّان" جسے"غزوۃالابواء" بھی کہتے ہیں ہوا ،اس میں مجاہدین کی تعداد ۷۰/تھی، مدینہ پر سعد بن عبادہ بن دُلیم ؓ کو خلیفہ بنایا اور حضرت حمزہؓ کے ہاتھ میں سفید علم تھا ،یہ غزوہ قریش اور بنی ضمرہ بن بکر کے مقابلہ میں تھا،مخشی بن عَمرو اُن کا سردار تھا ،اس نے حضورﷺ سے اس بات پر معاہدہ کیا کہ وہ نہ قریش کی مدد کریں گے نہ مسلمانوں کی، بقول واقدی:حضورﷺ نے وہاں پندرہ رات تک قیام کیا ۔(۲)
    ۲۔غزوۂ بُواط: ربیع الاول ۲ھ مطابق ستمبر ۶۲۳ء میں ہوا ، اسلامی لشکر ۲۰۰/نفوس پر مشتمل تھا ،جبکہ دشمن کی تعداد امیہ بن خلف کی قیادت میں ۱۰۰/تھی،مدینہ کے خلیفہ سعد بن معاذؓ مقرر ہوئے ،علمبردار سعد بن ابی وقاصؓ تھے ،اس میں قریش کی ایک جماعت سے مزاحمت مقصود تھی ، جس میں امیہ بن خلف جمحی۱۰۰/قریش اور ۲۵۰۰/اونٹ کے ساتھ تھا ؛مگر دشمن نہ ملا ؛اس لئے لوٹ کر آگئے ،"بواط"شام کی راہ میں حجفہ کے قریب جبال جہینہ مین ایک دو شاخہ پہاڑی ہے ۔(۳)
    ۳۔غزوہ سفوان یا غزوہ بدر اولی: ربیع الاول ۲ھ مطابق ستمبر ۶۲۳ء میں ہوا ، مدینہ پر زید بن حارثہؓ کو خلیفہ بنایا ،علم حضرت علیؓ کے ہاتھ میں تھا،مجاہدین کی تعداد ۷۰/تھی ،دشمن کرز بن جابر الفہری کی قیادت میں تھا ،دشمن کی تلاش میں اسلامی لشکروادی سفوان (جو بدر کے قریب ہے)تک پہنچا؛مگر دشمن نہ ملا ،کرز بن جابر نے مدینہ کے جانوروں پر حملہ کیا تھا، اسی کو غزوہ بدر اولی بھی کہتے ہیں ، اس غزوہ کو صاحب الکامل فی التاریخ اور البدایہ والنہایہ نے غزوہ ذات العشیر کے بعد لکھا ہے اور طبری نے پہلے ۔(۴)
    ۴۔غزوہ ذی العشیرہ: جمادی الاخری۲ھ مطابق نومبر،دسمبر ۶۲۳ء میں پیش آیا ، مدینہ کے خلیفہ ابو سلمہؓ بن عبد الاسد المخزومی تھے ، لواء حضرت حمزہؓ کے ہاتھ میں تھا ،اس میں ۱۵۰/صحابہؓ نے شرکت کی ،آپﷺ کو خبر ملی کہ قریش کی ایک جماعت مال تجارت لے کر شام جانے کے لئے مکہ سے روانہ ہو چکی ہے ،اس کی تلاش میں آپ نکلے ، ینبوع کے قریب ایک مقام تک تشریف لے گئے ، جس کا نام ذی العشیرہ یا ذی العشیر یا ذی العسیر بمہملہ ہے ، یہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ کئی روز پہلے یہ جماعت یہاں سے آگے بڑھ گئی ، یہی جماعت جب شام سے لوٹی تو پھر آپ مزاحمت کے لئے نکلے اور بدر کبری واقع ہوا ،اسی سفر میں بنی مدلج اور اس کے حلیف بنی ضمرہ سے مصالحت کی ۔(۵)
    ۵۔غزوہ بدر کبری: بروز جمعہ ۱۷/رمضان۲ھ مطابق مارچ۶۲۴ء میں ہوا ،قریش کا ایک تجارتی قافلہ ،جس میں ۱۰۰۰/اونٹ اور تقریباً ۵۰,۰۰۰۰۔یا۔۶۰,۰۰۰۰/درہم کا سامان تھا ، شام کی طرف سے آرہا تھا ، آپﷺ اس کو روکنے کے لئے ۱۲/رمضان ۲ھ کو ۳۱۳/صحابہؓ کے ساتھ نکلے ،ابن ام مکتومؓ کو اپنا نائب مقرر کیا ، اس جیش میں چا ر علم تھے ،حضورﷺکاحضرت علیؓ کے پاس ، مہاجرین کا حضرت مصعب بن عمیرؓ ،خزرج کا حضرت حباب بن منذرؓ اور اوس کا حضرت سعد بن معاذؓ کے پاس ،گھوڑے صرف دو تھے اور اونٹ ۷۰،کفار ابو جہل کی قیادت میں ۱۰۰۰/تھے ،ان کے ساتھ ۷۰۰/اونٹ اور ۱۰۰/گھوڑے تھے،جنگ جمعہ کے دن ۱۷/رمضان کو ہوئی ، اس میں ۲۲/صحابہؓ شہید ہوئے ، ۷۰/کفار قتل ہوئے ، ۷۰/قید ہوئے ، مسلمانوں کی فتح ہوئی ۔(۶)
    ۶۔غزوہ بنی قینقاع: شوال ۲ھ مطابق مارچ۶۲۴ء میں ہوا ،مدینہ پر ابولبابہ بن عبدالمنذرؓکو خلیفہ مقرر کیا(۷)،لواء حضرت حمزہؓ کے ہاتھ میں تھا ،اس غزوہ کا سبب یہ ہوا کہ بدر کے بعد ایک عرب عورت ان کے بازار میں گئی، انہوں نے اسے ننگا کردیا ، وہ چلائی ،ایک عرب آیا ، تو اسے بھی قتل کردیا ،پھر حضور ﷺ تشریف لائے اور ملامت کی ، تو وہ کہنے لگے کہ بدر کی فتح پر مغرور نہ ہونا ، وہ تمہاری قوم تھی ، ہم سے سابقہ پڑا تو معلوم ہو جائے گا اور انہوں نے معاہدہ توڑ دیا ،حضور ﷺ نے نصف شوال بروز ہفتہ کو ان کا محاصرہ کیا ، جو پندرہ روز تک رہا ،آخر ان پر رعب طاری ہوا اور بلا شرط حضورﷺ کے حکم پر رضامندی ظاہر کی ، یہ قبیلہ خزرج کے حلیف تھے اس لئے رئیس المنافقین عبداللہ بن سلول اور حضرت عبادہ بن صامت ؓنے سفارش کی ،حضور ﷺ نے انہیں کو فیصلہ کا اختیار دے دیا ، انہوں نے فیصلہ کیا کہ ساری قوم مدینہ و اطراف مدینہ چھوڑ کر چلی جائے ۔ (۸)
    ۷۔غزوہ قرقرۃ الکُدر یا غزوہ بنی سلیم: محرم ۲ھ مطابق جولائی۶۲۴ء میں واقع ہوا ،لواء حضرت علی ؓ کے ہاتھ میں تھا ، مدینہ کے خلیفہ ابن ام مکتومؓ تھے ، اس میں ۲۰۰/مجاہدین نے شرکت کی ،یہ غزوہ بنی غطفان اور بنی سلیم کے مقابلہ میں تھا ،دشمن کا ایک آدمی زخمی ہوا ،کفار مدینہ پر حملہ کر نے کے لئے آئے تھے ،مجاہدین کو دیکھ کر واپس چلے گئے ، یسار نامی ایک غلام قید ہوا ، جسے آزاد کردیا گیا ،بقول ابن اسحاق یہ غزوہ شوال ۲ھ میں ہوااور بقول واقدی محرم ۳ھ میں ۔(۹)
    ۸۔غزوۃ السویق: ذی الحجہ ۲ھ مطابق مئی،جون۶۲۴ء میں ہوا ، جس میں مجاہدین کی تعداد۲۰۰/تھی اور ابو سفیان الاموی کی امارت میں ۲۰۰/کفار تھے ،مشرکین مکہ جب بدر سے تباہ حال لوٹے تو ان کو دیکھ کر ابو سفیان نے قسم کھالی کہ جب تک محمد (ﷺ)سے جنگ نہ کر لوں گاغسل جنابت نہ کروں گا، آخر ۲۰۰/آدمیوں کو لے کر پوشیدہ مدینہ آیا ،رات کے وقت سردارِ بنی نضیر سلام بن مشکم کے یہاں ٹھہرا، صبح کو مدینہ کے کنارہ مقام عریض میں کچھ درخت کاٹ دئے اور ایک انصاریؓ اور ایک ان کے حلیف جو کھیتی کر رہے تھے کو قتل کر دیا اور بھاگا ،حضورﷺ کو خبر ہوئی تو تعاقب کیا اور مقام کرکرۃ الکدر تک تشریف لے گئے مگر نہ ملا ،کفار بھاگتے ہوئے بوجھ ہلکا کرنے کے لئے بہت سارا ستو پھینکتے گئے جو صحابہؓ کو ملا، اسی لئے اس غزوہ کا نام غزوہ سویق ہوا، اس غزوہ میں ۲/صحابہؓ شہید ہوئے ۔(۱۰)
    غزوات سنہ ۳ھ
    ۹۔غزوہ ذی امر یا غزوہ غطفان یا غزوہ انمار: ربیع الاول ۳ھ مطابق ستمبر۶۲۴ء میں ہوا ،مدینہ میں حضرت عثمان بن عفانؓ کو خلیفہ مقرر کردیا، اس میں مجاہدین کی تعداد ۴۵۰/تھی ،یہ غزوہ بنو ثعلبہ اور بنو محارب کے خلاف تھا ،یہ دونوں قبیلے مدینہ پر حملہ کر نے کے لئے اکھٹا ہوئے تھے ؛لیکن جب انہوں نے مسلمانوں کا لشکر دیکھا تو بھاگ گئے ،نبی پاک ﷺ صحابہؓ کے ساتھ نجد تک گئے وہیں"دعثوربن الحارث یا غورث بن الحارث"(۱۱)اسلام لایا جو حضورﷺ کے قتل کا ارادہ رکھتا تھا،صفر کا پورا مہینہ آپؓ وہاں رہے لیکن کوئی لڑائی نہ ہوئی ۔(۱۲)
    ۱۰۔غزوہ بحران: جمادی الاولی ۳ھ مطابق اکتوبر،نومبر۶۲۴ء میں ہوا ، مدینہ کاخلیفہ ابن ام مکتوم ؓ کو بنایا گیا ، اس میں صحابہؓ کی تعداد ۳۰۰/تھی ،مدینہ سے کوئی۵۰/۶۰میل جنوب میں ایک مقام"فُرع" کہلا تا تھا اور اس کے قریب ہی ایک اور موضع"بُحران"کے نام سے مشہور تھا ،حضورﷺ کو اطلاع ملی کہ بنی سُلیم مدینہ پر حملہ کر نے کے لئے مقام"بحران" میں جمع ہورہے ہیں ،آپ ﷺ مع اصحابؓ وہاں تشریف لے گئے ،وہ آپ ﷺ کو دیکھ کر بھاگ گئے ، آپ ﷺ لوٹ آئے ، کوئی جنگ نہ ہوئی۔(۱۳)
    ۱۱۔غزوہ احد: شوال ۳ھ مطابق مارچ۶۲۵ء میں پیش آیا ،بدر کے ۷۰/مقتولوں کا انتقام لینے کے لئے قریش سخت بے تاب تھے، اس مقصد کے لئے انہوں نے ۲۰,۰۵۰۰۰/درہم جمع کئے اور ۳۰۰۰/جانبازوں کا ایک لشکر تیار کیا ،جس میں /۷۰۰زرہ پوش تھے اور جن کے پاس ۲۰۰/گھوڑے اور۳۰۰۰/اونٹ تھے ، یہ لشکر بروز بدھ،۱۵/ شوال ۳ھ احد کے قریب فروکش ہوا ،آپ ﷺ دو دن بعد نماز جمعہ سے فارغ ہو کر ۱۰۰۰/افراد کے ہمراہ نکلے ،مدینہ میں امامت کے لئے حضرت عبد اللہ بن ام مکتومؓ کو مقرر کردیا، رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی اپنے ۳۰۰/حواریوں کو لے کر واپس ہو گیا ،آپ ﷺ نے میدان میں پہنچ کر صف آرائی کی ،۵۰/تیر اندازوں کو حضرت عبد اللہ بن جبیرؓ کی قیادت میں اس چوٹی پر متعین فرمادیا جو مسلمانوں کے عقب میں تھی ،صفیں آراستہ ہونے کے بعد حضورﷺ نے مہاجرین کا علم حضرت علیؓ کو ، اوس کا حضرت اُسید بن حضیرؓ کو اور خزرج کا حباب بن منذر ؓ کو عطا کیا، اس میں ۷۰۰/صحابہؓ نے شرکت کی، لواء حضرت مصعب بن عمیرؓ کے ہاتھ میں تھا،آغاز جنگ میں مسلمانوں کے تیز وتند حملوں سے دشمن کے پاؤں اکھڑ گئے ،یہ دیکھ کر پہاڑی کے تیر اندازحضرت عبد اللہ بن جبیر ؓ کے روکنے کے باوجود نیچے اتر آئے،خالد بن ولید نے اسی طرف سے مسلمانوں پر اتنا تیز حملہ کیا کہ ان میں بد حواسی پیدا ہو گئی ،حضورﷺ کو متعدد چوٹیں آئیں ،آپ ﷺ گڑھے میں گر پڑے ، جس پر یہ افواہ پھیل گئی کہ حضورﷺ شہید ہوگئے، اس سے مسلمانوں مین عام بد حواسی پھیل گئی ،بعض صحابہؓ یہ کہہ کر کہ حضورﷺ کے بعد زندہ رہ کر کیا کریں گے،کفار کی صفوں میں گھس گئے اور بعض مارے غم کے کوئی فیصلہ نہ کر پائے ،حضورﷺ کو سب سے پہلے حضرت کعب بن مالکؓ نے دیکھا اوربآواز بلند اعلان کردیا ،دونوں فوجیں بے نتیجہ میدان سے الگ ہو گئیں ۔(۱۴)
    ۱۲۔غزوہ حمراء الاسد: ۷/شوال۳ھ مطابق مارچ۶۲۵ء میں ہوا ،اس میں ۵۴۰/صحابہؓ شریک تھے اور کفار ابوسفیان کی قیادت میں ۲۹۷۰/تھے ،اس میں دو کفار ابو عزی اور معاویہ بن المغیرہ قید ہوئے ، ابوعزی کو نقض عہد کی وجہ سے قتل کردیا گیا ،نبی پاک ﷺ دشمنوں پر رعب ڈالنے کے لئے نکلے تھے، احد کے دوسرے دن مسلمان دشمنوں کی چھاونی میں گئے تاکہ دشمن انہیں کمزور سمجھ کر دوبارہ ان پر حملہ نہ کر دے ۔(۱۵)
    غزوات سنہ۴ھ
    ۱۳۔غزوہ بنی نضیر: ربیع الاول ۴ھ ۔ اگست۶۲۵ء میں ہوا،مدینہ پر ابن ام مکتوم ؓ کو خلیفہ مقرر کیا،علم حضرت علی ؓ کو ملا، اس غزوہ میں ان کو جلا وطن کر کے خیبر بھیج دیا گیا،یہ غزوہ اس وجہ سے پیش آیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو قتل کر نے کی سازش کی تھی ۔(۱۶)
    ۱۴۔غزوہ ذات الرقاع: جمادی الاول یا محرم ۴ھ مطابق جون۶۲۶ء میں پیش آیا مدینہ میں حضرت ابو ذر غفاری یا حضرت عثمان ؓکو خلیفہ مقرر کردیا ،یہ غزوہ بنی محارب اور بنی ثعلبہ کے خلاف تھا ، اس میں ایک روایت کے مطابق ۴۰۰،دوسری روایت کے مطابق ۷۰۰/مجاہدین نے شرکت کی،بنی غطفان کی ایک بڑی جمعیت مقابلہ میں آئی ؛مگر جنگ نہ ہوئی۔(۱۷) ابن اسحاق کہتے ہیں کہ یہ غزوہ جمادی الاولی۴ھ میں ہوا ،اور واقدی کہتے ہیں کہ محرم ۵ھ میں اور امام بخاری کہتے ہیں کہ غزوہ ذات الرقاع خیبر کے بعد یعنی ۷ھ میں ہوا ۔(۱۸)
    ۱۵۔غزوہ بدر اخری: ذی قعدہ ۴ھ ۔ اپریل۶۲۶ء میں ہوا ،مدینہ میں عبداللہ بن رواحہؓ کو خلیفہ بنایا،علمبردار حضرت علیؓ تھے ، جس میں پیادہ مجاہدین کی تعداد۱۵۰۰/اور سوار کی تعداد ۱۰/تھی ،کفار ۲۰۰۰/پیادہ اور ۵۰/سوار تھے ،قائد ابو سفیان تھا ،غزوہ احد سے لوٹتے وقت ابو سفیان نے کہا تھا کہ ہمارا تمہارا وعدہ ہے کہ آئندہ سال بدر میں مقابلہ ہوگا،حضورﷺ نے قبول کرلیا ، دوسرے سال یعنی۴/شعبان یا ذی قعدہ میں اس وعدہ کے موافق حضور ﷺ روانہ ہوئے اور بدر تک گئے، ۸/روز تک کفار کا انتظار کیا ادھر ابوسفیان اہل مکہ کے ساتھ ظہران یا عصفان کے علاقہ تک آیا ،وہاں اس نے یہ کہا کہ یہ سال مناسب نہیں ؛چنانچہ سب وہیں سے لوٹ گئے اور جنگ نہیں ہوئی ۔ (۱۹)
    غزوات سنہ ۵ھ
    ۱۶۔غزوہ دومۃ الجندل: ربیع الاول ۵ھ مطابق اگست،ستمبر۶۲۶ء میں ہوا ،سباع بن عرفطہ الغفاری ؓ کو مدینہ کا خلیفہ بنایا، اس میں ۱۰۰۰/مجاہدین نے شرکت کی ،یہ غزوہ اہل دومہ سے ہوا ، حضور ﷺ دومہ پہنچنے سے پہلے ہی واپس آگئے ، اس میں بھی قتال نہیں ہوا ،حضورﷺ نے دومۃ الجندل میں ایک بڑے مجمع کے بارے میں سنا جو مدینہ پر حملہ کرنا چاہتا تھا ،جب حضورﷺ وہا ں گئے تو معلوم ہوا کہ خبر جھوٹی تھی ،واپس آگئے اور راستے میں عیینہ بن حصین سے مصالحت کی۔(۲۰)
    ۱۷۔غزوہ بنی المصطلق یا مریسیع: ۲/شعبان ۵ھ مطابق جنوری۶۲۷ء میں پیش آیا ،مدینہ میں حضرت زید بن حارثہ ؓیا حضرت ابو ذر غفاریؓ یا بقول بعض نمیلہ بن عبد اللہ اللیثی ؓ کو خلیفہ مقرر کیا ،مہاجرینؓ کا علم حضرت ابوبکر صدیقؓ کو اور انصار کا حضرت سعد بن عبادہؓ کو ملا، اس غزوہ میں دشمنوں کی قیادت بنی المصطلق کا سردار حارث بن ابی ضرار کر رہا تھا، اس میں ۱۹/کفا ر قید ہوئے اور ۱۰/قتل ہوئے ، دشمنوں کو شکست ہوئی اور تمام قیدیوں کو رہا کردیا گیا ، سبب یہ ہوا کہ حضور ﷺ کو خبر پہنچی کہ بنی المصطلق مسلمانوں کے خلاف جمع ہورہے ہیں ،تو حضورﷺنے بُریدہ ابن الحصیب اسلمی ؓ کو تحقیق کے لئے بھیجا،انہوں نے خبرکی تصدیق کی تو حضورﷺ صحابہؓ کے ساتھ تشریف لے گئے ، صرف بنی المصطلق نے قتال کیا باقی سب بھاگ گئے۔ (۲۱)
    ۱۸۔غزوہ احزاب یا غزوہ خندق: شوال یا ذی قعدہ ۵ھ مطابق اپریل۶۲۷ء میں پیش آیا،ابن ام مکتوم ؓ کو مدینہ کا خلیفہ مقرر کردیا، اس میں ۳۰۰۰/صحابہؓ نے شرکت کی ،کفار کا لشکر ابوسفیان کی قیادت میں ۱۰۰۰۰/نفوس پر مشتمل تھا ،اس غزوہ میں ۶/صحابہؓ شہید ہوئے ،۱۰/کافر قتل ہوئے ،دشمن خائب وخاسر لوٹ گیا ،غزوہ کا سبب یہ ہوا کہ یہودیوں کی ایک جماعت نے قریش اور دیگر قبائل عرب کو مسلمانوں کے خلاف ابھارا ،صحابہؓ نے دفاعاً مدینہ کے اطراف میں خندقیں کھودیں ،کفار نے ایک مہینہ تک محاصرہ رکھا پھر نامراد واپس ہوگئے ۔(۲۲)
    ۱۹۔غزوہ بنی قریظہ: ذی الحجہ ۵ھ۔مئی۶۲۷ء میں ہوا ، اس میں ۴/مسلمان شہید ہوئے ،بنو قریظہ کے ۴۰۰/قتل اور ۲۰۰/قید ہوئے ،بنی قریظہ کا مسلمانو ں کے ساتھ معاہدہ تھا ؛لیکن انہوں نے خندق کے دن غداری کی اورعلانیہ معاہدہ فسخ کردیا ،خندق کے ایک مہینہ کے طویل محاصرہ کے بعد مسلمانوں نے ابھی دم بھی نہ لیا تھا کہ حضرت جبرئیلؑ نے بنی قریظہ پر حملہ کا حکم دیا ،مسلمانوں نے بنی قریظہ کا ۲۵/روز تک محاصرہ کیا ،بنی قریظہ مجبور ہوگئے اور بلا شرط زیر حکم آگئے ،نبی پاک ﷺ نے بنی قریظہ کے سلسلہ میں سعد بن معاذؓ کو حکم بنایا تاکہ وہ ان کے حق میں فیصلہ کر سکیں ، انہوں نے فیصلہ کیا کہ تمام مردوں کو قتل کردیا جائے ،جن کی تعداد۴۰۰/تھی، یہ تعداد ترمذی ،نسائی اور ابن حبان نے حضرت جابر ؓ سے روایت کی ہے اور ذُرّیات گرفتار کر لی جائیں اور اموال مسلمانوں میں تقسیم کردئے جائیں ،حضورﷺ نے ان کے فیصلہ کو قبول فرمایا ۔ (۲۳)
    غزوات سنہ ۶ھ
    ۲۰۔غزوہ بنی لحیان: ربیع الاول ۶ھ مطابق جولائی۶۲۷ء میں ہوا ،ابن ام مکتومؓ کو مدینہ کا خلیفہ بنایا گیا ، اس میں صحابہؓ کی تعداد ۲۰۰/تھی ،یہ غزوہ بنی لحیان سے ہوا ، جو ہذیل کا ایک بطن تھا ، جب دشمن نے حضور ﷺ کی آمد کی خبر سنی تو منتشر ہوگیا ،یہ غزوہ اہل رجیع کی تادیب کے لئے تھا ،جنہوں نے ۱۰/بے گناہ مبلغین اسلام کو قتل کردیا تھا۔ (۲۴)
    ۲۱۔غزوہ ذی قرد یا غابہ: ربیع الآخر ۶ھ مطابق اگست۶۲۷ء میں واقع ہوا ،ابن ام مکتومؓ کو خلیفہ مقرر کیا گیا ، علم سعد بن زیدؓ کو دیا گیا ،اس میں مجاہدین کی تعداد ۵۰۰/تھی ،مقابلہ میں قبیلہ غطفان کے کچھ سوار عیینہ فزاری کی قیادت میں تھے ، اس میں مسلمانوں میں سے ایک عورت قید ہوئی ،۳/شہید ہوئے ، ایک کافر مارا گیا ،وجہ یہ ہوئی کہ انہوں نے حضورﷺ کی اونٹنیوں پر حملہ کیااور سب کو ہانک کر لے گئے ،چرواہے کو قتل کردیا اور اس کی عورت کو لے گئے ، مسلمانوں نے پیچھا کیا اور پکڑ لیا۔ (۲۵)
    ۲۲۔حدیبیہ ذی قعدہ ۶ھ مطابق مارچ۶۲۸ء میں ہوا ، اس میں صحابہؓ ۱۴۰۰/تھے، مقابل میں سہل بن عمرو القرشی کی قیادت میں اہل مکہ تھے ، اس میں دونوں فریق کے درمیان دس سالہ معاہدہ ہوا ، اس کا سبب یہ ہوا کہ حضورﷺ صحابہؓ کے ساتھ عمرہ کے لئے نکلے ، قریش نے مقام حدیبیہ میں آپﷺ کو روک دیا ، وہیں یہ صلح ہوئی ۔(۲۶)
    غزوات سنہ ۷ھ
    ۲۳۔غزوہ خیبر: محرم الحرام ۷ھ مطابق جون۶۲۸ء میں ہوا ،مدینہ میں سباع بن عُرفُطہ الغفاریؓ کو خلیفہ مقررکیا گیا،اس میں ۱۴۰۰/صحابہؓ اور ۲۰/صحابیات شامل تھیں ، مقابلہ میں ۱۰,۰۰۰/یہود خیبر کنانہ بن ابی الحقیق کی سرکردگی میں تھے ، اس میں ۵۰/مسلمان زخمی اور ۱۸/شہید ہوئے،۹۳/یہود قتل ہوئے ،اس میں مسلمانوں کو فتح ہوئی،اس غزوہ کی وجہ یہ ہوئی کہ خیبر میں بڑے بڑے اعداءِ اسلام جمع ہو گئے تھے اور فسادات کا بڑا سر چشمہ وہی تھا ؛اس لئے حضور ﷺ نے خیبر پر حملہ کا ارادہ کیا ۔(۲۷)
    ۲۴۔غزوہ وادی القری: ۷ھ مطابق جون۶۲۸ء میں ہوا ،لواء حضرت سعد بن عبادہؓ کو دیا ،ایک رایہ حضرت حباب بن المنذرؓ کو،ایک حضرت سہل بن حنیفؓ کو ، ایک حضرت عباد بن بشرؓ کو دیا،اس میں ۱۳۸۲/صحابہؓ نے حضورﷺ کے ساتھ شرکت کی ، مقابل میں وادی قری کے یہود تھے ، اس میں ۱۱/یہود قتل ہوئے ،مسلمانوں کی فتح ہوئی ۔ (۲۸)
    غزوات سنہ ۸ھ
    ۲۵۔فتح مکہ: رمضان ۸ھ مطابق جنوری۶۳۰ء میں پیش آیا ،بنو بکر اور قریش نے مل کر بنو خزاعہ پر خوب ظلم کیا ،اس طرح عملاً قریش نے حدیبیہ کے معاہدہ کو توڑدیا ؛کیونکہ بنو خزاعہ رسول اللہ ﷺکے معاہد تھے ،عمروبن سال خزاعی نے مدینہ آکر رسول اللہ ﷺسے امداد چاہی اور یہی فتح مکہ کی تمہید ہوئی ،اس میں صحابہؓ کی تعداد ۱۰,۰۰۰/تھی ، مقابل میں قریش مکہ تھے ،اس میں ۲/صحابی شہید ہوئے ،جبکہ ۱۲/کفار قتل ہوئے ، مسلمانوں کو فتح ہوئی۔ (۲۹)
    ۲۶۔غزوہ حنین یا اوطاس یا ہوازن: شوال ۸ھ مطابق فروری۶۳۰ء میں پیش آیا،جس میں حضورﷺ کی معیت میں ۱۲۰۰۰/مجاہدین تھے،مقابلہ میں پانچ قبیلے:بنوہوازن،بنو ثقیف،بنومعزاور بنواحسم تھے،اس میں ۶/صحابہؓ شہید ہوئے ،۶۰۰۰/دشمن زخمی اور۷۱/قتل ہوئے ، مسلمانوں کو فتح ہوئی۔ (۳۰)
    ۲۷۔غزوہ طائف: شوال ۸ھ مطابق فروری۶۳۰ء میں ہوا ، اس میں بھی صحابہؓ ۱۲۰۰۰/تھے ، مقابلہ میں بنو ثقیف تھے، مسلمانوں اور کفار میں سے ایک بڑی جماعت زخمی ہوئی اور ۱۳/مسلمان شہید بھی ہوئے ،ایک مہینہ کے محاصرے کے بعد حضورﷺ واپس تشریف لے آئے ،مگر محاصر ہ ختم کرنے کے بعد اہل طائف حضورﷺ کے پاس آکر مسلمان ہو گئے ۔(۳۱)
    غزوات سنہ ۹ھ
    ۲۸۔غزوہ تبوک: رجب ۹ھ مطابق اکتوبر،دسمبر۶۳۱ء میں ہوا ، اس میں صحابہؓ حضورﷺ کے ساتھ ۳۰,۰۰۰تھے، مقابلہ میں ہرقل قیصر روم تھاڈ اس کا سبب یہ ہوا کہ ہرقل غزوہ موتہ کی عار کو ختم کرنے لئے مدینہ پر چڑھائی کا ارادہ رکھتا تھا،حضورﷺ خود صحابہؓ کے ساتھ وہاں تشریف لے گئے اور دشمن میں رعب و دبدبہ ڈال کر واپس مدینہ تشریف لے آئے ۔ (۳۲)
    سرایا
    ماہرین علم مغازی کے درمیان سرایا کی تعداد میں بہت اختلاف ہے ،ابن اسحاق سے تین روایتیں نقل کی جاتی ہیں : طبری اور مسعودی نے :۳۵/کی روایت نقل کی ہے،(۳۳)ا بن ہشام نے۳۸/کی روایت نقل کی ہے،(۳۴)،حافظ ابن حجر نے ۳۶/کی روایت نقل کی ہے۔ (۳۵)
    اسی طرح واقدی سے دو روایتیں ہیں:ایک وہ جو مسعودی نے ذکر کی ہے(۳۶)، دوم حافظ ابن حجرؒ نے واقدی سے ۴۸/سرایا بیان کئے ہیں ،(۳۷)ابن الجوزی نے ۵۶/سرایا ذکر کئے ہیں (۳۸)،مسعودی سے مختلف روایات ہیں ۷۳، ۶۶، ۵۲، ۶۰۔(۳۹) حاکم نے سرایا کی تعداد۷۰/سے زائد بیان کی ہے،دوسری روایت میں ۱۰۰/سے زائد بیان کی ہے۔(۴۰)۔ابن کثیر ،امام احمد بن حنبل،حاکم اورعبد الزاق نے تعداد۲۴/لکھی ہے ۔(۴۱)
    سرایاکی تعداد میں اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ حضور ﷺ نے کسی غزوہ کے بعد جو ذیلی سرایا بھیجے ہیں ،بعض نے انہیں اس غزوہ کا جز مانہ کہا ہے ،جبکہ دیگر نے انہیں مستقل سریہ کی حیثیت دی ہے ،نیز اگر تمام سرایا کا احاطہ کیا جائے ؛خواہ وہ جنگ کے لئے ہوں یا تعلیم کے لئے،تبلیغ اسلام کے لئے ہوں یا تنفیذ حدود کے لئے ،تو ان کی تعداد اس سے کہیں زائد ہوگی ،جسے اصحاب مغازی بیان کرتے ہیں۔
    طبری نے ابن اسحاق سے سرایا کی تفصیل اس طرح بیان کی ہے :
    محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ سرایا کی تعداد ۲۵ہے : ۱۔سریہ عبیدہ بن حارثؓ۔ ۲۔سریہ حمزہ ؓبن عبد المطلب۔ ۳۔سریہ سعد بن ابی وقاصؓ۔ ۴۔سریہ عبداللہ بن جحشؓ۔ ۵۔سریہ زید بن حارثہؓ۔ ۶۔سریہ مرثد بن ابی مرثد الغنویؓ۔ ۷۔سریہ منذر بن عمروؓ۔ ۸۔سریہ ابی عبیدہ بن جراحؓ۔ ۹۔سریہ عمر بن خطابؓ۔ ۱۰۔سریہ علی بن ابی طالبؓ۔۱۱۔سریہ غالب بن عبد اللہ کلبیؓ۔ ۱۲۔سریہ علی بن ابی طالبؓ۔ ۱۳۔سریہ ابن ابی العوجاء السلمیؓ۔ ۱۴۔سریہ عکّاشہ بن محصنؓ۔ ۱۵۔سریہ ابی سلمہ بن عبد الاسدؓ۔ ۱۶۔سریہ محمد بن مسلمہؓ۔ ۱۷۔سریہ بشیر بن سعدؓ۔ ۱۸۔سریہ زید بن حارثہؓ۔ ۱۹۔سریہ زید بن حارثہؓ۔ ۲۰۔سریہ زید بن حارثہؓ۔ ۲۱۔سریہ عبد اللہ بن رواحہؓ۔ ۲۲۔سریہ عبد اللہ بن رواحہؓ۔ ۲۳۔سریہ عبداللہ بن عتیکؓ۔ ۲۴۔سریہ محمد بن مسلمہؓ۔ ۲۵۔سریہ عبد اللہ بن انیسؓ ۔ (۴۲)
    سرایا سنہ ۱ھ
    ۱۔سریہ سیف البحر: رمضان ۱ھ مطابق مارچ ۶۲۳ء میں ہوا ،حضرت حمزہ بن عبد المطلب ؓ کی قیادت میں اسلامی لشکر۳۰/نفوس پر مشتمل تھا ،دشمن کا لشکر ابو جہل کی قیادت میں ۳۰۰/کفار پر مشتمل تھا ،یہ ایک تجارتی قافلہ تھا جو ملک شام سے لوٹ رہا تھا، جنگ کے لئے صفیں آراستہ ہو گئیں ؛لیکن فریقین کے ایک حلیف مجدی بن عمرو جہنی کی کوششوں سے یہ تصادم ٹل گیا ۔ (۴۳)
    ۲۔سریہ رابغ : شوال ۱ھ مطابق اپریل۶۲۳ء میں ہوا ، اسلامی لشکر حضرت عبیدہ بن حارث کی امارت میں ۶۰/مہاجر صحابہؓ پر مشتمل تھا ،جب ثنیۃ المرہ پہنچے تو عکرمہ یا ابو سفیان یا مکرز بن حفص کی قیادت میں ۲۰۰/مشرکین ملے، اس سریہ میں بھی قتال کی نوبت نہیں آئی ،یہ سریہ مکہ کے حالات کا جائزہ لینے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ (۴۴)
    ۳۔سریہ ضرار: ذی قعدہ ۱ھ مطابق مئی۶۲۳ء میں پیش آیا ، جس میں سعد بن ابی وقاصؓ کی قیادت میں ۲۰/مسلمانوں نے شرکت کی ،یہ سریہ حجاز کی ایک وادی خرار تک گیا ؛لیکن کاروان نظر نہیں آیااورواپس آگیا ۔ (۴۵)
    سرایا سنہ ۲ھ
    ۴۔سریہ نخلہ: رجب ۲ھ مطابق جنوری۶۲۴ء میں ہوا ، جس مین عبد اللہ بن جحش کی قیادت میں ۱۲/مسلمان تھے ،کفار کا قافلہ بنی امیہ کی قیادت میں تھا ، اس میں جنگ ہوئی ، ۲/قیدیوں کو رہا کردیا گیا اور مقتول کا خون بہا دیا گیا ،یہ سریہ بھی قریش کی انکوائری کے لئے بھیجا گیا تھا۔ (۴۶)
    ۵۔سریہ عمیرؓ بن عدی الخطمی: رمضان۲ھ مطابق مارچ ۶۲۴ء میں ہوا ،اس کے قائد حضرت عمیرؓ تھے ، کفار کے لشکر کی قائدہ عصماء بنت مروان تھی ، اس سریہ میں وہ ماری گئی ، نیز حضرت عمیرؓ نے اپنی بہن کو قتل کردیا ؛کیونکہ وہ اپنی قوم کو مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لئے ابھار رہی تھی ۔ (۴۷)
    ۶۔سریہ سالم بن عمیرؓ: شوال ۲ھ مطابق اپریل۶۲۴ء میں ہوا، اس کے قائد حضرت سالمؓ تھے ، کفار کے لشکر کا قائد ابوعفکہ یہودی تھا ،اس میں یہ قتل کردیا گیا ، یہ یہودیوں کو مسلمانوں کے خلاف برانگیختہ کرتا تھا۔ (۴۸)
    ۷۔سریہ قرقرۃ الکدر: ۲ھ میں ہوا ،جس کے قائد حضرت غالب بن عبد اللہ اللیثی ؓتھے ،یہ سریہ قبیلہ بنی غطفان اور بنی سلیم کے خلاف تھا ،اس میں ۳/مسلمان شہید ہوئے، بہت سے کفار قتل کئے گئے ،بقیہ نے راہ فرار اختیا ر کی ،یہ سریہ" غزوہ قرقرۃ الکدر" کو مکمل کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا ؛کیونکہ دشمن دوبارہ جمع ہوگئے تھے ۔ (۴۹)
    سرایا سنہ ۳ھ
    ۸۔سریہ محمد بن مسلمہؓ: ربیع الاول۳ھ مطابق اگست ستمبر ۶۲۴ء میں واقع ہوا ،جس کی قیادت حضرت محمد بن مسلمہ انصاری خزرجی نے کی ،اس میں ایک صحابی زخمی ہوئے،یہ کعب بن اشرف یہودی کے خلاف تھا ،وہ قبائل کو مسلمانوں کے خلاف ابھار تا تھااور اسی کی تحریک پر"غزوہ احد" پیش آیا تھا ، اس سریہ میں اس یہودی کو قتل کردیاگیا۔ (۵۰)
    ۹۔سریہ قردہ: جمادی الآخر ۳ھ مطابق نومبر۶۲۴ء میں ہوا ، جس میں حضرت زید بن حارثہ ؓ کی امارت میں ۱۰۰/صحابہؓ نے شرکت کی ،کفار کا قائد ابو سفیان الاموی تھا ،اس سریہ میں ایک کافر" فرات بن حیان" قید ہوا ؛ لیکن وہ بعد میں اسلام لے آیا۔ (۵۱)
    سرایا سنہ ۴ھ
    ۱۰۔سریہ قطن یا سریہ ابی سلمہ المخزومیؓ: آغاز محرم۴ھ مطابق جون۶۲۴ء میں ہوا ،اس میں ابو سلمہ المخزومی ؓ کی قیادت میں ۱۵۰/صحابہؓ نے شرکت کی ،کوفہ اور مکہ کی راہ پر دونوں کے وسط میں ایک قصبہ"فید" کے نام سے مشہور تھا، اس کے قریب ایک پہاڑ" قطن" کہلاتا تھا، حضورﷺ کے زمانہ میں وہا ں بنو جذیمہ کی ایک شاخ اسد بھی آباد تھی ،حضورﷺ کو اطلاع ملی کہ قبیلہ اسد کے ایک سردار خویلد کے دو بیٹے سلمہ اور طلحہ مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے ایک لشکر ترتیب دے رہے ہیں ،تو حضورﷺ نے یہ سریہ حضرت ابو سلمہ مخزومیؓ کی امارت میں روانہ کیا ،وہ لوگ ان کی روانگی کی خبر سن کر منتشر ہوگئے۔ (۵۲)
    ۱۱۔ سریہ عبد اللہ بن انیسؓ: ۵/محرم ۴ھ مطابق جون۶۲۴ء میں پیش آیا ، جس میں عبد اللہ بن اُنیس الجہنی انصاریؓ نے شرکت کی ، حضرت عبداللہؓ نے سنا کہ سفیان الہذلی مقام عرنہ پر لوگوں کو مسلمانون کے خلاف بھڑکا رہا ہے ،انہوں نے وہاں پہنچ کر سفیان الہذلی کو قتل کردیا۔(۵۳)
    ۱۲۔ سریہ الرجیع: صفر ۴ھ مطابق جولائی۶۲۴ء میں پیش آیا ، عاصمؓ بن ثابت یا مرثد بن الغنمی کی قیادت میں ۱۰/صحابہؓ نے شرکت کی ،مقابلہ میں قبیلہ عضل اور قارہ کے ۱۰۰/لوگ تھے ، اس میں۱۰/قراء صحابہؓ شہید ہوئے ،طلحہ کی بیوی سُلاما نے حضرت عاصم کے قتل پر ۱۰۰/اونٹ انعام رکھے تھے؛چنانچہ اس کے قبیلہ کی ایک جماعت حضورﷺ کے پاس آئی اور ۱۰/قراء صحابہؓ کوتبلیغ کے بہانے اپنے ساتھ لے گئی ، جن میں سے ۸/شہید ہوگئے اور ۲/(حضرت خبیب بن عدیؓ اور زید بن دثنہؓ) کو اہل مکہ کے ہاتھ بیچ دیا ، اہل مکہ نے انہیں سولی پر چڑھا دیا ، ان کا جسم سولی پر ۴۰/دن تک لٹکا رہا۔ (۵۴)
    ۱۳۔ سریہ بیر معونہ یا سریہ طرز: صفرالمظفر۴ھ مطابق جولائی۶۲۴ء میں ہوا ،جس میں منذرؓ بن عمر و کی قیادت میں ۷۰/صحابہؓ نے شرکت کی اور دشمن کی ایک بڑی جماعت عامر بن مالک کی قیادت میں تھی ، اس میں ایک صحابی قید اور (۶۹)شہید ہوئے ، جو مبلغین اسلام میں سے تھے ، عامر بن مالک حضور ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا :اے محمد !کیا اچھا ہوتاکہ تم اپنے صحابہؓ میں سے کچھ لوگوں کو اسلام کی تبلیغ کے لئے نجد بھیج دو ،حضورﷺ نے (۷۰)صحابہؓ کو بھیج دیا ،جب یہ قافلہ بیر معونہ کے پاس پہنچا ،تو بنی سلیم ، رعل اور ذکوان نے انہیں گھیر کر قتل کردیا اورحضرت عمرو بن امیہ الضمری ؓکو عامر نے یہ کہہ کر آزاد کردیا کہ میری ماں نے ایک غلام آزاد کرنے کی منت مانی تھی۔(۵۵)
    ۱۴۔ سریہ عمرو بن امیہ الضمریؓ: ربیع الاول ۴ھ میں ہوا ، اس میں عمرو بن امیہ الضمری ؓ نے شرکت کی ، مقابل میں قبیلہ بنی کلاب کے دو شخص تھے ،عمروبن امیہ نے دونو ں کو قتل کردیا ، عمرو بن امیہ الضمریؓ بیر معونہ سے مدینہ لوٹ رہے تھے ،ایک جگہ وہ آرام کے لئے ٹھہرے ، وہاں پر انہوں نے دو لوگوں کو دیکھاتو انہوں نے ان دونوں کو اس گمان پر قتل کردیا کہ یہ قاتلین کی جماعت میں سے ہے ؛حالانکہ وہ دونوں ایسے قبیلہ سے تھے ، جس سے حضور ﷺ کا معاہدہ تھا ؛لہذا حضورﷺنے ان دونوں کا خون بہااداکیا۔(۵۶)
    ۱۵۔ سریہ عمرو بن امیہ الضمریؓ: ذی الحجہ۴ھ مطابق مئی۶۲۴ء میں ہوا ،مکہ میں حضورﷺ اور اسلام کا بدترین دشمن ابو سفیان تھا ،یہ مسلمانوں کی تخریب اور تباہی کے لئے مسلسل سازشوں مین رہتا تھا ،تنگ آکر حضورﷺ نے حضرت عمرو بن امیہؓ اور سلمہ بن اسلم ؓ کو حکم دیا کہ وہ ابوسفیان کو ختم کر آئیں ، یہ دونوں مکہ پہنچے ، عمروؓ کعبہ کا طواف کر رہے تھے کہ ابو سفیان نے انہیں دیکھ لیا اور قریش کو خبر کردی ، قریش انہیں پکڑنے کے لئے جمع ہوئے تو یہ بھا گ گئے اور نواح مکہ میں تین آدمیوں کو قتل اور ایک کو گرفتار کرنے کے بعد واپس آگئے ۔ (۵۷)
    سرایا سنہ ۵ھ
    ۱۶۔ سریہ عبد اللہ بن عتیکؓ: ذی قعدہ ۵ھ مطابق مئی۶۲۴ء میں ہوا ،اس میں عبد اللہ بن عتیک انصاریؓ کی قیادت میں ۵/صحابہؓ نے شرکت کی، یہ سریہ سلام بن حقیق یہودی کے خلاف تھا، اس سریہ میں وہ مارا گیا ، اس کو قتل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ غزوہ احزاب میں کفار کو اسی نے مسلمانوں کے خلاف ابھارا تھا ، رات کو حضرت عبد اللہ ؓ نے اس کی آرام گاہ میں ہی اُسے قتل کردیا۔ (۵۸)
    سرایا سنہ ۶ھ
    ۱۷۔ سریہ القرطاء: محرم ۶ھ مطابق جون۶۲۴ء میں ہوا ،جس میں محمد بن مسلمہ انصاری ؓ کی قیادت میں ۳۰/صحابہؓ نے شرکت کی اور ثمامہ بن اثال کی قیادت میں ۳۰/کافروں نے شرکت کی ، اس میں ثمامہ کو قید کرلیا گیا اور اسے حضورﷺ نے رہا کیا ،قرطاء نجد کا ایک قبیلہ عامر بن صعصہ کی ایک شاخ تھی جو حرمین کے مشرق میں آباد تھی، حضورﷺ کو اطلاع ملی کہ یہ لوگ مدینہ پر حملہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ نے یہ دستہ ارسال کیا ،محمد بن مسلمہؓ نے جب دیکھا کہ ثمامہ مدینہ آرہا تھا تو راستے میں حائل ہو کر اسے قید کر لیا اور حضورﷺ کے پاس اسے لے کر آگئے،حضورﷺ نے اسے رہا کر دیا ، ثمامہ حضور ﷺ کے حسن اخلاق کو دیکھ کر مسلمان ہو گیا ، یہ نجد کا سردار تھا ۔(۵۹)
    ۱۸۔ سریہ عکاشہؓ بن محصن یا سریہ عمر مرزوق: ربیع الاخر ۶ھ مطابق اگست ستمبر۶۲۴ء میں پیش آیا ،عکاشہ بن محصن اسدیؓ کی قیادت میں ۴۰/صحابہؓ نے شرکت کی ، یہ غزوہ بنو اسد سے ہوا ، اس میں جنگ نہیں ہوئی ، دشمن منتشر ہو گیا اور ان کے ۲۰۰/ اونٹ ہاتھ لگے ، بنو اسد مدینہ پر حملہ کے لئے ، جمع ہو رہے تھے ، تو حضورﷺ نے یہ سریہ ان کی طرف بھیجا ۔(۶۰)
    ۱۹۔سریہ ذی قصہ: ربیع الاخر ۶ھ مطابق اگست ستمبر۶۲۴ء میں ہوا ،مدینہ سے ۲۴/میل دور نجد میں بنی ثعلبہ کا ایک موضع ذوالقصہ کہلاتا تھا ،حضورﷺ کو اطلاع ملی کہ وہاں ثعلبہ کے آدمی حملہ کے لئے جمع ہورہے ہیں تو آپؐ نے یہ سریہ روانہ کیا، اس میں مجاہدین کی تعداد محمد بن مسلمہؓ کی قیادت میں ۱۰/تھی ، جبکہ دشمن بنو ثعلبہ کی قیادت میں ۱۰۰/تھے ، اس میں ایک صحابی زخمی اور ۹/شہید ہوئے ،محمد بن مسلمہؓ زخمی ہوگئے ،۱۰/قراء اسلام کی تبلیغ کے لئے گئے تھے ، جب وہ سو رہے تھے تو بنو ثعلبہ نے انہیں قتل کردیا۔ (۶۱)
    ۲۰۔ سریہ بنی ثعلبہ: ربیع الاخر ۶ھ مطابق اگست ستمبر۶۲۴ء میں ہوا ،جس میں ابوعبیدہ بن جراحؓ کی قیادت میں ۴۰/مجاہدین نے شرکت کی ، ایک کافر اس میں قید ہوا ، دشمن بھاگ گئے ، ان کا سارا سامان مسلمانوں کو غنیمت میں ملا۔ (۶۲)
    ۲۱۔ سریہ الجموم: ربیع الاخر ۶ھ مطابق اگست ستمبر۶۲۴ء میں ہوا ، اس کے قائد زید بن حارثہؓ تھے ، یہ سریہ بنو سلیم سے ہوا ،یہ مدینہ پر حملہ کرنے کی تیاری میں تھے ، بنو سلیم کے ۱۰/لوگ قید ہوئے ،حضورﷺ نے سب کو چھوڑ دیا۔ (۶۳)
    ۲۲۔ سریہ عیص: جمادی الاولی۶ھ مطابق ستمبراکتوبر۶۲۴ء میں ہوا ، اس میں حضرت زید بن حارثہؓ کی امارت میں ۷۰/ مجاہدین نے شرکت کی ، مدینہ میں یہ خبر پہنچی کہ قریش کا ایک تجارتی قافلہ مدینہ سے پچاس میل مشرق میں ارض بنو سلیم سے گزرنے والا ہے تو آپ ﷺ نے یہ دستہ روانہ کیا ، مقام عیص پر مقابلہ ہوا اور حضرت زیدؓ کامیاب ہوئے، بہت سارا مال غنیمت ہاتھ آیا ۔ (۶۴)
    ۲۳۔ سریہ الطرف اول الطروق: جمادی الاخری۶ھ مطابق اکتوبر نومبر۶۲۴۷ء میں ہوا ، مجاہدین کی تعداد ۱۵/تھی اس کے قائد زید بن حارثہ ؓ تھے ،یہ سریہ بنو ثعلبہ سے ہوا ، یہ سریہ ذو القصہ کے مجرمین کی سزا کے لئے بھیجا گیاتھا ، دشمن بھاگ گئے ،مسلمانوں کو ۱۰/اونٹ ہاتھ لگے ۔ (۶۵)
    ۲۴۔ سریہ حسمی: جمادی الاخر۶ھ مطابق اکتوبر نومبر۶۲۴۷ء میں پیش آیا ، اس میں حضرت زید بن حارثہؓ کی امارت میں ۵۰۰/صحابہؓ نے شرکت کی ،مقابل میں ہنید بن عوص الجزری کی قیادت میں ۱۰۲/کفار تھے ، اس میں ۱۰۰/کافر زخمی اور ۲/قتل ہوئے، ہنید اور اس کا بیٹا قتل ہوا ،باقی لوگوں نے توبہ کرلی اور انہیں رہا کردیا گیا ۔(۶۶)
    ۲۵۔ سریہ وادی القری: رجب ۶ھ مطابق دسمبر۶۲۴ء میں ہوا ، زید بن حارثہ ؓ کی قیادت میں ۱۲/مجاہدین نے شرکت کی ، یہ باشندگان وادی القری کے خلاف تھا ، اس میں ایک مجاہد زخمی اور ۹/شہید ہوئے۔ (۶۷)
    ۲۶۔ سریہ دومہ الجندل: شعبان ۶ھ مطابق دسمبر۶۲۴ء جنوری۶۲۸ء میں ہوا ،دومۃ الجندل شمالی عرب کا ایک سرحدی شہر ہے، جس میں بنو کلب آباد تھے ،جب انہوں نے مدینہ کے قافلوں اور مسافروں کو تنگ کرنا شروع کیا تو حضورﷺ نے حضرت عبد الرحمن بن عوف الضمریؓ کو ان کی طرف بھیجا ،وہ وہاں پہنچے تو اصبغ بن امرالکلبی بہت سے دیگر آدمیوں کے ساتھ مسلمان ہوگیا اور اس نے اپنی لڑکی حضرت عبد الرحمنؓ کے نکاح میں دے دی ۔ (۶۸)
    ۲۷۔ سریہ فدک: شعبان ۶ھ مطابق دسمبر۶۲۴۷ء جنوری۶۲۸ء میں ہوا ، علی بن ابی طالب ؓکی امارت میں (۲۰۰)مجاہدین نے شرکت کی ،یہ سریہ بنو سعد بن بکر کے مقابلہ میں تھا ،خیبر اور وادی القری کے بیچ یہود کی ایک بستی"فدک"کہلاتی تھی ، اس میں بنو سعد بن بکر کا قبیلہ بھی آباد تھا ، نبی پاک ﷺ کو یہ خبر پہنچی کہ بنو سعد کی ایک جماعت یہود خیبر کی مدد کرنا چاہتی ہے ، حضرت علی بن ابی طالبؓ نے ان کے خلاف کارروائی انجام دی ، بنو سعد بھاگ گئے ، مسلمانوں کو (۵۰۰)اونٹ اور (۲۰۰۰)بکریاں ہاتھ لگیں ۔(۶۹)
    ۲۸۔ سریہ ام قرفہ: رمضان ۶ھ مطابق جنوری فروری۶۲۸ء میں ہوا ، اس کے کمانڈر ابوبکر صدیقؓ ؓ تھے یا زید بن حارثہؓ تھے، یہ سریہ بنو فرازہ کے خلاف تھا جس کی قیادت ام قرفہ کر رہی تھی ، اس میں دو کافر قید ہوئے ،ام قرفہ ماری گئی ، بقیہ بھاگ گئے ، بنو فرازہ نے زید بن حارثہؓ کے تجارتی قافلہ پر حملہ کیا تھا ۔ (۷۰)
    ۲۹۔ سریہ عبد اللہ بن رواحہؓ: شوال ۶ھ مطابق فروری،مارچ۶۲۸ء میں ہوا ، عبد اللہ بن رواحہؓ کی قیادت میں ۳۰/صحابہؓ نے شرکت کی ،جب ابو رافع یہودی قتل ہو گیا تو یہود خیبر نے اُسَیر بن رزام کو اپنا سردار بنالیا ،اس نے مدینہ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا اور قبائل غطفان کے یہاں امداد کے لئے گیا ،جب حضور ﷺ کو معلوم ہوا تو آپﷺ نے یہ دستہ روانہ کیا ،جب یہ وہاں پہنچے ،تو انہوں نے اسیر بن رزام سے کہا کہ حضورﷺ نے تمہیں بلایا ہے ؛تاکہ تمہیں خیبر کا سردار بنادیں ،وہ ۳۰/یہودیوں کے ساتھ نکلا ؛راستے میں اسے آنے پر پشیمانی ہوئی اور اس نے حضرت عبد اللہؓ پر حملہ کرنا چاہا ، ان کو معلوم ہو گیا ،انہوں نے اسے قتل کردیا اور بقیہ یہودی بھی مارے گئے صرف ایک بچ کر بھاگ گیا، اس میں ایک مجاہد زخمی ہوئے ۔(۷۱)
    ۳۰۔ سریہ العرنیین: شوال ۶ھ میں ہوا ، اس میں کرز بن جابرفہریؓ کی قیادت میں ۲۰/صحابہؓ شریک ہوئے ،قبیلہ عرینہ اور عکل کے چند لوگ مدینہ آئے اور اسلام لانے کے بعد مدینہ طیبہ ہی میں رہنے لگے،انہیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی تو حضور اکرمﷺنے انہیں مدینہ سے ۶/میل دور قباء کی جانب"ذوالجدر"نامی ایک چراگاہ میں بھیج دیا ، جہاں حضورﷺ کی اونٹنیاں چرتی تھیں، چرواہے کا نام"یسارؓ" تھا ،جب وہ تندرست ہوگئے تو انہوں نے یسارؓ کی آنکھیں پھوڑنے اور ہاتھ پاؤں کاٹنے کے بعد قتل کردیا اور اونٹنیاں ہانک کر لے گئے ،حضور ﷺ کو اطلاع ملی تو آپﷺ نے تعاقب میں یہ سریہ روانہ کیا، یہ سب کے سب پکڑے گئے اورقصاص اور بدلے کے طور پر ان کا مثلہ کیا گیا۔(۷۲)
    سرایا سنہ ۷ھ
    ۳۱۔ سریہ عیص: صفر ۷ھ میں ہوا ، اس میں ابو جندلؓ اور ابوبصیرؓ کی قیادت میں ۷۲/مسلمان تھے ،مقابل میں قریش تھے ، اس میں ۹/کافر زخمی ہوئے ،نیز ان کے اموال لوٹے گئے ؛مگر حضور ﷺ کے حکم سے پھر واپس کردئے گئے۔(۷۳)
    ۳۲۔ سریہ الکدید: صفر ۷ھ میں ہوا ، اس میں غالب بن عبد اللہ اللیثی ؓکی قیادت میں ۶۰/مجاہدین تھے ،مقابلہ میں بنو الملوح تھے، ایک مجاہد زخمی ہوئے ،بنو الملوح نے قبل ازیں بشیر بن سعدؓ کے ساتھیوں کو قتل کردیا تھا ان کی توبیخ کیلئے یہ سریہ بھیجا گیا تھا۔ (۷۴)
    ۳۳۔ سریہ فدک: صفر ۷ھ مطابق دسمبر۶۲۸ء میں ہوا ، اس میں حضرت غالب بن عبد اللہ اللیثی ؓ کو ۲۰۰/مجاہدین کے ہمراہ فدک کے اطرا ف میں حضرت بشیر بن سعدؓ کے رفقاء کی شہادت گاہ میں بھیجا گیا تھا ، ان لوگوں نے دشمن کے جانوروں پر قبضہ کیا اور متعدد افراد قتل کئے ۔ (۷۵)
    ۳۴۔ سریہ تربہ: شعبان۷ھ مطابق دسمبر۶۲۸ء میں واقع ہوا ،حضورﷺ کو اطلاع ملی کہ مکہ سے چار رات کے فاصلے پر نجران کی طرف ایک مقام"تربہ" میں ہوازن کے کچھ شوریدہ سرآمادۂ شر ہیں ،آپﷺ نے حضرت عمر بن خطاب کو(۳۰)مجاہدین کے ہمراہ اس سمت بھیجا ؛لیکن وہ لوگ بھاگ گئے۔(۷۶)
    ۳۵۔ سریہ بنی کلاب: شعبان ۷ھ مطابق دسمبر۶۲۸ء میں ہوا ، اس کے قائد حضرت ابو بکر صدیقؓ تھے، مقابل میں بنو کلاب تھے ،یہ بنو محارب اور بنو انمار کو مسلمانوں کے خلاف جمع کر رہے تھے ،بہت سے دشمن قید وقتل ہوئے ،مسلمانوں کو فتح ہوئی۔(۷۷)
    ۳۶۔ سریہ میفعہ: رمضان ۷ھ مطابق جنوری۶۲۹ء میں ہوا ،بنو عوال اور بنو ثعلبہ کے چند شوریدہ سر شرارت کے لئے جمع ہو گئے تھے ،حضورﷺ نے حضرت غالب بن عبد اللہ لیثیؓ کو ۱۳۰/آدمی دے کر اس طرف بھیجا ،وہاں جنگ ہوئی اور قبائل کو سخت شکست کا سامنا کرنا پڑا۔(۷۸)
    ۳۷۔ سریہ حرقہ: رمضان ۷ھ میں ہوا ،جس کے قائد اسامہ بن زیدؓ تھے ،مقابلہ اہل حرقہ سے تھا،اسی سریہ میں وہ واقعہ پیش آیا تھا کہ حضرت اسامہ ؓ نے ایک ایسے آدمی کو قتل کردیا تھا جس نے ان کے سامنے کلمہ شہادت پڑھ لیا تھا۔ (۷۹)
    ۳۸۔ سریہ بنو مرہ: شعبان ۷ھ مطابق دسمبر۶۲۸ء میں ہوا،حضرت بشیر بن سعدؓ کی امارت میں ۳۰/مجاہد تھے ،مقابل میں بنو مرہ تھے،یہ سریہ بنو مرہ کی تادیب کے لئے بھیجا گیا تھا ،کامیاب واپس آرہا تھا کہ رات کو راستہ میں دشمن پیچھے سے آگیا ،دونوں فریق میں جم کر تیر اندازی ہوئی ؛اس میں سارے مجاہدین کام آگئے صرف حضرت بشیرؓ زندہ بچے اور زخمی حالت میں مدینہ واپس آئے۔(۸۰)
    ۳۹۔ سریہ بشیر بن سعد انصاریؓ: شوال ۷ھ مطابق فروری۶۲۹ء میں ہوا، اس میں حضرت بشیر بن سعد انصاریؓ کی قیادت میں ۳۰۰/مسلمانوں نے شرکت کی ، مقابلہ بنو فزارہ اور عذرہ سے تھا ، اس میں ۳۰/مسلمان زخمی ہوئے اور ۲/کافر قید ہوئے، بنو فزارہ اور بنو عذرہ یہود خیبر کی امداد کرتے تھے ، ان پر رعب ڈالنے کے لئے یہ سریہ بھیجا گیا،اسے سریہ یمن وجناب بھی کہتے ہیں ۔(۸۱)
    ۴۰۔ سریہ ابن ابی العوجاء: ذی الحجہ ۷ھ مطابق فروری۶۲۹ء میں ہوا ، ابن ابی العوجاءؓ کی امارت میں ۵۰/مجاہدین نے شرکت کی ، یہ سریہ بنو سلیم کے خلاف تھا ،ان کی جمعیت منتشر کر نے کے لئے بھیجا گیا تھا ،وہاں پہنچے تو قبائلیوں نے انہیں گھیر لیا ، اس میں ۱/مجاہد زخمی اور ۴۹/شہید ہوئے ۔(۸۲)
    سرایا سنہ۸ھ
    ۴۱۔ سریہ ذات اطلاح: ربیع الاول ۸ھ مطابق جولائی۶۲۹ء میں ہوا ، حضرت کعب بن عمیر انصاری غفاریؓ کی قیادت میں ۱۵/صحابہؓ نے شرکت کی ،مقابل میں اہل ذات اطلاح اور بنو قضاعہ تھے ، یہ دستہ ذات اطلاح میں تبلیغ کے لئے بھیجا گیا تھا ،ان لوگوں نے ان پر حملہ کردیا ، اس میں ۱۴/مسلمان شہید ہوئے ۔(۸۳)
    ۴۲۔ سریہ ذات عرق: ربیع الاول ۸ھ مطابق جولائی۶۲۹ء میں ہوا ، اس میں حضرت شجاع بن وہب الاسدیؓکی قیادت میں (۲۵)مجاہدین تھے،مقابل میں بنو ہوازن تھے ،بنو ہوازن باربابر دشمنوں کو کمک پہنچاتے تھے ؛اس لئے یہ سریہ روانہ کیا گیا ، اس میں جنگ نہیں ہوئی ۔(۸۴)
    ۴۳۔ سریہ موتہ: جمادی الاولی ۸ھ مطابق ستمبر۶۲۹ء میں ہوا، حضرت زید بن حارثہؓ کی امارت میں صحابہؓ کی تعداد ۳۰۰۰/تھی، جبکہ کفارشرحبیل غسانی کی قیادت میں ۱۰۰۰۰۰/ایک لاکھ تھے، اس میں ۱۲/مسلمان شہید ہوئے ،جن میں خود حضرت زید بن حارثہ ؓ تھے نیز جعفر بن ابی طالبؓ اور عبد اللہ بن رواحہؓ تھے،یہ حضورﷺ کے حکم سے باری باری امیر مقرر ہوئے تھے ، مسلمانوں کو فتح ہوئی، سریہ کا سبب یہ ہوا کہ شرحبیل نے حضورﷺ کے قاصد حضرت حارث بن عمیر ازدیؓ کو قتل کردیا تھا۔(۸۵)
    ۴۴۔ سری ذات السلاسل: جمادی الاخرہ ۸ھ مطابق اکتوبر۶۲۹ء میں پیش آیا ،اس میں عمرو بن عاص قرشی سہمیؓ کی قیادت میں ۵۰۰/صحابہؓ نے شرکت کی ، مقابل میں بنو قضاعہ تھے ،مدینہ میں خبر پہنچی کہ وادی القری میں ،جو مدینہ سے ۱۰/یوم کی مسافت پر واقع ہے ،بنو قضاعہ کے کچھ لوگ فتنہ پردازی کے لئے اکٹھے ہوگئے ہیں ، مسلمانوں کو دیکھ کر دشمن بھاگ گیا۔(۸۶)
    ۴۵۔ سریہ سیف البحر: رجب ۸ھ مطابق نومبر۶۲۹ء میں ہوا، حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ کی امارت میں ۳۰۰/مجاہدین نے شرکت کی ، مقابلہ میں قریش تھے ،چند روز تک مجاہدین ساحل پر رہے پھر واپس آگئے،اس کوسریہ خبط بھی کہتے ہیں ،اس میں جنگ نہیں ہوئی، دشمن مجاہدین کو دیکھ کر بھاگ گئے۔ (۸۷)
    ۴۶۔ سریہ محارب: شعبان ۸ھ مطابق دسمبر۶۲۹ء میں ہوا ، حضرت ابو قتادہ انصاری ؓکی امارت میں ۱۵/صحابہؓ نے شرکت کی ،مقابلہ میں بنو غطفان(نجد کے علاقہ خضرہ کے رہنے والے)تھے ،ان کی گوشمالی کے لئےیہ دستہ بھیجا گیا تھا، اس میں دشمن بھاگ گئے، مسلمانوں کو بہت سے جانور ہاتھ آئے ،اسے سریہ خضرہ بھی کہتے ہیں ۔ (۸۸)
    ۴۷۔ سریہ خالدؓ: رمضان ۸ھ مطابق جنوری۶۳۰ء میں ہوا، عزی در اصل نخلہ میں ایک درخت کا نام تھا ،جس کے نیچے ایک بت رکھا ہوا تھا ،جو لات ومنات کے بعد تراشا گیا تھا، اس درخت کی مناسبت سے یہ بھی عزی کہلانے لگا تھا ،فتح مکہ کے ۵/دن بعد حضرت خالد بن ولید ؓکو۳۰/سواروں کے ساتھ عزی بت(جو بنی کنانہ کا بت تھا) توڑنے کے لئے بھیجا گیا تھا، آپ نے اسے توڑ دیا۔ (۸۹)
    ۴۸۔سریہ عمرو بن عاصؓ: رمضان۸ھ مطابق جنوری۶۳۰ء میں ہوا، حضرت عمرو بن عاص کو سواع بت(جو بنی ہذیل کا بت تھا، مکہ سے ۳میل دور مقام رہاط میں نصب تھا) توڑنے کے لئے بھیجا گیا تھا ، آپ نے اسے توڑ دیا۔ (۹۰)
    ۴۹۔ سریہ سعد الاشہلیؓ: رمضان۸ھ مطابق جنوری۶۳۰ء حضرت سعد بن زید اشہلی انصاریؓ کومناۃ بت (جواوس اور خزرج اور غسان کا بت تھا)توڑ آنے کا حکم ملا ،انہوں نے تعمیل کی۔ (۹۱)
    ۵۰۔ سریہ خالد بن ولید: شوال ۸ھ مطابق جنوری۶۳۰ء میں ہوا ،اس میں ۳۵۰/صحابہؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کی امارت میں شرکت کی ، مقابلہ میں بنو جذیمہ تھے ، اس میں بنوجذیمہ کے۹۵/لوگ قتل ہوئے جو مسلمان تھے ، آپﷺ نے ان کا خون بہا دیا، حضرت خالد کو داعی بناکر بھیجا گیا تھا ، بنو جذیمہ پہلے ہی اسلام لا چکے تھے ، حضرت خالدؓ کو شک ہوا اور ان سے قتال کیا۔ (۹۲)
    سرایا سنہ ۹ھ
    ۵۱۔ سریہ عیینہ بن حصنؓ: محرم ۹ھ میں ہوا، حضرت عیینہ بن حصن بن حذیفہ بن بدر فزاریؓ کی امارت میں ۱۵۰/مجاہدین نے شرکت کی ، مقابل میں بنی تمیم تھے ،تمیم عرب کا ایک اہم قبیلہ تھا ،جو خلیج ایران کے مغربی ساحل پر کویت کے قریب آباد تھا، حضورﷺ کو اطلاع ملی کہ یہ قبیلہ حملہ کی تیاریاں کررہا ہے تو آپؐ نے یہ دستہ روانہ کیا ، اس میں ۶۲/کفارقید ہوئے،حضورﷺ نے بنو تمیم کے وفد کی درخواست پر تمام قیدی چھوڑ دئے۔ (۹۳)
    ۵۲۔ سریہ قطبہ بن عامرؓ: صفر۹ھ مطابق مئی،جون۶۳۰ء میں ہوا،اس میں ۲۰/صحابہؓ نے قطبہ بن عامرؓ کی امارت میں شرکت کی ، مقابل میں قبیلہ خثعم تھا ، مدینہ میں خبر ملی کہ بنو خثعم جو مکہ کے شمال میں دو یوم کی مسافت پر وادیٔ بیشہ کے قریب رہتے تھے آمادۂ فساد ہیں ، اس میں نصف سے زیادہ مسلمان زخمی ہوئے، اور اکثر کفار قید ہوئے ، باقی سب بھاگ گئے،حضورﷺ نے سب کو رہا کردیا۔ (۹۴)
    ۵۳۔ سریہ ضحاک بن سفیان کلابیؓ: ربیع الاول ۹ھ مطابق جون،جولائی۶۳۰ء میں ہوا، اس کے قائد حضرت ضحاکؓ تھے، مقابل میں بنی کلاب تھے جو نجد میں رہتے تھے ، خبر ملی کہ یہ حملہ کی تیاری کر رہے ہیں تو یہ دستہ بھیجا گیا ، انہیں سخت شکست ہوئی۔ (۹۵)
    ۵۴۔ سریہ عبداللہ بن حذافہ: ربیع الاول ۹ھ میں پیش آیا ، اس میں حضرت عبداللہ بن حذافہ قرشی سہمیؓ کی قیادت میں ۳۰۰/مسلمانوں نے شرکت کی ، مقابل میں حثمیین کے ڈاکوتھے ، اس میں دشمن بھا گ گیا۔ (۹۶)
    ۵۵۔ سریہ بنی طی: ربیع الاخر۹ھ مطابق جولائی،اگست۶۳۰ء میں ہوا ، اس میں حضرت علی ؓ کی امارت میں ۱۵۰/مجاہدین نے شرکت کی ، مقابلہ میں بنو طے تھے ، اس میں حاتم کی بیٹی سفانہؓ قید ہوئیں، حضور ﷺ نے بہت اکرام کے ساتھ ان کو رہا کیا۔(۹۷)

  2. #2
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Oct 2012
    پيغامات
    299
    شکریہ
    0
    6 پیغامات میں 6 اظہار تشکر

    غزوات نبویﷺ اور ان مںر شریک صحابہ کرامؓ کی تعداد

    ۵۶۔ سریہ دومۃ الجندل: رجب ۹ھ مطابق جون،جولائی۶۳۰ء میں ہوا، اس میں ۴۲۰/مجاہدین نے حضرت خالد بن ولیدؓ کی امارت میں شرکت کی،مقابلہ میں اکیدر،دومۃ الجندل کا امیر تھا، وہ قید ہوااور اس کا بھائی قتل ہوا، حضورﷺ نے اکیدر کو رہا کردیا۔ (۹۸)
    حواشی
    (۱)(طبری۳:۲۶،۲۷) (۲)(طبری۲:۲۹۷،البدایہ والنہایہ۳:۲۴۳،الکامل۲:۷)
    (۳)(طبری۲:۲۹۷،البدایہ والنہایہ ۳:۲۴۶، المغازی للواقدی ۱:۲،سیرۃ ابن ہشام ۲:۲۴۰،الطبقات الکبری۲:۸،۹ الکامل فی التاریخ۲:۸)
    (۴)(طبری۲:۲۹۸،سیرۃ ابن ہشام۲:۲۴۳،الطبقات الکبری۲:۹، الکامل۲:۸،البدایہ والنہایہ۳:۳۴۷)
    (۵)(طبری۲:۲۹۸،سیرۃ ابن ہشام ۲:۲۴۰،المغازی للواقدی ۱:۲،۱۲،الطبقات الکبری ۲:۹،الکامل۲:۸،البدایہ والنہایہ۳:۳۴۶)
    (۴) (طبری۲:۲۹۸،سیرۃ ابن ہشام۲:۲۴۳،الطبقات الکبری۲:۹، الکامل۲:۸،البدایہ والنہایہ۳:۳۴۷)
    (۵)(طبری۲:۲۹۸،سیرۃ ابن ہشام ۲:۲۴۰،المغازی للواقدی ۱:۲،۱۲،الطبقات الکبری ۲:۹،الکامل۲:۸،البدایہ والنہایہ۳:۳۴۶)
    (۶)(الکامل:۲:۱۲،سیرۃ ابن ہشام:۲:۲۴۹،المغازی للواقدی۱:۱۹، دلائل النبوۃ للبیہقی۲:۳۹۶،صحیح البخاری فی المغازی:۵:۳،۲۲،البدایہ والنہایہ۳:۲۵۶، طبری۲:۳۰۷)
    (۷)(الکامل ۲:۳۱،انساب الاشراف۱:۳۰۹،طبری۲:۳۵۱)
    (۸) (الکامل۲:۳۰،سیرۃ ابن ہشام ۳:۹،المغازی للواقدی ۱:۱۸۶،الطبقات الکبری ۲:۲۸،طبری۲:۳۵۱،البدایہ والنہایہ۴:۳)
    (۹)(طبری ۲:۳۵۳،الکامل۲:۳۱،سیرۃ ابن ہشام۳:۵،المغازی للواقدی ۱:۱۸۲،الطبقات الکبری ۲:۳۱،البدایہ والنہایہ ۳:۳۴۴)
    (۱۰)(طبری۲:۳۵۴،الکامل۲:۳۲،س رۃ ابن ہشام ۳:۶،المغازی للواقدی ۱:۱۸۱،الطبقات الکبری ۲:۳۰،دلائل النبوۃ للبیہقی ۲:۴۳۳،البدایہ والنہایہ۳:۳۴۴)
    (۱۱)(البدایہ والنہایہ۴:۲) (۱۲)(طبری۲:۳۵۶، الکامل ۲:۳۴،المغازی للواقدی ۱:۱۹۴ ،البدایہ والنہایہ۴:۲)
    (۱۳)(الکامل۲:۳۴،سیرۃ ابن ہشام ۳:۸،المغازی للواقدی ۱:۱۹۶،الطبقات الکبری ۲:۳۵،۳۶البدایہ والنہایہ۴:۳ )
    (۱۴)(الکامل ۲:۳۹،سیرۃ ابن ہشام ۳:۲۳،المغازی للواقدی ۱:۱۹۹،الطبقات الکبری ۲:۳۶،۴۸،البدایہ والنہایہ۴:۹،۶۱،دلائل النبوۃ للبیہقی۷:۴۰ )
    (۱۵)(الکامل ۲:۵۲،سیرۃ ابن ہشام ۳:۶۵،المغازی للواقدی ۱:۳۳۴،الطبقات الکبری ۲:۴۸،البدایہ والنہایہ۴:۴۹، طبری۲:۳۹۳)
    (۱۶)(الکامل ۲:۶۰،سیرۃ ابن ہشام ۳:۱۴۳،المغازی للواقدی ۱:۳۶۳،الطبقات الکبری ۲:۵۷،البدایہ والنہایہ۴:۷۴، طبری۲:۴۰۶)
    (۱۷)(الکامل ۲:۶۱،سیرۃ ابن ہشام ۳:۱۵۵،المغازی للواقدی ۱:۳۹۵،الطبقات الکبری ۲:۶۱،البدایہ والنہایہ۴:۸۳، طبری۲:۴۰۹)
    (۱۸)(طبری۲:۴۱۰،الکامل ۲:۶۲،البدایہ والنہایہ ۴:۸۳)
    (۱۹)(الکامل ۲:۶۲،سیرۃ ابن ہشام ۳:۱۶۰،المغازی للواقدی ۱:۳۸۴،الطبقات الکبری ۲:۵۹،البدایہ والنہایہ۴:۸۷،طبری۲:۴۱۲)
    (۲۰)(الکامل ۲:۶۴،سیرۃ ابن ہشام ۳:۱۶۵،البدایہ والنہایہ۴:۹۲،طبری۲:۴۱۶)
    (۲۱)(الکامل ۲:۷۶،سیرۃ ابن ہشام ۳:۲۳۵،المغازی للواقدی ۱:۴۰۴،الطبقات الکبری ۲:۶۳،۶۵،البدایہ والنہایہ۴:۱۶۵،طبری۲:۴۴۵)
    (۲۲)(الکامل ۲:۶۵،سیرۃ ابن ہشام ۳:۱۶۵،المغازی للواقدی ۱:۴۴۰،الطبقات الکبری ۲:۶۵،البدایہ والنہایہ۴:۹۲،طبری۲:۴۱۶)
    (۲۳)(الکامل ۲:۷۰،سیرۃ ابن ہشام ۳:۱۸۳،المغازی للواقدی ۱:۴۹۶،الطبقات الکبری ۲:۷۴،البدایہ والنہایہ۴:۱۱۶،طبری۲:۴۲۹)
    (۲۴)(الکامل ۲:۷۳،سیرۃ ابن ہشام ۳:۲۲۵،المغازی للواقدی ۲:۵۳۵،الطبقات الکبری ۲:۷۸،البدایہ والنہایہ۴:۱۴۹،طبری۲:۴۳۹)
    (۲۵) (الکامل ۲:۷۳،سیرۃ ابن ہشام ۳:۲۲۷،المغازی للواقدی ۲:۵۳۷،الطبقات الکبری ۲:۸۰،البدایہ والنہایہ۴:۱۵۰،طبری۲:۴۴۰)
    (۲۶)(الکامل ۲:۷۳،سیرۃ ابن ہشام ۳:۲۲۷،المغازی للواقدی ۲:۵۳۷،الطبقات الکبری ۲:۸۰،البدایہ والنہایہ۴:۱۵۰،طبری۲:۴۴۰)
    (۲۷)(الکامل ۲:۹۶،سیرۃ ابن ہشام ۳:۲۷۵،المغازی للواقدی ۲:۶۳۳،الطبقات الکبری ۲:۱۰۶،البدایہ والنہایہ۴:۱۸۱،طبری۲:۴۸۹)
    (۲۸)(الکامل ۲:۱۰۱،سیرۃ ابن ہشام ۳:۲۸۸،البدایہ والنہایہ۴:۲۱۸،طبری۲:۴۹۵)
    (۲۹)(الکامل ۲:۱۱۵،سیرۃ ابن ہشام ۴:۲۹،المغازی للواقدی ۲:۷۸۰،الطبقات الکبری ۲:۱۳۴،البدایہ والنہایہ۴:۲۷۸،طبری۲:۵۱۹)
    (۳۰)(الکامل ۲:۱۳۲،سیرۃ ابن ہشام ۴:۸۱،المغازی للواقدی ۲:۸۸۵،الطبقات الکبری ۲:۱۴۹،البدایہ والنہایہ۴:۳۲۲،طبری۲:۵۴۳)
    (۳۱) (الکامل ۲:۱۳۷،سیرۃ ابن ہشام ۴:۱۱۷،المغازی للواقدی ۳:۹۲۲،الطبقات الکبری ۲:۱۵۸،البدایہ والنہایہ۴:۳۴۵،طبری۲:۵۵۲)
    (۳۲)(الکامل ۲:۱۴۵،سیرۃ ابن ہشام ۴:۱۵۵،المغازی للواقدی ۳:۹۸۹،الطبقات الکبری ۲:۱۶۵،البدایہ والنہایہ۵:۲،طبری۲:۵۶۶)
    (۳۳)(طبری۳:۱۵۴، التنبیہ والاشراف ص۲۷۸) (۳۴)(ابن ہشام،السیرۃ النبویہ ۴:۶۰۹،۶۱۱،۶۱۲،۶۲۱)
    (۳۵)(ابن حجر،فتح۷:۲۸۱ ) (۳۶)( التنبیہ والاشراف ص۲۷۸)
    (۳۷) (ابن حجر،فتح۷:۲۸۱ ) (۳۸) (الوفا باحوال المصطفی(۲۷۹))
    (۳۹)( التنبیہ والاشراف ص۲۷۸،فتح۸:۱۵۴) (۴۰) (فتح۸:۱۵۴)
    (۴۱)(البدایہ والنہایہ۳:۲۴۰،۲۴۱، مصنف ۵:۲۹۵) (۴۲)(طبری ۳:۲۷)
    (۴۳)(الکامل۲:۷، المغازی لعروہ۱:۹، الطبری۲:۲۹۴، البدایہ والنہایہ:۳:۲۳۴)
    (۴۴)(الکامل۲:۷،الطبقات لابن سعد۲:۷المغازی للواقدی۱:۹، الطبری۲:۲۹۴، البدایہ والنہایہ ۳:۲۳۴)
    (۴۵)(الکامل۲:۷، الطبری۲:۲۹۴، البدایہ والنہایہ ۳:۲۳۴)
    (۴۶)الکامل۲:۱۰،سیرۃ ابن ہشام۲:۲۴۳۲۴۶،المغازی للواقدی۱:۲،۱۳الطبقات الکبری۲:۱۱عیون الاثر:۱:۲۲۷۳۷۲،الطبری۲:۲۹۹ البدایہ والنہایہ ۳:۲۴۸
    (۴۷)(الروض الانف ۴:۴۱۷،السیرۃالحلبیہ۵:۴۳۶،و ۷:۱۳۵،سیرۃ ابن ہشام۲:۶۳۶، عیون الاثر۱:۳۸۲،البدایہ والنہایہ ۵:۲۴۰، ابن کثیر۵:۲۴۰)
    (۴۸)(الروض الانف ۴:۴۱۷،،السیرۃالحلبیہ۳:۴۳۷، و۷:۱۳۵،ابن کثیر۴:۴۳۸ ،سیرۃ ابن ہشام۲:۶۳۵، عیون الاثر۱:۳۸۳، البدایہ والنہایہ ۵:۲۴۰)
    (۴۹)( الطبری۲:۳۵۴)
    (۵۰)(الکامل۲:۳۴،سیرۃ ابن ہشام۳:۱۲۱۹، المغازی للواقدی۱:۱۸۴،عیون الاثر۱:۲۹۸،انساب الاشراف۱:۳۸۴، الطبری۲:۳۵۶، البدایہ والنہایہ ۴:۵)
    (۵۱) (الکامل۲:۳۶،سیرۃ ابن ہشام۳:۱۱، المغازی للواقدی۱:۱۹۷،۱۹۸،عیون الاثر۱:۳۰۴،۳۰۵، الطبری۲:۳۶۰، البدایہ والنہایہ ۴:۴)
    (۵۲)(السیرۃ الحلبیہ۷:۱۳۶،السیرۃ لابن الکثیر۳:۱۲۱،جوامع السیرۃ۱:۱۸،عیون الاثر۲:۸، البدایہ والنہایہ ۴:۶۱)
    (۵۳) (الروض الانف۴:۴۰۱، السیرۃ الحلبیہ ۷:۱۳۶،ابن کثیر ۳:۲۶۷،جوامع السیرۃ ۱:۱۹،سیرۃ ابن ہشام۲:۶۱۹، عیون الاثر۲:۹، البدایہ والنہایہ ۴:۱۶۰)
    (۵۴)(الکامل۲:۵۵،سیرۃ ابن ہشام۳:۱۲۳، الطبقات الکبری ۲:۳۹،عیون الاثر۲:۴۰، الطبری۲:۳۹۵، البدایہ والنہایہ ۴:۶۲)
    (۵۵) (الکامل۲:۵۸،سیرۃ ابن ہشام۳:۱۳۷، المغازی للواقدی۱:۳۴۶،الطبقات الکبری ۲:۵۱،عیون الاثر۲:۴۴، الطبری۲:۴۰۱، البدایہ والنہایہ ۴:۷۱)
    (۵۶)(الکامل۲:۵۹،سیرۃ ابن ہشام۳:۱۳۹،جوامع السیرۃ ۱:۱۸۰، الطبری۲:۴۰۳، البدایہ والنہایہ ۴:۷۳)
    (۵۷) (الکامل۲:۵۷،الطبری۲:۳۹۹)
    (۵۸)(الکامل۲:۳۷،انساب الاشراف۱:۳۷۶،الطبقات الکبری ۲:۹۱،عیون التواریخ۱:۱۵۱۔۱۵۳، الطبری۲:۳۶۱، البدایہ والنہایہ ۴:۱۳۷،)
    (۵۹)(الروض الانف ۴:۳۹۶،السیرۃ الحلبیہ ۵:۴۷۵،ابن کثیر۴:۴۳۲،جوامع السیرۃ ۱:۱۸،سیرۃ ابن ہشام۲:۶۱۱عیون الاثر ۲:۶۳،)
    (۶۰) (الکامل۲:۸۷،،الطبقات الکبری ۲:۸۴،عیون التواریخ۱:۲۴۷، الطبری۲:۴۷۴، البدایہ والنہایہ ۴:۱۷۸،)
    (۶۱) (الکامل۲:۸۷،المغازی للواقدی ۲:۱۵۵،الطبقات الکبری ۲:۸۵،عیون التواریخ۲:۲۴۸، الطبری۲:۴۷۴، البدایہ والنہایہ ۴:۱۷۸)
    (۶۲) (الکامل۲:۸۷،الطبقات الکبری ۲:۸۶،المغازی للواقدی ۴:۵۵۲،عیون التواریخ۱:۲۴۸، الطبری۲:۴۷۴، البدایہ والنہایہ ۴:۱۷۸)
    (۶۳) (الکامل۲:۸۸،الطبقات الکبری ۲:۸۶،،عیون التواریخ۱:۲۴۸، الطبری۲:۴۷۴، البدایہ والنہایہ ۴:۱۷۸)
    (۶۴)(الکامل ۲:۸۸،الطبری ۲: ۴۷۵،البدایہ والنہایہ ۴:۱۷۸)
    (۶۵)(الکامل:۲:۸۸، الطبقات الکبری:۲:۸۷، عیون التواریخ:۱:۲۴۹، الطبری۲:۴۷۵،البدایہ والنہایہ:۴:۱۷۸، سیرۃابن ہشام:۴:۲۳۶، المغازی للواقدی:۲:۵۵۵)
    (۶۶)(الکامل ۲:۸۸،الطبری۲:۴۷۵،البدایہ والنہایہ ۴:۱۷۸)
    (۶۷)(الکامل۲:۸۹،سیرۃ ابن ہشام ۴:۲۶۳،المغازی للواقدی۲:۵۶۲، عیون الاثر ۲:۱۰۷، الطبری۲:۴۷۵)
    (۶۸) (الکامل۲:۹۰،الطبقات الکبری ۲:۸۹، الطبری۲:۴۷۵، البدایہ والنہایہ ۴:۱۷۹،سیرۃ ابن ہشام ۴:۲۵۵)
    (۶۹)(الکامل۲:۹۰،الطبقات الکبری ۲:۸۹،۹۰،عیون الاثر۲:۱۰۹،۱۱۰، الطبری۲:۴۷۶،سیرۃ ابن ہشام ۴:۲۵۸،المغازی للواقدی۲:۵۶۲)
    (۷۰)(الکامل۲:۹۰، الطبری۲:۴۷۶) (۷۱) (السیرۃ الحلبیہ ۷:۱۳۷،تاریخ الرسل والملوک۲:۹۵، تاریخ الیعقوبی۱:۱۳۴)
    (۷۲) (الکامل۲:۹۱،الطبقات الکبری ۲:۹۳،،عیون التواریخ۱:۲۵۳، الطبری۲:۴۷۷، البدایہ والنہایہ ۴:۱۷۹)
    (۷۳)(البدایہ والنہایہ ۷:۱۰۹،الکامل۲:۸۶، الطبری۲:۴۷۳،الروض الانف ۴:۵۷،السیرۃ الحلبیہ۵:۱۴۴،ابن کثیر ۳:۳۳۵،سیرۃ ابن ہشام۲:۳۱۸)
    (۷۴)(الکامل۲:۱۰۷،الطبقات الکبری ۲:۱۲۴، الطبری۲:۴۷۵، البدایہ والنہایہ۴:۲۲۲، ابن کثیر ۴:۴۳۲،جوامع السیرۃ ۱:۱۸،سیرۃ ابن ہشام ۲:۶۰۹)
    (۷۵)(الکامل۲:۱۰۴،الطبقات الکبری ۲:۱۱۹، الطبری۲:۵۰۱، البدایہ والنہایہ۴:۲۲۲،سیرۃ ابن ہشام ۴:۲۳۹)
    (۷۶)(الکامل ۲:۱۰۴،المغازی للواقدی ۲:۷۲۲،الطبقات الکبری ۲:۱۱۷، الطبری۲:۵۰۰، البدایہ والنہایہ۴:۲۲۱)
    (۷۷)(السیرۃ الحلبیہ ۵:۵۰۰،عیون الاثر۲:۱۵۴، الطبری۲:۵۰۰، البدایہ والنہایہ۴:۲۲۰)
    (۷۸)(الکامل ۲:۱۰۴،سیرۃ ابن ہشام۴:۲۳۹،الطبقات الکبری ۲:۱۱۹، الطبری۲:۵۰۱، البدایہ والنہایہ۴:۲۲۲)
    (۷۹)(السیرۃ الحلبیہ ۶:۳،ابن کثیر ۳:۵۲۳،زاد المعاد۳:۳۱۶، البدایہ والنہایہ۴:۲۷۷)
    (۸۰)(الکامل ۲:۱۰۴،المغازی للواقدی ۲:۷۲۳،الطبقات الکبری ۲:۱۱۸،۱۱۹، البدایہ والنہایہ۴:۲۲۱،۲۲۲)
    (۸۱)(الکامل ۲:۱۰۴،المغازی للواقدی۲:۷۲۷،الطبقات الکبری ۲:۱۲۰، الطبری۲:۵۰۱)
    (۸۲)(الکامل ۲:۱۰۶،الطبقات الکبری ۲:۱۲۳،عیون الاثر ۲:۱۴۹، عیون التواریخ۱:۲۷۴ الطبری۲:۵۰۴،البدایہ والنہایہ ۴:۲۳۵)
    (۸۳)(الکامل ۲:۱۰۸،المغازی للواقدی ۲:۷۵۲،الطبقات الکبری ۲:۱۲۷، الطبری۲:۵۰۷، البدایہ والنہایہ۴:۲۴۱)
    (۸۴)(الکامل ۲:۱۰۸،الطبقات الکبری ۲:۱۲۷،المغازی للواقدی ۲:۷۵۳، الطبری۲:۵۰۷، البدایہ والنہایہ۴:۲۴۰)
    (۸۵)(الکامل۲: ۱۱۱،الطبقات الکبری ۲:۱۲۸، الطبری۲:۵۱۳، البدایہ والنہایہ۴:۲۴۱)
    (۸۶)(الکامل ۲:۱۰۹،المغازی للواقدی ۲:۷۶۹،سیرۃ ابن ہشام۴:۲۶۹،الطبقات الکبری ۲:۱۳۱، الطبری۲:۵۰۹، البدایہ والنہایہ۴:۲۷۳)
    (۸۷)(الروض الانف ۴:۴۱۴،الکامل ۲:۱۱۰،المغازی للواقدی ۲:۷۷۴،الطبقات الکبری ۲:۱۳۲، الطبری۲:۵۱۰، البدایہ والنہایہ۴:۲۷۶)
    (۸۸)(السیرۃ الحلبیہ ۶:۱۶،عیون الاثر ۲:۱۷۶، الطبری۲:۵۱) (۸۹)الکامل ۲:۱۳۲،سیرۃ ابن ہشام۴:۷۹، الطبری۲:۵۳۷، البدایہ والنہایہ۴:۳۱۶
    (۹۰) (الکامل ۲:۱۳۲، الطبری۲:۵۳۸) (۹۱)(الکامل ۲:۱۳۲،عیون التواریخ۱:۳۲۱، الطبری۲:۵۳۸)
    (۹۲)(الکامل ۲:۱۲۷،سیرۃ ابن ہشام۴:۷۱،المغازی للواقدی ۳:۸۷۵،الطبقات الکبری۲:۱۴۷ الطبری۲:۵۳۸)
    (۹۳) (الکامل ۲:۱۴۲،انساب الاشراف ۱:۳۸۰،المغازی للواقدی ۲:۷۵۲،السیرۃ الحلبیہ ۶:۳۱،عیون الاثر ۲:۲۳۴،جوامع السیرۃ ۱:۲۰،سیرۃ ابن ہشام۲:۶۲۱)
    (۹۴)(السیرۃ الحلبیہ ۶:۳۸،عیون الاثر ۲:۲۳۸،الروض الانف ۴:۴۰۴) (۹۵)(السیرۃ الحلبیہ ۶:۳۹،عیون الاثر ۲:۲۳۳)
    (۹۶)(ابن کثیر ۳:۴۲۶) (۹۷) (الطبری ۲:۵۷۵، الکامل ۲:۱۵۱،السیرۃ الحلبیہ ۶:۴۱،عیون الاثر ۲:۲۴۱)
    (۹۸)(الطبری ۲:۵۷۳، الکامل ۲:۱۴۸،انساب الاشراف ۱:۳۸۲،المغازی للواقدی ۲:۱۰۳۱،سیرۃ ابن ہشام۲:۱۶۷)

متشابہہ موضوعات

  1. اصلاح معاشرہ کی ضرورت اور تعلیمات نبویﷺ
    By ٹیکسٹ ماسٹر in forum متفرق موضوعات
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 03-08-2013, 12:57 PM
  2. غزوات ودیگر حالات حضرت عثمان غنیؓ
    By گلاب خان in forum صحابہ کرام اور صحابیات
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 11-03-2012, 03:27 PM
  3. غزوات ودیگر حالات
    By گلاب خان in forum صحابہ کرام اور صحابیات
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 11-03-2012, 02:03 PM
  4. غزوات ودیگر حالات حضرت عمر فاروقؓ
    By گلاب خان in forum متفرق موضوعات
    جوابات: 0
    آخری پيغام: 07-14-2012, 04:29 PM
  5. جوابات: 0
    آخری پيغام: 09-23-2011, 04:05 AM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University