نتائج کی نمائش 1 تا: 5 از: 5

موضوع: انوکھی پیزا شاپ!ہتھیار دکھائیں، ڈسکاؤنٹ پائیں

  1. #1
    ناظم سیما کا اوتار
    تاريخ شموليت
    May 2011
    پيغامات
    2,514
    شکریہ
    409
    125 پیغامات میں 159 اظہار تشکر

    انوکھی پیزا شاپ!ہتھیار دکھائیں، ڈسکاؤنٹ پائیں

    [size=x-large][align=center]

    رچمنڈ…شاپنگ کرتے ہوئے اگر ڈسکاؤنٹ میں مل جائے تو خوشی کی انتہا نہیں رہتی لیکن امریکہ کی ایک پیزا شاپ میں تو دکانداراسلحہ دکھانے پر پندرہ فیصد ڈسکاؤنٹ دے رہے ہیں۔امریکی ریاست ورجینیا کی پیزا شاپ میں کوئی بھی گاہک اپنا اسلحہ یا پھر اسلحہ پرمٹ دکھا کر پیزا کی خریداری پر 15فیصد ڈسکاؤنٹ حاصل کر سکتا ہے۔دکان کے مالک کا کہنا ہے کہ انکے 80فیصد گاہک اپنی بندوق یاپستول دکھا کر اس پیشکش سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جبکہ اس انوکھی آفر کا سنتے ہی انکے ایک گاہک تو اپنے کئی ہتھیار لے کر دکان پر پہنچ گئے جنہیں دیکھ کر گھبراہٹ تو ہوئی تا ہم پیزا کی فروخت میں اضافے کا سوچتے ہی انکی گھبراہٹ خوشی میں بدل گئی۔[/align][/size]

  2. #2
    ناظم سیما کا اوتار
    تاريخ شموليت
    May 2011
    پيغامات
    2,514
    شکریہ
    409
    125 پیغامات میں 159 اظہار تشکر

    انوکھی پیزا شاپ!ہتھیار دکھائیں، ڈسکاؤنٹ پائیں

    دہشت گرد کون ہم یا امیریکا؟

  3. #3
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Oct 2012
    پيغامات
    299
    شکریہ
    0
    6 پیغامات میں 6 اظہار تشکر

    انوکھی پیزا شاپ!ہتھیار دکھائیں، ڈسکاؤنٹ پائیں

    اگر ہم تاریخ کا عمیق نظر سے مطالعہ کریں تو یہ بات ہم پرروزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ قومیں ہمشہ اپنی تاریخ سے پہچانی جاتی ہیں۔ تاریخ نے ہمیشہ قوموں کی شناخت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ عالمی دہشت گردی کی اس جنگ میں ہمیں پہلے یہ سمجھنا ہوگا کہ دہشت گرد ہے کون؟ پاکستان، افغانستان، کشمیر، بوسنیا، چیچنیا، یمن، عراق اور دیگر ممالک میں بھڑکتے ہوئے آگ کے شعلوں سے کون واقف نہیں ہے؟ ان ممالک پر ہونے والے مظالم، درد انگیز داستانیں اور نت نئے ہنگامے، انسان تو انسان، سماء و فلک، جبال و جبل کو بھی لرذا دینے والے ہیں۔ آخر ان شعلوں کو بھڑکانے والا ہے کون؟
    جمہوریت اور عالمی آمن کے ٹھیکدار، امریکا کا ماضی دہشت گردی کی تاریخ سے بھرا پڑا ہے۔ دہشت گردی کی تاریخ بھی انسان کی طرح قدیم ہے، اس کے مناظرمیں تاریخ کے مختلف ادوار دکھائی دیتے ہیں۔ زبردستوں نے زیردستوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے ان کے وسائل پر قبضہ کرکے اپنی سامراجی زہنیت کا مظاہرہ کیا۔ دورِ حاضر میں بھی انہی قوتوں نے دہشت گردی کو ہتھار بنا لیا ہے۔
    امریکا نے نام نہاد آمن کی آڑ میں دنیا میں فساد برپا کر رکھا ہے، دہشت گردی کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ امریکا دنیا کا واحد ملک ہے جس نے جوہری بم استعمال کرکے لاکھوں معصوم انسانوں کو موت کی وادی میں دھکیل دیا۔ 6 اگست 1945 کی صبح اینولا گے نامی جی 29 بمبار طیارہ جاپان کی فضاوں میں داخل ہوا اور 2 ہزار فٹ کی بلندی سے لٹل بوا ئے نامی یورنیم گرا کر اپنے نزدیک واپسی اختیار کی۔ 8 بج کر 15 منٹ پر انسانوں کے ہاتھوں انسانوں پر ڈھا ئی جانے والی قیامت کے بارے میں اینولاگے کا پا ئلٹ پاول کہتا ہے ً جب میں نے پیچھے مڑ کر ہیروشیما کی طرف دیکھا تو سارا شہر دھو ئیں کی لپیٹ میں تھا۔ چند لمحوں کے لیے ہم خاموش ہوگئے زہن خالی ہوگئے پھر ساتھی پا ئلٹ چلانے لگا وہ دیکھو وہ دیکھو اوہ میرے خدایا ہم نے کیا کردیا ً
    اس سانحہ میں 2 لاکھ افراد لقمہ اجل بنے۔ صرف 3 روز گزرنے کے بعد 9 اگست 1945 کو امریکا نے ناگاساکی کے مکینوں کو fat man نامی بم کا شکار بنایا۔ ان دونوں واقعات میں امریکا نے لاکھوں انسانوں کی زندگی چھین لی۔
    اس وقت امریکا کے پاس 10 ہزار سے زیادہ ایٹم بم موجود ہیں اور وہ آمن کا علمبردار بن کر ملکوں کو دھمکاتا رہتا ہے اور ان کی مزاحمت کو دہشت گردی قرار دیتا ہے حالانکہ آمریکی تاریخ صرف دہشت گردی کی تاریخ ہے۔ عراق پر اقتصادی پابندیوں کے باعث بچوں کو دودھ اور ادویات کی عدم دستیابی سے 5 لاکھ اموات اور ہزاروں میل دور ویت نام، لاوٴس اور کمبوڈیا میں 32 سال تک بمباری کرنا۔ CIA کے زریعے ایک سازش کے تحت 1962 میں انڈونیشا میں 20 لاکھ انسانوں کا قتل عام ، فلسطیں اور افغانستان میں بمباری کرکے ظلم و ستم کی بھیانک داستانیں رقم کی۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکا نے سویت یونین سمیت دوسرے ممالک کے خلاف جنگ کا آغاز کیا جو کہ 28 فروری 1946 سے لیکر 25 دسمبر 1991 تک جاری رہا۔ 26 جون 1948 سے 30 ستمبر 1949 تک امریکی فوجیوں نے برلن میں ظلم کا بازار گرم کیا۔ کوریا سے جنگوں کا سلسلہ شروع ہوا تو امریکی نے 27 جون 1950 سے 27 جولا ئی 1953 تک جارجیت کی پالیسی اپنا ئے رکھی۔
    11 اگست 1954 کو تا ئیوان پر حملوں کی ابتدا کی اوریہ سلسلہ 1955 تک جاری رہا۔ نہر سوئیز کے مسلئے پر 26 جولا ئی سے 15 نومبر تک مصر پر حملے کیے۔ 23 اگست 1958 کو تا ئیوان پر پھر حملہ کیا گیا جو یکم جنوری 1959 تک جاری رہا۔ 14 جولا ئی 1960 کو امریکا نے کانگو پر لشکر کشی کی اور یہ سلسلہ یکم اکتوبر 1962 تک جاری رہا۔ جرمنی کے شہر برلن پر امریکا نے دوبارہ حملہ 14 اگست 1961 کو کیا۔ جنوری 1962 میں امریکا نے رینچ ہینڈ آپریشن کے نام سے ویت نام پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا۔ 24 فروری 1965 سے آپریشن رولنگ تھنڈر کے نام سے امریکا نے دلدلی علاقوں میں جنگ لڑی۔ 18 جون 1965 سے اپریل 1970 تک آپریشن آرک لا ئٹ کے زریعے ویت نام کو آمریکی حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ 6 اپریل 1972 سے 27 جولا ئی 1973 تک امریکا نے آپریشن فریڈم اور آپریشن لا ئن بیکر کے نام سے شمالی ویت پر متعدد حملے کیے۔ ویت نام سے جنگ کے دوران امریکا نے دنیا میں دیگر محاذ بھی کھولے۔ 24 اکتوبر 1962 سے یکم جون 1963 تک کیوبا پر میزائلوں سے حملے کیے گیا۔
    اکتوبر 1964 میں چین کی ایٹمی تنصیابات کو نشانہ بنایا گیا۔ ریڈ ڈریگن آپریشن کے نام سے 23 نومبر 1964 سے 27 نومبر 1964 تک کانگو پر حملے کیے گئے۔ 28 اپریل 1965 سے 21 ستمبر 1966 تک پاور پیک آپریشن کے زریعے امریکا نے ڈومینکین ری پبلک پر حملے کیے۔ امریکا نے سکس وار آپریشن کے زریعے 13 مئی سے 10 جون 1967 تک مشرق وسطٰی پر حملے کیے۔ امریکا نے 11 اپریل سے 15 اپریل 1975 تک کمبوڈیا پر ایگل پل کے نام سے آپریشن کیا، ٹری انسیڈنٹ آپریشن کے زریعے کوریا پر 18 سے 21 اگست 1976 تک حملے ہوئے۔ 1978 میں کولوراڈو پر مزاحمت کی گئی، فروری سے 23 مارچ 1978 تک صومالیہ اور ایتھوپیا میں فوجیں اتاری گئیں۔ 6 دسمبر 1978 سے 6 جنوری 1979 تک امریکی فوجیں ایران، یمن اور بحر ہند کے ساحلوں پر گردش کرتی رہیں۔ ڈیزرٹ ون کے نام سے 25 اپریل 1980 کو امریکی فوجیوں نے ایران پر حملہ کیا۔ یکم جنوری 1981 سے یکم فروری 1992 تک امریکا نے ایل سلویڈور اور نکارا گوا پر لشکر کشی کی۔ گلف آف سدرہ آپریشن کے زریعے 18 اگست 1981 کو لیبیا پر فضائی حملے کیے۔
    6 اکتوبر 1981 کو آپریشن برائٹ اسٹار کے زریعے مصر پر حملہ ہوا۔ امریکی ملٹی نیشنل فورسز نے لبنان پر 25 اگست 1982 سے یکم دسمبر 1987 تک حملے کیے۔ 18 مارچ 1983 کو اری کال آپریشن کے سوڈان پر حملہ کیا۔ جنٹ فیوری آپریشن کے نام سے 23 اکتوبر سے 21 نومبر 1983 تک گریناڈا پر حملہ ہوئے۔ 26 جنوری 1986 کو لیبیا پر دوبارہ حملہ ہوا اور یہ مارچ تک جاری رہا۔ جولائی 1986 میں بلاسٹ فرینس کے زریعے بولیویا پر حملے کیے گئے۔ 17 اپریل 1988 کو خلیچ فارس پر حملہ ہوا، امریکی فوجوں نے پروموٹ برٹی آپریشن کے نام سے 31 دسمبر 1990 کوپانامہ پر حملہ کیا۔ مئی 1990 کو امریکا نے لائبریا پر حملہ کیا، ڈیزرٹ اسٹارم آپریشن کے زریعے یکم فروری سے 28 فروری 1991 تک عراق پر امریکا اور اس کے اتحادیوں نے بے شمار حملے کیے۔ جن میں بڑی تعداد میں عراقی مارے گئے۔ 2 جنوری 1991 کو صومالیہ پر حملہ ہوا، اقوام متحدہ کے زریعے اس پر پابندیاں لگائی گئی، جس کے باعث وہاں کے لوگ بھوکے مرنے لگے، اشیائے ضرورت کی وہاں اس قدر قلت ہوئی کہ صومالیہ غربت کا استعارہ بن گیا۔
    نائن الیون کے حملوں کے بعد تو امریکی خوبصورت چہرے کا نقاب اترگیا۔ ان مشکوک حملوں کے زریعے اس نے افغانستان کے نہتے عوام پر جنگ مسلط کی اور لاکھوں افغانیوں کو جرم بے گناہی کی سزا میں موت کے گھات اتار دیا۔ 20 مارچ 2003 کو عراق کو ایٹمی ہتھیار سے پاک کرنے اور عوام کو صدام حسین کی ٰ آمریت ٰ سے چھٹکارا دلانے کا عزم لیے وہاں آیا اور اب تک وہ 10 لاکھ سے زیادہ عراقیوں کی جانیں لے چکا ہے اور زندہ بچ جانے والوں کو بھوک، افلاس اور مہنگائی کا تحفہ دے چکا ہے۔ اب امریکا کے خونی پنجے پاکستان اور ایران کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ڈرون حملوں کے ذریعے وہ ایک حد تک اپنا مقصد حاصل کر رہا ہے اور دوسری طرف یہ شوشا چھوڑا جا رہا ہے کہ پاکستانی ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ گئے یا کبھی یہ کہا جاتا ہے کہ نائن الیون حملوں کے زمہ دار پاکستان میں ہیں۔ یہ سب وہ سفید جھوٹ ہیں جو دوسرے ممالک پر حملوں کے وقت بھی تراشے گئے اور انہیں پھر استعمال کیا جارہا ہے۔
    امریکی دہشت گردی کی تاریخ دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کو اصل دہشت گرد کون ہے اور کس نے امن کا علمبردار بن کر دنیا کو جنگوں، مسائل اور دہشت گردی کی آگ میں جھونک دیا۔

  4. #4
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2012
    پيغامات
    5,446
    شکریہ
    138
    96 پیغامات میں 104 اظہار تشکر

    انوکھی پیزا شاپ!ہتھیار دکھائیں، ڈسکاؤنٹ پائیں

    اچھی شئیرنگ کا شکریہ

  5. #5
    رکنِ خاص نگار کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2011
    پيغامات
    5,360
    شکریہ
    663
    357 پیغامات میں 424 اظہار تشکر

    انوکھی پیزا شاپ!ہتھیار دکھائیں، ڈسکاؤنٹ پائیں

    اضافی معلومات پہنچانے پہ آپ کا شکریہ

متشابہہ موضوعات

  1. ہم انہیں، وہ ہمیں بھلا بیٹھے
    By نگار in forum شعر و شاعری
    جوابات: 0
    آخری پيغام: 10-27-2012, 12:05 AM
  2. جوابات: 0
    آخری پيغام: 05-04-2012, 08:50 AM
  3. آجا کہ ابھی ضبط کا موسم نہیں گزرا
    By تانیہ in forum متفرق شاعری
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 03-31-2012, 01:43 PM
  4. کس سے مانگیں، کہاں جائیں
    By تانیہ in forum حمد و نعت
    جوابات: 3
    آخری پيغام: 03-20-2012, 10:27 PM
  5. جوابات: 1
    آخری پيغام: 12-13-2010, 10:36 AM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University