کبھی کبھی ننگے پاؤں چلناسنت اورصحت کیلئے مفید ہے !


مجھے دو سال پرانے روز نامہ ”امت“ کراچی ۱۳/مئی ۲۰۱۰ء صفحہ نمبر ۶ کی ایک سرخی پر نگاہیں جم گئیں، سرخی یہ ہے:
”برہنہ پیر چلنے والے جوڑوں کے درد سے محفوظ رہ سکتے ہیں“ اس کے نیچے یہ لکھا ہوا ہے: ”تحقیق سے ثابت ہوچکا ہے کہ جدید انداز کے آرام دہ جوتے ہی دراصل گھٹنوں اور ٹخنوں کی بیماری کا باعث بنتے ہیں، دوڑ میں حصہ لینے والے ایسے کھلاڑی جو مختلف امراض میں مبتلا تھے ،برہنہ پیر دوڑنے میں کامیاب رہے، جوتا ساز ملٹی نیشنل کمپنیوں کی خواہشات کے برعکس سائنٹفک ریسرچ کے نتائج جوتوں کے خلاف آئے“
پھر اس کے نیچے ایک مفصل مضمون بحوالہ ”ریڈرز ڈائجسٹ“ مذکور ہے، جس کا خلاصہ وہی ہے جو سرخی میں لکھا ہوا ہے، مضمون انگریری سے اردو میں منتقل کیا گیا ہے، مترجم کا نام جناب ”افتخار جمیل“ صاحب ہے۔
مذکورہ مضمون پڑھنے سے فوراً محسنِ انسانیت، نبی کریم ا کی وہ حدیث یاد آئی جو امام ابوداوٴد نے سنن میں اپنی سند سے نقل کی ہے، جس کا ترجمہ یہ ہے:
”حضرت عبد اللہ بن بریدہ راوی ہیں کہ نبی کریم ا کے ایک صحابی نے حضرت فضالة بن عبید  سے( جو کہ مصر میں مقیم تھے ) پوچھا کہ: آپ کے بال کیوں بکھرے ہوئے ہیں؟ جب کہ آپ اس سرزمین کے امیر بھی ہیں؟انہوں نے جواب دیاکہ: رسول اللہ ا ہمیں زیادہ خوش عیشی سے روکا کرتے تھے۔ عرض کیا کہ: آپ کے پاؤں میں جوتا کیوں نہیں؟انہوں نے جواب دیا کہ نبی کریم ا ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ وقتاً فوقتاً ننگے پاؤں چلا کرو“۔
(سنن ابوداؤد کتاب الترجل ۲/۲۲۰، مشکوٰة المصابیح ۲/۳۸۲)
مذکورہ حدیث سے ثابت ہوا کہ وقتاً فوقتاً ننگے پاؤں چلنا سنت ہے، اس سے جہاں انسان کے اندر تواضع وخاکساری پیدا ہوتی ہے، وہاں اس کی صحت کے لیے بھی مفید ہے۔
مادہ پرست طبقہ ننگے پاؤں چلنے کو معیوب اور غیر مہذب عمل سمجھتے ہیں، اس لئے وہ دفاتر ، گھروں اور تقریبات میں جوتوں سمیت چلتے پھرتے نظر آتے ہیں، یہاں تک کہ اگر دفتر یا بیٹھک کے فرش پر قالین بھی بچھا ہوا ہو، تب بھی وہ جوتا اتارنے کی زحمت گوارانہیں کرتے، بلکہ جوتوں سمیت قالین کے پر لگی ہوئی کرسیوں پر براجمان ہوجاتے ہیں۔
عام راستہ پر، یا گھر سے مسجد تک، یا کسی کے گھر جانے کے لیے ننگے پاؤں چلنے کا تصورعوام تو عوام رہے، خواص میں بھی اب ختم ہورہا ہے، شاید اسی سنت پر عمل نہ کرنے اور زیادہ سہولت پسندی کی پاداش میں گھٹنوں، ٹخنوں اور جوڑوں کی تکلیف دن بدن بڑھتی جارہی ہے اور مسجدوں میں کرسیوں پر نماز پڑھنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ کوشش کرنی چاہئے کہ حضور کی یہ سنت اور دیگر وہ سنتیں جو متروک ہوچکی ہیں،وہ معاشرہ میں زندہ ہوجائیں۔
اس مناسبت سے مجھے سعودی عرب کے رہنے والے ایک اللہ والے بزرگ عالم دین کا واقعہ یاد آیا، وہ یہ کہ سعودی عرب کے ”عُنیزہ“ شہر کے رہنے والے ایک مشہور عالم دین (فضیلة الشیخ/محمد بن صالح العُثیمین (متوفی ۱۴۲۱ھ )رحمہ اللہ جو ”عُنیزہ“ شہر کی مشہور ومعروف مسجد ”الجامع الکبیر“ میں امامت وخطابت کے فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ درسِ حدیث وفقہ وغیرہ بھی کامیابی کے ساتھ دیا کرتے تھے )کی خدمت میں غالباً ۱۴۰۹ھ کو ایک مرتبہ حاضری ہوئی ، شیخ، قابلیت، تقویٰ وطہارت اور متبع سنت ہونے میں ضرب المثل تھے، ان کا گھر مسجد سے تقریباً پون کلو میٹر کے فاصلہ پر تھا، راستہ کہیں پکا کہیں کچا تھا، مسجد سے گھر جاتے ہوئے ان کے شاگردوں کی ایک جماعت ساتھ ساتھ ہی چلتی ،تاکہ راستہ میں بھی اپنے شیخ سے استفادہ کرتے رہیں، ایک مرتبہ میں بھی ساتھ ہوگیا تو دیکھا کہ شیخ ننگے پاؤں جارہے ہیں، جبکہ راستہ پورا پکا بھی نہیں، کہیں کہیں مٹی بھی پڑی ہوئی ہے، میں چونکہ اس وقت تک مذکورہ حدیث پر عمل کرنے کی نیت سے ننگے پاؤں چلنے سے قاصر رہا تھا، اس لئے وہ حدیث ہی میرے ذہن سے نکل گئی تھی، حالانکہ پڑھی ضرور تھی، کیونکہ وہ حدیث مشکوٰة المصابیح اور سنن ابوداؤد میں موجود ہے ، لیکن یہ حقیقت ہے کہ جب آدمی حدیث پر عمل کرنے میں سستی کرتا ہے تو وہ حدیث بھول جاتا ہیں، میں بھی اسی وجہ سے یہ حدیث بھول ہی گیا تھا ، حالانکہ یہ وہ زمانہ تھا کہ میری فراغت کو ابھی پانچ چھ سال ہی ہوئے تھے اور دارالعلوم دیوبند میں بھی مدرس تھا۔
بہرصورت! شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کو کچے راستہ میں ننگے پاؤں چلتے ہوئے دیکھ کر حیرت ہوئی، کیونکہ سعودی عرب میں مسجدوں سے چپل چوری ہونے کے واقعات نہ ہونے کے برابر ہیں، خیال آیا کہ شاید شیخ کی چپل ادھر اُدھر ہوگئی ہوگی یا کسی نے غلطی سے پہن لی ہوگی، شیخ اپنی چپل نہ ملنے پر ننگے پاؤں چلے ہوں گے، ارادہ کیا کہ اپنی چپل پیش کروں، لیکن ان کے شاگردوں کا اطمینان دیکھ کر کچھ شک سا ہوگیا کہ یہ شاگرد اپنے شیخ کو ننگے پاؤں چلتے ہوئے دیکھ کر چونکتے کیوں نہیں؟ تو میں نے ان کے ایک شاگرد رشید سے پوچھا کہ شیخ ننگے پاؤں کیوں چل رہے ہیں؟ انہوں نے مذکورہ حدیث فوراً سناکر کہا: ”کہ اس حدیث پر عمل کرنے کی غرض سے شیخ وقتاً فوقتاً ننگے پاؤں چلا کرتے ہیں اور کہاکہ آپ کو اس حدیث کا پتہ نہیں؟“۔میں شرمندہ بھی ہوا اور اپنی غفلت پر نادم بھی، اور یہ احساس جاگ گیا کہ چونکہ اس حدیثِ پر عمل کرنے میں سستی کی تھی ،اس لئے وہ حدیث بالکل ذہن سے نکل گئی تھی۔اللہ تعالیٰ ہرمسلمان کو نبی کریم ا کی تمام سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائیں۔