نتائج کی نمائش 1 تا: 4 از: 4

موضوع: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا عجیب فیصلہ اور عجیب ترین استدلال

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Oct 2012
    پيغامات
    299
    شکریہ
    0
    6 پیغامات میں 6 اظہار تشکر

    حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا عجیب فیصلہ اور عجیب ترین استدلال

    (الاشباہ والنظائر‘ ج:۲‘ ص:۵۷۰) ”الفصول المہمہ فی مناقب الائمہ“ کے حوالہ سے خنثیٰ مشکل کے بارے میں ایک واقعہ مذکور ہے کہ: حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک ایسا واقعہ پیش ہوا‘ جس نے اس زمانہ کے تمام علماء کرام کو ورطہٴ حیرت میں ڈال دیا کہ:
    ایک شخص نے ایک خنثیٰ سے شادی کی اور مہر میں اس شخص نے اپنی بیوی (خنثیٰ) کو ایک لونڈی دی‘ وہ خنثیٰ اس قسم کا تھا کہ اس کا فرج‘ مردوں اور عورتوں دونوں قسم کا تھا‘ اس شخص نے اپنی بیوی (خنثیٰ) کے ساتھ جماع کیا تو اس سے ایک لڑکا تولد ہوا اور جب اس خنثیٰ نے اپنی لونڈی کے ساتھ جماع کیا تو اس سے بھی ایک لڑکا پیدا ہوا‘ یہ بات مشہور ہوگئی اور معاملہ امیر المؤمنین سیدنا حضرت علی المرتضیٰ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے خنثیٰ مشکل سے سوال کیا تو اس نے بتایا کہ اس کا فرج عورتوں والا بھی ہے‘ کہ اس سے ماہواری بھی آتی ہے اور مردوں والا بھی ہے کہ اس سے خروج منی بھی ہوتا ہے۔ حضرت علی  نے اپنے دونوں غلاموں برق اور قنبر کو بلایا اور ان کو حکم دیا کہ وہ خنثیٰ مشکل کی دونوں طرف والی پسلیاں شمار کریں‘ اگر بائیں جانب کی ایک پسلی دائیں جانب کم ہو تو پھر اس خنثیٰ مشکل کو مرد سمجھا جائے گا‘ ورنہ عورت‘ وہ اسی طرح ثابت ہوا‘ تو حضرت علی  نے اس کے مرد ہونے کا فیصلہ صادر فرمایا اور اس کے خاوند اور اس کے درمیان تفریق کردی‘ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ:
    اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اکیلا پیدا فرمایا اور جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام پر احسان کا ارادہ فرمایا کہ اس کا جوڑ پیدا فرمائے تاکہ ان میں سے ہرایک اپنے جوڑے سے سکون حاصل کرے‘ جب حضرت آدم علیہ السلام سو گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی بائیں جانب سے اماں حضرت حوا کو پیدا فرمایا‘ جب بیدار ہوئے تو ان کی بائیں جانب ایک حسین وجمیل عورت بیٹھی ہوئی تھی۔تو اس لئے مرد کی بائیں جانب کی پسلی عورت سے کم ہوتی ہے اور عورت کی دونوں جانب کی پسلیاں برابر ہوتی ہے‘ کل پسلیوں کی تعداد چوبیس ہے‘ بارہ دائیں جانب اور بارہ بائیں جانب ہوتی ہیں جبکہ مرد کی دائیں جانب بارہ اور بائیں جانب گیارہ ہوتی ہیں‘ تو مرد کی کل پسلیاں چوبیس کی بجائے تئیس ہوتی ہیں‘ اس حالت کے اعتبار سے عورت کو ”ضلع اعوج“ کہا جاتاہے‘ اور حدیث شریف میں تصریح ہے کہ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے‘ اگر تو اس کو سیدھا کرنا چاہے تو یہ ٹوٹ جائے گی‘ اس لئے اس کو اپنی حالت پر چھوڑ کر اس سے نفع اٹھا۔

  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,171
    شکریہ
    2,134
    1,241 پیغامات میں 1,615 اظہار تشکر

    حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا عجیب فیصلہ اور عجیب ترین استدلال

    اللہ تعالی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ ، رضی اللہ عنہ پر بےشمار انعام نچھاور کیے ، ان کے علم اور ذھانت کے واقعات آج بھی تاریخ میں موجود ہیں ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جناب حضرت علی کرم الله وجھہ
    سے پوچھا گیا کہ یا حضرت اگر ایک آدمی ایک کوٹھری میں بند ھو
    اور کھڑکی روشن دان اُس میں کوئی نہ ھو اور کوٹھری مُقفل ھو اس کوٹھری کے باھر ایک اور کمرہ ھو اور اسکے گرد ایک اور فصیل ھو اور یہ سب کچھ ایک قلعے میں بند ھو تو اس آدمی کا رزق کس راستے سے آئے گا حضرت علی نے فرمایا جس رستے سے اسکی موت آئے گی اسی راستے سے اسکا رزق آ جائے گا “
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    " ایک مرتبہ رسول معظم ﷺکی خدمت میں دو شخص حاضر ہوئے ، ایک نے دعویٰ کیا حضورؐ!میرے پاس ایک گدھا تھا اور اس شخص کے پاس ایک بیل ، اس کے بیل نے میرے گدھے کو مار ڈالا ، حاضرین جلسہ میں سے ایک صاحب بولے کہ جانور بے زبان پر کیا ضمان و تاوان ، حبیب اکرم ﷺنے فرمایا کہ اے علی! تم ان دونوں میں تصفیہ کردو ، حضرت علیؓ نے فریقین سے سوال کیا ، یہ دونوں رسی میں بندھے تھے یا کھلے تھے یا ایک بندھا تھا اور ایک کھلا تھا ؟ فریقین نے جواب دیا گدھا بندھا تھا ، مگر بیل چھوڑا ہوا تھا اور بیل کا مالک اس کے پاس تھا ، آپؓ نے حکم دیا:بیل والے پر ضمان ہے ، گدھے کی قیمت اس کے مالک کے حوالہ کردے ، حضرت رسول الثقلین ﷺ نے یہ فیصلہ پسند فرمایا اور یہی حکم جاری کیا"
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دو شخص کھانے بیٹھے ، ایک کے پاس پانچ روٹیاں تھیں ، دوسرے کے پاس تین ، جب دونوں نے اپنا اپنا کھانا سامنے رکھا تو ایک تیسرا شخص ادھر سے گذرا اور ان کو سلام کیا ، دونوں نے اس کو بلایا ، وہ بھی آ کر بیٹھ گیا ، تینوں نے مل کر وہ سب آٹھ روٹیاں کھا ڈالیں ، تیسرا شخص اٹھ کھڑا ہوا اور جاتے ہوئے آٹھ درہم دونوں کو دیتے ہوئے کہا :یہ کھانے کا عوض ہے ، جو میں نے تمہارے ساتھ کھایا ہے ، اس کے جانے کے بعد دونوں میں حجت و تکرار شروع ہوئی جس کی پانچ روٹیاں تھیں ، اس نے کہا :میں پانچ درہم لوں گا اور تجھ کو تین درہم ملیں گے ؛ کیونکہ تیری روٹیاں تین تھیں ، تین روٹی والے نے کہا :میں تو نصف سے کم پر ہر گز راضی نہ ہوں گا ، یعنی چار درہم لے کر چھوڑوں گا ،
    یہ جھگڑا اتنا طول پکڑا کہ بالآخر
    حضرت امیر المؤمنین حضرت علیؓؓ کے سامنے مقدمہ پیش ہوا
    اور انصاف طلب کیا گیا ، آپ نے دونوں کے بیانات سن کر تین روٹی والے سے فرمایا تم کو تین درہم ملتے ہیں ، یہ کم نہیں ہے ؛ کیونکہ تمہاری تین ہی روٹیاں تھیں ؛ لہٰذا تم کو جو ملتا ہے اس پر راضی ہوجاؤ،
    مدعی:میں اپنا پوار حق لوں گا ، علیؓ:اگر حق پر چلتے ہو تو تمہارا حق صرف ایک درہم ہے ، تین درہم جو تم کو ملتا ہے تمہارے حق سے کہیں زیادہ ہے ، مدعی:سبحان اللہ! آپ نے اچھا فیصلہ کیا ، تین درہم یہ شخص خود دیتا رہا اور میں اس پر راضی نہ ہوا ، اب آپ فرماتے ہیں کہ تیرا حق ایک ہی درہم ہے ، علیؓ:بے شک تمہارا حق صرف ایک درہم ہے ، تمہارا فریق تین درہم پر صلح کرتا رہا ، مگر تم نے نہ مانا اور بات بڑھا دی ، اب تم مانتے نہیں تو سن لو کہ تمہارا حق کیا ہے ، مدعی:فرمائیے اور وجہ معقول بیان کیجئے ، علیؓ:آٹھ آٹھ روٹیوں کے تین ٹکڑے برابر کے کرو تو چوبیس(24)ٹکڑے ہوئے ، اب تم تین آدمی کھائے ، یہ تو معلوم نہیں کہ کس نے زیادہ کھایا اور کس نے کم ؛ لہٰذا فرض کرلو کہ سب نے برابر کھائے ،
    مدعی:ہاں ، بے شک ،
    علیؓ:تو اس صورت میں ہر ایک نے آٹھ آٹھ ٹکڑے کھائے ، تیری روٹیوں سے صرف ایک ٹکڑا بچا جو تیسرے نے کھایا اور تمہارے فریق کی پانچ روٹیاں تھیں ، جن کے پندرہ ٹکڑے ہوئے ، آٹھ خود کھایا اور سات تیسرے کو کھلائے ، اب تمہاری تین روٹیوں کے نو ٹکڑوں میں سے صرف ایک ٹکڑا تیسرے آدمی نے کھایا جس کا عوض ایک درہم ہے اور تمہارے فریق کے سات ٹکڑے کھائے جس کا عوض سات درہم ہے ، مدعی:آپ نے ٹھیک فیصلہ کیا ، بے شک میرا حق ایک ہی درہم ہے اور میں راضی ہوں "۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حضرت عمر فاروقؓ رضی اللہ عنہ کے عہد میں لوگ کسی حادثہ یا واقعہ کی تاریخ مختلف طریقوں سے قلم بند کرتے تھے اوران کے درمیان اختلاف تھا کہ تاریخ کس بنیاد پر مقرر کی جائے ، بعض لوگوں کا خیال تھا کہ جس طرح اہل فارس اپنے بادشاہوں اور حکمرانوں کی پیدائش یا تخت نشینی سے زمانہ کا تعین کرتے ہیں ، اس کو اختیار کیا جائے اور کچھ لوگوں کا رجحان تھا کہ رومیوں کا طریقہ اپنانا چاہئے ، بعض صحابہؓ کی رائے تھی کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت کی تاریخ کو اسلامی جنتری کی ابتداء قرار دیا جائے ،
    سیدناحضرت علیؓؓ
    نے فیصلہ فرمایا کہ رسول ﷺ کی ہجرت مکہ سے مدینہ جس دن ہوتی ہے ، اس کو اسلامی تقویم کی اساس و بنیاد بنا یاجائے ، حضرت عمر فاروقؓ اور تمام صحابہؓ کو یہ فیصلہ بہت پسند آیا اور حضرت عمرؓ نے حکم دیا کہ تاریخ کا تعین ہجرت نبویؐ کی بنیاد پر کیا جائے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایک مرتبہ ایک نوجوان چند آدمیوں کی شکایت لے کر آیا کہ لوگ میرے باپ کو سفر میں لے گئے تھے ، یہ سب لوگ تو واپس آگئے ؛ لیکن میرا باپ واپس نہ آیا ، میں ان سے پوچھتاہوں تو کہتے ہیں کہ اس کا انتقال ہوگیا ہے اور جب اس کا مال دریافت کرتاہوں تو کہتے ہیں کہ اس کے پاس کچھ مال نہ تھا ؛ حالاں کہ وہ بہت سا مال اپنے ساتھ لے گئے تھے ،
    حضرت علیؓؓ
    نے ان سب کو علیحدہ علیحدہ رکھا اور پہلے ایک کو بلایا
    اور اس سے تمام تفصیلات معلوم کیں ، مگر اس نے اس کے قتل کرنے کا اقرار نہ کیا ،
    حضرت علیؓؓ
    نے ایک نعرہ تکبیر بلند کیا ، جتنے ان کے ساتھ علیحدہ کمروں میں تھے ،
    انہوں نے سمجھا کہ ان کے ساتھی نے راز فاش کردیا ، اس کے بعد جب یکے بعد دیگرے وہ سب بلائے گئے تو سبھوں نے اس کے باپ کے قتل کرنے کا اقرار کیا ، آپؓ نے فیصلہ کیا کہ ان کو قصاص میں قتل کردیا جائے ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایسے بے شمار واقعات موجود ہیں ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اپنے ادوار خلافت میں مشورے لیتے تھے اور ان کی ذھانت اور معاملہ فہمی کے قائل تھے ،
    اللہ اکبر ۔۔۔۔۔۔ سبحان اللہ

  3. #3
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2012
    پيغامات
    5,446
    شکریہ
    138
    96 پیغامات میں 104 اظہار تشکر

    حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا عجیب فیصلہ اور عجیب ترین استدلال

    جزاک اللہ

  4. #4
    معاون
    تاريخ شموليت
    Feb 2013
    پيغامات
    57
    شکریہ
    96
    16 پیغامات میں 27 اظہار تشکر

    حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا عجیب فیصلہ اور عجیب ترین استدلال

    [size=xx-large]بھائ محمد اشرف نے ایک واقعہ تحریر فرمایا تھا مگر بے باک صاحب نے 4 واقعات سنادئیےماشآء اللہ آپ دونوں نے اچھے واقعات بیان فرمائے
    حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو دربار نبوی(صلی اللہ علیہ وسلم )سے شہر علم کے دروازہ کا خطاب ویسے ھی نہیں ملا تھا بلکہ آپ اس خطاب کے صحیح حقدار تھے اور اسلامی سنہ کی ابتدا ھجرت سے اسلئے کی گئی کہ اسلام مین ھجرت کا بہت بڑا مقام ہے اور اسلام کی اصل اشاعت ھجرۃ کے بعد ہوئی دراصل اسلام پھیلا ہی ھجرۃ کے بعد ھے اسلئے سب صحابہ کا اتفاق سنہ ھجری پر ہوگیا کہ حضور علیہ السلام اور صحابہ کرام و اھلبیت رضوان اللہ علیھم اجمعین کی زندگیوں کا مقصد ہی اسلام کی دعوت دینا اور اسلام کو پھیلانا ہی تھا[/size]

متشابہہ موضوعات

  1. قادیانی فیصلہ
    By سقراط in forum ردِ قادیانیت پر کتب
    جوابات: 3
    آخری پيغام: 12-20-2012, 09:38 PM
  2. جوابات: 7
    آخری پيغام: 12-17-2012, 12:10 AM
  3. رحمان ملک کے خلاف الیکش کمشر کا فیصلہ
    By انجم رشید in forum آج کی خبر
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 09-25-2012, 11:18 AM
  4. شاہ فیصل کا خواب پاکستان اسلام کا قلعہ
    By عبدالرزاق قادری in forum یوم پاکستان
    جوابات: 3
    آخری پيغام: 06-11-2012, 09:45 AM
  5. محمد فیصل صاحب کو خوش آمدید
    By تانیہ in forum خوش آمدید
    جوابات: 4
    آخری پيغام: 04-01-2012, 11:15 PM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University