صفحہ 1 از 2 12 آخریآخری
نتائج کی نمائش 1 تا: 10 از: 11

موضوع: اک نظر ادھر بھی۔۔۔۔

  1. #1
    معاون فرحان اشرف کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Feb 2013
    مقام
    (Bahawal nagar (Punjab-Pakistan
    پيغامات
    60
    شکریہ
    0
    24 پیغامات میں 27 اظہار تشکر

    اک نظر ادھر بھی۔۔۔۔


    یہ سمٹ مینار لاہور کی تصویر ہے، میں تو ڈیوٹی کے لیے آیا ہوں۔

  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,134
    شکریہ
    2,100
    1,211 پیغامات میں 1,583 اظہار تشکر

    اک نظر ادھر بھی۔۔۔۔

    واہ فرحان اشرف بھائی ،کیا یاد دلا دیا ، یاد رفتہ
    جزاک اللہ ۔
    [align=center][/align]

    [align=center][/align]

    [size=xx-large][align=center]دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس ۔لاہور [/align][/size]

    [align=center][/align]
    ماہ فروری 1974ء کے آخری عشرہ میں اسلامی سربراہی کانفرنس لاہور میں منعقد ہوئی تھی۔ یہ اسلامی کانفرنس کی تنظیم کا دوسرا اجلاس تھا‘ یہ اجلاس شہید قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کی قائدانہ کوششوں اور شہید شاہ فیصل آل سعود کے فیاضانہ مالی تعاون اور سرپرستی کا نتیجہ تھا۔ اس تنظیم کا پہلا اجلاس مراکش کے شاہ حسن ثانی کی قیادت میں رباط میں منعقد ہوا تھا‘ یاد رہے کہ ایک بدبخت یہودی نے مسجد اقصیٰ کو آگ لگا کر بھسم کرنے کی ناپاک جسارت کی تھی جو عالم اسلام کے غیظ و غضب کو بھڑکانے کیلئے ایک چنگاری ثابت ہوئی اور اسی کے نتیجے میں مسلمانوں کی یہ نمائندہ تنظیم قائم ہوئی اور اس کا پہلا اجلاس مرحوم شاہ حسن ثانی کی سرپرستی میں ہوا جو موجودہ شاہ مراکش محمد سادس کے والد تھے‘ اس تنظیم کے قیام اور مراکش کے دارالحکومت رباط میں اس کا پہلا اجلاس منعقد ہوا تو امت مسلمہ نے بہت خوشیاں منائیں اور حوصلے بھی بلند ہوئے‘ یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ مسلمان بیدار و متحد ہونگے اور عالم اسلام مغربی سامراج اور اسکی باقیات سے آزاد ہو جائیگا۔ بیسویں صدی عیسوی کا نصف آخر اسلامی دنیا کی نئی کروٹ لینے کا زمانہ ہے دوسری عالمی جنگ نے مغربی سامراجیوں کو اس قدر نڈھال کر دیا تھا کہ وہ عالم اسلام کی گلو خلاصی کرنے پر مجبور ہوگئے تھے اور ایک ایک کر کے اسلامی ملک آزاد ہونے لگے تھے۔ آزادی کے بعد مصری فوج نے شاہ فاروق کو معزول کر کے جلا وطن کر دیا تو جمال عبدالناصر کو حکومت اور قیادت کا موقع ملا‘ ساٹھ کی دہائی میں صدر ناصر کی قیادت میں مصر اور شام کا اتحاد قائم ہوا اور ’’متحدہ عرب جمہوریہ‘‘ کے نام سے عربوں کا یہ اتحاد خطرے کی گھنٹی تھی‘ ہم اپنی تاریخ یاد رکھیں یا نہ رکھیں مگر ہمارے دشمنوں کو ہماری تاریخ خوب یاد ہے‘ یہ جو ہنری کسنجر نے کہا تھا کہ
    \\\"There can be no war in the Middle East without Egypt` but there can be on peace without Syria\\\"
    یعنی اگر مصر نہ ہو تو مشرق وسطی میں جنگ نہیں ہوگی لیکن شام کے بغیر مشرق وسطی میں امن کا قیام بھی ممکن نہیں تو یہ بڑے گہر ے اور گھمبیر پس منظر کا غماز ہے اصلاح الدین ایوبی کی قیادت میں مصر و شام کا اتحاد بیت المقدس کی صلیبیوں سے آزادی پر منتج ہوا اور بالآخر مشرق وسطی سے ان صلبیوں کا جنازہ نکل گیا تھا! مصر و شام کے اتحاد سے ایک بار پھر مغرب کے صلیبی اور ان کے گماشتے اسرائیل کے صہیونی لرز اٹھے تھے۔ چنانچہ مصر وشام کا اتحاد چند روزہ ڈراما ثابت ہوا۔ 1967ء میں امریکہ اور مغرب کی سرپرستی میں عرب اسرائیل جنگ سے نہ صرف یہ کہ عرب اتحاد کا خواب بکھر کر رہ گیا تھا بلکہ صدر ناصر کے اقتدار کا سورج بھی غروب ہوگیا اس جنگ کے فوراً بعد اسرائیل کے وزیراعظم ڈیوڈ بن گوریاں نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’اس جنگ کے بعد اب عرب کبھی بھی متحد ہو کر ہمارے لئے خطرہ نہیں بنیں گے! مگر ایک اسلامی ملک ہمارے لئے چیلنج ہے اور وہ ہے پاکستان‘‘ ۔
    ڈیوڈ بن گوریاں کے اس بیان کے بعد صرف تین سال کے اندر پاکستان دو ٹکڑے ہوگیا! اوریہ وہ دن تھا جب تل ابیب اور نئی دہلی میں یہودی اور ہندو گھرانوں میں بھی کے چراغ جلے‘ بھارت کی اندرا گاندھی نے ہندو کی صدیوں پرانی دبی ہوئی خواہش کی ترجمانی کرتے ہوئے سقوط ڈھاکہ کو ہزار سالہ غلامی کا انتقام قرار دیا اور صلیبی سامراج کے ناخدا ہر جگہ بغلیں بجاتے ہوئے دکھائی دئیے تھے! دنیا بھر کے مسلمانوں خصوصاً برعظیم پاک و ہند کے مسلمانوں کیلئے یہ بہت بڑا المیہ تھا جو سقوط بغداد‘ سقوط غرناطہ اور خلافت عثمانیہ کے زوال کے المناک لمحات سے کسی طرح کم نہ تھا اور ایک ایسا مرحلہ تھا جو امت مسلم سے صبر و ہمت اور حوصلہ مندی کا طالب تھا لیکن یہاں ایک ایسی حوصلہ مند قیادت کی ضرورت تھی جو پہاڑوں سے بھاری اور بلند ہو‘ طوفانوں کا منہ پھیر سکے اور بجھے ہوئے دلوں میں امیدوں کے چراغ روشن کر دے۔ اس وقت یہ قیادت آل سعود کے شہید فرزند شاہ فیصل اور پاکستان کے وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو نے مہیا کی! بھٹو نے بجا طور پر کہا تھا کہ وہ بکھرے ہوئے ریزے جمع کر کے ایک ملک کی ازسر نو تعمیر کیلئےآئے ہیں! اس وقت نوے ہزار پاکستانی جنگی قیدی ہندو کی قید میں تھے۔ دل شکستہ پاکستان کو پھر سے پرعزم اور متحد کرنا بڑا ہی کٹھن کام تھا اور یہ کام اپنے قیام کے تیس سال بعد پاکستان کو ایک متفقہ دستور دے کر ذوالفقار علی بھٹو نے انجام دیا!
    مگر ایک پرعزم قدم بڑھانے اور اونچا اڑنے کے قابل ہونے کیلئے ابھی ایک اور قوت محرکہ کی ضرورت تھی اور اس وقت کا سامان بھی قائد عوام نے کیا اور یہ وقت محرکہ لاہور میں دنیا بھر کے مسلمان حکمرانوں کا اکٹھ تھا! اسلام کی تاریخ میں ایک دن میں ایک ہی وقت میں پہلے کبھی نہیں ہوا تھا یہ کتنا بڑا واقعہ تھا‘
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ظہور احمد اظہر کی تحریر سے ایک اقتباس [align=center]
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسلامی ممالک کے سربراہان کی بادشاہی مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی ،







    [/align]

  3. #3
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    831
    شکریہ
    246
    110 پیغامات میں 168 اظہار تشکر

    اک نظر ادھر بھی۔۔۔۔

    فرحان صاحب کیا یاد کروا دیا آپ نے میں کافی عرصہ پہلے سمٹ مینار دیکھنے گیا تھا لیکن اس کی حالت دیکھ کر رونا آتا ہے ۔
    بے باک بھائی آپ کی لگائی ہوئی تحریر اور تصویروں نے بہت کچھ یاد دلا دیا پہلی تصویر میں شاہ فیصل شہید بھٹو شہید اور قذافی ساتھ ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں حالات نے ان سے کیا کیا نہیں ۔۔ بھٹو ، شاہ فیصل ، قذافی ، سب کسی نہ کسی حالت میں مارے گئے ۔۔۔کیا آج وہ اس دنیا میں نہیں ہیں ان کے ساتھ ساتھ مصر کے صدر اور بودمین تیونس کے صدر یوگنڈہ کے عدی امین شام کے حافظ ، اردن کے شاہ حسین سوڈان کے نمیری اور نہ جانے کتنے سربراہ مملکت اب دنیا میں نہیں رہے لیکن ان کی یادیں اب بھی زندہ ہیں جنہوں نے اچھے کام کے ان کے نام آج بھی زندہ ہیں ۔
    اللہ تبارک و تعالی ان سب کی مغفرت عطاء فرمائے آمین ثم آمین ۔
    اور اے کاش 1974 کی اسلامی سربراہ کانفرنس کی قرار دادوں پر کسی کو عمل کرنے کی توفیق ہو


    آمین ثم آمین

  4. #4
    رکنِ خاص نگار کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2011
    پيغامات
    5,360
    شکریہ
    663
    357 پیغامات میں 424 اظہار تشکر

    اک نظر ادھر بھی۔۔۔۔

    بہترین شیئرنگ کرنے پہ آپ کا شکریہ

  5. #5
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2012
    پيغامات
    5,446
    شکریہ
    138
    96 پیغامات میں 104 اظہار تشکر

    اک نظر ادھر بھی۔۔۔۔

    بہت زبردست جی بہت شکریہ

  6. #6
    معاون فرحان اشرف کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Feb 2013
    مقام
    (Bahawal nagar (Punjab-Pakistan
    پيغامات
    60
    شکریہ
    0
    24 پیغامات میں 27 اظہار تشکر

    اک نظر ادھر بھی۔۔۔۔

    بے باک بھائی اور انجم رشید بھائی آپ کا شکریہ۔
    بے باک بھائی نے تو پوری تاریخ کھول کے رکھ دی،
    بے باک بھائی ایک دفعہ پھر آپ کا شکریہ۔

  7. #7
    معاون فرحان اشرف کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Feb 2013
    مقام
    (Bahawal nagar (Punjab-Pakistan
    پيغامات
    60
    شکریہ
    0
    24 پیغامات میں 27 اظہار تشکر

    اک نظر ادھر بھی۔۔۔۔

    بے باک بھائی کیا کوئی ایسا سوفٹ وئیر ہے جس کی مدد سے تصویری ڈیٹا کو ٹیکسٹ کی شکل میں لایا جا سکے۔
    آپ کے جواب کا منتظر
    فرحان اشرف

  8. #8
    معاون
    تاريخ شموليت
    Feb 2013
    پيغامات
    57
    شکریہ
    96
    16 پیغامات میں 27 اظہار تشکر

    اک نظر ادھر بھی۔۔۔۔

    [size=xx-large]محترم فرحان اشرف صاحب آپکا بہت بہت شکریہ جو آپ نے بے باک صاحب کو متحرک کردیااور انہوں نے اپنے ماضی کی یادوں کے خزانے میں سے خوبصورت موتی نکال کر ھم سب کے سامنے رکھ دئیے اس پر علامہ اقبال (رح)کا ایک شعر یاد آگیا
    مسجد تو شب بھر میں بنادی ایماں کی حرارت والوں نے
    من اپنا پرانا پاپی تھا برسوں میں نمازی بن نہ سکا
    یہ شعر زبانی لکھا ہے اگر کوئی اونچ نیچ ہوگئی ہوتو بے باک صاحب اسکو بھی ٹھیک کردینا جی ۔مقصد یہ تھا شعر بیان کرنے کاکہ، اسلامی ملک کے سربراہان نے ملکر متحد ھوکر تنظیم تو بنادی مگر عملی طور پر صفر رہے جو کفر بے خبر سو رہا تھا اس کو بھی چوکنا کرکے اپنے خلاف عملی طور سرگرم عمل کردیا، متحد کردیا، یہود و ھنود کواور خود بے عملی، بے خبری کی چادر اوڑھ کر سوگئے مسلمان سربراہان اپنی اپنی پوری قوم کے ساتھ ۔اس کا انجام سب کے سامنے ہے پاکستان کے دو 2 ٹکڑےذولفقار علی بھٹو کو پھانسی اور شاہ فیصل کا قتل اور عراق ،افغانستان پر تباہی ،بمباری، فلسطین کے مسلمانون پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے۔ اور اب آخر میں سعودی عرب میں امریکی فوج کے اڈے ۔او مسلمانوں جب تم کچھ کر نہیں سکتے ہو، اپنی بے حسی، بے عملی، سستی ،کاہلی کو چھوڑ نہین سکتے ہو تو باطل کو کفر کو بیدار کرنے کے لئے متحد ھونے کے ،کچھ کر گزرنے کےجھوٹے نعرے کیوں لگاتے ہو،،، کیا ۔؟
    امت مسلمہ پر اور بھی زیادہ ظلم وتشددکے پہاڑتڑوانے کے لئے ایسا کرتے ہو یاد رکھو جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں خدارا کچھ تو عقل کے ناخن لو،کچھ تو ہوش میں آو۔!
    [/size]

  9. #9
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,134
    شکریہ
    2,100
    1,211 پیغامات میں 1,583 اظہار تشکر

    اک نظر ادھر بھی۔۔۔۔

    [align=center]
    [/align]

  10. #10
    رکنِ خاص نگار کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2011
    پيغامات
    5,360
    شکریہ
    663
    357 پیغامات میں 424 اظہار تشکر

    اک نظر ادھر بھی۔۔۔۔

    جزاک اللہ

    خوبصورت ڈیزائن کے ساتھ ساتھ بہترین معلومات بھی دی ہیں

    بہت بہت شکریہ آپ کا

صفحہ 1 از 2 12 آخریآخری

متشابہہ موضوعات

  1. جوابات: 0
    آخری پيغام: 10-20-2012, 09:17 AM
  2. جوابات: 2
    آخری پيغام: 10-16-2012, 04:47 PM
  3. الف پیما
    By ابوسفیان in forum متفرقات
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 10-12-2012, 08:09 PM
  4. بھیگی ہوئی رات
    By ناصرتونسوی in forum میری پسندیدہ شاعری
    جوابات: 3
    آخری پيغام: 09-09-2012, 03:05 AM
  5. کھیل ہی کھیل میں
    By تانیہ in forum کھیل ہی کھیل میں
    جوابات: 11
    آخری پيغام: 12-18-2011, 03:01 AM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University