نتائج کی نمائش 1 تا: 7 از: 7

موضوع: 8مارچ ۔۔۔ خواتین کا عالمی دن مبارک ہو

  1. #1
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,862
    شکریہ
    949
    878 پیغامات میں 1,104 اظہار تشکر

    8مارچ ۔۔۔ خواتین کا عالمی دن مبارک ہو

    [size=xx-large][align=center]
    خواتین کا عالمی دن مبارک ہو
    [/align]
    [/size]

    [size=xx-large]اسلام دنیا کا وہ واحد آفاقی و لافانی مذہب ہے جس نے مکمل ضابطہ حیات فراہم کیا ہے اور اسلام کے فراہم کردہ ضابطہ حیات کی سب سے بڑی خصوصیت وخاصیت یہ ہے کہ اس میں حاکم و محکوم ‘ آقا و غلام ‘ آجر و اجیر اور مرد و زن ہر ایک رشتے کے درمیان توازن و مساوات کے قیام کے ذریعے عدل فراہم کیا گیا ہے تاکہ کوئی بھی انسان کسی بھی رشتے کی شکل میں دوسرے انسان سے شاکی نہ ہو اور رب کی طرح انسانوں کا بھی شکر گزار رہے اور یہی شکر گزاری محبت و احترام کے اسباب پیدا کرتی ہے
    بحمداللہ تعالی ہم بھی اس دین مبین کے ماننے والے ہیں جس نے عورت کو ماں، بہن، بیٹی ، زوجہ سمیت ہر درجہء حیات میں بےمثال عزت و تکریم سے نوازا۔ اللہ پاک ہمیں اپنے دین مبین کی اعلی تعلیمات کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
    [/size]

    [align=center]
    [/align]

    [size=xx-large][align=center]مارچ خواتین کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔[/align][/size]
    [size=xx-large]
    جس کا مقصد دنیا کے مختلف معاشروں میں خوا تین کیساتھ ہونے والی زیادتیوں اور نا انصافیوں کے خلاف آواز اٹھانے کے ساتھ ساتھ خواتین کو ان کے بنیادی سماجی، سیاسی اور معاشی حقوق کے بارے میں روشناس کروانا ہے
    [/size]

    [size=xx-large][align=center]

    اردو منظر کی سب خواتین صارفات کو یہ دن مبارک ہو۔
    [/align]
    [/size]
    [size=xx-large][align=center]"وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ "
    [/align]
    [/size]
    [align=center]
    [/align]
    [align=center][/align]

  2. #2
    ناظم
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    754
    شکریہ
    148
    74 پیغامات میں 100 اظہار تشکر

    8مارچ ۔۔۔ خواتین کا عالمی دن مبارک ہو

    خواتین حضرات کو مرد حضرات کی
    طرف سےخواتین کے عالمی دن کے موقع پر ڈھیروں مبارکبادیں

    ویسے ہم مرد حضرات اس دن کے موقع پر آج آپ کو
    ایک دن کے لیے ان کاموں سے آزادی دیتے ہیں

  3. #3
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Dec 2010
    مقام
    کراچی
    پيغامات
    393
    شکریہ
    65
    55 پیغامات میں 107 اظہار تشکر

    8مارچ ۔۔۔ خواتین کا عالمی دن مبارک ہو

    عبادت بھائی!
    یار کبھی مَردوں کا بھی عالمی دن مناو نا۔۔!
    خواتین کا تو ہر وقت عالمی دن ہوتا ہے
    ہم بے چاروں کو کوئی پوچھتا ہی نہیں ، کیوں کہ خواتین کو عالمی معیار کا بنانے میں ہمارا بڑا کردار ہے

  4. #4
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    831
    شکریہ
    246
    110 پیغامات میں 168 اظہار تشکر

    8مارچ ۔۔۔ خواتین کا عالمی دن مبارک ہو

    سرحدی بھائی واقع ہی عورت کو اس مقام تک پہچانے میں مرد کا بہت ہاتھ ہے آج کی مغربی عورت اور کچھ پاکستانی خواتین بھی اپنے آپ کو آزاد سمجھتی ہیں لیکن ؟
    آج کی عورت جاب بھی کرتی ہے بیچے بھی پالتی ہے کھانا بھی بناتی ہے برتن بھی دھوتی ہے یعنی جاب کے ساتھ ساتھ گھر داری بھی سنبھال رہی ہے اور تنخواہ ملنے پر مرد حضرت پیسے بھی لے لیتے ہیں مغربی مرد بہت چالاک ہے اس نے عورت کو جاب پر بھی لگا دیا پیسے بھی خود لے لیے اور گھر داری بھی عورت سے کروا رہا ہے ÷
    تمام بہنوں کو عورتوں کا عالمی دن مبارک ہو

  5. #5
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2012
    پيغامات
    5,446
    شکریہ
    138
    96 پیغامات میں 104 اظہار تشکر

    8مارچ ۔۔۔ خواتین کا عالمی دن مبارک ہو

    اسلام علیکم خواتین کو خواتین ڈے بہت بہت مبارک
    تو پھر کب منا رہے ہیں مین ڈے(مردوں کا دن)

  6. #6
    معاون
    تاريخ شموليت
    Mar 2013
    پيغامات
    67
    شکریہ
    33
    24 پیغامات میں 36 اظہار تشکر

    8مارچ ۔۔۔ خواتین کا عالمی دن مبارک ہو

    [align=center][size=x-large]السلام علیکم
    خیر مبارک تانیہ سسٹر۔۔۔آپ سمیت سب بہنوں کو یومِ خواتین میری جانب سے بھی مبارک ہو!۔
    لیکن کیا ہی اچھا ہو کہ۔۔۔۔

    ہم اسے صرف ایک رسم نہ بنائیں
    اس دن عورت کی شان میں صرف قصیدہ گوئی کے بجائے اسے واقعی وہ جائز حقوق دیے جائیں جو اسکا پیدائشی حق ہیں اور شریعت نے انکے لیے لازمی قرار دیے ہیں۔

    ماؤں ،بہنو بیٹیو شان میں الطاف حسین حالی؟ کی ایک پیاری نظم نذرِ قارئین۔۔

    اے ماؤبہنو بیٹیو
    قوموں کی عزت تم سے ہے
    تم گھر کی ہو شہزدیاں
    شہروں کی ہو ابادیاں
    غمگیں دلوں کی شادیاں
    دکھ سکھ میں راحت تم سے ہے
    تم بن تو غربت ہے وطن،تم بن ہے ویرانہ چمن
    ہو دیس یا پردیس جینے کی حلاوت تم سے ہے
    نیکی کی تم تصویر ہو عفت کی تم تدبیر ہو
    ہو دین کی تم پاسباں ،
    ایماں سلامت تم سے ہے
    فطرت تمہاری ہے حیا
    طینت میں ہے مہرو وفا
    گھٹی میں ہے صبر رو رضا
    انساں عبارت تم سے ہے
    مونس ہو خاوندوں کی تم
    غمخوار فرزندوں کی تم
    تم بن ہے گھر ویران سب
    گھر بھر میں برکت تم سے ہے
    تم آس ہو بیمار کی
    ڈھارس ہو تم بیکار کی
    دولت ہو تم نادار کی
    عسرت مین عشرت تم سے ہے
    اے ماؤ،بہنو بیٹیو۔۔
    ۔دنیا کی عزت تم سے ہے






    [/size][/align]

  7. #7
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,140
    شکریہ
    2,103
    1,215 پیغامات میں 1,587 اظہار تشکر

    8مارچ ۔۔۔ خواتین کا عالمی دن مبارک ہو

    بہت ہی خوب ، نور العین عینی صاحبہ نے زبردست طریقہ سے ہمیں اسلام میں عورتوں کے حقوق کے بارے بتایا ہے ،
    جزاک اللہ ۔بہن جی ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اس طرح ذکر فرمایا ہے ،

    إن المسلمين و المسلمات و المؤمنين و المؤمنات و القانتين و القانتات و الصادقين و الصادقات و الصابرين و الصابرات و الخاشعين و الخاشعات و المتصدقين و المتصدقات و الصائمين و الصائمات و الحافظين فروجهم و الحافظات و الذاكرين الله كثيرا و الذاكرات أعدّ الله لهم مغفرة و أجرا عظيما.


    "بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، مومن مرد اور مومن عورتیں،فرماں بردار مرد اور فرماں بردار عورتیں اور راست باز مرد اور راست باز عورتیں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والی عورتیں اور خشوع کرنے والے مرد اور خشوع کرنے والی عورتیں اور خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں اور روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں اور بکثرت خدا کو یاد کرنے والے مرد اور یاد کرنے والی عورتیں، اِن سب کے لیے اللہ تعالٰی نے مغفرت اور اجرِ عظیم تیّار کر رکھا ہے۔"

    قرآنِ کریم بہت ساری آیات میں بڑے شفّاف طور پر فرماتا ہے:

    ہوسٹن اسمتھ اپنی کتاب "مذاہبِ عالم" میں کہتا ہے کہ عرب میں قبلِ اسلام اور بعدِ اسلام عورتوں کی حالت پر تاریخی تحقیق کرنے سے یہ نکتہ بڑی وضاحت سے آشکار ہوتا ہے کہ اسلام پر عورتوں کی تحقیر اور عورت کے مقام کی توہین کا الزام مکمّل طور پر غلط ہے۔ اسلام سے پہلے کے حالات پر نظر رکھتے ہوئے، جب یہاں تک کہ نوزائیدہ بچّی بھی ایک مصیبت اور بدبختی شمار کی جاتی تھی، یہ واضح ہوجاتا ہے، نزولِ قرآن کے ساتھ نوزائیدہ بچّیوں کے زندہ درگور کرنے کی ممانعت ایک اصلاحی اقدام اور عظیم انقلاب تھا جو عورتوں کی حالت کی بہبودی کا سبب بنا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بہت سے لوگ اسلام کو خواتین کے حقوق کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹوں میں سے ایک قرار دیتے ہیں۔ لیکن جب ہم قرآن سے رجوع کرتے ہیں تو حقیقت اس سے مختلف نظر آتی ہے۔ روایتاً معاشرتی نظام میں گندھی ہوئی قدامت پرست رسومات خواتین کی عظمت کے قرآنی تصور سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

    قرآن کہتا ہے، "اے بنی نوع انسان: خدا سے ڈرو ، جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور پھر اس میں سے اس کا جوڑا بنایا، اور پھر ان دونوں سے پھیلا دیئے بہت سے مرد و عورت۔ خدا سے ڈرو، جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو، اور ڈرو رشتوں (کو توڑنے) سے " (قرآن 4 : 1 )۔

    یہ آیت واضح طور پر ثابت کرتی ہے کہ اسلام میں مرد اور عورت داخلی یعنی اپنی تخلیق اور خارجی یعنی ایک دوسرے کے ساتھ اپنے تعلق اور خدا سے متعلق اپنی ذمہ داریوں دونوں اعتبار سے برابر ہیں۔ درحقیقت اگر عورت کا کہیں علیحدہ ذکر کیا گیا تو وہ اس کی عزت کے حوالے سے ہے۔

    ماقبل از اسلام عرب میں والدین اکثر اپنی بچیوں کو زمین میں زندہ دفن کر دیتے تھے کیونکہ وہ بیٹی کی پیدائش کو خاندان کے لئے برا شگون سمجھتے تھے۔ قرآن بیٹی کی پیدائش پر شرمندگی کے احساس کی مذمت کرتے ہوئے ایسا کرنے والوں سے یوں مخاطب ہوتا ہے، " اور جب ان میں سے کسی شخص کو بیٹی (کی پیدائش) کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے اور وہ غم سے بھرا ہوتا ہے۔ وہ چھپتا پھرتا ہے لوگوں سے اس بُری خبر پر جو اسے سنائی گئی (سوچتا ہے) کہ کیا رہنے دے اس کو ذلّت کے باوجود یا دبا دے اسے مٹی میں۔ دیکھو تو کیسے بُرے ہیں وہ فیصلے جو یہ کرتے ہیں " (قرآن 16 : 58-59 )۔

    اسلام کے آغاز کے چودہ سو سال بعد خوشحالی، ترقی، تعلیم اور روشن خیالی کے باوجود اکثر دنیا میں مثلاً جنوبی ایشیا کے بعض حصوں میں بیٹی کی پیدائش کے ساتھ یہ بدشگونی ہمیں اب بھی جُڑی نظر آتی ہے۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں گھر کی تقریباّ ساری معاشی ذمہ داری مرد اٹھاتا ہے وہاں عموماّ بیٹے کی پیدائش زیادہ خوشی کا باعث ہوتی ہے۔

    اگرچہ بہتر تعلیم اور روزگار کے نتیجے میں خواتین کی بااختیاری معاشرتی ڈھانچوں کو تبدیل کررہی ہے لیکن ابھی ہمیں قرآن میں بتائی گئی صنفی مساوات کے درجے تک پہنچنے کے لئے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ جبری شادی، غیرت کے نام پر قتل اور ثقافت، روایت یا سماجی رسوم کے نام پر عورت کو گھر کی چار دیواری تک محدود رکھنے سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں ۔

    روایتی طور پر بعض زیادہ قدامت پسند مسلم معاشروں مثلاً پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کو عورتوں کے مقام اور حقوق کے حوالے سے قرآن کے نقطۂ نظر کا احترام اور اس کے احکامات کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔

    یورپ میں خواتین کو وراثت کا حق ملنے سے بارہ سو سال پہلے اسلام نے عورتوں کو یہ حق عطا کر دیا تھا۔ "مردوں کے لئے حصّہ ہے اس ترکے میں سے جو چھوڑیں والدین اور قریبی رشتہ دار اور عورتوں کے لئے بھی حصّہ ہے اس ترکے میں سے جو چھوڑیں والدین اور قریبی رشتہ دار، چاہے وہ ترکہ کم ہو یا زیادہ۔ یہ حصّہ مقرر ہے (اللہ کی طرف سے)" (قرآن 7:4 )۔

    اسلام ایک ایسے معاشرے میں نازل کیا گیا تھا جہاں عورتیں بذاتِ خود جائیداد کی طرح ترکے میں تقسیم کی جاتی تھیں۔ ایسے میں انہیں وراثتی حقوق دینا ان کے لئے کسی انقلاب سے کم نہیں تھا۔

    مسلمانوں میں خواتین کے حقوق بلکہ ہر طرح کے حقوق کو اسلامی نقطۂ نظر سے حقوق و فرائض کے سیاق و سباق میں دیکھا جاتا ہے۔ان حقوق اور ذمہ داریوں کا احترام کرنے اور معاشرتی ترقی میں اپنے کردار کو سمجھنے کے لئے ہمیں خود کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا چاہیے۔ اسلام نے تعلیم اور معلومات کا حصول ہر مرد اور عورت پر لازم قرار دیا ہے۔

    آخر یہ علم ہی تو ہے جو تبدیلی کے لئے عمل انگیز کا کام کرتا ہے۔ "ان سے پوچھو، بھلا برابر ہو سکتے ہیں کہیں وہ لوگ جو جانتے ہیں اور وہ جو کچھ نہیں جانتے؟ حقیقت یہ ہے کہ صرف وہ لوگ نصیحت قبول کرتے ہیں جو عقل والے ہیں" (قرآن 9:39)۔

    اسلام کی تعلیمات کو ان ثقافتوں اور رواجوں پر فوقیت ملنی چاہیے جو مسلم معاشروں میں عورت کے تعمیری کردار کے خلاف تعصّب سے بھری ہوتی ہیں۔ بد قسمتی سے یہ تعصّب اس مذہب کے نام پر موجود ہےجس نے عورتوں کو اس سے کہیں زیادہ حقوق عطا کئے ہیں جتنا یہ سماجی ڈھانچے قبول کرنے پر رضامند ہیں۔

    عورتوں کو بااختیار بنانے کے لئے قرآن کے تصور سے مطابقت رکھتی ہوئی ہر ایسی کوشش، جو قانون کے سامنے عورت کے مقام کو ثابت کرے، کی بھرپور حمایت کی جانی چاہیے۔ جو لوگ عورتوں کو یہ حقوق دینے سے انکار کرتے ہیں ان سے ہم یہ پوچھتے ہیں " کیا یہ لوگ ذرا بھی غور نہیں کرتے قرآن میں؟" قرآن (82:4)۔


    * ڈاکٹرآفتاب احمد خان۔ ایک ریٹائرڈ پروفیسر اور "اسلام میں جنس اور جنسیت کا تصور" سمیت کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ یہ مضمون 'مسلمان خواتین اور ان کے مذہبی حقوق' پر مضامین سیریز کا حصّہ ہے جو کامن گراؤنڈ نیوز سروس (سی جی نیوز) کے لئے لکھا گیا ہے۔

متشابہہ موضوعات

  1. خواتین کی صحت
    By تانیہ in forum نسائی ادب
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 03-06-2012, 09:12 PM
  2. خواتین پر تشدد
    By تانیہ in forum نسائی ادب
    جوابات: 0
    آخری پيغام: 01-25-2012, 04:21 PM
  3. رمضان اور تین آمین
    By شہزادی in forum دین اسلام
    جوابات: 3
    آخری پيغام: 08-22-2011, 03:19 AM
  4. خواتین کا عالمی دن
    By بلال جٹ in forum نسائی ادب
    جوابات: 3
    آخری پيغام: 04-25-2011, 09:43 PM
  5. تین بہترین اموال
    By گلاب خان in forum متفرق موضوعات
    جوابات: 0
    آخری پيغام: 04-16-2011, 09:31 PM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University