صفحہ 1 از 2 12 آخریآخری
نتائج کی نمائش 1 تا: 10 از: 13

موضوع: قادیانیوں کو کافر کیوں قراردیا گیا ۔ قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی

  1. #1
    معاون
    تاريخ شموليت
    Dec 2010
    پيغامات
    55
    شکریہ
    4
    21 پیغامات میں 29 اظہار تشکر

    قادیانیوں کو کافر کیوں قراردیا گیا ۔ قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی

    قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی سرکاری سطح پر پہلی دفعہ شائع ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا اس لیے قادیانیوں کی حجت ختم ہو گئی، کہ حکومت اس کو چھاپنے کی ہمت نہیں کر سکتی، کتاب کا ایک ایک لفظ پڑھنے کے لائق ہے۔ قادیانیوں کو اس کتاب کو جو سرکاری سطح پر چھاپی گئی ہے کا ایک عدد نسخہ دے دیا ہے ۔لہٰذا اب ان کے پاس اس کا کوئی جواز باقی نہیں رہا سوائے اس کے کہ پارلیمان اور عدالت کے حکم پر سرِ تسلیم خم کر کے اسے من و عن قبول کیا جائے۔آئیے آپ کو اس ساری کاروائی کی تفصیل سے آگاہ کرتے ہیں کہ سب کچھ کیسے ہوا۔ جناب اس کا آغاز ہوتا ہے اس رٹ پٹیشن سے جو بشیر احمد خان نے لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی۔

    بشیر احمد خان کی رٹ پٹیشن

    بشیر احمد خان کی رٹ پٹیشن جس میں انہوں نے قومی اسمبلی ۱۹۷۴ء والی کاروائی کا مکمل ریکارڈ طلب کیا تھا۔ بشیر احمد خان کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر قومی اسمبلی نے محترمہ فہمیدہ مرزا صاحبہ نے اس کی پرنٹنگ کا حکم صادر فرمایا۔ اس مکمل ریکارڈ کو اکٹھا کرنے پر ۴۰۴۰۰ چالیس لاکھ اور چالیس ہزار روپیہ اور بعدازاں اس کی پرنٹنگ پر ۶ لاکھ ۷۸ ہزار روپے خرچ ہوئے، یعنی کل ۴۷ لاکھ ۱۸ ہزار روپیہ خرچ آیا۔ ان کاغذات میں، بشیر احمد خان کی درخواست پر ہائی کورٹ کا آرڈر شامل ہے جس کی پیروی کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی نے تمام ریکارڈ پر مشتمل ساری کروائی ایک کتابی شکل میں لاہور ہائی کورٹ کو مہیا کی اور پھر بشیر احمد خان صاحب کو اس کا ایک نسخہ ان کے وکیل کی معرفت مہیا کیا گیا۔

    قادیانیوں کو کافر کیوں قراردیا گیا ۔ قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی سرکاری سطح پر پہلی دفعہ شائع ہو گئی ہے، اس لیے ان کی حجت ختم ہو گئی، کہ حکومت اس کو چھاپنے کی ہمت نہیں کر سکتی، کتاب کا ایک ایک لفظ پڑھنے کے لائق ہے۔ قادیانیوں کو سرکاری سطح پر چھاپی گئی کتاب کا ایک مکمل نسخہ دے دیا گیا ہے۔ اس کتاب کے 21 حصے ہیں ،اور اب ہم یہ سب تمام مسلم امہ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں تا کہ سبھی دوست اس تمام کروائی سے آگاہ ہو سکیں اور قادیانیوں کے جھوٹے پراپیگنڈے کا تن دہی سے مقابلہ کر سکیں۔

    قومی اسمبلی کا فیصلہ- قادیانی احمدی کافر ہیں؛ کچھ پسِ منظر کچھ پیش منظر

    اسپیکر قومی اسمبلی محترمہ فہمیدہ مرزا نے اپنے خصوصی اختیارات کے تحت سابق وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے متعلق پارلیمنٹ کے بند کمرے کے اجلاس میں ہونے والی بحث کے ریکارڈ کو 36 سال بعد اوپن کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے ذرائع کے مطابق بھٹو دور میں 1974ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے سے متعلق پارلیمنٹ کے بند کمرے کا اجلاس تقریباً ایک ماہ سے زائد جاری رہا تھا۔ جس کے نتیجہ میں قادیانیوں کو ان کے کفریہ عقائد کی بناء پر ملک کی منتخب جمہوری حکومت نے متفقہ طور پر 7 ستمبر1974ء کو انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا اورآئین پاکستان کی شق 160(2) اور 260(3) میں اس کا اندراج کر دیا۔ معاملے کی حساسیت کے پیش نظر بحث کا تمام ریکارڈ اسی وقت سیل کر دیا گیا تھا۔ یہ شرط رکھی گئی تھی کہ اسے تیس سال سے کم کے عرصے میں اوپن نہیں کیا جائے گا۔ اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے اب اس وقت کی بحث کے ریکارڈ کو لائبریری میں رکھنے کی منظوری دے دی ہے۔ اسمبلی ترجمان نے بتایا کہ اس وقت بحث کا تمام ریکارڈ پرنٹنگ کے مراحل میں ہے اور جلد اسے لائبریری کا حصہ بنا دیا جائے گا۔
    قادیانی 1974ء سے لے کر اب تک یہ کہتے چلے آ رہے ہیں کہ اگر یہ کارروائی شائع ہو جائے تو آدھا پاکستان قادیانی ہو جائے گا۔ قومی اسمبلی کی یہ کارروائی اوپن ہونے سے قادیانیوں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو گیا۔ لیکن حیرت ہے کہ اس خبر سے قادیانیوں کے ہاں صفِ ماتم بچھ گئی ہے۔ اس وقت کے اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار مرحوم نے ایک سوال پر کہ ’’قادیانیوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ روداد شائع ہو جائے تو آدھا پاکستان قادیانی ہو جائے گا۔‘‘ کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، یہ کارروائی ان کے خلاف جاتی ہے۔ ویسے وہ اپنا شوق پورا کر لیں، ہمیں کیا اعتراض ہے۔ ان دنوں ساری اسمبلی کی کمیٹی بنا دی تھی اور کہا گیا تھا کہ یہ ساری کارروائی سیکرٹ ہو گی تا کہ لوگ اشتعال میں نہ آئیں۔ میرے خیال میں اگر یہ کارروائی شائع ہو گئی تو لوگ قادیانیوں کو ماریں گے۔‘‘ (انٹرویو نگار منیر احمد منیر ایڈیٹر ’’ماہنامہ آتش فشاں‘‘ لاہور، مئی 1994ء) سابق اٹارنی جنرل اور معروف قانون دان جناب یحییٰ بختیار نے جس لگن، جانفشانی اور قانونی مہارت سے امت مسلمہ کے اس نازک اور حساس کیس کو لڑا، قادیانی شاطر سربراہوں پر طویل اور اعصاب شکن جرح کے بعد جس طرح ان سے ان کے عقائد و عزائم کے بارے میں سب کچھ اگلوایا، بلکہ اعتراف جرم کروایا، وہ انہی کا خاصہ ہے، جس پر وہ صد ستائش کے مستحق ہیں۔ بلاشبہ ان کی یہ خدمت سنہرے حروف سے لکھی جانے کے قابل ہے۔ لیکن اس کے برعکس قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کارروائی کے نتیجہ میں قومی اسمبلی کا کوئی ایک رکن بھی قادیانی نہیں ہوا۔ کسی رکن قومی اسمبلی نے کارروائی کا بائیکاٹ نہیں کیا۔ کسی رکن قومی اسمبلی نے اجلاس سے واک آؤٹ نہیں کیا۔ کسی رکن قومی اسمبلی نے قادیانیوں کی حمایت نہیں کی۔ اس کے برعکس نہ صرف تمام ارکان نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا بلکہ قادیانی خلیفہ مرزا ناصر کی ٹیم میں شامل ایک معروف قادیانی مرزا سلیم اختر چند ہفتوں بعد قادیانیت سے تائب ہو کر مسلمان ہو گیا۔ حالانکہ قادیانی خلیفہ مرزا ناصر پوری ٹیم کے ساتھ مکمل تیاری سے بڑی خوشی سے قومی اسمبلی گیا۔ اس کے اسمبلی کے اندر داخل ہونے کا انداز بڑا فاتحانہ، تکبرانہ اور تمسخرانہ تھا۔ اس کا خیال تھا کہ میں تاویلات اور شکوک و شبہات کے ذریعے اسمبلی کو قائل کر لوں گا، مگر بری طرح ناکام رہا۔ قادیانی قیادت نے قومی اسمبلی کے تمام اراکین میں 180 صفحات پر مشتمل کتاب ’’محضر نامہ‘‘ تقسیم کی، جس میں اپنے عقائد کی بھرپور ترجمانی کی۔ اس کتاب کے آخری صفحہ پر ’’دعا‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے؛ ’’دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی جناب سے معزز ارکان اسمبلی کو ایسا نور فراست عطا فرمائے کہ وہ حق و صداقت پر مبنی ان فیصلوں تک پہنچ جائیں جو قرآن و سنت کے تقاضوں کے عین مطابق ہوں۔‘‘ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر قادیانیوں کی دعا قبول ہوئی تو وہ قومی اسمبلی کا یہ فیصلہ قبول کیوں نہیں کرتے؟ اور اگر دعا قبول نہیں ہوئی تو وہ جھوٹے ہیں۔
    قادیانی اعتراض کرتے ہیں کہ قومی اسمبلی کی اس کارروائی کو اِن کیمرہ، خفیہ کیوں رکھا گیا۔ یہ کارروائی اخبارات میں روزانہ کیوں شائع نہ ہوئی؟۔ اس سوال کا جواب قومی اسمبلی کے اس وقت کے سپیکر جناب صاحبزادہ فاروق علی خان نے اپنے ایک انٹرویو میں دیتے ہوئے کہا؛
    ’’بحث اور کارروائی کے دوران ایسی باتوں کے پیش آنے کا بھی امکان تھا کہ اگر منظرعام پر آئیں تو مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچ سکتی تھی۔ قادیانی فرقوں کے رہنماؤں کو بھی بلانا تھا۔ ان کا نقطۂ نظر بھی سننا تھا۔ ظاہر ہے وہ جو کچھ کہتے، مسلمانوں کو ہرگز اتفاق نہ ہوتا۔ لہٰذا کارروائی خفیہ ہی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ناموس رسالت کا مسئلہ نازک اور حساس ہے۔ مسلمان جان بھی قربان کر دینا ایک انتہائی معمولی بات سمجھتا ہے، لہٰذا کسی بھی خطرناک جذباتی صورتحال سے بچنے کے لیے اس کارروائی کو خفیہ رکھنا ہی مناسب تھا۔ حضور رسالت مآب ﷺ کی ذات گرامی کے ساتھ امت کو جو والہانہ عشق ہے، اس کو زبان و قلم سے بیان کرنا ناممکن ہے۔ اس خفیہ بحث کا فیصلہ کھلا تھا اور اس فیصلے سے ملت اسلامیہ آج تک مطمئن ہے۔‘‘ (قومی اسمبلی کے سابق سپیکر صاحبزادہ فاروق علی خان سے اختر کاشمیری صاحب کا انٹرویو، روزنامہ ’’جنگ‘‘ جمعہ میگزین 3 تا 9 ستمبر 1982ء)۔
    قادیانی کہتے ہیں یہ ایک یکطرفہ فیصلہ تھا۔ یہ بات لاعلمی اور تعصب پر مبنی ہے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جمہوری نظام حکومت میں کوئی بھی اہم فیصلہ ہمیشہ اکثریتی رائے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ لیکن قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے کا فیصلہ شاید دنیا کا واحد اور منفرد واقعہ ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ کرنے سے پہلے قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو پارلیمنٹ میں آ کر اپنا نقطۂ نظر پیش کرنے کے لیے بلایا۔ جہاں اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار نے اس پر، قادیانی کفریہ عقائد کے حوالہ سے جرح کی۔ مرزا ناصر نے اپنے تمام عقائد و نظریات کا برملا اعتراف کیا بلکہ تاویلات کے ذریعے ان کا دفاع بھی کیا۔ لہٰذا ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے ۱۳ دن کی طویل بحث و تمحیص کے بعد آئین میں ترمیم کرتے ہوئے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا، لیکن قادیانیوں نے حکومت کے اس فیصلہ کو آج تک تسلیم نہیں کیا، بلکہ الٹا وہ مسلمانوں کا تمسخر اڑاتے ہیں اور انھیں سرکاری مسلمان ہونے کا طعنہ دیتے ہیں۔ وہ خود کو مسلمان اور مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں اور آئین میں دی گئی اپنی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے۔
    قادیانی کہتے ہیں کہ اس وقت اراکین اسمبلی کی اکثریت زانی اور شرابی تھی۔ انھیں کوئی حق حاصل نہ تھا کہ وہ ایسا فیصلہ کرتے۔ قادیانیوں سے پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے اس وقت اسمبلی کا بائیکاٹ کیوں نہ کیا؟، کیا انہیں وہاں زبردستی لے جایا گیا تھا؟، حالانکہ وہ تو وہاں گئے ہی اس لیے تھے کہ قومی اسمبلی جو بھی فیصلہ کرے گی، ہمیں قبول ہو گا۔ عجیب بات ہے کہ اگر قادیانیوں کو پارلیمنٹ غیر مسلم اقلیت قرار دے تو وہ زانی اور شرابی، اگر سپریم کورٹ انہیں کافر قرار دے تو یہ کہنا کہ یہ تو انگریزی قانون پڑھے ہوئے ہیں، انھیں شریعت کا کیا علم؟، اور اگر علمائے کرام انہیں غیر مسلم کہیں تو یہ اعتراض کہ ان کا تو کام ہی یہی ہے۔
    رزق ملبوس مکاں سانس مرض قرض دوا
    منقسم ھو گیا ھے انساں انہی افکار کے بیچ

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 3 اراکین نے بوبی کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (04-02-2013),ابوبکر (05-21-2013),تانیہ (05-20-2013)

  3. #2
    معاون
    تاريخ شموليت
    Dec 2010
    پيغامات
    55
    شکریہ
    4
    21 پیغامات میں 29 اظہار تشکر
    قادیانی کہتے ہیں کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 20 کے تحت ہر شہری کو مذہبی طور پر آزادی اظہار ہے۔ آپ کسی پر پابندی نہیں لگا سکتے۔ قادیانیوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ (نعوذ باللہ) قرآن مجید میں نئے حالات کے مطابق تبدیلی کر دی گئی ہے۔ اس میں سے کئی آیات خارج کر دی گئی ہیں اور کئی آیات شامل کر دی گئی ہیں اور پھر وہ اس نئے قرآن کی تبلیغ و تشہیر بھی کرے تو کیا اس شخص پر پابندی لگنی چاہیے یا نہیں؟، اگر وہ یہ کہے کہ مجھے آئین کے تحت آزادی اظہار ہے تو کیا اسے یہ اجازت دینی چاہیے؟، پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ہر شخص کو کاروبار کی مکمل آزادی ہے مگر ہیروئن اور منشیات وغیرہ فروخت کرنا سختی سے منع ہے۔ کیا یہ آزادی پر پابندی ہے؟، آزادی چند حدود و قیود کے تابع ہوا کرتی ہے۔ آپ اپنا ہاتھ ہلانے میں آزاد ہیں، جب اور جس طرح چاہیں، اسے ہلا سکتے ہیں۔
    لیکن اگر آپ کے ہاتھ ہلانے سے کسی دوسرے کا چہرہ زخمی ہوتا ہے تو پھر اس کی آزادی کہاں گئی؟، لہٰذا آزادی ایک حد تک ہے۔ آزادی بے لگام یا شتر بے مہار ہو جائے تو معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو جاتا ہے۔ سابق وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ لیکن اس کے باوجود قادیانی مسلسل شعائرِ اسلامی استعمال کرتے ہیں۔ غیر مسلم ہونے کے باوجود اپنی عبادت گاہ کو مسجد، مرزا قادیانی کو نبی اور رسول، مرزا کی بیوی کو ام المومنین، مرزا قادیانی کے دوستوں کو صحابہ کرام، قادیان کو مکہ مکرمہ، ربوہ کو مدینہ، مرزا قادیانی کی باتوں کو احادیث مبارکہ، مرزا قادیانی پر اترنے والی نام نہاد وحی کو قرآن مجید، محمد رسول اللہ سے مراد مرزا قادیانی مراد لیتے ہیں۔ چنانچہ26 اپریل 1984ء کو حکومت نے مسلمانوں کے پرُ زور مطالبہ پر ایک آرڈیننس جاری کیا گیا، جس میں قادیانیوں کو شعائر اسلامی کے استعمال سے قانوناً روکا گیا۔ اس آرڈیننس کے نتیجہ میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298/b اور 298/c کے تحت کوئی قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہلوا سکتا، اپنے مذہب کو اسلام نہیں کہہ سکتا، اپنے مذہب کی تبلیغ و تشہیر نہیں کر سکتا، شعائر اسلامی استعمال نہیں کر سکتا۔ خلاف ورزی کی صورت میں وہ 3 سال قید اور جرمانہ کی سزا کا مستوجب ہو گا۔ قادیانیوں نے اپنے خلیفہ مرزا طاہر کے حکم پر آرڈیننس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پورے ملک میں شعائر اسلامی کی توہین کی اور آرڈیننس کے خلاف ایک بھرپور مہم چلائی۔ جس کے نتیجہ میں پاکستان کے اکثر شہروں میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا ہوئی۔ قادیانی قیادت نے اس آرڈیننس کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں قرار دیا کہ قادیانیوں پر پابندی بالکل درست ہے۔ اس کے بعد قادیانیوں نے چاروں صوبوں کی ہائی کورٹس میں چیلنج کیا، یہاں پر بھی عدالتوں نے دونوں طرف کے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ آرڈیننس بالکل قانون کے مطابق ہے۔ قادیانیوں کو آئین میں دی گئی اپنی حیثیت تسلیم کرتے ہوئے شعائر اسلامی استعمال نہیں کرنے چاہئیں۔ آخر میں قادیانیوں نے ان تمام فیصلوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ ہمیں آئین کے مطابق آزادی کا حق حاصل ہے، لیکن ہمیں شعائر اسلامی استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔ لہٰذا عدالت تعزیرات پاکستان کی دفعہ 298/b اور 298/c کو کالعدم قرار دے۔ سپریم کورٹ کے فل بنچ نے اس کیس کی مفصل سماعت کی۔ دونوں طرف سے دلائل دیے گئے۔ قادیانیوں کی اصل کتابوں سے متنازعہ ترین حوالہ جات پیش کیے گئے۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلہ ظہیر الدین بنام سرکار (1993 scmr 1718) میں قرار دیا کہ کوئی قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہلوا سکتا اور نہ اپنے مذہب ہی کی تبلیغ کر سکتا ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں وہ سزا اور جرمانے کا مستوجب ہو گا۔ یہ بھی یاد رہے کہ یہ جج صاحبان کسی دینی مدرسہ یا اسلامی دارالعلوم کے استاد نہیں تھے بلکہ انگریزی قانون پڑھے ہوئے تھے۔ ان کا کام آئین و قانون کے تحت انصاف مہیا کرنا ہوتا ہے۔ فاضل جج صاحبان کا یہ بھی کہنا تھا کہ قادیانی اسلام کے نام پر لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں جبکہ دھوکہ دینا کسی کا بنیادی حق نہیں ہے اور نہ اس سے کسی کے حقوق یا آزادی ہی سلب ہوتی ہے۔
    سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلہ میں لکھا؛ ’’ ہر مسلمان کے لیے جس کا ایمان پختہ ہو، لازم ہے کہ رسول اکرم ؐ کے ساتھ اپنے بچوں، خاندان، والدین اور دنیا کی ہر محبوب ترین شے سے بڑھ کر پیار کرے۔‘‘ (’’صحیح بخاری ‘‘ ’’کتاب الایمان‘‘، ’’باب حب الرسول من الایمان‘‘) کیا ایسی صورت میں کوئی کسی مسلمان کو مورد الزام ٹھہرا سکتا ہے۔ اگر وہ ایسا دل آزار مواد جیسا کہ مرزا صاحب نے تخلیق کیا ہے سننے، پڑھنے یا دیکھنے کے بعد اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے؟ ’’ہمیں اس پس منظر میں قادیانیوں کے صد سالہ جشن کی تقریبات کے موقع پر قادیانیوں کے اعلانیہ رویہ کا تصور کرنا چاہیے اور اس ردعمل کے بارے میں سوچنا چاہیے، جس کا اظہار مسلمانوں کی طرف سے ہو سکتا تھا۔ اس لیے اگر کسی قادیانی کو انتظامیہ کی طرف سے یا قانوناً شعائر اسلام کا اعلانیہ اظہار کرنے یا انہیں پڑھنے کی اجازت دے دی جائے تو یہ اقدام اس کی شکل میں ایک اور ’’رشدی‘‘ (یعنی رسوائے زمانہ گستاخ رسول ملعون سلمان رشدی جس نے شیطانی آیات نامی کتاب میں حضور ﷺ کی شان میں بے حد توہین کی) تخلیق کرنے کے مترادف ہو گا۔ کیا اس صورت میں انتظامیہ اس کی جان، مال اور آزادی کے تحفظ کی ضمانت دے سکتی ہے اور اگر دے سکتی ہے تو کس قیمت پر؟ ردعمل یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی قادیانی سرعام کسی پلے کارڈ، بیج یا پوسٹر پر کلمہ کی نمائش کرتا ہے یا دیوار یا نمائشی دروازوں یا جھنڈیوں پر لکھتا ہے یا دوسرے شعائر اسلامی کا استعمال کرتا یا انہیں پڑھتا ہے تو یہ اعلانیہ رسول اکرم ؐ کے نام نامی کی بے حرمتی اور دوسرے انبیائے کرام کے اسمائے گرامی کی توہین کے ساتھ ساتھ مرزا صاحب کا مرتبہ اونچا کرنے کے مترادف ہے جس سے مسلمانوں کا مشتعل ہونا اور طیش میں آنا ایک فطری بات ہے اور یہ چیز نقض امن عامہ کا موجب بن سکتی ہے، جس کے نتیجہ میں قادیانیوں کے جان و مال کا نقصان ہو سکتا ہے۔‘‘
    (ظہیر الدین بنام سرکار1993ء scmr 1718)۔
    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں مزید لکھا؛ ’’ہم یہ بھی نہیں سمجھتے کہ قادیانیوں کو اپنی شخصیات، مقامات اور معمولات کے لیے نئے خطاب، القاب یا نام وضع کرنے میں کسی دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آخر کار ہندوؤں، عیسائیوں، سکھوں اور دیگر برادریوں نے بھی تو اپنے بزرگوں کے لیے القاب و خطاب بنا رکھے ہیں اور وہ اپنے تہوار امن و امان کا کوئی مسئلہ یا الجھن پیدا کیے بغیر پُرامن طور پر مناتے ہیں۔‘‘
    (ظہیر الدین بنام سرکار1993ء scmr 1718)۔
    افسوس ہے کہ قادیانی آئین میں دی گئی اپنی حقیقت کو ماننے سے انکاری ہیں اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو بھی تسلیم نہیں کرتے۔ اس صورتحال میں حکومت کا فرض ہے کہ وہ قادیانیوں کو آئین اور قانون کا پابند بنائے تاکہ ملک بھر میں کہیں بھی لا اینڈ آرڈر کی صورتحال پیدا نہ ہو۔ حضرت عمر فاروق ؓ کا قول ہے کہ قانون پر عملدرآمد ہی اصل قانون ہے۔
    رزق ملبوس مکاں سانس مرض قرض دوا
    منقسم ھو گیا ھے انساں انہی افکار کے بیچ

  4. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 3 اراکین نے بوبی کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (04-02-2013),ابوبکر (05-21-2013),تانیہ (05-20-2013)

  5. #3
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,205
    شکریہ
    2,192
    1,260 پیغامات میں 1,635 اظہار تشکر
    بہت ہی خوب بوبی بھائی ، یہ واقعی تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے وطن میں ان پر مکمل پابندی نہیں لگ سکی ، آج بھی یہ اپنے جھوٹ؁ پروپیگڈے کے زور پر اس سرکاری کاروائی کو رد کر رہے کہ ان کو سنا نہیں گیا ،
    اس مکمل کاروائی کو یہاں لگایا ہوا ہے ، سب دوستوں کو اس بارے بتائیے ، وہ خود مشاھدہ کریں اور غور کریں ،ایک ایک لفظ پڑھیں ،
    اس لنک کو دیکھیے ،شکریہ http://urdulook.info/forum/showthread.php?6414
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  6. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 3 اراکین نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    Durry Yaman (07-08-2013),ابوبکر (05-21-2013),تانیہ (05-20-2013)

  7. #4
    مبتدی
    تاريخ شموليت
    May 2013
    مقام
    rabwah
    پيغامات
    6
    شکریہ
    0
    1 پیغام میں 1 اظہار تشکر

    جواب: قادیانیوں کو کافر کیوں قراردیا گیا ۔ قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی

    1974ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں جماعت احمدیہ کا جو وفد پیش ہوا تھا اس نے اپنا مؤقف تحریری طور پر پیش کیا تھا جسے ’’محضرنامہ‘‘ کا نام دیا گیا تھا ۔ محضر نامہ وہ اہم تاریخی دستاویز ہے جو جماعتِ احمدیہ نے 1974ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی کے پورے ایوان پر مشتمل خصوصی کمیٹی کے سامنے اپنے مسلمان ہونے، اپنے بنیادی عقائد کی وضاحت اور جماعت پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات کی تردید کے لئے پیش کی تھی اور یہ بات شروع میں ہی واضح کر دی گئی تھی کہ جماعتِ احمدیہ کے نزدیک دُنیا کی کسی اسمبلی یا عدالت کو کسی شخص یا جماعت کے مذہب کی تعیین کا قطعاً کوئی اختیار نہیں کیونکہ اِس کا اختیار صرف خدا تعالیٰ کو ہے جو دلوں کے بھید سے واقف ہے۔ اِسی طرح درد بھرے الفاظ میں یہ انتباہ بھی کیا گیا تھا کہ یہ اسمبلی احمدیوں کو غیر مسلم قرار دے کر اُمّتِ محمدیہ (صلی الله علیہ وسلم) کے اِتحاد میں رخنہ ڈالنے کا موجب نہ بنے کیونکہ اِس سے ایک ایسی غلط اور خوفناک مثال قائم ہو گی جو آئندہ دوسرے فرقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
    جماعت احمدیہ کے بارے میں کوئی فیصلہ بھی کرنے سے پہلے اس دستاویز کو پڑھا جانا ضروری ہے جس میں جماعت احمدیہ کے عقائد تفصیل کے ساتھ مذکور ہیں۔ اور جو اعتراضات جماعت پر اٹھائے جاتے ہیں ان کے جوابات بھی اس میں دئیے گئے تھے۔ آپ مندرجہ ذیل لنک پر کلک کر کے آن لائن ’’محضرنامہ‘‘ پڑھ سکتےہیں:۔
    http://www.proceedings1974.org/mahzer-nama/

  8. #5
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,205
    شکریہ
    2,192
    1,260 پیغامات میں 1,635 اظہار تشکر

    جواب: قادیانیوں کو کافر کیوں قراردیا گیا ۔ قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی

    جناب ابراہیم سہیل صاحب ۔ مودبانہ التماس ہے کہ آپ خلیفہ اول مرزا بشیر احمد کی کتاب ، کلمۃ الفصل پڑھ کر بات کیجئے ، اس میں واضع لکھا ہے کہ جو کوئی بھی مرزا غلام احمد کو نبی نہیں تسلیم کرتا وہ کافر ہے ، اور اس سے کافروں جیسا سلوک ہو گا ، ہم سب لوگ مرزا غلام احمد کو نبی نہیں مانتے ، اس کے بعد دوسری باتوں کی طرف توجہ دینا ہی بالکل بےکار ہے ، خود مرزا غلام احمد قادیانی ولد غلام مرتضی اور دادا کا نام مرزا عطاء محمد تھا ، اور والدہ کا نام چراغ بی بی تھا ،
    بقول مرزا
    غلام نے اپنی کتاب استفتأ جو1378 ھجری میں نصرت پریس ، ربوہ ، پاکستان میں طبع ہوئی، کے صفحہ 72 پر اپنا تعارف اس طرح کرایا ہے : "میرا نام غلام احمد ابن مرزا غلام مرتضیٰ ہے۔
    بقول مرزا غلام احمد قادیانی وہ مسیح موعود ہیں اور وہی عیسی علیہ السلام ہیں جن کی منتظر امت مسلمہ ہے ، یعنی عیسی ابن مریم ،غور کریں عیسی ابن مریم ،،یا غلام احمد بن غلام مرتضٰی ۔۔۔۔، یعنی عیسی علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور ان کی والدہ محترمہ کا نام مریم ہے ، اس کا صرف یہ جواب ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی ولد مرزا غلام مرتضی اور والدہ چراغ بی بی مثل عیسی علیہ السلام بالکل نہیں ہیں ، اس کے لئے کسی لمبی تحقیق کی ضرورت بالکل نہیں ۔
    اب رہ گیا دوسرا مسلہ کہ کسی کو کافر کہنے کا حق نہیں ہونا چاھئے ، قادیانیوں کے بقول ہم مسلمان کافر ہیں ، یعنی مسلمانوں کی پوری امت کو کافر کہا گیا ، ہم یہ کہتے ہیں آپ جھوٹے انسان کو ایک نبی کی جگہ تسلیم کر رہے ہیں ، اور اس کےنبوت کے دعوی کو تسلیم کر رہے ہیں ، جو کہ امت مسلمہ کے مصدقہ ۔متفقہ اور اجماع امت کے بالکل ہی خلاف ہے ، مسلمانوں کو کافر کہنے کی ابتدا بھی مرزا بشیر احمد ولد مرزا غلام احمد قادیانی نے کر دی ، کہ جو مرزا کو نبی نہیں مانتا وہ کافر ہے اور امت سے خارج ہے ، کلمہ الفصل ، کا مطالعہ کر لیجئے گا ، شاید آپ کے مطالعہ سے نہیں گزری ،اور بحیثیت مسلمان ہم اس دعوی کاذبہ کو ہر گز تسلیم نہیں کرتے ،
    موضوع سادہ سا ہے ، کہ مرزا ایک جھوٹا اور کاذب درجہ اول جھوٹا انسان تھا ، جس نے انبیاء کی توھین کرکے اپنے آپ کو ذلالت کے اعلی درجہ پر فائز کیا ،
    قومی اسمبلی کی جس کاروائی کا ذکر آپ کر رہے ہیں جو مکمل ایک ایک لفظ کے ساتھ اردو منظر پر موجود ہے ، یہ اسی بات کو ثابت کرنے کے لئے لگائی گئی ہے ، آپ نے
    جس محضر نامہ کا ذکر کیا ، وہ لاہوری احمدیہ گروپ کی طرف سے پیش گیا تھا ، اس کا تفصیلا جواب ، قومی اسمبلی کی کاروائی کےصفحہ نمبر 2589 سے شروع ھوتا ھے ، اور یہ اس دستاویز کے سولہویں حصے میں موجود ہے ،
    قومی اسمبلی کی وہ کاروائی اتمام حجت تھی ، ان کے اسوقت کے خلیفہ مرزا ناصر کو اور اس کے ساتھیوں کو پورا موقع دیا ، جس طرح اس تفصیلی کاروائی میں حرف حرف درج ہے ، اور یہ فیصلہ ،کس آرڈیننس کا نتیجہ نہیں تھا ،بلکہ دو ھفتے کے مکمل بحث کے بعد ان کو سن کر فیصلہ کیا گیا تھا اور یہ ایسا فیصلہ تھا جس پر سوائے قادیانیوں کو کسی نے بھی اختلاف نہیں کیا ،

    قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے کا فیصلہ شاید دنیا کا واحد اور منفرد واقعہ ہے کہ حکومت نے یہ فیصلہ کرنے سے پہلے قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو پارلیمنٹ میں آ کر اپنا نقطۂ نظر پیش کرنے کے لیے بلایا۔ جہاں اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار نے اس پر، قادیانی کفریہ عقائد کے حوالہ سے جرح کی۔ مرزا ناصر نے اپنے تمام عقائد و نظریات کا برملا اعتراف کیا بلکہ تاویلات کے ذریعے ان کا دفاع بھی کیا۔ لہٰذا ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے ۱۳ دن کی طویل بحث و تمحیص کے بعد آئین میں ترمیم کرتے ہوئے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا،


    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  9. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    ابوبکر (05-21-2013),تانیہ (05-20-2013)

  10. #6
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,922
    شکریہ
    952
    882 پیغامات میں 1,109 اظہار تشکر

    جواب: قادیانیوں کو کافر کیوں قراردیا گیا ۔ قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی

    لعنۃاللہ علی الکذبین
    30 جون 1974ء کو قومی اسمبلی میں مولانا شاہ احمد نورانی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دئیے جانے کی قرارداد پیش کی جس پر مولانا مفتی محمود، مولانا عبدالمصطفی الازھری، پروفیسر غفور احمد، مولانا عبدالحق، چوہدری ظہور الٰہی، شیر باز خان مزاری، مولانا محمد ظفر احمد انصاری، احمد رضا قصوری، مولانا نعمت اللہ، سردار شوکت حیات، علی احمد تالپور اور رئیس عطاء محمد خاں مری سمیت چالیس کے قریب ممبرانِ اسمبلی نے دستخط کیے ۔ اس قرارداد میں کہا گیا کہ قادیان کے آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی نے حضور نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے بعد اپنے نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کیا۔ قرآنی آیات کا تمسخر اڑایا۔ جہاد کو ختم کرنے کی مذموم کوششیں کیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ قادیانیت سامراج کی پیداوار ہے جس کا مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا اور اسلام کو جھٹلانا ہے ۔ قادیانی مسلمانوں کے ساتھ گھل مل کر اور اسلام کا ایک فرقہ ہونے کا بہانہ کر کے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں ۔ لہٰذا اسمبلی مرزا قادیانی کے پیروکار قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر آئینِ پاکستان میں ضروری ترمیم کرے ۔
    5 اگست 1974ء کو صبح دس بجے سپیکر قومی اسمبلی صاحبزادہ فاروق علی خاں کی صدارت میں اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا۔ جس میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو، وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ، وفاقی وزیر برائے مذہبی امور مولانا کوثر نیازی سمیت پوری کابینہ نے شرکت کی۔ تلاوتِ قرآن مجید کے بعد قادیانی جماعت کے وفد کو جس کی سربراہی قادیانی خلیفہ مرزا ناصر کر رہا تھا، بلایا گیا۔ اسمبلی میں طے پایا گیا کہ کوئی رکن قومی اسمبلی براہِ راست مرزا ناصر سے سوال نہ کرے بلکہ وہ اپنا سوال لکھ کر اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار کو دے دے جو خود مرزا ناصر سے اس بارے میں دریافت کریں گے ۔ دنیا کی تاریخ میں جمہوری نظامِ حکومت کا یہ واحد واقعہ ہے کہ اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کے بجائے قادیانی مذہب کے دونوں فرقوں (ربوی و لا ہوری) کے سربرا ہوں کو اپنا اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے بلایا گیا۔ تعارفی کلمات کے بعد اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے مرزا ناصر سے قادیانی عقائد پر بحث شروع کی تو مرزا ناصر نے کہا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 20 کے تحت ہر شہری کو مذہبی طورپر آزادیٔ اظہار حاصل ہے ۔ آپ کسی پر پابندی نہیں لگا سکتے ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک شخص خود کو مسلمان بھی کہتا ہے اور اسلام کے بنیادی ارکان اور قرآنِ مجید کی متعدد آیات کا بھی منکر ہے تو کیا اس پر پابندی لگائی جاسکتی ہے ۔ اس پر مرزا ناصر مختصر خاموشی کے بعد بولا کہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ہمیں غیرمسلم اقلیت قرار دے ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آپ کو کس نے حق دیا ہے کہ آپ دنیا بھر کے مسلمانوں کو کافر، دائرہ اسلام سے خارج اور جہنمی قرار دیں ؟ مرزا ناصر نے کہا کہ ہم کسی کو کافر قرار نہیں دیتے ۔ اس پر اٹارنی جنرل نے مرزا ناصر کو اس کے دادا (آنجہانی مرزا قادیانی) اس کے والد (قادیانی خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود) اور اس کے چچا (مرزا بشیر احمد ایم اے ) کی مندرجہ ذیل تحریریں پڑھ کر سنائیں ۔

    اور (جو) ہماری فتح کا قائل نہیں ہو گا تو صاف سمجھا جاوے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں ۔ ‘‘

    )انوارِ اسلام صفحہ30مندرجہ روحانی خزائن جلد9 صفحہ 31 از مرزا قادیانی(

    جو میرے مخالف تھے، ان کا نام عیسائی اور یہودی اور مشرک رکھا گیا۔ ‘‘ (نزول المسیح (حاشیہ) صفحہ4 مندرجہ روحانی خزائن جلد18 صفحہ 382 از مرزا قادیانی(
    تلك کتب ینظر الیها کل مسلم بعین المحبة والمودة وینفع من معارفها ویقبلنی و یصدق دعوتی۔ إلا ذریة البغایا۔ ‘‘

    ترجمہ ’’میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اس کے معارف سے فائدہ اٹھاتا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کرتا ہے اور اسے قبول کرتا ہے مگر کنجریوں (بدکار عورتوں ) کی اولاد نے میری تصدیق نہیں کی۔ ‘‘ (آئینہ کمالات اسلام صفحہ547،548 مندرجہ روحانی خزائن جلد5 صفحہ547،548 از مرزا قادیانی)
    ان العدا صاردا خنازیر الفلا
    و نساء هم من دونهن الاکلب
    ’’دشمن ہمارے بیانوں کے خنزیر ہو گئے ۔ اور ان کی عورتیں کُتیوں سے بڑھ گئی ہیں ۔ ‘‘ (نجم الہدیٰ صفحہ53 مندرجہ روحانی خزائن جلد14صفحہ 53 از مرزا قادیانی)

    ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ ؑ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰؑ کو نہیں مانتا یا عیسیٰؑ کو مانتا ہے مگر محمدؐ کو نہیں مانتا اور یا محمدؐ کو مانتا ہے پر مسیح موعودؑ کو نہیں مانتاوہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔ ‘‘ (کلمۃ الفصل صفحہ110 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی(
    اب معاملہ صاف ہے، اگر نبی کریم کا انکار کفر ہے تو مسیح موعودؑ کا انکار بھی کفر ہونا چاہیے ۔ کیونکہ مسیح موعود نبی کریمؐ سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے اور اگر مسیح موعودؑ کا منکر کافر نہیں تو نعوذ باللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا انکار کفر ہو مگر دوسری بعثت میں جس میں بقول حضرت مسیح موعودؑ آپ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشد ہے، آپ کا انکار کفر نہ ہو۔ ‘‘ (کلمۃ الفصل صفحہ146،147 از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی(
    خدا تعالیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اس نے مجھے قبول نہیں کیا، وہ مسلمان نہیں ہے ۔ ‘‘)تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 519 طبع چہارم از مرزا قادیانی(
    کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے، خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کا نام بھی نہیں سنا، وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔ ‘‘ (آئینہ صداقت صفحہ35 مندرجہ انوارالعلوم جلد 6 صفحہ 110 از مرزا بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی(
    جو شخص تیری پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہو گا اور تیرا مخالف رہے گا۔ وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے ۔ ‘‘ (تذکرہ مجموعہ وحی و الہامات صفحہ 280 طبع چہارم از مرزا قادیانی(

    ان حوالہ جات پر مرزا ناصر نہایت شرمندہ ہوا۔ پھر اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے مرزا ناصر سے پوچھا کہ جب آپ کا نبی الگ، قرآن الگ، نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ الگ ہے تو پھر آپ خود کو مسلمان کہلوانے اور شعائر اسلامی استعمال کرنے پر بضد کیوں ہیں ؟ اس پر مرزا ناصر نے کہا کہ ہماری کوئی چیز الگ نہیں ہے، ہم مسلمانوں کا ہی ایک حصہ ہیں ۔ اس پر اٹارنی جنرل نے مندرجہ ذیل حوالے پڑھ کر سنائے تو مرزا ناصر بے حد پریشان ہوا۔

    کل میں نے سنا تھا کہ ایک شخص نے کہا کہ اس (قادیانی) فرقہ میں اور دوسرے لوگوں (مسلمانوں ) میں سوائے اس کے اور کچھ فرق نہیں کہ یہ لوگ وفاتِ مسیح کے قائل ہیں اور وہ لوگ وفاتِ مسیح کے قائل نہیں ۔ باقی سب عملی حالت مثلاً نماز، روزہ اور زکوٰۃ اور حج وہی ہیں ۔ سو سمجھنا چاہیے کہ یہ بات صحیح نہیں کہ میرا دنیا میں آنا صرف حیاتِ مسیح کی غلطی کودورکرنے کے واسطے ہے ۔ اگر مسلمانوں کے درمیان صرف یہی ایک غلطی ہوتی تو اتنے کے واسطے ضرورت نہ تھی کہ ایک شخص خاص مبعوث کیا جاتا اور الگ جماعت بنائی جاتی اور ایک بڑا شور بپا کیا جاتا۔ ‘‘ (احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے ؟ از مرزا قادیانی صفحہ 2)

    قادیانی جماعت کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیرالدین محمود کا کہنا ہے :

    حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ میرے کانوں میں گونج رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا یہ غلط ہے کہ دوسرے لوگوں (مسلمانوں ) سے ہمارا اختلاف صرف وفات مسیح یا اور چند مسائل میں ہے آپ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی ذات، رسول کریمؐ، قرآن، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، غرض کہ آپ نے تفصیل سے بتایا کہ ایک ایک چیز میں ہمیں ان (مسلمانوں ) سے اختلاف ہے ۔ (خطبہ جمعہ مرزا بشیر الدین خلیفہ قادیان، مندرجہ اخبار ’’الفضل‘‘ قادیان، ج 19، نمبر 13، مورخہ 30 جولائی 1931ء(
    حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے تو فرمایا ہے کہ ان (مسلمانوں ) کا اسلام اور ہے اور ہمارا اور، ان کا خدا اور ہے اور ہمارا خدا اور ہے، ہمارا حج اور ہے اور ان کا حج اور۔ اسی طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے ۔ ‘‘(روزنامہ الفضل قادیان 21 اگست 1917ء جلد 5 نمبر 15 ص 8 )

    ایک موقع پر اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے قادیانی خلیفہ مرزا ناصر سے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس مرزا قادیانی کی تمام کتب موجود ہیں ؟ مرزا ناصر نے کہا کہ ہاں ! ہمارے پاس مرزا صاحب کی تمام کتب موجود ہیں ۔ اٹارنی جنرل نے پوچھا کہ ان کی تعداد کیا ہے ؟ مرزا ناصر نے کہا کہ 80 کے قریب ہیں ۔ یحییٰ بختیار نے کہا کہ آپ نے ان 80 کتب کو روحانی خزائن کے نام سے شائع کیا۔ اس کے علاوہ ملفوظات دس جلدوں میں، مجموعہ اشتہارات تین جلدوں میں اور مکتوبات وغیرہ تین جلدوں میں شائع کیے ۔ یہ ساری کتب ایک الماری کے دو شیلفوں میں آ سکتی ہیں ۔ مگر آپ کے مرزا صاحب نے اپنی کتاب تریاق القلوب میں لکھا ہے :

    میری عمر کا اکثر حصہ اس سلطنت انگریزی کی تائید اور حمایت میں گزرا ہے اور میں نے ممانعت جہاد اور انگریزی اطاعت کے بارے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کیے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الماریاں ان سے بھرسکتی ہیں ۔ میں نے ایسی کتابوں کو تمام ممالک عرب اور مصر اور شام اور کابل اور روم تک پہنچا دیا ہے ۔ میری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان اس سلطنت کے سچے خیرخواہ ہو جائیں اور مہدی خونی اور مسیح خونی کی بے اصل روایتیں اور جہادکے جوش دلانے والے مسائل جو احمقوں کے دلوں کو خراب کرتے ہیں، ان کے دلوں سے معدوم ہو جائیں ۔ ‘‘

    )تریاق القلوب صفحہ27،28 مندرجہ روحانی خزائن جلد15 صفحہ155،156 از مرزا قادیانی(
    اٹارنی جنرل نے مرزا ناصر سے پوچھا کہ باقی کتب کہاں اور ان کے نام کیا ہیں ؟ اس پر مرزا ناصر نے کہا کہ اتنی تعداد میں شائع ہوئیں کہ 50 الماریاں بھر جائیں ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر آپ صرف ایک کتاب کو ایک لاکھ کی تعداد میں شائع کر دیں تو اس سے سینکڑوں الماریاں بھر جائیں گی۔ مرزا صاحب تو کہتے ہیں کہ انگریز کی حمایت اور جہاد کی ممانعت کے سلسلہ میں اتنی کتابیں لکھی ہیں کہ 50 الماریاں بھر جائیں ۔ اس پر مرزا ناصر کو کوئی جواب نہ آیا۔
    ایک اور موقع پر اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے مرزا ناصر سے پوچھا کہ آپ مرزا قادیانی کو کیا مانتے ہیں ؟ مرزا ناصر نے کہا کہ ہم مرزا غلام احمد صاحب کو مہدی اور مسیح موعود مانتے ہیں ۔ اٹارنی جنرل نے پوچھا کہ اس کے علاوہ آپ مرزا صاحب کو کیا مانتے ہیں ؟ مرزا ناصر نے کہا کہ کچھ نہیں ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مرزا قادیانی نے اپنی کتابوں میں صراحتاً دعویٰ کیا ہے کہ وہ خود ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہے ۔ اور آپ جب کلمہ طیبہ لا إله إلا الله محمد رسول الله پڑھتے ہیں تو محمد رسول اللّٰہ سے مراد مرزا قادیانی لیتے ہیں ۔ اس پر مرزا ناصر نے کہا کہ ہم مرزا صاحب کو محمد رسول اللہ نہیں مانتے ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کیا آپ مرزا قادیانی کے دعویٰ محمد رسول اللہ کو جھوٹا مانتے ہیں ؟ اس پر مرزا ناصر خاموش ہو گیا۔ پھر اٹارنی جنرل نے مندرجہ ذیل اقتباسات پیش کیے ۔

    پھر اسی کتاب میں اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے محمد رسول اللّٰہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم اس وحی الٰہی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔ ‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 4، مندرجہ روحانی خزائن جلد18صفحہ207 از مرزا قادیانی(
    مجھے بروزی صورت نے نبی اور رسول بنایا ہے اور اسی بنا پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ اور رسول اللہ رکھا مگر بروزی صورت میں ۔ میرا نفس درمیان نہیں ہے بلکہ محمد مصطفے ٰ ہے ۔ اسی لحاظ سے میرا نام محمدؐ اور احمدؐ ہوا۔ پس نبوت اور رسالت کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمدؐ کی چیز محمدؐ کے پاس ہی رہی۔ ‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ صفحہ 12 مندرجہ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 216 از مرزا قادیانی(
    میں آدمؑ ہوں، میں نوحؑ ہوں، میں ابراہیمؑ ہوں، میں اسحاقؑ ہوں، میں یعقوبؑ ہوں، میں اسماعیل ؑ ہوں، میں موسیٰ ؑ ہوں، میں داؤدؑ ہوں، میں عیسیٰ ؑ ابن مریم ہوں، میں محمد ہوں ۔ ‘‘ (تتمہ حقیقت الوحی صفحہ 521،مندرجہ روحانی خزائن جلد22صفحہ521 از مرزا قادیانی(



  11. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 3 اراکین نے تانیہ کا شکریہ ادا کیا:

    Durry Yaman (07-08-2013),بےباک (05-21-2013),ابوبکر (05-21-2013)

  12. #7
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,922
    شکریہ
    952
    882 پیغامات میں 1,109 اظہار تشکر

    جواب: قادیانیوں کو کافر کیوں قراردیا گیا ۔ قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی

    کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد کو اتارا تاکہ اپنے وعدہ کو پورا کرے جو اس نے آخرین منهم لما یلحقوا بهم میں فرمایا تھا۔ ‘‘ (کلمۃ الفصل صفحہ 104، 105، از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی(
    ہر ایک نبی کو اپنی استعداد اور کام کے مطابق کمالات عطا ہوتے تھے کسی کو بہت، کسی کو کم۔ مگر مسیح موعودؑ کو تو تب نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدیہﷺ کے تمام کمالات کو حاصل کر لیا اور اس قابل ہو گیا کہ ظلی نبی کہلائے پس ظلی نبوت نے مسیح موعودؑ کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم کے پہلوبہ پہلو لاکھڑا کیا۔ ‘‘ (کلمۃ الفصل صفحہ113، از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی(
    ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) نبی کریم سے کوئی الگ چیز نہیں ہے جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے صار وجودی وجودہ نیز من فرق بینی وبین المصطفی فما عرفنی و ماریٰ اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ ایک دفعہ اور خاتم النبیین کو دنیا میں مبعوث کرے گا جیسا کہ آیت آخرین منھم سے ظاہر ہے ، پس مسیح موعودؑ خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لیے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے، اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں، ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔ ) ‘‘کلمۃ الفصل صفحہ 158از مرزا بشیر احمد ایم اے ابن مرزا قادیانی(

    q ’’اے محمد سلسلہ کے برگزیدہ مسیح تجھ پر خدا کا لاکھ لاکھ درُود اور لاکھ لاکھ سلام ہو۔ ۔ ‘‘
    )سیرت المہدی جلد سوئم صفحہ 208 از مرزا بشیراحمد ابن مرزا قادیانی(

    اللهم صلی علی محمد و علی عبدك المسیح الموعود۔ ‘‘

    ترجمہ: اے اللہ محمد اور اپنے بندے مسیح موعود (مرزا قادیانی) پر درود و سلام بھیج۔ (روزنامہ الفضل قادیان 31 جولائی 1937ء صفحہ 5 کالم 2 (
    محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
    اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
    محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
    غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں ‘‘
    )روزنامہ بدر قادیان، 25 اکتوبر1906ء از مرزا قادیانی(
    جب اٹارنی جنرل نے مرزا قادیانی کی کتب سے مذکورہ بالا حوالہ جات پیش کیے تو ممبران اسمبلی غم و غصہ میں ڈوب گئے ۔ بہرحال 13 روز کی طویل بحث اور جرح کے بعد مرزا ناصر نے نہ صرف اپنے تمام کفریہ عقائد و نظریات کا برملا اعتراف کیا بلکہ لایعنی تاویلات کے ذریعے ان کا دفاع بھی کیا۔ 5 اور 6 ستمبر کو اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار نے 13 روز کی بحث کو سمیٹتے ہوئے اراکین اسمبلی کو مفصل بریفنگ دی۔ ان کا بیان اس قدر مدلل، جامع اور ایمان افروز تھا کہ کئی آزاد خیال اور سیکولر ممبران اسمبلی بھی قادیانیوں کے عقائد و عزائم سن کو پریشان ہو گئے ۔ چنانچہ 7 ستمبر 1974ء کو شام 4 بج کر 35 منٹ پر پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر قادیانیوں کے دونوں فرقوں (ربوی و لا ہوری) کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور آئین پاکستان کی شق (2) 160 اور (3) 260 میں ا س کا مستقل اندراج کر دیا۔
    ایک موقع پر قومی اسمبلی میں یہ حیران کن منظر بھی دیکھنے میں آیا کہ جب قادیانی خلیفہ مرزا ناصر اپنے کفریہ عقائد کے دفاع میں دلائل دے رہا تھا کہ اچانک ایک پرندہ اڑتا ہوا آیا اور مرزا ناصر پر بیٹ کر دی جس سے وہ نہایت سٹپٹایا اور بڑبڑاتا ہوا تھوڑی دیر کے لیے اسمبلی سے باہر چلا گیا۔ جس نے بھی یہ منظر دیکھا، وہ ششدر رہ گیا کہ جدید عمارت کے بند کمرے میں اچانک پرندہ کہاں سے آ گیا؟ اور پھر پرندے کا صرف مرزا ناصر کو ٹارگٹ کرنا بھی باعث تعجب تھا۔
    سپیکر قومی اسمبلی محترمہ فہمیدہ مرزا نے اپنے خصوصی اختیارات کے تحت قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دئیے جانے سے متعلق پارلیمنٹ کے بند کمرے کے اجلاس میں ہونے کی والی خصوصی بحث کے ریکارڈ کو 36 سال بعد اوپن کرنے کی منظوری دی ۔اور اب اسے ہر خاص و عام کی لائیبریری کا حصہ بنا دیا گیا ہے قادیانیوں نے پروپیگنڈہ کیا تھا کہ ’’اگر اسمبلی کی یہ کار روائی شائع ہو جائے تو آدھا پاکستان قادیانی ہو جائے گا۔ ‘‘ اس کے جواب میں اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار نے کہا تھا کہ ’’قادیانی جھوٹ بولتے ہیں وہ اسمبلی کے اندر اپنے تمام کفریہ اور گستاخانہ عقائد کا اعتراف کر چکے ہیں ۔ اگر یہ کار روائی شائع ہو گئی تو لوگ انہیں ماریں گے ۔ ‘‘ ۔ ۔ ۔



  13. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 3 اراکین نے تانیہ کا شکریہ ادا کیا:

    Durry Yaman (07-08-2013),بےباک (05-21-2013),ابوبکر (05-21-2013)

  14. #8
    معاون ابوبکر کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Oct 2011
    پيغامات
    79
    شکریہ
    9
    14 پیغامات میں 19 اظہار تشکر

    جواب: قادیانیوں کو کافر کیوں قراردیا گیا ۔ قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی

    کوئی ایسا شخص جو ختم نبوت پہ ایمان نہیں رکھتا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی نہیں مانتا کیا وہ مسلمان ہو سکتا ہے؟؟؟

    یارسول اللہ تیرے چاہنے والوں کی خیر

  15. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے ابوبکر کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (05-21-2013)

  16. #9
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,922
    شکریہ
    952
    882 پیغامات میں 1,109 اظہار تشکر

    جواب: قادیانیوں کو کافر کیوں قراردیا گیا ۔ قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی

    بالکل بھی نہیں ۔ ہر گز بھی نہیں ۔۔۔۔مکرمی! حضور اقدسﷺ کی حیات مبارکہ کا آخری دور تھا جب یکایک مسیلمہ کے دعویٰ نبوت کی خبر اہل مدینہ تک پہنچی۔ مدعی کا دعویٰ یہ تھا کہ اسے محمد کے ساتھ شریک نبوت کیا گیا ہے اس طرح نہ وہ حضور کی رسالت کا منکر تھا نہ کسی طور ان کا مخالف کلمہ طیبہ اور اذان میں اس نے اپنا نام شامل کر لیا تھا۔ حضور اکرم نے فی الفور کاذب مدعی نبوت کی سرکوبی کے لئے جنگی تیاری کے احکام صادر فرما دیئے۔ حضرت اسامہ بن زیدؓ کو مہم کی سربراہی سونپ دی گئی۔ اسی اثناءمیں جناب رسالت مآب کی بیماری شدت اختیار کر گئی اور آپ رفیق اعلیٰ سے ملاپ کے لئے دنیا سے رخصت ہو گئے۔ وقتی طور پر حضرت اسامہؓ کے لشکر کی روانگی موخر ہو گئی مگر جونہی سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے منصب خلافت سنبھالا حضرت اسامہؓ تفویض کردہ فریضہ کی ادائیگی کے گئے روانہ ہوگئے۔ جن حالات میں یہ مہم سر ہوئی وہ مسلمانوں کے لئے انتہائی نازک تھے چاروں طرف سے خطرات امنڈنے کے آثار عیاں تھے لیکن صدیق اکبرؓ کے نزدیک حضور کے احکام کی بجاآوری اہم ترین فریضہ تھا جس کو معرض التواءمیں ڈالنا نوخیز اسلامی تحریک کے لئے سم قاتل ثابت ہو سکتا تھا۔ ختم نبوت کے عقیدہ پر ذرا سی آنچ آنے سے خاتم الانبیاءوالمرسلینﷺ کی تعمیر کردہ عالیشان عمارت کی سب سے مضبوط بنیاد متزلزل ہو کر منہدم ہو سکتی تھی لہٰذا منکرین عقیدہ ختم نبوت کو راہ راست پر لانے کے لئے طاقت کے استعمال کا جواز موجود تھا۔ بھارت میں مرزا غلام احمد کے دعویٰ نبوت اور مسیلمہ کذاب کے دعوے نبوت میں ایک حد تک ضرور مماثلت پائی جاتی ہے لیکن مرزا غلام احمد نے اپنے دعوو¿ں میں جو انتہائی مبالغہ آرائی سے کام لیا اس کا عشر عشیر بھی مسیلمہ کے دعوو¿ں میں نہیں ملتا۔ بھارت میں برطانوی استعماری حکومت اور انڈین نیشنل کانگریس کے سرکردہ سربراہ، جواہر لال نہرو نے قادیانی تحریک کے فروغ اور تحفظ میں بہت اہم رول ادا کیا گو علامہ اقبالؒ نے نہرو کے اعتراضات کا مسکت جواب دے کر اسے خاموش کر دیا تھا لیکن برطانوی حکومت اپنے خود کاشت پودے کی حفاظت کرنا اپنے لئے لازم سمجھتی تھی نئی نبوت کے داعی اور اس کے پیروکار اسلام کے اہم رکن جہاد سے منحرف ہو کر انگریز حکمرانوں کے لئے کسی خطرے کا سبب نہیں بن سکتے تھے۔ تاریخی لحاظ سے 1857ءکی جنگ آزادی میں مرزا کے والد نے انگریزوں کو کمک پہنچا کر انہیں ممنون احسان کر لیا تھا انگریزی حکومت کے لئے قادیانی تحریک اس لئے بھی وجہ اطمینان تھی کہ امت مسلمہ کی وحدت ویکجہتی پر یہ کاری ضرت کے مترادف تھی اور امن کا مرکز عقیدت یعنی محمدﷺ کی ذات اقدس کو مرزا قادیانی کے بالمقابل ثانوی حیثیت حاصل ہوتی تھی۔ قادیانی امت بین الاقوامی سطح پر پاکستان اور اسلام دشمن ریشہ دوانیوں، سازشوں، کھلے اور خفیہ منصوبوں میں اعدائے اسلام کی ہم نوا معاون اور گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے“ کا رول ادا کرنے میں انتہائی سرگرم ہے۔ حضور اکرمﷺ کی امت کو مرزا کا ”خراج عقیدت“ قادیانیت کے لئے نرم گوشہ رکھنے والوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے شاید کارگر ثابت ہو۔(1)کنجریوں کی اولاد جن کے دلوں پر مہر لگا دی ہے میرے دعوے کی تصدیق اور مجھے قبول نہیں کرتا (آئینہ کمالات ص 547-48)(2) دشمن بیابانوں کے خنزیر ہو گئے ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں (نجم الھدیٰ ص53) (3)چوہڑہ، بنگی اور حرام زادہ بھی نبی اور رسول ہو سکتا ہے (ترقاق القلوب ص 133) (4) 400 انبیاءکی پیشن گوئی جھوٹی نکلی (ازالہ ادجام ص 629) (5)



  17. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے تانیہ کا شکریہ ادا کیا:

    Durry Yaman (07-08-2013),بےباک (05-21-2013)

  18. #10
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,205
    شکریہ
    2,192
    1,260 پیغامات میں 1,635 اظہار تشکر

    جواب: قادیانیوں کو کافر کیوں قراردیا گیا ۔ قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی

    مرزا غلام احمد قادیانی کے صاحبزادے مرزا بشیر احمد قادیانی کی رائے

    مسیح موعود (مرزا غلام احمد صاحب) کا یہ دعویٰ کہ وہ اللہ کی طرف سے ایک مامور ہے



    اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اُس کے ساتھ ہم کلام ہوتا ہے دو حالتوں سے خالی نہیں

    یا تو وہ نعوذ باللہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے اور محض افتریٰ علی اللہ کے طور دعویٰ کرتا ہے

    تو ا یسی صورت میں نہ صرف وہ کافر بلکہ بڑا کافر ہے

    اور یا مسیح موعود اپنے دعویٰ الہام میں سچا ہے اور خدا سچ مچ اُس سے ہمکلام ہوتا ہے

    تو اس صورت میں بلاشبہ یہ کفر انکار کرنے والے پر پڑے گا۔

    پس اب تم کو اختیار ہے کہ یا مسیح موعود کے منکروں کو مسلمان کہہ کر

    مسیح موعود پر کفر کا فتویٰ لگاؤ اور یا مسیح موعود کو سچا مان کر اس کے منکروں کو
    کافر جانو، یہ نہیں ہو سکتا کہ تم دونوں کو مسلمان سمجھو

    کلمۃ الفصل
    از مرزا بشیر احمد ایم۔ اے:

    مندرجہ ریویو آف ریلجنز

    برادر ابراہیم سہیل صاحب ، الفاظ پر غور کریں ، دعا ہے اللہ آپ کو ھدایت سے نوازے ،
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  19. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    تانیہ (05-21-2013)

صفحہ 1 از 2 12 آخریآخری

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University