نتائج کی نمائش 1 تا: 5 از: 5

موضوع: نواز شریف اور شہباز شریف کی اہلیت چیلنج۔

  1. #1
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,140
    شکریہ
    2,103
    1,217 پیغامات میں 1,589 اظہار تشکر

    نواز شریف اور شہباز شریف کی اہلیت چیلنج۔




    نواز شریف کے کاغذات نامزدگی چیلنج، نوٹس جاری

    پاکستان پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ نواز کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے کاغذات نامزدگی کو چیلنج کردیا ہے اور اس ضمن میں ریٹرننگ آفیسر کے سامنے اعتراضات پر مبنی ایک درخواست دی کی گئی ہے۔
    ریٹرننگ آفیسر نے پیپلز پارٹی کی درخواست پر نواز شریف کو پانچ اپریل کے لیے نوٹس جاری کردیا ہے۔

    مسلم لیگ نون کے سربراہ نواز شریف لاہور سے قومی اسمبلی کے حلقہ ایک سو بیس سے امیدوار ہیں اور ان کے کاغذات نامزدگی کو ان کے مدمقابل پیپلز پارٹی کے امیدوار سہیل ملک نے چیلنج کیا ہے۔
    نواز شریف سولہ برس کے وقفے کے بعد عام انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ اکتوبر ننانوے میں اپنی حکومت ختم ہونے کے بعد سعودی عرب چلے گئے تھے اور دو ہزار دو میں ہونے والے انتخابات میں حصہ نہیں لے سکے۔
    دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں نواز شریف پاکستان واپس آگئے تھے تاہم انہوں نے عام انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا۔
    ریٹرننگ آفیسر کے سامنے سہیل ملک کے وکیل میاں حنیف طاہر نے یہ اعتراضات اٹھائیں ہیں کہ نواز شریف صادق اور امین نہیں ہیں اس لیے وہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں۔
    میاں حنیف طاہر ایڈووکیٹ نے ریٹرننگ آفیسر کو بتایا کہ اصغر خان کیس میں نواز شریف ان سیاست دانوں میں شامل ہیں جو نادہندہ ہیں اور انہوں نے اسلامی جمہوری اتحاد کے ذریعے لی گئی رقم واپس نہیں کی۔
    پیپلز پارٹی کے رہنما سہیل ملک کی طرف سے یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ نواز شریف سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے ساتھ ایک معاہدہ کرکے سعودی عرب گئے تھے تاہم وہ عوام کے سامنے اس معاہدے کے بارے میں غلط بیانی کرتے رہے ہیں۔
    میاں حنیف طاہر ایڈووکیٹ کے بقول نواز شریف سیاست میں دوہرہ معیار رکھتے ہیں کیونکہ ایک طرف سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ چلانے کی بات کرتے رہے ہیں لیکن اب جب جنرل مشرف پاکستان میں ہیں تو انہوں نے کارروائی تو دور کی بات ان کے خلاف کوئی بیان تک نہیں دیا۔
    پیپلز پارٹی کے رہنما سہیل نے استدعا کی کہ ان کے مدمقابل امیدوار نواز شریف کو آئین کے آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ پر پورا نہ اترنے پر نااہل قرار دے کر ان کے کاغذات مسترد کیے جائیں۔

    جناب شہباز شریف کی اہلیت کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔
    دوسری جانب لاہور کے حلقہ این اے 129 سے شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی پر اعتراض افضال عظیم نے داخل کرایا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ شہباز شریف نے نیب میں دائر ریفرنسز کو روک رکھا ہے اور شہباز شریف کے خلاف مقدمہ بھی درج ہے،الیکشن کمیشن نے دونوں اعتراضات کو قبول کرتے ہوئے نواز شریف اور شہباز شریف سے 5اپریل کو جواب طلب کر لیا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی شہباز شرہیف کے کاغذات نامزدگی پر اعتراضات داخل کئے گئے تھے۔
    نیب ذرائع کے مطابق شہباز شریف قرض نادہندہ ہیں، انہوں نے حدیبیہ پیپرز ملز کیلئے 3846 ملین روپے کا قرض لیا تھا۔ نیب نے شہباز شریف کے نام پر اعتراض لگا کر الیکشن کمیشن کو بھجوایا ہے۔ مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف لاہور کے 2 حلقوں اور میانوالی سے قومی اسمبلی کے امیدوار ہیں۔
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,140
    شکریہ
    2,103
    1,217 پیغامات میں 1,589 اظہار تشکر
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  3. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    انجم رشید (04-12-2013)

  4. #3
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    831
    شکریہ
    246
    110 پیغامات میں 168 اظہار تشکر

    جواب: نواز شریف اور شہباز شریف کی اہلیت چیلنج۔

    مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ میاں برادران سے کوئی یہ کیوں نہیں پوچھتا کہ قرض اتارو ملک سنوارو والا فنڈ کہاں چلا گیا ۔
    اور میاں صاحب سچے یا جھوٹے عدالت سے عمر قید کے سزا یافتہ ہیں کیا انہوں نے عدالت سے اپنے آپ کو بری کروا لیا ہے یا این آر او کے سہارے وہ بھی بری ہیں
    اے وطن پیارے وطن پاک وطن

  5. #4
    ناظم اذان کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Jan 2011
    پيغامات
    1,898
    شکریہ
    138
    108 پیغامات میں 161 اظہار تشکر

    جواب: نواز شریف اور شہباز شریف کی اہلیت چیلنج۔

    انجم بھائی نواز شریف نے کونسا این ار او کیا ۔۔۔؟؟؟
    کیا نواز شریف نے این ار او کر کے عوام کو کوئی نقصان دیا۔۔؟ ؟
    میں یہ جانتا ھوں یہ باتیں صرف عوام کو پاگل بنانے کے لیئے سیاست دان کرتے ہیں
    عوام کو ان باتوں سےکوئی فائدہ نہیں ۔لیکن مخالف سیاستدان اپنے آپ کو مطمن کرنے کے لیئے ایسے ایشو چھوڑتے ہیں
    اور عوام کو کنفیوز کرتے ہیں
    جب ہم ایسی گندی سیاست پر یقین نھی کریں گے
    پھر ممکن ہیں ہم بھی ترقی کی طرف گامزن ھوجائے

    آپ کو ان باتوں سے ہٹ کر پیپلز پارٹی کی پانچ سالہ کاگردگی پرنظرڈالنی چاہیئے
    جہنوں نے پانچ سال میں ملک کو کنگال کر دیا عربوں کھربوں لوٹ لیا قرض لیکر جو ہم کو ہر صورت ادا کرنے ہیں

    جس کا ہم سب کو فکر ہونا چاہیئے


  6. #5
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    831
    شکریہ
    246
    110 پیغامات میں 168 اظہار تشکر

    جواب: نواز شریف اور شہباز شریف کی اہلیت چیلنج۔

    محترم بھائی میں کوئی جواب نہیں دینا چاہتا تھا کیوں کہ ڈر ہے کہ بحث لمبی ہو جائی گئی لیکن جواب دینا اس لیے ضروری سمجھا کیوں کہ آپ کے جواب سے ایسا لگے گا جیسے میں پیپز پارٹی سے وابسطہ ہوں لیکن میرے بھائی میرا ان پارٹیوں سے کوئی تعلق نہیں میں نے ہمیشہ غیر جانبدار رہنے کی کوشش کی ہے اور غیر جانبدار رہ کر سوچا ہے کہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے ان حکمرانوں اور لیڈروں نے پاکستان کو کیا کیا تحفے دیے ہیں ۔
    یہاں تک پیپلز پارٹی کا تعلق ہے تو میرے سامنے ان کے آخری پانچ دور ہی نہیں سابقہ دو دور بھی ہیں اور یہ پارٹی پاکستان کو جتنا نقصان پہنچا چکی ہے وہ سب جانتا ہوں ۔
    رہی بات میاں برادران کی تو جتنا نقصان انہوں نے پہنچایا ہے وہ بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ایک اتفاق فونڈری تھی ان کے والد مرحوم کی آج دنیا میں ناجانے کہاں کہاں ان کی میلیں ہیں اتنی دولت ہے ان کے پاس کہ اگر یہ پاکستان کا تمام قرض اتار بھی دیں پھر بھی ان کے پاس اتنا بچ جاتا ہے کہ کئی نسلیں بیٹھ کر کھا سکتی ہیں ۔
    یہاں کچھ ذکر دوسری پارٹیوں کا بھی ہو جائے تمام مذہبی سیاسی پارٹیوں نے ضیاء مرحوم کے ساتھ مل کر پاکستان کو اتنا نقصان پہنچایا ہے کہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں ۔
    ایم کیو ایم کا کردار بھی سب کے سامنے ہے ضیاء مرحوم نے ہی اس کی تشکیل کی ہے الطاف حسین کی ملک دشمن سرگرمیاں کیسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں کیا اس پارٹی کا را سے تعلق نہیں ہے یا یا ماضی میں تعلق نہین رہا ۔
    عوامی نیشنل پارٹی بھی کیسی سے کم نہیں رہی یہ پارٹی پاکستان بننے سے پہلے اور پاکستان بننے کے بعد پاکستان کی مخالف پارٹی رہی ہے ۔
    چوھدری برادران کا کردار بھی کیسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ان کے والد محترم مرحوم ایک سابقہ پولیس حوالدار تھے اور آج یہ کہاں سے کہاں ہیں یہاں مارشل لا آئی وہاں یہ ان کے ساتھ حکومت میں شامل ہوگئے ۔
    اب آتا ہوں میں اپنے سوال کی طرف میرے سوال تو لاکھوں ہیں لیکن کیوں کہ عنوان میاں برادران کے بارے میں تھا اس لیے سوال اب ان کے بارے میں کیا تھا سوال تھا کہ کیا کوئی میاں صاحب سے یہ کیوں نہیں پوچھتا کہ قرض اتارو ملک سنوارو فنڈ کا کیا بنا کیا آپ کے علم میں ہے کہ اس فنڈ میں لوگوں نے بہت پیسہ جمع کروایا تھا کئی ماں بہنوں نے اپنے زیور بیچ کر اس فنڈ میں پیسے جمع کروائے تھے پھر یہ فنڈ کہاں گیا ِ۔
    دوسرا سوال تھا کہ میاں صاحب کو سچ یا جھوٹ ایک عدالت سے عمر قید کی سزا ہوئی تھی کیا ان کو کیسی اعلی عدالت نے بری کر دیا ہے اگر نہیں کیئا تو پھر الیکشن لڑنے کے اہل کیسے ہوئے ( کل ہی کی بات ہے کہ میاں صاحب کو طیارہ اغواہ کیس میں عمر قید کی سزا ہوئی تھی )
    اور یہاں تک مجھے یاد ہے پاکستان کی کیسی بھی عدالت نے ان کو بری نہین کیا میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ سزا سہی تھی یا غلط یہ عدالت کا مسلہ ہے لیکن سزا تو ہوئی تھی نا ۔
    میرے بھائی ضیاء مرحوم کے طویل مارش لا کے بعد دو پارٹیوں کی حکومت رہی مسلم لیگ نواز گروپ اور پیپلز پارٹی جس میں پیپلز پارٹی نے خوب لوٹا ملک چلانے کے لیے اضافی نوٹ چھاپ کر ملک کو چلایا ۔
    مسلم لیگ نے بھی خوب لوٹا اور قرضہ لے کر ملک چلایا ۔
    ان نااہل سیاست دانوں اور جنرلوں اور ججوں کے قصے طویل ہیں جن کو قلم بند کرنے کے لیے بہت ساری کتابیں چاہیں
    اے وطن پیارے وطن پاک وطن

  7. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے انجم رشید کا شکریہ ادا کیا:

    تانیہ (04-13-2013)

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University