نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: مکافاتِ عمل

  1. #1
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,868
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    مکافاتِ عمل


    [size=x-large]مکافاتِ عمل [/size]


    [size=large]اسلم کے گھر سے خوب مار دھاڑ اور چیخوں کی ملی جلی آوازیں آرہی تھیں۔ایسا لگتا تھا کہ جیسے کسی کی شدید پٹائی کی جارہی ہے چیخوں کی آواز سے لگتا تھا کہ کسی عورت کی آواز ہے یہ اسلم سلونگی کا گھر تھا جو محلے بھر میں ایک اعلیٰ اخلاق کا مالک اور ملنسار انسان سمجھا جاتا تھا۔اپنے کام سے کام رکھنے والا اور کبھی کسی کو تکلیف نہ دینے والا انسان تھا جوانی بھی اس نے پیری کی طرح کاٹی تھی جہاں سے گزرتا ہمیشہ نگاہیں نیچی ہی رکھا کرتا تھا۔بڑوں کا ادب کرتا تھا بچوں سے ہمیشہ شفقت سے پیش آتا تھا۔اسلم کی ماں بھی ایک نہایت شیف النفس عورت تھی اسلم کے بچپن سے ہی بیوگی کا دکھ اپنے سینے سے لگائے پھرتی تھی مگر آفرین اس عورت کی ہمت پر کہ جس نے اس دکھ کو اپنے اندر ہی اندر کہیں سمو لیا تھا اور مردانہ ورا تمام حالات کا مقابلہ کیا اور محنت مزدوری سے اسلم کو بی۔اے تک تعلیم بھی دلوا دی۔اسلم کی شادی بھی دھوم دھام سے کروادی تھی اس طرح اب گھر کے افراد میں ایک اور فرد کا اضافہ ہو گیا تھا زرینہ اسلم کی بیوی تھی کچھ عرصہ تو بڑے چاؤ اور پیار سے رہی مگر ایک سال بعد ہی پر پُرزے نکالنا شروع کر دیے۔دکھوں سے بھری اسلم کی ماں کی زندگی کو اس نے اور زیادہ دکھی کرنا شروع کر دیا اسلم کو تو معلوم نہ تھا کہ گھر میں کیا ہوتا ہے کیونکہ اسلم کے سامنے وہ اسلم کی ماں کے آگے پیچھے بچھی جاتی تھی اور جب اسلم کام پر چلا جاتا تو زرینہ اپنی ساس کو جوتی کی نوک پر رکھتی اور طعنوں سے ہر وقت دل کو تار تار کرتی رہتی ا ور اسلم کی ماں بے چاری اپنی قسمت کو پیٹ کر رہ جاتی۔اور ہمہ وقت دل ہی دل میں کُڑہتی رہتی مگر زبان پر چپ کا تالا لگائے رکھنا تو اب اس کی عادت ہو گئی تھی بدقسمتی سے اسلم کا تبادلہ دوسرے شہر ہوگیا اور وہ خوشی خوشی دوسرے شہر چل پڑا خوشی اس بات کی تھی کہ ساتھ ہی ترقی بھی ہو گئی تھی اور اب وہ ہیڈ کلرک بن گیا تھا۔اس چیز سے بالکل بے خبر کہ اس کی بیوی اس کی ماں کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے ۔مگر دل میں ارادہ رکھتا تھا کہ ماں اور بیوی کو بھی ساتھ ہی لے جائے گا۔ ماں نے خون روتی آنکھوں سے اور پاش پاش جگر سے اپنے لختِ جگر کو روانہ کیا اسلم کے جاتے ہی زرینہ کو تو جیسے کھلی چھٹی مل گئی اور جیسے وہ مادر پدر آذاد ہوگئی اسکا ہاتھ بھی اب اسلم کی ماں پر چلنے لگا آہستہ آہستہ وہ بڑھتی رہی اور باقاعدہ اپنی بوڑھی ساس کو تھپڑوں،لاتوں اور گھونسوں سے مارنے لگی اسلم روزگار کا مارا گھر کے حالات سے بےخبر گھر سے دور اپنی ماں اور بیوں کو اپنے پاس بلانے کے خواب دیکھتا رہتا اور خواب محنت کرتا اوور ٹا ئم کرتا رہتا،زرینہ کے نام ہی وہ پیسے بھیجتا تھا اور ہر مرتبہ تاکید کرتا کہ میری ماں کو پانچ سو روپے دے دینازرینہ بھی جواب میں لکھ دیتی کہ تمھاری ماں کی بہت خدمت کرتی ہوں اور پیسے دے دیتی ہوں جبکہ خدمت تو وہ کرتی تھی مگر لاتوں اور گھونسوں سے اور پیسوں کی تو وہ ہوا بھی نہ لگنے دیتی تھی اپنے ساس کو اسلم کبھی کبھار چکر لگا لیتا تھا مگر ابھی تک اسکی پسلی اس چیز کی اجازت نہ دیتی تھی کہ وہ اپنی ماں اور بیوی کو ساتھ لے جاءے زندگی یونہی بیتتی گئی اور معلوم بھی نہ ہوا اور پانچ سال کا عرصہ گزر گیا اب تو اسلم کا بیٹا بھی چار سال کا ہونے والا تھا گھر بھر میں کھیلتا اور اپنی پیاری باتوں سے چھپ چھپا کر اپنی دادی کا دل بہلاتا رہتا ۔چھوٹے سے بچے کو احساس تھا کہ گھر میں دادی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا جاتا۔ ایک روز زندگی نے اسلم کی ماں کو یہ تماشا بھی دکھلایا ۔چونکہ اسے کھانے کو بہت کم ملا کرتا تھا اور جو ملتا تھا وہ بھی بچا کھچا جس سے اسلم کی ماں کی بوڑھی ہڈیوں کو تقویت نہ ملتی تھی چنانچہ قسمت کی ماری نے ایک دن اپنی بہو سے کھانے کو کچھ مانگ لیا ۔زرہنہ کو تو جلال سا آگیا اور ایک دم غصے سے اٹھی اور اسلم کی ماں کی دھلائی شروع کر دی اور وہ لاغر و کمزور بدن کے ساتھ ہر چوٹ کو سہتی رہی زرینہ کے منہ سے مغلفات کا ایک طوفان امڈ رہا تھا کہ اچانک زرینہ کے ہاتھ کپڑے دھونے والا ڈنڈا لگا اور اس نے بغیر سوچے سمجھے چلا دیا جو سیدھا اسلم کی ماں کی کنپٹی پر لگا اور جوانی کو بڑھاپے کی طرح گزارنے والی،اپنے محبوب شوہر کی عزت کا پاس رکھنے والی اور اس کی اولاد کو زمانے کے حوادث سے بچا کر جوانی تک لانے والی اسلم کی ماں ایک لمحے میں زمین پر گری اور چند سیکنڈ تڑپی اور اس درد و الم کی زندگی کو خیر باد کہہ کر اپنے مالک کے حضور چلی گی۔شاید زمین و آسمان کے مالک کو بھی اس کی بے بسی پر رحم آگیا تھا کہ اسکی جان لینے میں کوءی توقف ہی نہ کیا اور اس عذابِ عظیم سے اسکی جان یکدم ہی چھڑا دی۔ زرینہ نے جب دیکھا کہ بڑھیا تو لڑھک گی ہے پہلے تو وہ سخت گھبرای مگر ایک دم ہی چیخنے چلانے لگی اور پورا محلہ اکٹھا کر لیا کہ ماں سیڑھیوں سے گر کر مر گءی ہےسارے محلے والے اکھٹے ہوے اور اسلم کو بھی اطلاع کر دی گی تھی اسلم بھی روتا دھوتا آ پہنچا اور بیوی کی اس کہانی پر اس نے بھی دوسروں کی طرح اعتبار کر کیا کی ماں سیڑھیوں سے گرنے سے ہی ہلاک ہوئی ہے۔خدا کے علاوہ بھی ایک اور ہستی تھی جو اس سارے ڈرامے کو دیکھ رہی تھی اور وہ تھا اسلم کا چار سالہ بچہ جس نے لاکھ کوشش کی کہ اپنے باپ کو بتاے کہ دادی کس طرح مری تھی مگر اس کی زبان کو سمجھنے والا کوی نہ تھا۔ آج اسلم کے گھر سے جو آوازیں عورت کے چیخنے اور چلانے کی آ رہی تھیں یہ زرینہ ہی کی تھیں جسے اس کا اپنا بیٹا روئی کی طرح دھنک رہا تھا اسی طرح اس کی تواضع کرتا تھا جیسے کبھی زرینہ اپنی ساس کی کیا کرتی تھی۔اب اس کا اپنا پیارا بیٹا شہر کا سب سے بڑا لوفر تھا ،جو بد نام تھا شہر میں اسی کا نام تھا۔اسلم بے چارہ تو اب خود خاموش ہو گیا تھا اور تنہائی میں سوچا کرتا کہ میں نے تو کبھی اپنی ماں کے ساتھ اتنی بدسلوکی نہیں کی تھی میرا بیٹا ایسا کیوں کرتا ہے۔نہ ہی میری بیوی نے کبھی ایسا سلوک میری ماں کے ساتھ کیا ہے نہ جانے اس عورت کو کیوں اتنی سزا مل رہی ہے آسمان والے نے تو مکافت عمل کو دھرانا تھا جیسی کرو گے ویسی بھروگے اسلم نے بھی تو اپنی ماں کو کسی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا ۔اب زرینہ کو سزا تو ملنی ہی تھی اس جہاں میں بھی اور اگلے جہاں میں بھی۔[/size]

  2. #2
    ناظم
    تاريخ شموليت
    Feb 2011
    پيغامات
    3,081
    شکریہ
    21
    91 پیغامات میں 134 اظہار تشکر

    RE: مکافاتِ عمل

    شئیرنگ کاشکریہ۔

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University