راولپنڈی(اے پی پی) چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ہے کہ جمہوریت کی اصل اساس عوام کا تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود ہے، عام انتخابات انشاء اللہ 11 مئی کو ہونگے، اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے یہ ایک سنہری موقع ہے جس سے جمہوریت کی اعلیٰ روایات کے ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے، پاک افواج اپنی تمام تر بساط و صلاحیت کے مطابق اور آئینی حدود میں رہتے ہوئے انتخابات کے صاف، شفاف اور پرامن انعقاد میں بھرپور معاونت کریگی۔ ہمارے بیرونی دشمن دہشت گردی کی جنگ کو بھڑکارہے ہیں،دہشتگردی کے خلاف جنگ ہماری جنگ ہے اس کو صرف فوج کی جنگ سمجھنا ہمیں انتشار کی طرف لے جائے گا، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ وہ منگل کو یہاں یوم شہداء کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ آرمی چیف نے کہا کہ میری نظر میں جمہوریت اور آمریت کی آنکھ مچولی کا اعصاب شکن کھیل صرف سزا اور جزا کے نظام ہی سے نہیں بلکہ عوام کی آگہی اور بھرپور شمولیت ہی سے ختم ہو سکتا ہے، اگر ہم اپنے لسانی، سماجی اور فرقہ وارانہ تعصبات سے بالاتر ہو کر صرف اہلیت، ایمانداری اور نیک نیتی کی بنیادوں پر ووٹ کا استعمال کر سکیں تو پھر نہ تو آمریت کا بلا وجہ خوف ہو گا اور نہ ہی جمہوری نظام کی خامیوں کا شکوہ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا صحیح معنوں میں عوام کے صحیح نمائندوں کی امانت بن جانا ہی وہ واحد راستہ ہے جس میں ہمارے تمام مسائل کا حل موجود ہے لیکن یہ تب ہی ممکن ہوگا جب عوامی نمائندگی کا نظام پاکستان اور اس کے عوام کے وسیع تر مفاد کو ذاتی مفاد پر فوقیت دے گا ورنہ آمریت ہو یا جمہوریت حکمرانی صرف شخصی مفادات کے تحفظ اور قومی وسائل کی لوٹ کھسوٹ کا ذریعہ ہی بنتی رہے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پاک افواج اپنی تمام تر بساط اور صلاحیت کے مطابق اور آئینی حدود میں رہتے ہوئے انتخابات کے صاف، شفاف اور پرامن انعقاد میں بھرپور معاونت کرے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پاک فوج کی یہ معاونت جمہوری نظام کی مضبوطی اور اسے دیرپا بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے ہوگی۔ آرمی چیف نے کہا کہ ہر پاکستانی کی طرح ہم نے بھی 5 سال جمہوری نظام کو مضبوط کرنے کی اپنی سی کوشش کی، اس امید کے ساتھ کہ آئندہ انتخابات ہمیں بہتری کی جانب لے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ یہ منزل قریب ہے ہم سب کو اپنی انتخابی ذمہ داریوں سے کوتاہی نہیں برتنی چاہیے اور یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کسی بھی نظام کی کامیابی تب ہی ممکن ہے جب یہ عوام کی امنگوں پر پورا اتر سکے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی کامیابی عوام کی خوشحالی سے منسلک ہے اور جمہوریت کی اصل اساس عوام کا تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود ہے۔ انکا کہنا تھا کہ انتخابات کا انعقاد بذات خود مسائل کا حتمی حل نہیں بلکہ مسائل کے حل کی طرف ایک اہم قدم ضرور ہے، مسائل کے دیرپا حل کیلئے قومی سوچ اور امنگوں کا ادراک بھی انتہائی ضروری ہے، انتخابات اس مقصد کیلئے ایک بنیاد فراہم کرینگے لیکن اس بنیاد پر تعمیر کیلئے ہمیں کئی سوالات کے جوابات ڈھونڈنے ہونگے اور ان میں ایک اہم سوال دہشتگردی کے خلاف جنگ ہے۔ جنرل کیانی نے کہا کہ دہشتگردی اور شدت پسندی کا ناسور اب تک ہزاروں پاکستانیوں کی جانیں لے چکا ہے جن میں فوج سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے علاوہ شہریوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ شہیدوں کے لواحقین اور زخمی افراد کو شامل کر لیا جائے تو یہ تعداد کئی گنا بڑھ جاتی ہے، ہمارے بیرونی دشمن اس آگ کو مزید بھڑکانے میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس خونریزی کے باوجود کچھ حلقے اب بھی اس بحث میں الجھے رہنا چاہتے ہیں کہ یہ جنگ کیوں شروع ہوئی اور کس نے مسلط کی، یہ حقیقت ہے کہ پاکستان اور پاکستانی عوام آج اس جنگ کا نشانہ ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر ایک گروہ پاکستان کے آئین اور قانون سے بغاوت کرتے ہوئے اپنے غلط نظریات ہم پر جبراً مسلط کرنا چاہے اور اس مقصد کیلئے ہر قسم کی خونریزی کو نہ صرف جائز سمجھتا ہو بلکہ پاکستانی ریاست، جمہوری عمل اور بے گناہ شہریوں کے خلاف باقاعدہ ہتھیار بند ہو جائے تو کیا اس کا خاتمہ کرنا کسی اور کی جنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کے مہذب ترین اور جمہوری ممالک کی تاریخ میں بھی ملک اور آئین سے بغاوت کبھی برداشت نہیں کی گئی، ایسے مواقع پر فوج کو ہمیشہ عوام کی مکمل حمایت حاصل رہی، کبھی بھی یہ سوال نہیں اٹھایا گیا کہ کیا یہ جنگ ہماری ہے، ایک سپاہی کا ذہن اور اسکا مشن اس قسم کے شکوک کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان کی سربلندی اور پاکستانیوں کی حفاظت کیلئے بہائے گئے خون کا ہر قطرہ مقدس ہے، ہمارے غیر ذمہ دارانہ طرز عمل سے قوم کی خاطر جانیں دینے والوں کے ورثاء کی توہین اور دل آزاری ہرگز نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ پاکستان کے خلاف ہتھیار بند ہیں وہ قومی دھارے میں واپس آ جائیں لیکن اس کیلئے غیر مشروط طور پر پاکستان کی ریاست اور اس کے آئین اور قانون کی مکمل اطاعت قبول کرنی ہوگی۔ آرمی چیف نے کہا کہ ریاست کے باغیوں سے نمٹنے کے معاملے میں شک کی کوئی گنجائش نہیں، یہ تبھی ممکن ہوگا جب ہم آپس کے مشورے سے قوم کی امنگوں اور شہداء کے لہو کی قدر کرتے ہوئے ایک حکمت عملی پر یکسو ہو جائیں، دہشتگردی کے خلاف جنگ کو صرف فوج کی جنگ سمجھنا ہمیں انتشار کی طرف لے جائے گا، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن ہمارے شہیدوں، مجاہدوں اور غازیوں کے نام ہے جو مادر وطن کے دفاع کیلئے فولاد کی مانند سینہ سپر ہیں۔ جنرل کیانی نے کہا کہ دشواریاں جتنی بھی ہوں قربانیاں چاہے کتنی بھی درکار ہوں ہمارا حوصلہ بلند اور عزم لازوال ہے، دشمن اندرونی ہو یا بیرونی کبھی اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہوگا اور بلآخر افواج پاکستان سرخرو ہونگی۔ انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اللہ کی خوشنودی اور قوم کی مدد اور دعائیں افواج پاکستان کے ساتھ ہیں جو ہماری اصلی طاقت اور وہ احساس ہیں جو ہمیں دشمن کے خلاف سبقت اور برتری دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کا صلہ تو ادا نہیں کر سکتے لیکن ان کی شجاعت کا اعتراف کرتے ہوئے یہ دعا ضرور کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالی ان کی عظیم قربانی کو قبول فرمائے اور اس کی برکت سے سبز ہلالی پرچم ہمیشہ بلند رکھے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال یوم شہداء کے موقع پر ہم ایک بہت بڑے سانحے سے دوچار تھے، گیاری میں برفانی تودے سے ہمارے 140 جانباز ساتھی شہید ہو گئے تھے، 125 شہداء کے جسد خاکی ورثاء کے حوالے کئے جا چکے ہیں اور باقیوں کی تلاش جاری ہے۔ انہوں نے پاک فوج کے علاوہ ایف سی، رینجرز، پولیس اور لیویز کو بھی خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے جانفشانی اور سرفروشی سے انتہاء پسندی اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے کر قومی پرچم کو بلند رکھا۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑھ کر اہم قربانی عوام کی ہے جن کی ثابت قدمی افواج کیلئے حوصلے اور استقامت کا باعث ہے۔