نتائج کی نمائش 1 تا: 5 از: 5

موضوع: معراج کیا ہے ؟؟اِسراء اور معراج: ایک عظیم معجزہ

  1. #1
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    معراج کیا ہے ؟؟اِسراء اور معراج: ایک عظیم معجزہ

    اِسراء اور معراج: ایک عظیم معجزہ

    تحریر: احمد غزنوی

    شروع اللہ کے نام سے جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے۔
    تمام تعریف اُس اللہ کی ہے جس کی صفت یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کُچھ ہے، سب اُسی کا ہے اور آخرت میں بھی تعریف اُسی کی ہے۔ اور اُس کی سلامتی و برکات رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم، اُن کے اہلِ بیت اور صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر نازل ہوں۔ اما بعد۔
    ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے جو معجزات عطا کیے، اُن میں سے ایک عظیم الشان معجزہ واقعۂ اِسراء و معراج بھی ہے۔ عام طور پر ہم اسے واقعۂ معراج کے نام سے ہی ذکر کرتے ہیں اور اِس سے مراد وہ واقعہ ہے جب ایک رات کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت جبریل علیہ السلام حُکمِ الہی سے مکہ مکرمہ سے بُراق نامی سواری پر مسجدِ اقصیٰ تک لے گئے اور پھر وہاں سے اُنہیں آسمانوں پر لے جایا گیا۔ تاہم اِس سفر کے دو حصے ہیں، پہلے حصے کو "اِسراء" کہا جاتا ہے اور اس سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ مکرمہ سے مسجدِ اقصیٰ تک کا سفر ہے جبکہ دوسرے حصے کو معراج کہا جاتا ہے اور اس سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مسجدِ اقصیٰ سے آسمانوں کا سفر اور وہاں کے مشاہدات ہیں۔ دونوں کا تذکرہ قرآن مجید میں دو سورتوں میں کیا گیا ہے۔ اسراء کا تذکرہ سورۃ الاسراء (بنی اسرائیل) میں ہے جبکہ معراج کا سورۃ النجم میں ہے۔
    سورۃ الاسراء کی پہلی آیت میں سفرِ معراج کے پہلے حصے یعنی "اسراء" کا تذکرہ ہے:
    سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آَيَاتِنَا إِنَّه هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ
    ترجمہ: "پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی جس کے ماحول پر ہم نے برکتیں نازل کی ہیں تاکہ ہم انہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بے شک وہ ہر بات سننے والی، ہر چیز جاننے والی ذات ہے۔"
    (سورۃ الاِسراء: 1)

    جبکہ سورۃ النجم کی ابتدائی آیات میں دوسرے حصے "معراج" کا ذکر کیا گیا ہے:
    وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى (1) مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَى (2) وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى (3) إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى (4) عَلَّمَهُ شَدِيدُ الْقُوَى (5) ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَى (6) وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَى (7) ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّى (8 ) فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى (9) فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى (10) مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى (11) أَفَتُمَارُونَهُ عَلَى مَا يَرَى (12) وَلَقَدْ رَآَهُ نَزْلَةً أُخْرَى (13) عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى (14) عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَأْوَى (15) إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى (16) مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى (17) لَقَدْ رَأَى مِنْ آَيَاتِ رَبِّهِ الْكُبْرَى (18 ) ترجمہ: "قسم ہے ستارے کی جب وہ گرے۔ (اے مکے کے باشندو!) یہ تمہارے ساتھ رہنے والے صاحب نہ راستہ بھولے ہیں، نہ بھٹکے ہیں، اور یہ اپنی خواہش سے کچھ نہیں بولتے، یہ تو خالص وحی ہے جو ان کے پاس بھیجی جاتی ہے، انہیں ایک ایسے مضبوط طاقت والے (فرشتے) نے تعلیم دی ہے جو قوت کا حامل ہے۔ چنانچہ وہ سامنے آگیا، جبکہ وہ بلند اُفق پر تھا۔ پھر وہ قریب آیا، اور جھک پڑا، یہاں تک کہ وہ دو کمانوں کے فاصلے کے برابر قریب آگیا، بلکہ اُس سے بھی زیادہ نزدیک۔ اس طرح اللہ کو اپنے بندے پر جو وحی نازل فرمانی تھی، وہ نازل فرمائی۔ جو کچھ انہوں نے دیکھا، دل نے اُس میں کوئی غلطی نہیں کی۔ کیا پھر بھی تم اِن سے اُس چیز کے بارے میں جھگڑتے ہو جسے وہ دیکھتے ہیں؟ اور حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اُس (فرشتے یعنی جبریل علیہ السلام) کو ایک اور مرتبہ (بھی اصلی صورت میں) دیکھا ہے۔ اُس بیر کے درخت کے پاس جس کا نام سدرۃ المنتہیٰ ہے۔ اُسی کے پاس جنت المأویٰ ہے۔ اُس وقت اُس بیر کے درخت پر وہ چیزیں چھائی ہوئی تھیں جو بھی اُس پر چھائی ہوئی تھیں۔ (پیغمبر کی) آنکھ نہ تو چکرائی، نہ حد سے آگے بڑھی"
    (سورۃ النجم:آیات 1 تا 17)

    اسراء و معراج کے معنی:
    عربی لغت میں اسراء کے معنی رات میں سفر کرانے کے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چونکہ رات میں مکہ مکرمہ سے مسجدِ اقصیٰ لے جایا گیا تھا، اس لیے یہ عظیم الشان سفر اسراء کہلایا۔ جبکہ معراج کے معنی چڑھنے اور بلند ہونے کے ہیں اور چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس سے ملاء اعلیٰ تک کے منازل بتدریج طے فرمائے تو سفر کے اِس حصے کو معراج کہا جاتا ہے۔
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    شاہنواز (06-08-2013)

  3. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    جواب: معراج کیا ہے ؟؟اِسراء اور معراج: ایک عظیم معجزہ

    تحقیقِ تاریخ:
    جہاں تک تعینِ تاریخ و سنہ کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں اختلاف رہا ہے۔ البتہ یہ بات تمام محققین تسلیم کرتے ہیں کہ واقعۂ معراج ہجرت سے قبل، اور مومنین کی ماں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات کے بعد پیش آیا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات ہجرت سے تین سال قبل ہوئی، لہٰذا یہ واقعہ انہی تین سالوں کے دوران پیش آیا ہے۔
    (فتح الباری ج 7 ص 179)
    مہینے اور تاریخ کے تعین میں بھی متعدد اقوال ہیں۔ بعض مشہور ائمہ جیسے ابنِ عبد البر، امام نووی اور عبد الغنی مقدسی رحمہم اللہ کا رجحان اسی طرف ہے کہ یہ واقعہ رجب کے مہینے میں پیش آیا ہے۔ مگر دوسری جانب نظر کی جائے تو اس کے مخالف اقوال بھی ملتے ہیں مثلاً علامہ ابن رجب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "معراج والی روایت قاسم بن محمد سے ایسی سند سے مروی ہے جو صحیح نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ستائیس رجب کو معراج ہوئی تھی۔ ابراہیم حربی وغیرہ نے اس بات کا انکار کیا ہے"
    (تبیین العجب فیما ورد فی فضل رجب)
    جبکہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

    "معراج کے مہینہ ، عشرہ اور دن کے بارے میں کوئی قطعی دلیل ثابت نہیں ہے، بلکہ اس سلسلہ میں نقول منقطع ومتضاد ہیں جن سے کسی تاریخ کی قطعیت ثابت نہیں ہوسکتی" ۔
    (لطائف المعارف)
    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری، 7/242-243 میں معراج کے وقت کے بارے اختلاف ذکر کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ ایک قول یہ ہے کہ معراج ماہ رجب میں ہوئی تھی، دوسرا قول یہ ہے کہ ماہ ربیع الاول میں اور تیسرا قول یہ کہ ماہ رمضان یا شوال میں ہوئی تھی، صحیح بات وہی ہے جو علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بیان کی ہے۔
    ان اختلافات سے ایک بات کی بہت اچھی طرح وضاحت ہوجاتی ہے کہ واقعۂ اسراء و معراج کی عظمت اور شان اپنی جگہ، تاہم یہ جس رات کو واقع ہوا، اُس رات کی لیلۃ القدر کی طرح کوئی مخصوص فضیلت نہیں ہے نہ ہی اِس رات کی کوئی مخصوص عبادت ہے جیسا کہ بعض حضرات اس کا اہتمام کرتے ہیں۔ اور سبب واضح ہے کہ اس شب کی تاریخ کے تعین ہی میں اختلاف ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اس شب میں کوئی مخصوص عبادت کیسے منقول ہوسکتی ہے؟

    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  4. #3
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    جواب: معراج کیا ہے ؟؟اِسراء اور معراج: ایک عظیم معجزہ



    احادیثِ مبارکہ اور واقعۂ معراج:
    واقعۂ معراج کی زیادہ تفصیلات صحیحین یعنی بخاری و مسلم میں بیان ہوئی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنے والے صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں نہ صرف مہاجرین بلکہ انصاری صحابہ بھی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعۂ معراج اور اس کے مشاہدات کی تفصیل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد از ہجرت انصاری صحابہ کرام کو بھی بتائیں۔ معراج سے متعلق احادیث مختلف صحابۂ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہیں اور مشہور محدث علامہ زرقانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ پینتالیس صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے معراج کا واقعہ منقول ہے اور اس کے بعد انہوں نے ان سب صحابہ کے نام بھی گنوائے ہیں۔
    (فتح الباری ج 2 ص 16)
    واقعۂ اسراء و معراج چونکہ بہت طویل ہے، لہٰذا کسی ایک روایت میں اس کی پوری تفصیل موجود نہیں ہے۔ ایک طویل واقعہ جب مختلف راوی نقل کرتے ہیں تو بربنائے بشریت واقعات کی ترتیب میں فروعی اختلاف آسکتا ہے البتہ اس سے نفسِ واقعہ کی صحت پر اثر نہیں پڑتا۔ البتہ روایات میں اس اختلاف کی بناء پر بعض علمائے کرام نے یہ استدلال کرلیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سے زائد بار معراج ہوئی ہے جبکہ محققین علماء جن میں محدثین، مفسرین اور فقہاء کی بڑی تعداد شامل ہے، نے اس رائے کو خطا پر مبنی قرار دیا ہے اور دلائل سے ثابت کیا ہے کہ واقعۂ معراج ایک ہی بار پیش آیا۔
    سب روایات کو الگ الگ نقل کرنے کے بجائے یہ مناسب تصور کیا گیا کہ مختلف روایات کو یکجا کرکے تسلسل کے ساتھ یہ واقعہ قارئین کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ زیادہ آسانی رہے۔ لہٰذا بیچ میں جو بات دوسری روایات کا حصہ ہے، اُسے قوسین میں رکھا ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے، فرمایا:
    "میں خانۂ کعبہ کے پاس تھا اور میری حالت (یہ تھی کہ میں) خواب اور بیداری کے بیچ میں تھا، اتنے میں میں نے ایک شخص کو سنا جو کہتا تھا وہ ان دو کے مابین کے تیسرے ہیں۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اُس رات دوسرے دو حضرات حضرت حمزہ اور جعفر رضی اللہ عنہما تھے) چنانچہ وہ میرے پاس آئے اور مجھے لے گئے (میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا جو ایمان اور حکمت سے لبریز تھا، پھر سینے سے لے کر پیٹ کے نیچے تک چیرا گیا اور آبِ زمزم سے دھو کر (سینۂ مبارک کو) ایمان اور حکمت سے بھر دیا گیا) پھر ایک جانور کو لایا گیا جس کا رنگ سفید تھا، اسے براق کہتے تھے، وہ گدھے سے اونچا اور خچر سے پست قامت کا تھا، (رفتار کا یہ عالم تھا کہ) جہاں اُس کی نگاہ پہنچتی تھی وہاں اپنے قدم رکھتا تھا۔ مجھے اُس پر سوار کرایا گیا۔ (میں اُس پر سوار ہوکر بیت المقدس آیا جس حلقہ سے انبیائے کرام اپنی سواریوں کو باندھا کرتے تھے، میں بھی اُس سے باندھ کر اندر گیا، پھر دو رکعت پڑھ کر باہر آیا، جبرئیل علیہ السلام ایک برتن میں شراب اور ایک میں دودھ لے کر آئے، میں نے دودھ کو پسند کر لیا، جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ آپ نے فطرت کو اختیار کیا ہے۔ پھر مجھے چڑھا کر آسمان تک لے گئے اور دروازہ کھلوانا چاہا، دریافت کیا گیا کون ہو؟ جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ تم کون ہو؟ تو انہوں نے اپنا نام بتایا۔ پھر درفیات کیا گیا کہ تمہارے ساتھ کون ہے؟ جواب دیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) دریافت کیا گیا کہ کیا وہ بلائے گئے ہیں؟ جبرئیل علیہ السلام نے جواب دیا کہ ہاں وہ بلائے گئے ہیں، تو دروازہ کھول دیا گیا (جب ہم آسمان پر گئے تو ایک شخص کو دیکھا جس کے داہنی طرف بھی روحوں کے جھنڈ تھے اور بائیں طرف بھی، جب وہ دائیں طرف دیکھتے تو ہنستے اور جب بائیں جانب دیکھتے تو روتے، انہوں نے مجھے دیکھ کر کہا مرحبا اے صالح بیٹے اور صالح نبی۔ میں نے جبرئیل سے پوچھا یہ کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا یہ آدم ہیں اور یہ لوگوں کے گروہ جو ان کے دائیں اور بائیں ہیں یہ ان کی اولاد ہیں۔ دائیں جانب وہ لوگ ہیں جو جنت میں جائیں گے اور بائیں طرف والے دوزخ میں داخل ہوں گے اس لیے جب وہ دائیں طرف دیکھتے ہیں تو خوشی کی بناء پر ہنستے ہیں اور جب بائیں جانب نظر کرتے ہیں تو روتے ہیں) وہاں آدم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور دعائے خیر کی۔ پھر جبرئیل ہمیں دوسرے آسمان پر لے گئے، (پہلے آسمان پر پوچھے گئے سوالات کی مانند سوالات کے بعد) دروازہ کھول دیا گیا۔ وہاں ایک دوسرے کے خالہ زاد پیغمبروں (یعنی) حضرت یحییٰ و عیسیٰ علیہما السلام سے ملاقات ہوئی، دونوں نے مرحبا کہا اور خیر کی دعا دی۔ پھر مجھے تیسرے آسمان تک چڑھایا گیا (وہاں بھی سوال و جواب کے بعد) دروازہ کھول دیا گیا تو حضرت یوسف علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے (تمام جہان کے) حُسن کا نصف انہیں عطا کیا تھا، انہوں نے بھی مرحبا کہا اور دعائے خیر کی۔ پھر جبرئیل علیہ السلام چوتھے آسمان پر لے کر چڑھے اور (حسبِ سابق سوال و جواب کے بعد) دروازہ کھولا گیا تو میں نے ادریس علیہ السلام کو دیکھا۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا ہے (قرآن مجید میں) کہ "ہم نے اُسے (ادریس علیہ السلام کو) مقامِ عالی کے ساتھ بُلندی عطا کی ہے۔ (تو بلند مقام یہی ہے) پھر جبرئیل کے ہمراہ پانچویں آسمان پر چڑھے اور (سوال و جواب کے بعد) دروازہ کھلا تو میں نے ہارون علیہ السلام کو دیکھا، انہوں نے مرحبا کہا اور مجھے خیر کی دعا دی، پھر چھٹے آسمان پر چڑھے اور (بعد از سوال و جواب) دروازہ کھولا گیا تو میں نے حضرت موسٰی علیہ السلام کو دیکھا۔ انہوں نے مجھے مرحبا کہا اور خیر کی دعا دی۔ (جب میں آگے بڑھا تو وہ رونے لگے، آواز آئی اے موسٰی کیوں روتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا اے پروردگار! تو نے اس نوجوان کو میرے بعد پیغمبر بنایا اور میری امت سے زائد اس کے امتی جنت میں جائیں گے) پھر جبرئیل ہمیں ساتویں آسمان پر لے کر پہنچے اور (حسبِ سابق) دروازہ کھلوایا تو میں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا کہ وہ اپنی کمر کے ساتھ بیت المعمور سے ٹیک لگائے ہوئے تھے اور بیت المعمور میں ہر روز ستر ہزار فرشتے (عبادت کیلئے) داخل ہوتے ہیں اور (فرشتوں کی عظیم تعداد جو اللہ تعالٰی ہی کو معلوم ہے، کی وجہ سے) پھر اُن کی باری (تا قیامت) نہیں آتی۔ (پھر میں ایک بلند ہموار مقام پر چڑھایا گیا وہاں میں قلموں کی آواز سنتا تھا) پھر جبرئیل مجھے سدرۃ المنتہٰی (سدرۃ المنتہٰی کے متعلق مختلف روایات کا حاصل یہ ہے کہ یہ بیری کا ایک انتہائی عظیم الشان درخت ہے جس کی جڑ چھٹے آسمان پر ہے اور اس کی شاخیں ساتویں آسمان سے بھی اوپر نکل گئی ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے چیزیں زمین پر اترتی اور زمین سے اوپر چڑھ کر وہاں تک پہنچتی ہیں۔ گویا نزول و عروج کا مقام اتصال ہے۔ اس مقام سے آگے نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ نہ جبریل اور دوسرے ملائکہ کا گذر ہوا اور نہ ہی کسی نبی مرسل کا۔ (بحوالہ:قصص القرآن) پر لے گئے جس کے پتے اتنے بڑے بڑے تھے کہ جیسے ہاتھی کے کان اور پھل (بیر) بڑے مٹکوں کی طرح تھے۔ (میں نے چار نہریں دیکھیں جو سدرۃ المنتہٰی کی جڑ سے نکلتی تھیں، دو بیرونی اور دو اندرونی۔ میں نے پوچھا جبرئیل یہ نہریں کیسی ہیں؟ انہوں نے کہا اندرونی نہریں جنت میں جا رہی ہیں اور بیرونی نیل اور فرات میں) چنانچہ جب اس درخت کو اللہ کے حکم نے گھیر لیا تو اس کی حالت ایسی ہوگئی کہ مخلوق میں سے کوئی بھی اُس کی خوبصورتی بیان نہیں کر سکتا۔ (پھر میرے سامنے دو برتن لائے گئے ایک میں شراب اور دوسرے میں دودھ تھا۔ میں نے دودھ کو پسند کیا۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ تم نے فطرت کو پا لیا اور اللہ نے تمہارے ذریعے تمہاری امت کو فطرت پر رکھنے کا ارادہ فرمایا ہے) اس کے بعد اللہ تعالٰی کو جو کچھ مجھے القاء فرمانا تھا، فرمایا اور ہر رات دن میں پچاس نمازیں فرض کیں۔ جب میں وہاں سے اُترا اور حضرت موسٰی علیہ السلام کے پاس پہنچا تو انہوں نے دریافت کیا کہ تمہارے پروردگار نے تمہاری امت پر کیا فرض کیا؟ میں نے جواب دیا، پچاس نمازیں فرض کی ہیں۔ انہوں نے کہا اپنے پروردگار کے پاس لوٹ جاؤ اور اس میں تخفیف کراؤ کیونکہ تمہاری امت اتنی طاقت نہ رکھے گی اور میں بنی اسرائیل کو خوب آزما چکا ہوں۔ چنانچہ میں اپنے پروردگار کے پاس لوٹ گیا اور عرض کیا اے الہٰ العالمین میری امت پر تخفیف کر، اللہ تعالٰی نے پانچ نمازیں گھٹا دیں، میں لوٹ کر موسٰی کے پاس آیا اور کہا پانچ نمازیں اللہ نے مجھے معاف کر دیں، انہوں نے کہا تمہاری امت کو اتنی طاقت نہ ہوگی۔ تم اپنے پروردگار کے پاس پھر جا کر تخفیف کراؤ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں برابر اسی طرح اللہ تعالٰی اور موسٰی علیہ السلام کے درمیان آتا جاتا رہا یہاں تک کہ اللہ نے فرما دیا اے محمد ! وہ پانچ نمازیں ہیں ہر دن اور رات میں اور ہر ایک نماز پر دس نمازوں کا ثواب ہے تو وہی پچاس نمازیں ہوگئیں، اور جو شخص نیک کام کرنے کا ارادہ کرے اور پھر اُسے نہ کرے تو اس کیلئے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور جو اسے کرے تو اسے دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے، اور جو شخص برائی کی نیت کرے اور پھر اس کا ارتکاب نہ کرے تو کچھ نہیں لکھا جاتا اور اگر کرے تو ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں پھر میں اترا اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا۔ انہوں نے کہا اپنے پروردگار کے پاس پھر جا کر تخفیف کراؤ، اس پر آپ نے فرمایا میں اپنے پروردگار کے پاس جاتا ہی رہا حتٰی کہ مجھے شرم محسوس ہونے لگی۔
    (اس بیان میں شامل تمام تر روایات صحیح مسلم سے لی گئی ہیں، بندۂ عاجز سے تسلسل میں کمی بیشی ہوگئی ہو تو اللہ سبحانہ و تعالٰی سے عفو و درگزر کا خواستگار
    ایک بڑی حد تک تو اُن واقعات کا مندرجہ بالا بیان میں ہوگیا ہے جو اسراء و معراج کی شب پیش آئے تاہم پوری طرح تمام واقعات و مشاہدات کا احاطہ نہیں ہوا۔ چنانچہ بعض دیگر روایات اس تسلسل سے ہٹ کر پیشِ خدمت ہیں۔)
    حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں حطیم میں کھڑا تھا اور قریش مجھ سے میری معراج کے واقعات دریافت کر رہے تھے اور انہوں نے بیت المقدس کی کچھ ایسی چیزیں دریافت کی تھیں جو مجھے محفوظ نہ تھیں اس لیے میں اتنا پریشان ہوا کہ کبھی نہیں ہوا تھا۔ لیکن اللہ تعالٰی نے میرے سامنے بیت المقدس کو کر دیا اور میں اپنی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا۔ اب قریش جو بھی مجھ سے دریافت کرتے تھے میں انہیں بتلا دیتا تھا۔ اور میں نے اپنے آپ کو انبیاء کی جماعت میں بھی دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ موسٰی (علیہ السلام) کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں، چھریرے بدن اور گھنگھریالے بالوں والے آدمی ہیں معلوم ہوتا ہے قبیلہ شنوءہ کے آدمیوں میں سے ہیں۔ میں نے عیسٰی ابن مریم (علیہ السلام) کو بھی کھڑے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، ان کی شکل عروہ بن مسعود ثقفی (رضی اللہ عنہ) سے بہت ملتی جلتی تھی۔ ابراہیم (علیہ السلام) بھی نماز پڑھتے ہوئے نظر آئے ان کی صورت سے بہت زیادہ مشابہہ تمہارا صاحب (یعنی خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم) ہے۔ اتنے میں نماز کا وقت آگیا میں نے سب کی امامت کی۔ جب نماز سے فارغ ہوگیا تو کسی نے کہا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) یہ مالک داروغۂ جہنم ہیں انہیں سلام کیجیے۔ میں نے ان کی طرف دیکھا تو انہوں نے خود ہی مجھے سلام کرلیا۔"
    (صحیح مسلم)

    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  5. #4
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    جواب: معراج کیا ہے ؟؟اِسراء اور معراج: ایک عظیم معجزہ


    جنت کا مشاہدہ:
    سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچنے اور وہاں بہت سے عجائبات کے مشاہدے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنت کا مشاہدہ بھی کرایا گیا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے:
    "پھر مجھے جنت لے جایا گیا تو میں نے وہاں دیکھا کہ موتیوں کے قبے ہیں اور اس کی مٹی کستوری ہے"
    (صحیح مسلم)

    نہرِ کوثر کا مشاہدہ:
    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "میں ایک نہر پر آیا اس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے قبے تھے میں نے پوچھا جبرئیل یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: یہ کوثر ہے"
    (صحیح البخاری، کتاب التفسیر)

    یہ اور اس موضوع کی دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کوثر نہر جنت میں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میدانِ حشر میں بھی ایک حوض عطا کیا جائے گا جس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور اس کی خوشبو کستوری سے زیادہ پاکیزہ، اس میں رکھے گئے آبخورے آسمان کے تاروں کی طرح بے شمار ہوں، جو اس سے پانی پی لے گا، کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔
    (صحیح البخاری)
    مذکورہ حوض کو حوضِ کوثر اس لیے کہا جاتا ہے کہ ایک تو یہ جنت سے متصل ہوگا اور اس میں پانی جنت سے نہرِ کوثر سے آئے گا۔
    (فتح الباری)
    فرعون کی بیٹی کا بناؤ سنگھار کرنے والی مومنہ کا حسنِ انجام:
    فرعون نے اپنے اہل خانہ کیلئے مشاطہ (بالوں کو بنانے سنوارنے، ان میں کنگھی پھیرنے والی) رکھی ہوئی تھی جو فرعون کو نہیں بلکہ اللہ کو رب ماننے والی مومنہ تھی۔ شبِ معراج میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حسنِ انجام بھی دیکھا اور جبرئیل علیہ السلام سے اس واقعہ کی تفصیل معلوم کی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
    "شبِ معراج ایک مقام سے مجھے نہایت ہی اعلٰی خوشبو کی مہک آنے لگی۔ میں نے پوچھا کہ یہ خوشبو کیسی ہے؟ جواب ملا کہ فرعون کی لڑکی کی مشاطہ اور اس کے اولاد کے محل کی خوشبو ہے۔ (اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ) فرعون کی بیٹی کو کنگھی کرتے ہوئے اس مومنہ خاتون کے ہاتھ سے اتفاقاً کنگھی گر پڑی تو اس کی زبان سے بے ساختہ بسم اللہ نکل گیا۔ اس پر شہزادی نے کہا کہ اللہ تو (نعوذ باللہ) میرا باپ ہی ہے۔ اس نے جواب دیا نہیں بلکہ اللہ تعالٰی وہ ہے جو مجھے، تجھے اور خود فرعون کو رزق دیتا ہے۔ اس نے کہا اچھا تو کیا تم میرے باپ کے سوا کسی اور کو اپنا رب مانتی ہو؟ اس نے جواب دیا کہ "ہاں! میرا، تمہارا اور تمہارے باپ، سب کا رب اللہ تعالٰی ہی ہے۔" فرعون کی بیٹی نے اپنے باپ کو اس واقعہ کی خبر کر دی۔ وہ سخت غضبناک ہوا اور اسی وقت ان خاتون کو اپنے دربار میں بلا لیا اور پوچھا کیا تم میرے سوا کسی اور کو اپنا رب مانتی ہو؟ اس نے کہا "ہاں میرا اور تیرا رب اللہ تعالٰی ہی ہے جو بلندیوں اور بزرگیوں والا ہے"۔ فرعون نے اسی وقت حکم دیا کہ تانبے کی جو گائے بنی ہوئی ہے اُسے خوب تپایا جائے، جب وہ بالکل آگ کی طرح گرم ہوجائے تو اس کے بچوں کو ایک ایک کرکے اس کے سامنے اس میں ڈال دیا جائے، آخر میں خود اسے بھی اسی طرح ڈال دیا جائے۔ چنانچہ وہ گرم کی گئی، جب آگ جیسی ہوگئی تو حکم دیا کہ اس کے بچوں کو ایک ایک کرکے اس میں ڈالنا شروع کردو۔ اس نے کہا بادشاہ میری ایک درخواست منظور کرو۔ وہ یہ کہ میری اور میرے ان بچوں کی ہڈیاں ایک ہی جگہ ڈال دینا۔ اس نے کہا اچھا، تمہارے کچھ حقوق ہمارے ذمہ ہیں اس لیے یہ بات منظور ہے۔ جب اور سب بچے اس میں ڈال دیئے گئے اور جل کر راکھ ہوگئے تو سب سے چھوٹے کی باری آئی جو ماں کی چھاتی سے لگا دودھ پی رہا تھا۔ فرعون کے سپاہیوں نے جب اسے گھسیٹا تو اس نیک بندی کی آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اُس بچے کو اُسی وقت قوتِ گویائی عطا فرما دی اور اس نے بہ آوازِ بلند کہا: "اے ماں! افسوس نہ کرو، ذرا سی بھی پس و پیش مت کرو، حق پر جان دینا ہی سب سے بڑی نیکی ہے۔ چنانچہ انہیں صبر آ گیا۔ اس بچے کو بھی آگ میں ڈال دیا گیا اور آخر میں ان خاتون کو بھی۔ یہ خوشبو کی لپٹیں اسی کے جنت میں واقع محل سے آ رہی ہیں۔
    (مسندِ امام احمد)

    حضرت ابراہیم علیہ السلام کا خصوصی پیغام امتِ محمدیہ کیلئے:
    حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "معراج کی شب میری ملاقات ابراہیم (علیہ السلام) سے ہوئی تو انہوں نے مجھ سے کہا: "اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اپنی امت کو میری طرف سے سلام کہیے اور انہیں بتائیے کہ جنت کی مٹی بڑی عمدہ ہے، پانی میٹھا ہے لیکن وہ چٹیل میدان ہے (اس میں کاشت کرنے کی ضرورت ہے اور) اس کی کاشتکاری "سبحان اللہِ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر" ہے۔
    (جامع الترمذی)
    ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: "اپنی امت سے کہیں کہ وہ جنت میں خوب کاشت کاری کریں، اس لیے کہ اس کی مٹی بڑی عمدہ ہے اور اس کی زمین فراخ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: "جنت کی کاشت کاری کیا ہے؟" حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: "لا حول ولا قوۃ الا باللہ" (جنت کی کاشت کاری ہے)
    (مسند امام احمد)

    غیبت پر عذاب
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے، فرمایا:
    "معراج کے موقع پر میرا گذر ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا جن کے ناخن پیتل کے تھے، وہ اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے، میں نے پوچھا: "جبرئیل! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: "یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھایا کرتے تھے (یعنی غیبت کیا کرتے تھے) اور ان کی بے عزتی کرتے تھے۔"
    (سنن ابی داود)

    بے عمل خطباء کا انجام:
    حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    "میں نے معراج کی رات کچھ لوگوں کو دیکھا کہ ان کے منہ آگ کی قینچیوں سے چیرے جا رہے ہیں۔ میں نے پوچھا جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: "یہ آپ کی امت کے وہ خطیب ہیں جو لوگوں کو تو بھلائیوں کا حکم دیتے ہیں اور خود ان پر عمل نہیں کرتے۔ حالانکہ وہ کتاب بھی پڑھتے ہیں۔ پس کیا وہ نہیں سمجھتے؟
    (شرح السنۃ، للبغوی)
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  6. #5
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    جواب: معراج کیا ہے ؟؟اِسراء اور معراج: ایک عظیم معجزہ

    اسراء اور معراج ایک خواب؟
    آخر میں ایک انتہائی اہم بات پر تنبیہہ اور وضاحت ضروری ہے کہ بعض حضرات کے نزدیک واقعۂ اسراء و معراج خواب کی حالت میں پیش آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جسمانی طور پر کہیں تشریف نہیں لے گئے تھے۔ اردو میں اس پر نہایت مفصل اور عمدہ بحث مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی نے اپنی بے مثل تصنیف "قصص القرآن" میں کی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ واقعۂ اسراء و معراج بحالتِ بیداری و بجسدِ عنصری پیش آیا ہے اور یہ بات حقیقت سے بعید ہے کہ اسراء و معراج ایک خواب یا پھر روحانی سفر تھا۔ یہ بحث چونکہ بہت طویل ہے اور ہمارا یہ مختصر مضمون اس کا متحمل نہیں ہو سکتا اس لیے یہاں صرف حافظ ابنِ حجر اور قاضی عیاض رحمہما اللہ جیسے جلیل القدر علماء کے اس بارے میں مؤقف کے بیان پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ چنانچہ حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    "پس ان علماء میں سے وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ بلا شبہ واقعات اسراء و معراج دونوں ایک ہی رات میں بحالتِ بیداری جسم اور روح کے ساتھ بعثت کے بعد پیش آئے، تمام محدثین، فقہاء اور متکلمین کا یہی مذہب ہے اور صحیح احادیث سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے اور اس سے تجاوز کرنا یعنی اس کا انکار کرنا، مناسب نہیں ہے اس لیے کہ ایسا ہونا عقل کے نزدیک محال نہیں ہے کہ اس کی تاویل کرنے کی حاجت پیش آئے۔"
    (فتح الباری ج 7 ص 156)
    جبکہ قاضی عیاض رحمہ اللہ "شفاء" میں لکھتے ہیں:
    جلیل القدر سلف صالحین اور بزرگ ترین مسلمان اس بات کے حق میں ہیں کہ اسراء بجسدِ عنصری اور بیداری کی حالت میں پیش آیا اور یہی مذہب حق ہے اور یہی ابنِ عباس، جابر، حذیفہ، عمر، ابو ہریرہ، مالک بن صعصعہ، ابو حیہ بدری، ابنِ مسعود، ضحاک، سعید بن جبیر، قتادہ، ابن مسیب، ابن شہاب، ابن زید، حسن، ابراہیم نخعی، مسروق، مجاہد، عکرمہ، ابن جریج رحمہم اللہ کا قول ہے اور یہی دلیل ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول کی اور طبرانی کا بھی یہی قول ہے اور ابنِ حنبل اور مسلمانوں کی جماعتِ عظیم کا بھی۔ متاخرین میں سے بھی اکثر فقہاء، محدثین، مفسرین اور متکلمین کا یہی قول ہے۔"
    واللہ اعلم، و صلی اللہ و سلم و بارک علٰی نبینا محمد و علٰی آلہ و صحبہ اجمعین

    مأخذ:
    کتبِ احادیث و تفاسیر
    قصص القرآن
    واقعۂ معراج اور اس کے مشاہدات
    فی مدرسۃ الاسراء والمعراج
    الاسراء والمعراج ۔ الروایۃ المتکاملۃ الصحیحۃ
    البدایۃ والنہایۃ

    ختم شُد۔ ۔ ۔
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University