نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: پھول کی خوشبو سے رنجش دیکھی ہے؟

  1. #1
    معاون
    تاريخ شموليت
    Mar 2013
    پيغامات
    67
    شکریہ
    33
    24 پیغامات میں 36 اظہار تشکر

    پھول کی خوشبو سے رنجش دیکھی ہے؟

    السلام علیکم
    اپنی ایک غزل بزم ِشاعری کی نذر۔۔۔



    غزل

    کیا کبھی صحرا میں بارش دیکھی ہے
    ؟
    ایسی ان آنکھوں میں خواہش دیکھی ہے


    درد کے لہجے میں ہوتے ہمکلام
    رنج کے اشکوں کی لرزش دیکھی ہے


    دیدۂ تر میں سلگتا کرب دیکھ
    تیرتی دریا میں آتش دیکھی ہے!؟


    رشک سے گونگے ہوئے اہلِ سخن
    بولتے نینوں کی جنبش دیکھی ہے


    بارہا ہم نے دوانے دل کے ہاتھ
    باحیا نطروں کی پرستش دیکھی ہے


    پھر چلے خنجر زباں کی نوک سے
    پھر ادائے تیر و ترکش دیکھی ہے




    کیا کہا؟ ہم اور الجھیں آپ سے؟
    پھول کی خوشبو سے رنجش دیکھی ہے؟


    پھر جبینِ آرزوئے زیست پہ
    ہم نے اک امیددلکش دیکھی ہے!۔


    کہہ نہ پائے اب بھی دل کی بات ہم
    یوں تو کر کے ساری کوشش دیکھی ہے
    تیرے نین ہیں میرا آشیاں
    میرا نام نورِ عیون ہے

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے نورالعین عینی کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (06-06-2016),نگار (06-27-2013)

  3. #2
    رکنِ خاص نگار کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2011
    پيغامات
    5,360
    شکریہ
    663
    357 پیغامات میں 424 اظہار تشکر

    جواب: پھول کی خوشبو سے رنجش دیکھی ہے؟

    بہترین شاعری ارسال کرنے پہ آپ کا بہت بہت شکریہ

    کیا کہا؟ ہم اور الجھیں آپ سے؟
    پھول کی خوشبو سے رنجش دیکھی ہے؟

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University