ڈیرہ اسماعیل خان جیل پر تحریک طالبان کا حملہ - 205 قیدیوں کو آزاد اور 14 معصوم لوگوں کا قتل

ہماری گہری دلی تعزیت ڈيوٹی پر مامور چھ پوليس اہلکاروں سميت تمام متاثرین کے دوستوں اور خاندانوں کے ساتھ ہے جو ڈیرہ اسماعیل خان جیل پر تحریک طالبان کےحملےميں ہلاک ہوۓ ۔یہ نہايت دکھ کی بات ہے کہ يہ انتہا پسند عناصر اپنے سياسی عزائم کےحصول کيلۓ ہر حد کو پار کرسکتے ہيں۔ يہ انتہاپسند عناصر پاکستانی معصوم عوام کو دہشت زدہ کرنے کے لئے جیلوں، ہسپتالوں، مساجد، اور دیگر عوامی مقامات پر حملے کر تےرہتے ہیں۔ پاکستان میں زندگی کے تمام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو نشانہ بناتے ہيں، خواتين سے ليکر بچوں، مقامی کمیونٹی کارکن اور سيکورٹی اھلکار ان کے تشدد، دہشت گردی اور سفاکانہ قتل وغارت کی کارروائیوں سے محفوظ نہيں ہيں۔




ڈيرہ اسماعيل خان جيل پر طالبان کا حملہ جس ميں انتہائیخطرناک دہشتگردوں سميت 250 کے قريب قيديوں کو آزاد کراگيا يہ ان انتہا پسندوں کی اپنے مذموم سیاسی عزائم کو پورا کرنے کے لئے حکومت اور پاکستانی معصوم عوام کيخلاف جاری خوفناک تشدد اور اور تباہی کی ايک واضح مثال ہے۔ ان نام نہاد مذہب کے رکھوالوں نے خوف، تباہی اور دہشت کے ذريعے پاکستانی عوام پر اپنے انتہاپسند سياسی نظريات کو مسلط کرنا چاہتے ہيں۔ مساجد، ہسپتال اور عوامی مقامات انکی شر سے محفوظ نہيں ہيں۔ مساجد، سرکاری عمارتوں اور عوامی مقامات پر حملے پاکستانی رياست کے خلاف انکےحقيقی سیاہ اور بدنما عزائم کو بے نقاب کر تے ہيں ۔ ہم معصوم پاکستانی عوام کيخلاف ان
سفاکانہ دہشتگرد حملوں اور جاری تباہی کی بھرپور مذمت کرتے ہيں۔

باہمی پارٹنرز کی حيثيت سے ہميں دہشتگردی کی لعنت کو شکست دینے کيلۓ اپنے مشترکہ عزم اور خواہش کو چکنا چور نہيں کرنا چاہيۓ ۔ ہم پاکستانی عوام کے ساتھ ان شیطانی انتہا پسندوں کے خلاف ان کی جاری جنگ میں اپنے طویل الميعاد عزم کی توثیق کرتے ہیں جو جان بوجھ کر رياست سمیت معصوم پاکستانی لوگوں کے قتل و غارت ميں ملوث ہيں اور پاکستانی سالميت اور امن کيلۓ ايک قوی خطرہ بن چکے ہيں ۔ ہم اس انتہاپسندی کے خلاف جاری جدوجہد ميں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہيں جس نے پاکستانی پرامن معاشرے کو يرغمال بنايا ہواہے۔

ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu
http://www.facebook.com/USDOTUrdu