نتائج کی نمائش 1 تا: 4 از: 4

موضوع: ’’ شاہ زیب 25 دسمبر کو نہیں بلکہ اب مرا ہے ‘‘

  1. #1
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,859
    شکریہ
    949
    877 پیغامات میں 1,102 اظہار تشکر

    ’’ شاہ زیب 25 دسمبر کو نہیں بلکہ اب مرا ہے ‘‘



    شاہ زیب کے والدین کی جانب سے قاتلوں کو معافی دینے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑگئی ہے۔ زیادہ ترلوگوں نے مقتول کے والدین کے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ کچھ کاکہنا تھا کہ والدین نے یہ اقدام خوف اور دھمکیوں کے باعث کیا۔ سوشل میڈیا پر کسی نے لکھا کہ ’’ شاہ زیب25 دسمبر کو نہیں بلکہ اب مرا ہے ‘‘ ، یہ بھی لکھا گیا ’’باپ بڑا نہ بھیا ، سب سے بڑا روپیہ ‘‘ ، ’’ پیسے میں بڑی طاقت ہوتی ہے ‘‘۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ آئندہ اب کوئی کسی کے قتل پر ہمدردی کے لیے بھی ساتھ کھڑا نہیں ہوگا ‘‘، ’’شاہ زیب کے والدین کا یہ اقدام ناانصافی پر مبنی ہے‘‘۔ کسی نے یہاں تک بھی لکھا کہ ’’ ابھی تو ایک شاہ زیب مرا ہے ، آئندہ نجانے کتنے شاہ زیب مارے جائیں گے ‘‘ ۔
    سوشل میڈیا پر شہریوں کا کہنا ہے کہ ’’شاہ زیب کے قاتلوں کو اس کے والدین نے تو معاف کردیا لیکن ہم معاف نہیں کریں گے‘‘ ، ’’ہمارے جذبات سے کھیلا گیا ، والدین کے اس اقدام سے ہمارے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی ہے‘‘۔ یہ بھی لکھا گیا کہ ’’ شاہ زیب کے اہل خانہ اس کے قتل کے وقت تنہا تھے لیکن اب تو ہزاروں افراد ان کے ساتھ تھے، پھر بھی انھوں نے یہ قدم اٹھایا ‘‘ ، سوشل میڈیا پر ایک تبصرہ یہ بھی سامنے آیا کہ ’’شاہ زیب کے والدین کو خوف ، دبائو اور دھمکیوں کا سامنا ہوگا ، انھیں اپنے خاندان کے دیگر افراد کو بھی تو بچانا ہوگا‘‘ ۔
    اس سب کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟؟؟؟



  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے تانیہ کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (10-10-2013)

  3. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,134
    شکریہ
    2,100
    1,211 پیغامات میں 1,583 اظہار تشکر

    جواب: ’’ شاہ زیب 25 دسمبر کو نہیں بلکہ اب مرا ہے ‘‘

    پاکستان میں جب آپ کسی کو موت کی سزا ہی نہی دے سکتے ، تو کسی نہ کسی دن وہ بندہ باھرآ ہی جاٗئے گا ، کیونکہ جیلوں مین کب تک قاتلوں کو قید رکھو گے ، آج بھی کئی سالوں سے پھانسی کی سزا سنائے جانےکے باوجود آپ سزا ہی نہی سکتے، جب آپ کمزور ہیں ، تو
    شاہ زیب کے والدین کی جانب سے قاتلوں کو معافی دینے پر بحث کا کوئی فائدہ نہیں ،
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  4. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    تانیہ (11-07-2013)

  5. #3
    رکنِ خاص شاہنواز کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Mar 2012
    مقام
    کراچی پیارا پاکستان
    پيغامات
    967
    شکریہ
    603
    370 پیغامات میں 496 اظہار تشکر

    جواب: ’’ شاہ زیب 25 دسمبر کو نہیں بلکہ اب مرا ہے ‘‘

    شاہ زیب کے قتل پر بحث ہوتی رہے گی کہ یہ کسی فرد واحد کے قتل کا کیس نہیں ہے اور نہ ہی یہ ایک فیملی میڑ رہ گیا ہے یہ تو ایک نیشنل بلکہ انٹرنیشنل کیس بن گیا ہے ابھی تو عنالت
    عدالت عالیہ نے بھی یہ منظور نہیں کیا کہ یہ کن حالات میں معافی کا معاہدہ ہوا ہے اور اسلامی اور قانونی دفعات کیا کہتی ہیں اس بارے مین اگر اندر ہی اندر یہ فیصلہ جات ہونے لگے تو کوئی بھی بڑا با اثر آدمی کسی کا بھی قتل کرکے اس سے معافی نامہ تحریر کروالے گا اور پھر کیا قانون تو کیا سزا سب اپنی اپنی مرضی کرنے لگے گے اس کو زندہ رکھنا ہے اور یہ کیس تو ٹیسٹ کیس بن گیا ہے آئندہ آنے والے دنون میں اس کیس کے ریفرنس دئیے جائیں گے کہ اس کیس میں فلاں فرد کو رعائت دی گئی تھی جبکہ وہ سرعام واضع ثبوت کے ساتھ واقعہ پیش آیا تھا پھر قاتلون کو ایک ناقابل یقین ریلیف ملا تھا اس سے ہم آنکھیں بند نہیں کرسکتے ہیں کہ یہ تو قانون کی توہین ہے قانون کے ساتھ انتہائی بھونڈا مذاق ہے

  6. #4
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    831
    شکریہ
    246
    110 پیغامات میں 168 اظہار تشکر

    جواب: ’’ شاہ زیب 25 دسمبر کو نہیں بلکہ اب مرا ہے ‘‘

    میری بہن یہ پاکستان ہے یہاں جنگل کا قانون ہے جس کی لاٹھی اس کہ بھیس ہے یہاں کسی غریب کی جان مال عزت محفوظ نہیں ہے قاتل کا خاندان مقتول کے خاندان سے زیادہ طاقت ور ہے تو مقتول کے خاندان کو صلاح تو کرنی ہی پڑے گی نہیں تو پورا خاندان ہی تباہ کر دیں گے یہاں قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے بس اپنی آواز ظلم کے خلاف اٹھاتے رہیں یہ ہم پر فرض ہے اور اللہ کی بے آواز لاٹھی کا انتظار کریں جو ظالموں پر برستی ہے اور انشاءاللہ وہ دن دور نہیں جب ظالموں کے ہاتھ کٹ جایں گے
    اے وطن پیارے وطن پاک وطن

  7. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے انجم رشید کا شکریہ ادا کیا:

    نگار (11-30-2013)

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University