صفحہ 1 از 2 12 آخریآخری
نتائج کی نمائش 1 تا: 10 از: 19

موضوع: طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

  1. #1
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,867
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم





  2. #2
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,867
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    جواب: طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم




  3. #3
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,867
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    جواب: طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم




  4. #4
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,867
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    جواب: طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم




  5. #5
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,867
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    جواب: طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم




  6. #6
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,867
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    جواب: طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم




    كدو .... كدو كا ذكر قرآن حكیم میں حضرت یونس علیہ اسلام كے متعلق بیان موجود ہے نبی اكرم صلی اللہ علیہ وسلم نے كدو كو بے حد پسند فرمایا اب سائینسی تحقیق بھی كدو كی افادیت كے ثبوت پیش كر رہی ءۓ تازہ كدو میں نوے فیصد كے قریب پانی ہوتا ہے اور چھ تا سات فیصد كابو ہائیڈریت ایك فیصد پروٹین چكناہت وٹامن اے بی سی اور ای كے علاوہ كیلشیم میگنیشیم پوٹاشیم آئرن زنك اور فاسفورس خاص تناسب سے پائے جاتے ہیں اگر كدو كو میٹھے انار كے ساتھ ملا كر كھایا جائے تو یہ صفرا كو دور كرتا ہے اور پھوڑے پھنسیوں كے لیے مفید ہے كدو پیاس كو كم كرتا ہے پیٹ كی تیزابیت كو دور كرتا ہے قبض كشا ہے پیٹ كو نرم كرتا ہے گرمی سے سر درد كو كم كرتا ہے كاٹ كر جسم پر پھیرا جائے تو بخار كم ہو جاتا ہے اس كا پانی بھی بخار كو كم كرتا ہے كدو كو پكا كر اس كا پانی شہد میں ملا كر دیا جائے تو بلغم كو كم كرتا ہے جگر كی سوزش گرمی اور صفرا كو دور كرتا ہے یہ پیشاب آور ہے كدو كو چینی كے ساتھ پكا كر دینے سے جنون میں افاقہ ہوتا ہے كدو كا چھلكا پیس كر كھانے سے آنتوں سے آنے والا اور بواسیر كا خون بند ہو جاتا ہے



  7. #7
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,867
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    جواب: طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم



    حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : اِذَا اَکَلَ اَحَدُکُم مِنَ الطَّعَامِ فَلَا یَمسَح یَدَہ حَتیٰ یَلعَقَھَا ا و یُلعِقَھَا ( صحیح مسلم ، الاشربة ، باب استحباب لعق الاصابع حدیث : 2031 )

    ” جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو وہ اپنا ہاتھ نہ پونچھے یہاں تک کہ اسے ( انگلیاں ) چاٹ لے یا چٹوالے۔ “

    کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنے کا حکم پیغمبر اسلام صلى الله عليه وسلم نے چودہ صدی پہلے دیا اور اس میں جو حکمت کار فرما ہے اس کی تصدیق طبی سائنس داں اس دور میں کر رہے ہیں۔

    ایک خبر ملاحظہ کیجئے : ”جرمن کے طبی ماہرین نے تحقیق کے بعد یہ اخذ کیا ہے کہ انسان کی انگلیوں کے پوروں پر موجود خاص قسم کی پروٹین اسے دست ، قے اور ہیضے جیسی بیماریوں سے بچاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق وہ بیکٹیریا جنہیں ” ای کولائی “ کہتے ہیں ، جب انگلیوں کی پوروں پر آتے ہیں تو پوروں پر موجود پروٹین ان مضر صحت بیکٹیریا کو ختم کر دیتی ہے۔ اس طرح یہ جراثیم انسانی جسم پر رہ کر مضر اثرات پیدا نہیں کرتے، خاص طور پر جب انسان کو پسینہ آتا ہے تو جراثیم کش پروٹین متحرک ہو جاتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ پروٹین نہ ہوتی تو بچوں میں ہیضے ، دست اور قے کی بیماریاں بہت زیادہ ہوتیں“۔
    حدیث شریف:- آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:- جب کوئی کھانا کھائے تو سیدھے "دائیں" ہاتھ سے کھائے اور پانی پیئے تو سیدھے ہاتھ سے پیئے۔
    مسلم شریف
    راوی:- حضرت عمر رضی اللہ عنہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جدید سائنسی تحقیق:-
    سیدھے ہاتھ سے غیر مرئی شعائیں نکلتی ہیں اور الٹے ہاتھ سے بیھ نکلتی ہیں لیکن سیدھے ہاتھ کی شعائیں فائدہ مند ہیں اور الٹے ہاتھ والی شعائیں نقصان دہ ہیں یعنی سیدھے ہاتھ سے شفاء ہے اور الٹے ہاتھ سے کھانے میں بیماریاں پیدا ہوتی ہیں لہذا سیدھے ہاتھ سے کھانا کھانا شفاء کو اپنے اندر ڈالتا ہے



  8. #8
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,867
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    جواب: طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم




  9. #9
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,867
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    جواب: طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم

    بچوں پر کسی بھی چیز کا اثر جلد ہوتا ہے کیونکہ وہ اتنے معصوم ہوتے ہیں کہ اپنی تکلیف کو بھی نہیں بتا سکتے ھیں۔ اس لیے کبھی کبھی بیماریوں سے بھی دوچار ہوجاتے ہیں جن میں نزلہ زکام بھی ایک بیماری ہے۔ نزلہ زکام اکثر چھوٹے بچوں کو گھیرے رہتا ہے، خدانخواستہ اگر آپ کے چھوٹے بچے بھی نزلہ زکام یا کھانسی میں مبتلا ہیں تو اس کے لیے آپ یہ کر سکتے ہیں کہ رات کو سونے سے قبل اپنے بچوں کو ایک چمچہ شہد پلا دیں۔ آپ کے اس عمل سے ان کی کھانسی دور ہوجاتی ہے اور بچے پر سکون نیند سوتے ہیں۔شہد کے متعلق جدید طبی تحقیقایک تازہ ترین طبی تحقیق کے مطابق سینے کی جکڑن اور کھانسی میں شہد سے بہتر کوئی دوا نہیں۔ شہد خراب گلے میں بھی مفید ہے۔ماہرین نے حال ہی میں ایک رپوٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا کہ 6 سال سے کم عمر بچوں کو زکام اور کھانسی کے لیے میڈیسن دینے سے گریز کیا جائے۔ والدین چھوٹے بچوں کو زکام و کھانسی کے لیے متبادل علاج فراہم کریں جن میں سے شہد ایک ہے۔ تاہم ماہرین نے ایک سال اور اس سے کم عمر بچوں کو شہد دینے سے منع کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس سے اس عمر کے بچوں کو فوڈ پوائزنگ کا سنگین خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ شہد میں موجود بیکٹریا ایک سال سے کم عمر بچوں کے معدے کے لیے فائدہ مند نہیں ہوتا۔ تاہم بچوں کو رات میں سونے سے قبل اور سوکر ر اٹھنے کے بعد ایک چمچہ شہد پلانے سے نزلہ و زکام اور کھانسی کی کیفیت میں آرام ملتا ہے



  10. #10
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,867
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    جواب: طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم




صفحہ 1 از 2 12 آخریآخری

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University