محققین کا کہنا ہے کہ زمین کے چاند کی مانند نظامِ شمسی سے باہر ستاروں کےگرد گردش کرنے والے سیاروں کے بھی اپنے چاند ہو سکتے ہیں۔

ان کے مطابق ایسے سیاروں میں سے ہر دس میں سے ایک کا چاند کی طرح کا اپنا سیارہ بھی ہو سکتا ہے۔

ہمارا چاند نسبتاً بڑا ہے اور اس کا سائز زمین کے ایک چوتھائی حصے کے برابر ہے۔ اب تک سمجھا جاتا تھا کہ زمین کے گرد چکر لگانے والے چاند کا وجود اپنے آپ میں انوکھی بات ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ اب ایسا نہیں ہے۔

کمپیوٹر کے ذریعے سیاروں کی تخلیق کے عمل کو دہرا کر تحقیق کاروں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ایسے بڑے دھماکے جس کے نتیجے میں چاند وجود میں آیا تھا عام ہو سکتے ہیں اور چاند جیسے مزید سیاروں کا وجود ہو سکتا ہے ۔

اس تحقیق سے ایسے دوسرے سیاروں کی نشاندہی کرنے میں مدد مل سکتی ہے جو شاید زندگی کے لائق ہوں۔

گزشتہ برس میونخ یونیورسٹی اور امریکہ کی کولاراڈو یونیورسٹی کے تحقیق کاروں نے بھی کمپیوٹر کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کی کہ سیاروں کی تخلیق کس طرح گیس اور پتھروں سے ہوتی ہے۔

خیال ہے کہ چاند کی تخلیق بھی زمین کی تاریخ کے ابتدائی اوائل میں ہوئی تھی جب مریخ کے گرد گھومنے والا ایک سیارہ زمین سے آ ٹکرایا تھا۔ یہ سیارہ زمین کے گرد چکر لگانے لگا جسے بعد میں چاند کہا جانے لگا۔

میونخ یونیورسٹی کے پروفیسر سباستین ایلسر کا کہنا ہے کہ چاند کے حجم کے سیاروں کے اندازوں کے بعد نظامِ شمسی سے باہر موجود سیاروں کا پتہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ چاند کی موجودگی سے زمین کے ماحولیات پر ایسا اثر پڑا ہے جس میں زندگی کی تخلیق آسانی سے ہو سکے۔