اسلامی اقوال

حصول علم کے لیے دِل جمعی درکار ہے اور دِل جمعی معلومات کے بڑھانے سے نہیں گھٹانے سے حاصل ہوتی ہے .

مصائب گناہوں کا نتیجہ ہوتے ہیں . گنہگار کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مصیبتوں کے نزول کے وقت واویلا کرے .

تعلقات دنیا کو کم کرنا یہ ہے کہ آدمی دنیا سے ضروری چیزیں لے لے اور غیر ضروری چھوڑ دے .

جو علم کو دنیا کمانے کے لیے حاصل کرتا ہے علم اس کے قلب میں جگہ نہیں پاتا .


ایمان

ایمان والی عورت کا اصلی زیور سونا چاندی نہیں بلکہ حیا اور پردہ ہے .

انسان چہرہ تو صاف رکھتا ہے جس پر لوگوں کی نظر ہوتی ہے .
مگر دِل کو صاف نہیں رکھتا جس پر اللہ کی نظر ہوتی ہے

دیں کو دِل میں اتارنے کا نام ایمان ہیں .

پریشانی
تذکرہ کرنے سے بڑھتی ہے
خاموش رہنے سے کم ہوجاتی ہے
صبر کرنے سے ختم ہو جاتی ہے
اور
اللہ کا شکر ادا کرنے سے خوشی میں بَدَل جاتی ہے .


صبر

دکھ میں کبھی پچھتاوے کے آنسو ںہ بہاو ، بلکہ یہ سوچو کے تم وه خوش نصیب ہو جسے اللہ نے آزمائش کے قابل سمجھا

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
بخیل اللہ سے دور ہے جنت سے دور ہے لوگوں سے دور ہے اور دوزخ سے نزدیک ہے۔
حضرت علی ہجویری
بندے کی بہتری خدا بندے سے بہتر جانتا ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ
حرام کاموں سے نفس کو روکنا بھی صبر کی دوسری قسم ہے۔

گفتار

خاموشی عظیم نعمت ہے بِالْخُصُوص اس مقام پر جہاں اختلاف ذیادہ آوازیں بلند ، علم کی کمی اور دلیل کی کوئی اوقات نا ہو .

ارشاد نبوی ﷺ
شیطان آدمی کے بھیس میں کام کرتا ہے۔ وہ لوگوں کے پاس آکر جھوٹی باتیں بیان کرتا ہے۔ پھر لوگ جدا ہو جاتے ہیں یعنی مجلس ختم ہوجاتی ہے اور لوگ منتشر جاتے ہیں۔ تو ان میں سے ایک آدمی کہتا ہے کہ میں نے یہ بات ایک آدمی سے سنی ہے۔ جس کا چہرہ پہچانتا ہوں۔ لیکن کام نہیں جانتا (بلا تحقیق کو پھیلانا)۔
جھوٹ بولنا کسی حال میں بھی جائز نہیں۔ نہ تو سنجیدگی کے ساتھ اور نہ ہی مذاق پر، اور یہ بھی جائز نہیں کہ تم میں سے کوئی اپنے بچے سے کسی چیز کے دینے کا وعدہ کرے اور پھر پورا نہ کرے۔
باتونی ہونا ترقی کے کے لئے بھاری رکاوٹ ہے۔


متفرق اقوال

ہمیں مسائل کو ایک ہے نقطہ نظر کے بجائے مختلف پہلوؤں سے دیکھنا چاہیے .

سو طرح کے پھولوں کو اپنی بہار دکھانے دو ، سو طرح کے افکار کو مقابلہ کرنے دو خوشبو وہی حاوی ہو گی جو بہتر ہے رنگ وہی غالب آئے گا جو حقیقی ہے .

کسی چیز کی ترقی کی بنیاد خارجی نہیں بلکہ داخلی ہے .

ایک شخص پہاڑ کے دامن میں زندگی بسر کر رہا تھا . پہاڑ کی وجہ سے اس کے گھر میں دھوپ نہیں آ سکتی تھی اس شخص نے پہاڑ کو اس جگہ سے ہٹانے کا عزم کر لیا اور اپنی قوت بازو سے شب روز اس پہاڑ کو کاٹنے لگا . کسی شخص نے وجہ پوچھی تو اس نے بتایا جب تک یہ پہاڑ یہاں کھڑا ہے ہمارے یہاں دھوپ نہیں آ سکتی . لیکن کیا تم اتنے بڑے پہاڑ کو اکھاڑ سکتے ہو ؟
میں زندگی بھر اِس پہاڑ کو کاٹتا رہوں گا . اگر پِھر بھی یہ نا کٹ سکا تو میری آنے والی نسلیں اسے یونہی کاٹتی رہیں گی . ایک نہ ایک دن یہ پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ جائے گا اور ہمارے یہاں دھوپ آنے لگے گی .