آج کا دور سائنس کا دور مانا جاتا ہے ۔ اور آج کے اس جدید اور سائنسی دور میں جہاں ہر چیز کو بڑا باریک بینی سے پرکھا جاتا ہے وہاں اسلام کی قدر و قیمت اور بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ اسلام میں قیامت تک آنے والے ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔ اور اسلام میں ایسا کوئی مسئلہ کہ جس کا حل موجود نہ ہو کہنہ نا ممکن سی بات ہے۔ کیونکہ اسلام ایک مکمل دین حیات ہے اور آج کا سائنسی دور بھی اسلام کی کسی بھی بات کو نہ جھٹلا سکا ہے اور نہ ہی جھٹلا سکتا ہے۔۔
آج کا دور سائنس کی ارتقاۃ کا دور ہے اور اسلام کی صحیح معنوں میں تشریح موجودہ دور کے حوالے سے ہونی چاہئے ۔ اور دین اسلام میں ہر دور کے حوالے سے اس دور کے مسائل اور ان کا حل موجود ہوتا ہے اور اب دین اسلام کی تکمیل ہو چکی ہے ۔ اور اب قیامت تک آنے والے ہر دور کی وضاحت کر دی گئی ہے۔
قران پاک میں متعدد مقامات پر اسلام اور سائنس کا اکٹھا ذکر آیا ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو ہر دور میں مختلف علوم کے سمجھنے اور ان علوم کو دوسرے مسلمانوں تک پہنچانے اور ان علوم سے لوگوں کو فائدہ پہنچانے پر زور دیا ہے۔
مغربی سکالرز کی ریسرچ سے یہ بات ثاپت ہو چکی ہے کہ جتنی ترقی سائنسی علوم کو مسلمان سائنس دانوں نے دی ہے وہ آج تک کوئی اور نہیں دے سکا ۔ اور آج جتنی بھی ریسرچ ہو رہی ہیں وہ ان مسلم سائنس دانوں کی مرہون منت ہے۔ تو یہ کہنہ کہ اسلام کا اور جدید سائنس کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہےتو بجا نہ ہو گا ۔ آج کے مسلمان کو غلط معلومات دے کر سائنس اور اسلام کو الگ الگ کر کے گمراہ کیا جا رہا ہے
ان دونوں کو کچھ اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ سائنس کا موضوع ‘‘علم’’ اور جبکہ مزہب کا موضوع ‘‘ ایمان ’’ ہے مطلب سائنس اسلام کا ایک جزو ہے اور سائنس میں غلطی کی گنجائش ہے لیکن دین اسلام میں بلاشبہ غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
آج کی سائنس مسلمان کے ایمان کو بدل نہیں سکتی حتیٰ کے اسلام کے کسی عقائد کو مسلمانوں کو منافی قرار نہیں دے سکتی اور یہ سارے اقدار نبی کریم ﷺ کے دور سے اب تک نہ بدلے ہیں اور نہ ہی بدلے جاسکتے ہیں کیونکہ اللہ تعالی قران میں ارشاد فرماتا ہے کہ ‘‘ اے ایمان والو کے حضور ﷺ تمہیں جو دے دیں اسے لے لو اور جس سے منع کر دیں اس کو چھوڑ دو‘‘
تمام باتوں سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ جدید سائنس اور اسلام کا کو ئی تصادم نہیں ہے بلکہ لوگوں کی محض غلط فہمی اور اسلام کے بارے میں معلومات میں کمی کی وجہ سے ہے ۔ لہزا ہمیں اس کی مخالفت کرنے کی بجائے اس کو کا علم حاصل کرنا چائیے اور اس سے دوسری انسانیت کی مدد کرنی چاہیے ۔


صمد اسلم خان