نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: گالیوں کا مقدمہ ۔

  1. #1
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    گالیوں کا مقدمہ ۔

    ایک دکان پر دو تین لڑکےبیٹھے تھے۔ ان کےقریب سے ایک قادیانی گزرا۔انھوں نےاسے سنانے کے لئےمرزا کودو تین گالیاں نکال دیں۔
    یہ واقعہ ہے اوکاڑہ شہرکا اورپاکستان بننے سےپہلےکاہے۔اس وقت انگریزحکومت قادیانیوں کا پوراپوراساتھ دیتی تھی۔اس قادیانی نے مسلمان لڑکوں کے خلاٖف عدالت میں ہتک عزت کا دعویٰ کر دیا۔اس پر اوکاڑہ کے مسلمانوں نے مجلس احرار لاہور کے دفتر کو خط لکھ کر ساری صورتحال بتائی اور درخواست کی کہ ان کی مددکے لیےدفتر سے کسی کو بھیجا جائے۔جو عدالت میں ہماری مدد کر سکے۔
    حضرت عطا اللہ شاہ بخاریؒ نے مولانا محمد حیاتؒ کو حکم دیا۔آپ اوکاڑہ چلےجائیں اور اس کیس کی پیروی کرے۔مولانا حیات اوکاڑہ پہنچ گئے۔دوستوں سے ملاقات کی۔سارے کیس کا مطالعہ کیا۔پھر ایک وکیل کی خدمات حاصل کیں۔اسے کتابیں دکھائیں حوالے دکھائےاور یہ بھی بتایا کہ مرزا نے مسلمانوں کو کیا کیا گالیاں دی ہیں۔
    مقررہ تاریخ کو عدالت لوگوں سے کھچاکھچ بھر گئی۔سب لوگ مقدمے کی کاروائی کو سننا چاہتے تھے۔مولاناحیاتؒ صاحب نے وکیل کی جو تیاری کروائی تھی ۔ وہ سب یونہی رہ گئی۔وکیل اس طرف آیا ہی نہیں،بلکہ اس نے عدالت میں اس قادیانی سے یہ کہا۔
    آپ بتائیں!ان لوگوں نے مرزا کو کون سی گالی دی ہے۔
    قادیانی کو یہ سن کر سکتہ ہوگیاکہ وکیل نے یہ کیا سوال کردیا اور مجسٹریٹ منہ پر رومال رکھ کر مسکرانے لگا کہ وکیل نے کیا خوب سوال کیا ھے۔آخر تنگ آکر مرزائی نے کہا۔
    مجھے یاد نہیں کہ کونسی گالی نکالی تھی۔
    اس پر وکیل نے کہا: کوئی بات نہیں ،میں گالیاں نکالتا ہوں،آپ سنتے جائیں،جب وہ گالی آئے مجھےبتادیں:
    وکیل نے ایک ہی سانس میں مرزائی کو کئی گالیاں نکال دیں،پھر اس نے قادیانی سے پوچھا:کیا ان گالیوں میں وہ گالی آئی ہے، جو ان لڑکوں نے نکالی ہے۔
    قادیانی نے پھر کہا : مجھے یاد نہیں
    اس پر وکیل نے کہا: تو پھر اور گالیاں سنو،اس مرتبہ وکیل نے پوری 51 گالیاں نکال دیں۔مجسٹریٹ اور تمام حضرات بری طرح ہنس رہے تھے۔بس مرزائی ساکت کھڑا تھا۔اس کا رنگ فق تھا۔اب پھر وکیل نے کہا۔ان میں سے کوئی گالی آئی ہے۔؟ اس نے پھر کہا مجھے یاد نہیں۔اب وکیل نے کہا ۔ میں اور گالیاں یاد کر کہ آوں گا۔ آپ کل کی تا ریخ دےدیں،اسے بھی شاید کل تک وہ گالی یاد آجائے۔
    دوسرے دن جب وکیل اور مسلمان عدالت میں پہنچے تو قادیانی وہاں موجود نہیں تھا۔مجسٹریٹ نے مسلمانوںکو بتایا: کہ وہ کل ہی درخواست دے گیا تھا کہ ہم اپنا کیس واپس لیتے ہیں۔اس طرح مسلمان وہ کیس جیت گئے۔
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    تانیہ (10-10-2013)

  3. #2
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,868
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    جواب: گالیوں کا مقدمہ ۔

    ہاہا زبردست



آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University