نتائج کی نمائش 1 تا: 10 از: 10

موضوع: اسلام اور راولپنڈی کا المناک حادثہ

  1. #1
    رکنِ خاص سید انور محمود کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Apr 2012
    پيغامات
    754
    شکریہ
    198
    388 پیغامات میں 628 اظہار تشکر

    اسلام اور راولپنڈی کا المناک حادثہ

    16 نومبر 2013
    اسلام اور راولپنڈی کا المناک حادثہ
    تحریر: سید انور محمود
    اسلام سے قبل دنیا اندھیری تھی، ہر طرف ظلم وجبر کا دور دورہ تھا، امن وامان نام کی کوئی چیز موجود نہ تھی۔ کبھی وطنیت و قومیت کی آڑ میں تو کبھی رنگ ونسل کے نام پر اورکبھی زبان و تہذیب کے نام پر انسانیت کو ٹکڑوں میں بانٹ دیاگیا تھااور ان ٹکڑوں کو باہم اس طرح ٹکرایا گیا تھا کہ انسانیت چیخ اٹھی تھی، بدقسمتی سے آج پاکستان میں وہی سب کچھ ہورہا ہے۔ راولپنڈی کے المناک حادثے اور مسلسل پاکستان میں ہونے والی قتل و غارت گری کو سامنے رکھ کر اگر آپ اسلام سے قبل کی تاریخ کا مطالعہ کریں گے تو اندازہ ہوگا کہ پوری دنیا بدامنی و بے چینی سے لبریز تھی، وہ پسماندہ علاقہ ہو یا ترقی یافتہ اور مہذب دنیا، روم وافرنگ ہو یا ایران وہندوستان، عجم کا لالہ زار ہو یا عرب کے صحرا و ریگزار، ساری دنیا بدامنی و بے چینی کی آگ میں لپٹی ہوی تھی۔ آج کا پاکستان شاید اُسی تاریخ کو دہرا رہا ہے۔ اسلام سے قبل بہت سے مذہبی پیشواؤں اور انسانیت کے علمبرداروں نے اپنے اپنے طورپر امن ومحبت کے گیت گائے اور اپنے اخلاقی درس سے اس آگ کو سرد کرنے کی کوشش کی جس کے خوشگوار نتائج بھی سامنے آئے مگر اس عالمی آتش فشاں کو پوری طرح ٹھنڈا نہیں کیا جاسکا۔

    جس معاشرہ کا امن بکھرتا ہے اس کی پہلی زد انسانی جان پر پڑتی ہے۔ اسلام سے قبل انسانی جانوں کی کوئی قیمت نہ تھی مگراسلام نے انسانی جان کو وہ عظمت و احترام بخشا کہ ایک انسان کے قتل کو ساری انسانیت کا قتل قرار دیا۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    ترجمہ: ”اسی لئے ہم نے بنی اسرائیل کے لئے یہ حکم جاری کیا کہ جو شخص کسی انسانی جان کو بغیر کسی جان کے بدلے یا زمینی فساد برپا کرنے کے علاوہ کسی اور سبب سے قتل کرے اس نے گویا ساری انسانیت کاقتل کیا اور جس نے کسی انسانی جان کی عظمت واحترام کو پہچانا اس نے گویا پوری انسانیت کو نئی زندگی بخشی۔“[المائدہ:۳۲]

    انسانی جان کا ایسا عالم گیر اور وسیع تصور اسلام سے قبل کسی مذہب و تحریک نے پیش نہیں کیا تھا۔ اسی آفاقی تصور کی بنیاد پر قرآن اہل ایمان کو امن کا سب سے زیادہ مستحق اور علمبردار قرار دیتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    ترجمہ: ”دونوں فریقوں (مسلم اور غیرمسلم) میں امن کا کون زیادہ حقدار ہے؛ اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ جو لوگ صاحب ایمان ہیں اور جنھوں نے اپنے ایمان کو ظلم وشرک کی ہرملاوٹ سے پاک رکھا ہے امن انہی لوگوں کے لئے ہے اور وہی حق پر بھی ہیں۔“[الانعام:۸۱،۸۲]

    اسلام قتل و خونریزی کے علاوہ فتنہ انگیزی، دہشت گردی اور جھوٹی افواہوں کی گرم بازاری کو بھی سخت ناپسند کرتا ہے وہ اس کو ایک جارحانہ اور وحشیانہ عمل قرار دیتاہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    ترجمہ: ”اصلاح کے بعد زمین میں فساد برپا مت کرو“[الاعراف:۵۶]
    ترجمہ: ”اللہ تعالیٰ فسادیوں کو پسند نہیں کرتا۔۔“[القصص:۷۷]

    اسلام نے پہلی بار دنیا کو امن ومحبت کا باقاعدہ درس دیا اوراس کے سامنے ایک پائیدار ضابطہٴ اخلاق پیش کیا جس کا نام ہی ”اسلام“ رکھا گیا یعنی دائمی امن وسکون اور لازوال سلامتی کا مذہب“ یہ امتیاز دنیا کے کسی مذہب کو حاصل نہیں، اسلام نے مضبوط بنیادوں پر امن وسکون کے ایک نئے باب کاآغاز کیا اور پوری علمی و اخلاقی قوت اور فکری بلندی کے ساتھ اس کو وسعت دینے کی کوشش کی، آج دنیا میں امن وامان کا جو رجحان پایا جاتا ہے اور ہر طبقہ اپنے اپنے طورپر سکون کی تلاش میں ہے یہ بڑی حد تک اسلامی تعلیمات کی دین ہے۔ امن ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ قرآن نے اس کو عطیہٴ الٰہی کے طور پر ذکر کیا ہے۔

    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”صاحب ایمان“ کی علامت یہ قرار دی ہے کہ اس سے کسی انسان کو بلاوجہ تکلیف نہ پہنچے- حضرت ابوہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:
    ”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں اور مومن وہ ہے جس سے لوگوں کے جان ومال کو کوئی خطرہ نہ ہو۔“[ترمذی: حدیث نمبر ۲۶۲۷]

    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصبیت وتنگ نظری کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا:
    ”وہ ہم میں سے نہیں؛ جو عصبیت کی طرف بلائے اور جو عصبیت کی بنیاد پر قتال کرے“ [ابوداؤد: کتاب الآداب، باب العصبة، حدیث نمبر ۱۵۲۱]

    میں اپنے تمام پاکستانی مسلمان بھائیوں سے گزارش کروں گا کہ آپ خود سے بھی اسلام کو سمجھیں اور کسی اچھے عالم سے سمجھیں پھر آپ کو پتا چلے گا کہ اسلام کتنا امن پسند مذہب ہے کہ جو انسان کی اتنی عزت کرتا ہے تو مسلمان کی کتنی کرتا ہو گا مگر چند لوگوں نے اسلام کا اتنا غلط زاویہ لوگوں کے سامنے پیش کیا ہے کہ ہم نے اسلام کو تعصب کا دین سمجھ لیا ہے۔ ہمارا ملک جو اس وقت انتشار میں گھرا ہوا ہے اور ہم سنی، شیعہ، وہابی اوردیوبندی تقسیم سے باہر نہیں نکل پارہے ہیں اور اس کو ہوا دینے والے کون ہیں جو اس وطن کے دشمن ہیں۔ خدارا راولپنڈی میں جو کچھ ہوا ہے اُس کو آگے نہ بڑھایئے، یہی اسلام اور پاکستان کی خدمت ہوگی۔ اللہ پاک ہمیں سمجھ عطا فرمائے آمین۔
    سید انور محمود

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے سید انور محمود کا شکریہ ادا کیا:

    ایم-ایم (11-17-2013),تانیہ (11-17-2013)

  3. #2
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,924
    شکریہ
    952
    882 پیغامات میں 1,109 اظہار تشکر

    جواب: اسلام اور راولپنڈی کا المناک حادثہ

    ایک دو کی آنکھ پھوٹی ایک دو کا سر کھلا
    لو خطیبِ شہر کی تقریر کا جوہر کھلا۔۔۔۔
    میں کہتی ہوں مولوی صاحب اگر اپنا یہ درس کسی اور وقت کے لیے رکھ لیتے ہدایت و رہنمائی کا یہ فریضہ کسی اور وقت انجام دے لیتے تو ایسا کبھی نہ ہوتا
    بہت دل دکھ رہا اس واقعے پہ کیا ہو گیا ہمارے لوگوں کو کیا ہو رہا ہمارے پاکستا ن میں ، یہ شرمناک ہے ، جاہلیت ہے ، ہمارے لوگ آپس میں ہی الجھ رہے لیکن نہیں جو ایسا کر رہے وہ ہمارے اپنے نہیں وہ شرپسند ہے وہ اسلام سے تعلق نہیں رکھتے انکا کام اسلام کا اصل چہرہ مسخ کرنا ہے دنیا کے سامنے اور ان شاءاللہ ایسے لوگ ہمیشہ ناکام رہینگے ۔۔اللہ تعالی رحم کرے میرے ملک پہ اور ہماری حالت پہ رحم فرمائے تمام مسلمانوں و پاکستانیوں کو آپسی اتحاد و اتفاق اور بھائی چارے کی دولت عطا فرمائے ۔۔۔آمین
    آخری ادارت منجانب تانیہ : 11-17-2013 وقت 04:45 PM



  4. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے تانیہ کا شکریہ ادا کیا:


  5. #3
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Dec 2010
    مقام
    کراچی
    پيغامات
    393
    شکریہ
    65
    55 پیغامات میں 107 اظہار تشکر

    جواب: اسلام اور راولپنڈی کا المناک حادثہ

    السلام علیکم!
    سید صاحب! اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر دے۔ اس وقت جو سب سے بڑی جہالت ہے ہمارے اندر وہ یہی ہے کہ ہم اپنے دین کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔
    اسلام واقعتاً امن و سلامتی کا دین ہے، یہ ایک دوسرے سے محبت و بھائی چارے کا درس دیتا ہے ۔
    راولپنڈی کا واقعہ ایک المناک حادثہ ہے، ہمارے ملک میں ہر سال محرم الحرام کے موقع پر ایسے ناخوشگوار واقعات پیش آتے ہیں جس کے لیے ہر حکومت دعوی کرتی ہے کہ اس کے انتظامات مکمل ہیں۔
    لیکن پھر بھی ایسی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے معصوم مسلمانوں کی جانیں ضایع ہوجاتی ہیں۔
    اس سلسلہ میں جہاں حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے وہاں اس بات کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ جس طرح ہم اپنے آپ کو مسلمان اور سرکارِ دو عالم سیدنا و مولانا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی کہتے ہیں ، اسی طرح ہمیں اس دین پر اُسی طرح عمل پیرا ہونا پڑے گا جیسا کہ ہمیں بتایا گیا ہے۔ جب تک ہم اس طریقے پر نہیں چلیں گے جس کی تعلیم ہمیں دی گئی ہے اور جس پر عملاً زندگی گزار کر اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک راستہ دکھادیا ہے اس وقت تک ہمارا نہ جلسہ قبول، نہ جلوس قبول، نہ نماز قبول ، نہ کوئی اور عبادت۔ اس لیے کامیابی اور امن و سلامتی کا اگر کوئی راستہ ہے تو وہ صرف اس طریقے میں ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی لسانِ مبارک سے ہم تک پہنچادیا ہے۔
    صحابہ کرام معیار حق ہیں، اللہ تعالی نے ان سے رضا کا اعلان فرمادیا ہے اور قرآن کریم میں ’’رضی اللہ عنہم‘‘ کا سرٹیفیکیٹ عطا فرمادیا ہے ،اب رہتی دنیا تک کے لیے یہ اعلان کیا جاچکا ہے کہ ان جیسا ایمان ہوگا تو قابل ہوگا وگرنہ تو خسارا ہی خسارا ہے۔
    پاکستان میں باہمی رواداری اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے لیے بندہ کی چند تجاویز ہیں ، اُمید ہے آپ حضرات بھی اس سے اتفاق کریں گے۔
    1) ۔۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور اس کا اپنا ایک آئین موجود ہے جو کہ 70ء کا آئین کہلاتا ہے، اس آئین میں مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام کی مشاورت سے اسلامی دفعات شامل ہیں ، آئین میں موجود ان اسلامی شقوں پر عمل در آمد کرادیا جائے اور اس کو ملک میں موجود دیگر قوانین کی طرح نافذ کردیا جائے تو مسلمانانِ پاکستان میں موجود بے چینی اور اضطراب کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔
    ۲) ۔۔ پاکستان میں رہائش پذیر مختلف مذاہب کے لوگوں کو عبادت کرنے کی آزادی ہے، اس لیے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ عبادت کو عبادت گاہوں میں کرنا چاہیے ایسی صورتحال سے اجتناب کی ضرورت ہے جس سے ملک کے اندر امن و امان متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔
    ۳) ۔۔ انسان اپنی ذات پر تبرا بازی برداشت کرلیتا ہے لیکن جب کھلے عام اپنے بڑوں اوربڑے بھی ایسے جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا مندی کا اعلان فرمادیا ہو اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ‘‘اصحابی کالنجوم‘‘ (میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں) فرمادیا ہو کو (نعوذبا للہ من ذالک) براکہا جائے، گالیاں دی جائیں، امہات المؤمنین کو گالیاں دی جائیں تو یقیناً یہ کسی بھی صاحب ایمان شخص سے برداشت نہیں ہوگا، اس لیے ایسی تمام تحریریں، تقریریں قابل گرفت قرار دی جائیں جس میں اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور امہات المؤمنین کو گا لیاں دی جاتی ہوں اور ان پر پابندی لگادی جائے تاکہ ان مبارک ہستیوں کو اپنا بڑا ماننے والوں کے جذبات مجروح نہ ہوں۔
    ۳) ۔۔ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ ایسے تمام چینلز اور میڈیا کے نمائندوں پر پابندی لگادی جائے جو فرقہ واریت اور مذاہب کے درمیان آگ بھڑکانے کا کام کرتے ہیں ۔ میڈیا کو ذمہ دار ادارہ بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام الناس تک پہنچنے والی خبریں بجائے آگ لگانے کے ملکی استحکام اور پاکستانی عوام کے درمیان پیدا شدہ غلط تاثرات کو ختم کرکے ملک میں امن و امان کے قیام میں مدد دے سکے۔
    امید ہے کہ ان اقدامات سے پاکستان میں امن و امان قائم ہوگا اور ایسے واقعات کی روک تھام میں مدد مل سکے گی ۔
    آخری ادارت منجانب سرحدی : 11-18-2013 وقت 11:35 AM


    -------------------------
    اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
    ہم نے تو دل جلاکے سرِ راہ رکھ دیا
    ---------------------

  6. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 3 اراکین نے سرحدی کا شکریہ ادا کیا:

    aliimran (11-18-2013),سید انور محمود (11-18-2013),تانیہ (11-18-2013)

  7. #4
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Dec 2010
    مقام
    کراچی
    پيغامات
    393
    شکریہ
    65
    55 پیغامات میں 107 اظہار تشکر

    جواب: اسلام اور راولپنڈی کا المناک حادثہ

    محترمہ تانیہ صاحبہ!
    آپ نے اپنے مضمون میں ابتداءً جو شعر لکھا اور پھر اپنے مضمون کی ابتدا کی ہے تو اس سلسلہ میں عرض ہے کہ یہ بھی ایک سازش ہے اور اس کارروائی کو جواز فراہم کرنے یا اپنے گناہوں پر پردہ ڈالنے کی ایک کڑی ہے جس کے ذریعہ سے عوام کو کہا جائے کہ قصور ہمارا نہیں بلکہ اس خطیب کا ہے جو جمعہ کے دن تقریر کررہا تھا۔ یہاں پر میں اس بات کی وضاحت کردوں کہ ایسی کوئی بات نہیں بلکہ اس مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے آنے والے نمازیوں نے خود کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں کی گئی جس سے اس قدر جذبات بھڑکے ہوں ، بلکہ انتظامیہ نے تو لاوڈ اسپیکر بھی بند کرادیا تھا پھر کیا وجہ تھی کہ واقعہ رونما ہوگیا۔
    مزید عرض ہے کہ چلیں میں آپ کی بات کو تسلیم کرلیتا ہوں کہ اگر خطیب صاحب نے کوئی بات ایسی کی بھی ہو تو اس کی یہ سزا کہ مسجد کو جلادیا جائے، بچوں کو ذبح کردیا جائے ، نمازیوں کہ گلے میں رسیاں ڈال کر انہیں راجہ بازار کی سڑکوں پر گھسیٹا جائے اور پھر انہیں آگ لگادی جائے، جائز ہے؟؟ میں بات کو فرقہ واریت کی نظر نہیں کرنا چاہتا ، اور آپ سے بھی دست بستہ عرض کرتا ہوں کہ خدارا میری بات کو فرقہ واریت پر مبنی نہ سمجھا جائے ۔ اگر ایسی کوئی بات تھی بھی تو اپنے جلوس کو کنٹرول کرکے حکومت وقت سے مطالبہ کرتے، انتظامیہ سے مطالبہ کرتے، عدالت کا دروازہ کھٹکٹاتے، کیس دائر کرکے حکومت وقت اور عوام الناس کو کہتے کہ جی ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر اور صرف (بقول آپ کے) تقریر پر اتنا طیش میں آجانا کیا غیر اسلامی، غیر قانونی اور غیر انسانی فعل نہیں؟؟
    خدارا! اصل مسئلہ کی طرف سوچیں ، پاکستان کے دشمن بہت ہیں ، دوست بہت کم ہیں ہمیں اپنے حالات کو خود سوچنا اور سدھارنا ہوگا، ہمیں وہ کچھ کرنے کی ضرورت ہے جس سے پاکستان میں استحکام آئے، مسلمانِ پاکستان محفوظ ہوں اور ایسی تمام سازشوں کو ناکام بنادیں جس سے اسلام اور پاکستان کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔


    -------------------------
    اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
    ہم نے تو دل جلاکے سرِ راہ رکھ دیا
    ---------------------

  8. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 3 اراکین نے سرحدی کا شکریہ ادا کیا:

    aliimran (11-18-2013),سید انور محمود (11-18-2013),تانیہ (11-18-2013)

  9. #5
    منتظم اعلی
    تاريخ شموليت
    Feb 2013
    پيغامات
    234
    شکریہ
    291
    119 پیغامات میں 184 اظہار تشکر

    جواب: اسلام اور راولپنڈی کا المناک حادثہ

    میں تمام احباب کا شکریہ ادا کرتا ہوں اس سب گفتگو پر۔
    اسلام تحمل اور برداشت کا دین ہے محرم الحرام کے جلوسوں کو امام بارگاہوں تک محدود رکھنا آئین میں کہیں نہیں لکھا اور جس قدر تعداد میں لوگ اس میں شامل ہوتے ہیں اسے مام بارگاہوں تک محدود رکھنا ممکن بھی نہیں۔ تو کیا اس سے زیادہ یہ بہتر نہیں کہ پر امن طور پر ان جلوسوں کو راستہ دیا جائے۔ ایسے ہی میلاد شریف کے جلوس نکالے جاتے ہیں اور جس قدر بریلوی مکتبہ فکر کے پاکستان میں اکثریت ہے ان جلوسوں کو مساجد تک محدود کرنا ممکن نہیں ۔ اس وقت ملک کی 70 فیصد آبادی بریلوی مکتبہ فکر کی ہے 20 فیصد شیعہ اور صرف 10 فیصد ایسے لوگ جن کا مطالبہ ہے کہ اس سب کو محدود کر دیا جائے تو کیا یہ پاکستانی عوام سے ظلم نہیں کہ 10 فیصد کی رائے کو 90 فیصد کی رائے پر مسلط کیا جائے؟
    اور آئین میں یہ کہاں لکھا ہے کہ ہر شخص کو عبادت کی کھلی چھٹی ہے مگر صرف عبادتگاہوں تک؟ ہمارے یہاں تو سکھوں کو بھی پالکی کا جلوس نکالنے کی چھٹی ہے۔ اس لئے فقط 10 فیصد طبقہ کو پاکستانی عوام پر مسلط مت کریں۔
    اس کے علاوہ آپ نے جو راولپنڈی کے واقعہ کے حقائق پیش کرنے کی کوشش کی یہ سوشل میڈیا سے متاثرہ لگتے ہیں۔ حقیقتاً کسی کا گلہ کاٹنے یا رسیاں ڈال کر گھسیٹنے کا واقعہ پیش نہیں آیا گو کہ یہ انتہائی قابل مذمت واقعہ ہے جس کی تفتیش کے بعد مجرموں کو سزا دینی چاہیے اور کسی کو چھوڑنا نہیں چاہیے لیکن اس واقعہ کی آڑ لے کر لوگوں میں اشتعال پھیلانے کے لئے سوشل میڈیا کی طرح غلط دعوے نہیں کریں۔ یہاں مسئلہ صرف لاؤڈ سپیکر کا نہیں تھا بلکہ مسجد کی چھٹ سے باقاعدہ پتھر برسائے گئے اور فائرنگ بھی ہوئی وڈیو نیٹ پر موجود ہیں انتظامیہ کے کسی قسم کا ایکشن نہ لینے کی وجہ سے لوگ مشتعل ہوئے اور انہوں نے قانون کو ہاتھ میں لیا۔ جو لوگ اس میں ملوث ہیں ان کو سزا ملنے کا مطالبہ کریں نہ کہ غلط اعداد و شمار اور سوشل میڈیا نیوز سے سنسنی اوراشتعال پھیلانے کی۔
    جو بھی مجرم ہے چاہے وہ شیعہ ہے یا 10 فیصد طبقے کا کوئی رکن (میرے نزدیک سنی لفظ لکھنا درست نہیں کیونکہ 70 فیصد اہل سنت بریلوی طبقے نے ان 10 فیصد سے لا تعلقی ظاہر کر دی ہے) ان کو واقعی سزا ملنی چاہیے۔ رپورٹ کا انتظار کریں اور مزید سنسنی پھیلانے سے گریز کریں۔
    شکریہ
    نحن عشاق الحسین ع
    اگر آپ حق پر کھڑے ہیں توآپ کو چلا کربات کرنے کی ضرورت نہیں
    اور اگر آپ حق پر نہیں ہیں تو چلا کربات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں


  10. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے aliimran کا شکریہ ادا کیا:

    سید انور محمود (11-18-2013),تانیہ (11-18-2013)

  11. #6
    رکنِ خاص سید انور محمود کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Apr 2012
    پيغامات
    754
    شکریہ
    198
    388 پیغامات میں 628 اظہار تشکر

    جواب: اسلام اور راولپنڈی کا المناک حادثہ

    اسلام علیکم
    محترمہ تانیہ صاحبہ، محترم سرحدی صاحب اور محترم علی عمران صاحب
    آپ تینوں کا تبصرہ کرنے کا شکریہ، میرا یہ مضمون لکھنے کا مقصد صرف اور صرف ایک ہے کہ میرئے گھر میں آگ لگی ہوئی ہے وہ بجھ جائے کہیں یہ بڑھ نہ جائے۔ ہمارئے جو بھی جذبات ہیں وہ اپنے وطن کو بچانے کےلیے ہیں۔ اللہ تعالی آپ تینوں کو خوش رکھے۔
    میں یہ کس کے نام لکھّوں جو الم گزر رہے ہیں
    مرے شہر جل رہے ہیں مرے لوگ مر رہے ہیں
    کوئی غنچہ ہو کہ گُل ہو کوئی شاخ ہو شجر ہو
    وہ ہوائے گُلستاں ہے کہ سبھی بکھر رہے ہیں
    کبھی رحمتیں تھیں نازل اسی خطّہء زمیں پر
    وہی خطہء زمیں ہے کہ عذاب اتر رہے ہیں
    وہی طائروں کے جھرمٹ جو ہَوا میں جھولتے تھے
    وہ فضا کو دیکھتے ہیں تو اب آہ بھر رہے ہیں
    بڑی آرزو تھی ہم کو نئے خواب دیکھنے کی
    سو اب اپنی زندگی میں نئے خواب بھر رہے ہیں
    کوئی اور تو نہیں ہے پس ِ خنجر آزمائی
    ہمیں قتل ہو رہے ہیں ، ہمیں قتل کر رہے ہیں
    "عبیداللہ علیم "
    سید انور محمود

  12. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے سید انور محمود کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (11-23-2013)

  13. #7
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Feb 2012
    پيغامات
    124
    شکریہ
    0
    25 پیغامات میں 27 اظہار تشکر

    جواب: اسلام اور راولپنڈی کا المناک حادثہ

    پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد اور امریکی موقف

    ہم پاکستان میں حاليہ فرقہ وارانہ تشدد میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کے اہل خانہ کے ساتھ دلی ہمدری اور تعزيت کرتے ہيں۔ ہم پاکستان ميں جاری تشدد کے بارے ميں کافی فکرمند ہيں۔ ہم پاکستان اور دنيا کے کسی بھی ملک ميں مذہب کے نام پر ہونے والے اسطرح کے پر تشدد حملوں کی بھرپور مذمت کرتے ہيں۔ تنگ نظری، عدم برداشت, مذہبی انتہا پسندی اور مذہبی تہواروں اور عبادت گاہوں پر
    اسطرح کے حملے پاکستان کی سماجی، ثقافتی اور مذہبی اقدار کے بالکل منافی ہيں اور پاکستانی عوام کے خوشحال، مستحکم، اور محفوظ مستقبل کيلۓ ايک خطرہ ہيں ۔

    DOT Banner Pindi 1.jpg


    امريکہ پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر گہری نظر رکھتا ہے۔ امريکی حکومت پاکستان ميں اقليتوں کے حقوق اور زندگيوں کی حفاظت کيلۓ حکومتی اقدامات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور معاشرے ميں مذہبی رواداری کے فروغ کے ليےحکومت کيطرف سے ٹھوس اقدامات لينے کی خواہاں ہے۔ ہم پاکستان کيساتھ ہميشہ اپنے جاری مذاکرات ميں باقاعدگی سے علاقائی سلامتی، انتہاپسندی، مذہبی رواداری اور انسانی حقوق کے مسائل پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے رہتے ہيں۔

    DOT Banner Pindi 2.jpg

    پاکستانی عوام کو چاہيۓ کہ ان انتہاپسندوں اور انکے حقيقی عزائم کو سختی سے مسترد کريں جو مذہب کے نام پر اپنے شيطانی سياسی عزائم کے حصول کيلۓ سادہ لوح عوام کو اکسا کر مزيد معصوم زندگيوں کو اپنے اس گھناؤنے کھیل کا شکار بنارہے ہيں ۔

    تاشفين – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    tashfin28@gmail.com
    www.state.gov
    https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu
    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

  14. #8
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,924
    شکریہ
    952
    882 پیغامات میں 1,109 اظہار تشکر

    جواب: اسلام اور راولپنڈی کا المناک حادثہ

    مسٹر تاشفین جی آج ہی ہنگو میں ہونے والے اس ڈرون حملے مطلب امریکی دہشت گردی کے بارے آپکا امریکا کیا کہتا ہے

    ہنگو کی تحصیل ٹل میں مدر سے پر ڈرون حملے میں 5 طالب علم جاں بحق اور 8 زخمی ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق آج صبح ہی سے علاقے میں جاسوسی طیاروں کی پروازیں جاری تھیں، صبح 5بجے کے قریب علاقے میں 4دھماکوں کی آواز سنی گئی تھی تاہم معلوم ہوا ہے کہ یہ ڈرون حملہ تھا جو ایک مدرسے پر کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈرون طیاروں کے حملے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے جبکہ جاسوسی طیاروں کی پروازیں اب بھی جاری ہیں۔
    جیو نیوز



  15. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے تانیہ کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (11-21-2013)

  16. #9
    منتظم اعلی
    تاريخ شموليت
    Feb 2013
    پيغامات
    234
    شکریہ
    291
    119 پیغامات میں 184 اظہار تشکر

    جواب: اسلام اور راولپنڈی کا المناک حادثہ

    ڈرون حملوں کے خلاف حکومت کا شرمناک رویہ آج ملک کو اس نہج پر لے آیا ہے کہ امریکہ ایک طرف یقین دہانی کرواتا ہے اور ابھی اس یقین دہانی کی بازگشت میڈیا پر بھی پوری طرح نہیں آتی اورپھر ایک ڈرون حملہ ہو جاتا ہے۔
    میرا خیال ہے حکومت کو اب ڈرون گرانے جیسا جرات مندانہ اقدام کر گزرنا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بس بہت ہو گیا کہہ دینا چاہیے۔۔۔
    نحن عشاق الحسین ع
    اگر آپ حق پر کھڑے ہیں توآپ کو چلا کربات کرنے کی ضرورت نہیں
    اور اگر آپ حق پر نہیں ہیں تو چلا کربات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں


  17. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے aliimran کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (11-21-2013),تانیہ (11-21-2013)

  18. #10
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,205
    شکریہ
    2,192
    1,260 پیغامات میں 1,635 اظہار تشکر

    جواب: اسلام اور راولپنڈی کا المناک حادثہ

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ہنگو میں امریکی ڈرون حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ موجودہ حکومت کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہے۔
    عممران خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک روز پہلے ہی وزیراعظم نواز شریف کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز ایک طرف بیان دیتے ہیں کہ امریکہ نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ جب تک طالبان سے مذاکرات ہوں گے اس وقت تک کوئی ڈرون حملہ نہیں ہو گا:
    ’امریکہ نے اس بیان کا یہ جواب دیا ہے، یعنی کہ وہ ان کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہے،
    مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے بدھ کو سینیٹ کی کمیٹی برائے خارجہ امور میں کہا تھا کہ امریکہ نے یقین دہانی کرائی ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے دوران ڈرون حملے نہیں کیے جائیں گے۔
    تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے مطابق ڈرون حملہ قبائلی علاقے میں نہیں بلکہ خیبر پختونخوا میں ہوا ہے اور سنیچر کو پشاور کے رنگ روڑ پر احتجاجی مظاہرہ ہو گا اور اس کے بعد نیٹو سپلائی روکی جائے گی۔
    ’پہلے تو نیٹو سپلائی تحریک انصاف بند کرنے جا رہی تھی اور اس میں سب سیاسی جماعتوں کو دعوت دی گئی تھی لیکن جمعرات کے ڈرون حملے کے بعد خیبر پختونخوا کی کابینہ کا ہنگامی اجلاس بلا رہے ہیں جس میں کل تک یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ ہم سرکاری طور پر نیٹو سپلائی بند کر سکتے ہیں کیونکہ ہماری سرزمین پر حملہ ہوا ہے۔‘

    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University