نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: ایک خوبصورت تحریر

  1. #1
    رکنِ خاص ملہار کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2013
    پيغامات
    162
    شکریہ
    347
    74 پیغامات میں 103 اظہار تشکر

    ایک خوبصورت تحریر

    سچی مُحبّت نہ جسمانی ہوتی ہے نہ رومانی۔۔۔۔!

    وہ بہت مصروف صُبح تھی کہ ساڑھے آٹھ بجے کے قريب ايک بوڑھا شخص جو 80 سال کا ہو گا اپنے انگوٹھے کے ٹانکے نِکلوانے کيلئے آيا۔ اُسے 9 بجے کا وقت ديا گيا تھا مگر وہ جلدی ميں تھا کہ اُسے 9 بجے کسی اور جگہ پہنچنا ہے۔ ميں نے اہم معلومات لے ليں اور اُسے بيٹھنے کيلئے کہا کيونکہ اس کی باری آنے ميں ايک گھنٹہ سے زيادہ لگ جانے کا اندازہ تھا۔ ميں نے ديکھا کہ وہ بار بار گھڑی پر نظر ڈال رہا ہے اور پريشان لگتا ہے۔ اُس بزرگ کی پريشانی کا خيال کرتے ہوئے ميں نے خود اس کے زَخم کا مُعائنہ کيا تو زَخم مَندمل ہوا ديکھ کر ميں نے ايک ڈاکٹر سے مطلوبہ سامان لے کر خود اُس کے ٹانکے نِکال کر پٹی کر دی۔

    ميں نے اسی اثناء ميں بزرگ سے پوچھا کہ “کيا اُسے کسی اور ڈاکٹر نے 9 بجے کا وقت ديا ہوا ہے کہ وہ اتنی جلدی ميں ہے ؟؟"
    وہ بولا کہ اُس نے ايک نرسنگ ہوم جانا ہے جہاں اُس نے 9 بجے اپنی بيوی کے ساتھ ناشتہ کرنا ہے
    اُس پر ميں نے بزرگ کی بيوی کی صحت کے بارے ميں پوچھا تو بزرگ نے بتايا کہ اس کی بيوی الزائمر بيماری کا شکار ہونے کے بعد کچھ عرصہ سے نرسنگ ہوم ميں ہے
    ميں نے پوچھا کہ “اگر وہ وقت پر نہ پہنچے تو اس کی بيوی ناراض ہو گی ؟”
    اُس بزرگ نے جواب ديا کہ “وہ تو پچھلے 5 سال سے مجھے پہچانتی بھی نہيں ہے”

    ميں نے حيران ہو کر پوچھا “اور آپ اس کے باوجود ہر صبح اپنی بيوی کے ساتھ ناشتہ کرتے ہيں؟ حالانکہ وہ پہچانتی بھی نہيں کہ آپ کون ہيں؟”
    بزرگ نے مسکرا کر کہا “درست کہ وہ مجھے نہيں جانتی مگر ميں تو اُسے جانتا ہوں کہ وہ کون ہے”

    يہ سُن کر ميں نے بڑی مُشکل سے اپنے آنسو روکے گو ميرا کليجہ منہ کو آ رہا تھا۔ ميں نے سوچا “يہ ہے محبت جو ہر انسان کو چاہيئے"

  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,171
    شکریہ
    2,134
    1,242 پیغامات میں 1,616 اظہار تشکر

    جواب: ایک خوبصورت تحریر

    ميں نے بزرگ کی بيوی کی صحت کے بارے ميں پوچھا تو بزرگ نے بتايا کہ اس کی بيوی الزائمر بيماری کا شکار ہونے کے بعد کچھ عرصہ سے نرسنگ ہوم ميں ہے
    ميں نے پوچھا کہ “اگر وہ وقت پر نہ پہنچے تو اس کی بيوی ناراض ہو گی ؟”
    اُس بزرگ نے جواب ديا کہ “وہ تو پچھلے 5 سال سے مجھے پہچانتی بھی نہيں ہے”

    ميں نے حيران ہو کر پوچھا “اور آپ اس کے باوجود ہر صبح اپنی بيوی کے ساتھ ناشتہ کرتے ہيں؟ حالانکہ وہ پہچانتی بھی نہيں کہ آپ کون ہيں؟”
    بزرگ نے مسکرا کر کہا “درست کہ وہ مجھے نہيں جانتی مگر ميں تو اُسے جانتا ہوں کہ وہ کون ہے”

    يہ سُن کر ميں نے بڑی مُشکل سے اپنے آنسو روکے گو ميرا کليجہ منہ کو آ رہا تھا۔
    ميں نے سوچا “يہ ہے محبت جو ہر انسان کو چاہيئے"

    جزاک اللہ ،خیر ، بہت ہی سچی محبت کا علم ہوا ۔
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  3. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    ملہار (12-25-2013)

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University