نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: من بتلاش تو روم یا بتلاش خود روم

  1. #1
    ناظم جاذبہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2013
    مقام
    کراچی ، پاکستان
    پيغامات
    603
    شکریہ
    814
    382 پیغامات میں 574 اظہار تشکر

    من بتلاش تو روم یا بتلاش خود روم


    من بتلاش تو روم یا بتلاش خود روم
    عقل و دل و نظرہمہ گمشدگان کوی تو


    اردو ترجمہ

    میں تیری تلاش میں میں نکلوں یا اپنی تلاش میں جاؤں ؟
    میری عقل،دل اور نظر سب کی سب تیرے کوچے میں کھوگئے ہیں۔

    -------------
    وضاحت

    اس شعر میں علامہ صاحب نے راہ روِ محبت کے انتہائی ذوق وشوق کی تصویر کھینچی ہے اورعاشق کا یہ پہلو نمایاں کیا ہے کہ وہ اپنے محبوب کی دھن میں اپنے آپ کو کھو دے۔
    ایک طرف انسان خدا کا متلاشی ہے ،دوسری طرف اسے اپنی تلاش ہے ۔ اس نے
    اللہ کی تلاش میں اپنی زندگی اور خودی کی تکمیل بھی کرنی ہے
    شاعراستفہامیہ انداز بیان سے پوچھتا ہے کہ اے خدا میں تجھے ڈھونڈوں یا کہ اپنے آپ کو؟
    تیری محویت میں میرا دل ،عقل اور نظر سب کھوگئے ہیں۔ نہ تیری خبر ہے نہ اپنا ہوش ۔کہنا یہی ہے کہ راہ شوق کی محویت انتہا کو پہنچ چکی ہے اور پتہ نہیں چلتا کیا کروں۔ تاہم علامہ صاحب کا مقصد یہی ہے کہ یہ محویت ہی مقصد حیات ہے۔ جسے نصیب ہو وہ بڑا خوش نصیب ہے

    pi.gif




    آخری ادارت منجانب جاذبہ : 01-18-2014 وقت 07:37 PM

  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,127
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    جواب: من بتلاش تو روم یا بتلاش خود روم

    بہت ہی خؤب ، زبردست تشریح کی ،
    جزاک اللہ
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University