نتائج کی نمائش 1 تا: 3 از: 3

موضوع: سبق آموزکہانی یا واقعہ

  1. #1
    ناظم جاذبہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2013
    مقام
    کراچی ، پاکستان
    پيغامات
    603
    شکریہ
    814
    382 پیغامات میں 575 اظہار تشکر

    سبق آموزکہانی یا واقعہ


    ایک شہنشاہ جب دنیا کو فتح کرنے کے ارادے سے نکلا تو اس کا گزر افریقہ کی ایک ایسی بستی سے ہوا جو دنیا کے ہنگاموں سے دور اور بڑی پرسکون تھی۔ یہاں کے باشندوں نے جنگ کا نام تک نہ سنا تھا اور وہ فاتح اور مفتوح کے معنی سے ناآشنا تھے‘ بستی کے باشندے شہنشاہ اعظم کو مہمان کی طرح ساتھ لے کر اپنے سردار کی جھونپڑی میں پہنچے۔ سردار نے اس کا بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا اور پھلوں سے شہنشاہ کی تواضع کی۔
    کچھ دیر میں دو قبائلی فریق مدعی اور مدعا الیہ کی حیثیت سے اندر داخل ہوئے۔ سردار کی یہ جھونپڑی عدالت کا کام بھی دیتی تھی۔
    مدعی نے کہا۔
    ”میں نے اس شخص سے زمین کا ایک ٹکڑا خریدا تھا‘ ہل چلانے کے دوران اس میں سے خزانہ برآمد ہوا میں نے یہ خزانہ اس شخص کو دینا چاہا لیکن یہ نہیں لیتا۔ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ خزانہ میرا نہیں ہے کیوں کہ میں نے اس سے صرف زمین خریدی تھی۔ اور اسے صرف زمین کی قیمت ادا کی تھی ، خزانے کی نہیں“
    مدعا الیہ نے جواب میں کہا۔
    ”میرا ضمیر ابھی زندہ ہے‘ میں یہ خزانہ اس سے کس طرح لے سکتا ہوں‘ میں نے تو اس کے ہاتھ زمین فروخت کر دی تھی۔ اب اس میں سے جو کچھ بھی برآمد ہو یہ اس کی قسمت ہے اور یہی اس کا مالک ہے ، میرا اب اس زمین اور اس میں موجود اشیاء سے کوئی تعلق نہیں ہے “
    سردار نے غور کرنے کے بعد مدعی سے دریافت کیا۔
    ”تمہارا کوئی لڑکا ہے؟“
    ”ہاں ہے!“
    پھر مدعا الیہ سے پوچھا۔
    ”اور تمہاری کوئی لڑکی بھی ہے؟“
    ”جی ہاں....“ مدعا الیہ نے بھی اثبات میں گردن ہلا دی۔
    ”تو تم ان دونوں کی شادی کرکے یہ خزانہ ان کے حوالے کردو۔“
    اس فیصلے نے شہنشاہ کو حیران کردیا ۔ وہ فکر مند ہوکر کچھ سوچنے لگا۔
    سردار نے متردد شہنشاہ سے دریافت کیا۔ ”کیوں کیا میرے فیصلے سے آپ مطمئن نہیں ہیں؟“
    ”نہیں ایسی بات نہیں ہے۔“ شہنشاہ نے جواب دیا۔ ”لیکن تمہارا فیصلہ ہمارے نزدیک حیران کن ضرور ہے۔“
    سردار نے سوال کیا۔ ”اگر یہ مقدمہ آپ کے رو برو پیش ہوتا تو آپ کیا فیصلہ سناتے؟“
    شہنشاہ نے کہا کہ ۔ ” پہلی تو بات یہ ہے کہ اگر یہ مقدمہ ہمارے ملک میں ہوتا تو زمین خریدنے والے اور بیچنے والے کے درمیان کچھ اس طرح کا جھگڑا ہوتا کہ بیچنے والا کہتا کہ : میں نے اسے زمین بیچی ہے اور اس سے زمین کی قیمت وصول کی ہے ، اب جبکہ خزانہ نکل آیا ہے تو اس کی قیمت تو میں نے وصول ہی نہیں کی ، اس لیے یہ میرا ہے ۔
    جبکہ خریدنے والا کہتا کہ :
    میں نے اس سے زمین خریدلی ہے ، تو اب اس میں جو کچھ ہے وہ میری ملکیت ہے اور میری قسمت ہے ۔
    سردا نے شہنشاہ سے پوچھا کہ ، پھر تم کیا فیصلہ سناتے ؟
    شہنشاہ نے اس کے ذہن میں موجود سوچ کے مطابق فورا جواب دیا کہ :
    ہم فریقین کو حراست میں لے لیتے اور خزانہ حکومت کی ملکیت قرار دے کر شاہی خزانے میں داخل کردیا جاتا۔“
    ”بادشاہ کی ملکیت!“ سردار نے حیرت سے پوچھا۔ ”کیا آپ کے ملک میں سورج دکھائی دیتا ہے؟“


    ”جی ہاں کیوں نہیں؟“
    ”وہاں بارش بھی ہوتی ہے....“
    ”بالکل!“
    ”بہت خوب!“ سردار حیران تھا۔ ”لیکن ایک بات اور بتائیں کیا آپ کے ہاں جانور بھی پائے جاتے ہیں جو گھاس اور چارہ کھاتے ہیں؟“


    ”ہاں ایسے بے شمار جانور ہمارے ہاں پائے جاتے ہیں۔“
    ”اوہ خوب‘ میں اب سمجھا۔“ سردار نے یوں گردن ہلائی جیسے کوئی مشکل ترین بات اس کی سمجھ میں آ گئی ہو۔ ”تو اس ناانصافی کی سرزمین میں شاید ان ہی جانوروں کے طفیل سورج روشنی دے رہا ہے اور بارش کھیتوں کو سیراب کر رہی ہے۔“








  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے جاذبہ کا شکریہ ادا کیا:

    تانیہ (01-21-2014)

  3. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,187
    شکریہ
    2,149
    1,247 پیغامات میں 1,621 اظہار تشکر

    جواب: سبق آموزکہانی یا واقعہ

    شہنشاہ نے اس کے ذہن میں موجود سوچ کے مطابق فورا جواب دیا کہ :
    ہم فریقین کو حراست میں لے لیتے اور خزانہ حکومت کی ملکیت قرار دے کر شاہی خزانے میں داخل کردیا جاتا۔“
    ”بادشاہ کی ملکیت!“ سردار نے حیرت سے پوچھا۔ ”کیا آپ کے ملک میں سورج دکھائی دیتا ہے؟“


    ”جی ہاں کیوں نہیں؟“
    ”وہاں بارش بھی ہوتی ہے....“
    ”بالکل!“
    ”بہت خوب!“ سردار حیران تھا۔ ”لیکن ایک بات اور بتائیں کیا آپ کے ہاں جانور بھی پائے جاتے ہیں جو گھاس اور چارہ کھاتے ہیں؟“
    ”ہاں ایسے بے شمار جانور ہمارے ہاں پائے جاتے ہیں۔“
    ”اوہ خوب‘ میں اب سمجھا۔“ سردار نے یوں گردن ہلائی جیسے کوئی مشکل ترین بات اس کی سمجھ میں آ گئی ہو۔ ”تو اس ناانصافی کی سرزمین میں شاید ان ہی جانوروں کے طفیل سورج روشنی دے رہا ہے اور بارش کھیتوں کو سیراب کر رہی ہے۔“
    سبق آموز ، موجودہ دور کی روائتی کہانی ہے ،اور حقیقت کے قریب تر ہے ۔
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  4. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    جاذبہ (01-21-2014)

  5. #3
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,869
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    جواب: سبق آموزکہانی یا واقعہ

    نائس شیئرنگ تھینکس



  6. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے تانیہ کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (01-22-2014),جاذبہ (01-22-2014)

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University