نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: کیا آس لگائے بیٹھے ہو؟

  1. #1
    ناظم جاذبہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2013
    مقام
    کراچی ، پاکستان
    پيغامات
    603
    شکریہ
    814
    382 پیغامات میں 575 اظہار تشکر

    Unhappy کیا آس لگائے بیٹھے ہو؟

    کیا آس لگائے بیٹھے ہو.؟
    جو ٹوٹ گیا، سو ٹوٹ گیا
    کب اشکوں سے جڑ سکتا ہے
    جو ٹوٹ گیا، سو چھوٹ گیا
    تم ناحق ٹکڑے چن چن کر
    دامن میں چھپائے بیٹھے ہو
    شیشوں کامسیحا کوئی نہیں
    کیا آس لگائے بیٹھے ہو.؟

    فیض احمد فیض






  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے جاذبہ کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (01-23-2014)

  3. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,191
    شکریہ
    2,175
    1,249 پیغامات میں 1,624 اظہار تشکر

    جواب: کیا آس لگائے بیٹھے ہو؟



    کب اشکوں سے جڑ سکتا ہے

    جو ٹوٹ گیا، سو چھوٹ گیا
    تم ناحق ٹکڑے چن چن کر
    دامن میں چھپائے بیٹھے ہو
    شیشوں کامسیحا کوئی نہیں

    کیا آس لگائے بیٹھے ہو.؟


    اچھی نظم ہے ، فیض احمد فیض کی شاندار شاعری ، واووووووووو
    جزاک اللہ
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  4. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    جاذبہ (01-23-2014)

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University