نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: ’’کتے کے منہ میں ہاتھی کے دانت نہیں اُگ سکتے۔

  1. #1
    ناظم جاذبہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2013
    مقام
    کراچی ، پاکستان
    پيغامات
    603
    شکریہ
    814
    382 پیغامات میں 575 اظہار تشکر

    Wink ’’کتے کے منہ میں ہاتھی کے دانت نہیں اُگ سکتے۔


    چین اپنے محاوروں اور کہاوتوں میں بھی دنیا سے بہت آگے ہے۔ چینی محاورے اپنے اندر معانی، دانش و خیالات کی اتنی وسعت رکھتے ہیں کہ بیسیوں کتابیں مل کر کسی ایک چینی محاورے کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ میں نے بچپن میں جو پہلا چینی محاورہ پڑھا تھا اس نے آنے والے دنوں میں میری زندگی کا سارا سٹائل تبدیل کر دیا۔ میں زندگی میں جب بھی تلخ ہونے لگتا ہوں تو میں یہ محاورہ نکال کر پڑھتا اور فوراً ریلیکس ہو جاتا ہوں۔
    وہ محاورہ تھا ’’جسے مسکرانا نہیں آتا اسے دکان نہیں کھولنی چاہیے۔‘‘ دوسرا تاریخی محاورہ اس دورے کے دوران ملا۔ میں نے اپنے ایک میزبان سے چین کی ترقی کی وجہ پوچھی، اس نے مسکرا کر ایک چینی محاورہ سنایا۔ وہ محاورہ کچھ یوں تھا ’’کتے کے منہ میں ہاتھی کے دانت نہیں اُگ سکتے۔‘‘ میں نے حیران ہو کر اس کی طرف دیکھا، وہ مسکرایا ’’ہم نے ترقی سے پہلے ترقی کے بارے میں ریسرچ کی تھی۔
    ہم نے اندازہ لگایا تھا آپ جب تک ہاتھی کا بچہ نہیں پالتے آپ اس وقت تک ہاتھی دانت حاصل نہیں کرتے چنانچہ ہم نے انفراسٹرکچر تیار کرنا شروع کر دیا۔ ہم نے پورے ملک کو سڑکوں کے ساتھ ملایا، ریلوے لائنیں بچھائیں، ہوائی اڈے اور بندرگاہیں بنائیں، تعلیم اور صحت عام کی، دنیا کی سب سے بڑی ورک فورس بنائی اور اس کے نتیجے میں ہمارے ہاتھی کے منہ میں دانت نکل آئے اور پوری دنیا ہم سے محبت کرنے لگی۔‘‘
    مجھے اس کی بات اچھی لگی۔ یہ سچ ہے ترقی کا انفراسٹرکچر ضروری ہوتا ہے اور جس ملک کے پاس انفراسٹرکچر نہیں ہوتا وہ ملک کبھی ترقی نہیں کرتا اور چین اس کی سب سے بڑی اور تازہ ترین مثال ہے۔ اس وقت دنیا کا سب سے بڑا انفراسٹرکچر چین میں ہے۔ شنگھائی چین کا دوسرا بڑا اور چین کا معاشی اور صنعتی دارالحکومت ہے

    از قلم
    جاوید چودھری






  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,205
    شکریہ
    2,192
    1,260 پیغامات میں 1,635 اظہار تشکر

    جواب: ’’کتے کے منہ میں ہاتھی کے دانت نہیں اُگ سکتے۔

    ہم نے اندازہ لگایا تھا آپ جب تک ہاتھی کا بچہ نہیں پالتے آپ اس وقت تک ہاتھی دانت حاصل نہیں کرتے چنانچہ ہم نے انفراسٹرکچر تیار کرنا شروع کر دیا۔ ہم نے پورے ملک کو سڑکوں کے ساتھ ملایا، ریلوے لائنیں بچھائیں، ہوائی اڈے اور بندرگاہیں بنائیں، تعلیم اور صحت عام کی، دنیا کی سب سے بڑی ورک فورس بنائی اور اس کے نتیجے میں ہمارے ہاتھی کے منہ میں دانت نکل آئے اور پوری دنیا ہم سے محبت کرنے لگی۔‘‘
    زبردست ، سبق آموز ۔
    جزاک اللہ جازی جی
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  3. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    جاذبہ (01-23-2014)

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University