نتائج کی نمائش 1 تا: 5 از: 5

موضوع: حضرت سلمان فارسی

  1. #1
    مبتدی
    تاريخ شموليت
    Jan 2014
    پيغامات
    7
    شکریہ
    1
    4 پیغامات میں 5 اظہار تشکر

    حضرت سلمان فارسی

    حضرت سلمان فارسی کا باپ پیشہ کے اعتبار سے کاشت کار تھا اور مذہباً آتش پرست تھا۔ ان کے باپ نے ایک مرتبہ ان کو اپنی زرعی زمینوں کی دیکھ بھال کے لیے بھیجا۔ راستہ میں عیسائیوں کی عبادت گاہ تھی، یہ اس کے اندر چلے گئے اور ان کے طریقہٴ عبادت کو دیکھ کر متاثر ہوئے۔ وہ لوگ نماز پڑھ رہے تھے سلمان فارسی رضی الله عنہ شام تک وہیں رہے۔ واپس آ کر باپ کو پورا حال سنایا اور کہا کہ ان کا دین ہمارے دین سے بہتر ہے۔ باپ نے تردید کی اور بیٹے کو سمجھانے کی کوشش کی، لیکن یہ اصرار کرتے رہے کہ آتش پرستی سے عیسائیوں کا دین بہتر ہے۔ جب باپ کو خدشہ ہوا کہ یہ آباء و اجداد کا مذہب چھوڑ دیں گے، تو اس نے ان کو گھر میں قید کر دیا۔ کسی طرح حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ گھر سے فرار ہو کر عیسائیوں کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا کے پاس رہنے لگے۔ حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ فرماتے ہیں، "یہ شخص بد دیانت اور دنیا پرست نکلا، لوگوں کو صدقہ و خیرات کی ترغیب دلاتا اور جو اموال صدقہ کی مد میں آتے وہ خود رکھ لیتا اور مسکینوں کو کچھ نہ دیتا۔" اس کی موت کے بعد حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ نے اس کے ماننے والوں کو اس کی حقیقت بتائی اور اس کے گھر میں رکھے ہوئے سونے چاندی سے بھرے ہوئے سات مٹکے دکھائے تو وہ لوگ بڑے برہم ہوئے اور ان کے دل سے اس پادری کی وقعت نکل گئی۔ انہوں نے اس کو دفن بھی نہ کیا، بلکہ اس کی لاش کو سولی پر چڑھا دیا او رپتھر مار مار کر چورا کر دیا۔

    اس کے بعد دوسرا پادری اس منصب پر فائز ہوا۔ حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ فرماتے ہیں۔ "یہ دوسرا شخص اس پہلے شخص سے بہت افضل تھا اور دنیا سے بے رغبت تھا۔ مجھے اس سے محبت ہو گئی اور ایک عرصہ تک اس کے ساتھ گرجا میں رہا۔موت کے وقت اس نے وصیت کی کہ اب تم فلاں شخص کے پاس چلے جاؤ کیوں کہ اس کے سوا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تعلیمات پر عمل کرنے والا کوئی اور میرے علم میں نہیں ہے، جو شہر موصل میں رہتا تھا۔ میں تلاش کرتا ہوا اس تک جا پہنچا۔ یہ شخص بھی عابد و زاہد تھا، میں اس کے ساتھ رہنے لگا۔ جب اس شخص کی وفات کا وقت آیا تو اس نے کسی اور کا پتہ بتا دیا جو شہر نصیبین میں رہتا تھا۔"حضرت سلمان فارسی اُس کے پاس رہتے رہے، پھر اس کی بھی موت آ گئی اور وہ شہر عموریا کے کسی عابد کا پتہ بتا گیا۔ حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ اس کے پاس رہنے لگے اور کمانے کا مشغلہ بھی اختیار کر لیا اور کچھ مال بھی جمع ہو گیا۔ جب عموریا والے پادری کو موت نے آ گھیرا تو حضرت سلمان فارسی نے اس سے دریافت کیا اب بتائیے میں آپ کے بعد کہاں جاؤں؟ اس پر اس نے جواب دیا، "بیٹا! اب تو میرے علم میں کوئی بھی ایسا آدمی نہیں جو حضرت عیسی علیہ السلام کے دین پر پوری طرح قائم ہو اب تم الله کے آخری نبی صلی الله علیه وآله وسلم کی آمد کا انتظار کرو، کیوں کہ ان کے تشریف لانے کا زمانہ قریب آ چکا ہے۔ وہ عرب میں تشریف لائیں گے اور ایک ایسے شہر کی طرف ہجرت کریں گے جس کے دونوں طرف کنکریلی زمین ہو گی اور اس شہر میں کھجوروں کے باغات ہوں گے۔ ان کی ایک نشانی یہ ہو گی کہ ہدیہ قبول فرمائیں گے اور صدقہ نہ کھائیں گے۔ اور ان کی نبوت کی ایک علامت یہ ہو گی کہ ان کے دونوں کاندھوں کے درمیان مہرِ نبوت ہو گی۔ لہٰذا تم عرب چلے جاؤ" یہ کہہ کر اس پادری نے آخرت کا راستہ لیا اور حضرت سلمان فارسی عرب پہنچنے کی تدبیریں سوچنے لگے۔

    عرب کے کچھ لوگ تجارت کے لیے عموریا پہنچ گئے۔ حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ نے ان سے کہا کہ مجھے اپنے ساتھ عرب لے چلو میں تمہیں معاوضہ کے طور پر یہ بکریاں اور گائیں دو ں گا۔ وہ لوگ انہیں ساتھ لے چلے اور وادی القرٰی پہنچ کر انہوں نے دھوکہ کیا اور حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ کو اپنا غلام ظاہر کرکے فروخت کر ڈالا۔ خریدنے والے شخص نے مدینہ کے ایک یہودی کے ہاتھ ان کو فروخت کر دیا جو قبیلہ بنو قریظہ کا فرد تھا۔ وہ انہیں مدینہ لے گیا۔

    حضرت سلمان فارسی فرماتے ہیں، "مدینہ کو دیکھتے ہی میں سمجھ گیا کہ یہی وہ شہر ہے جہاں نبی آخر الزمان صلی الله علیه وآله وسلم ہجرت فرما کر تشریف لائیں گے۔"
    حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ آنحضرت صلی الله علیه وآله وسلم کے انتظار میں ایک ایک دن گن رہے تھے کہ وہ مبارک گھڑی آ پہنچی اور سید الانبیاء صلی الله علیه وآله وسلم مکہ معظمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔ حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ حاضر ہوئے اور پادری کی بتائی ہوئی تمام علامات دیکھ لیں۔ جب مہرِ نبوت دیکھنے کے لیے آپ صلی الله علیه وآله وسلم کے پیچھے بیٹھے تو آپ صلی الله علیه وآله وسلم نے اپنی چادر مبارک اٹھا دی۔ حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ نے آپ صلی الله علیه وآله وسلم کے دونوں کندھوں کے درمیان مہرِ نبوت دیکھ لی اور اسلام قبول کر لیا۔

    اب اسلام تو قبول کر لیا، لیکن یہودی کی غلامی سے آزادی کا مسئلہ تھا۔ اس یہودی نے کہا کہ تمہاری آزادی کے لیے یہ شرط ہے کہ تم تین سو کھجوروں کے پودے لگاؤ، جب وہ تمام درخت پھل دے دیں اور تم چالیس اوقیہ یعنی تقریباً پونے سات سیر سونا ادا کر دو تو تمہیں غلامی سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔

    رسول مقبول صلی الله علیه وآله وسلم نے اس باغ میں جا کر اپنے مبارک ہاتھوں سے 300 پودے لگا دیے اور پھر یہ معجزہ ہوا کہ سارے درختوں نے اسی سال پھل دے دیا، جب کہ کھجور کے پودے میں پانچ سال میں پھل آتا ہے۔

    رحمتِ دو عالم صلی الله علیه وآله وسلم کے پاس انڈے کے برابر کہیں سے سونا آ گیا۔ آپ صلی الله علیه وآله وسلم نے حضرت سلمان فارسی کو بلا کر فرمایا، "یہ لے جاؤ اور تمہارے ذمہ جو سونا واجبُ الادا ہے، وہ ادا کرو۔"

    حضرت سلمان رضی الله عنہ نے عرض کیا، "یا رسول الله! اتنے تھوڑے سے سونے میں چالیس اوقیہ کا وزن کیسے پورا ہو گا؟"
    آپ صلی الله علیه وآله وسلم نے فرمایا، "یقین رکھو، الله تعالیٰ تمہیں اسی سے سبک دوش فرما دے گا۔"
    چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ جب اس یہودی نے سونے کی اس ڈلی کو تولا تو پورا وزن نکلا اور ان کو آزادی مل گئی۔ حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد سے میں آنحضرت صلی الله علیه وآله وسلم کی خدمت میں رہنے لگا اور غزوہٴ خندق میں شریک ہوا۔

    (یہ تمام تفصیل حضرت سلمان فارسی کی زبانی جمع الفوائد، شمائل ترمذی اور طبقات ابن سعد سے اخذ کی گئی ہے۔)

    سیدِ دو عالم صلی الله علیه وآله وسلم نے ارشاد فرمایا، "جنت چار شخصوں کی مشتاق ہے۔ حضرت علی رضی الله عنہ، حضرت سلمان رضی الله عنہ، حضرت ابوذر رضی الله عنہ، حضرت مقداد رضی الله عنہ۔"
    (کنز الاعمال)

    حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ نے 35ھ میں وفات پائی۔ اس وقت وہ مدائن میں مقیم تھے، وہیں علیل ہوئے اور وہیں وفات پائی۔ وفات سے قبل اپنی بیوی سے فرمایا، "آج میرے پاس زیارت کرنے والے فرشتے آئیں گے، تم ایسا کرو مشک پانی میں گھول کر میرے بستر کے چاروں طرف چھڑک دو،کیوں کہ فرشتے خوشبو پسند کرتے ہیں اور پھر کچھ دیر کے لیے مجھے تنہا چھوڑ دینا۔" چنانچہ ان کی اہلیہ نے حکم کی تعمیل کی، تھوڑی دیر میں جو آ کر دیکھا تو جسم سے روح پرواز کر چکی تھی اور یوں محسوس ہو رہا تھا کہ آرام کی نیند سو گئے ہیں۔
    (از حلیة الاولیاء)

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے آصف مھر کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (01-30-2014)

  3. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    جواب: حضرت سلمان فارسی

    شاندار معلومات پیش کرنے پر آپ کا شکریہ ،
    جزاک اللہ
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  4. #3
    مبتدی
    تاريخ شموليت
    Jan 2014
    پيغامات
    7
    شکریہ
    1
    4 پیغامات میں 5 اظہار تشکر

    جواب: حضرت سلمان فارسی

    جزا ک الله خير ،،

  5. #4
    رکنِ خاص شاہنواز کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Mar 2012
    مقام
    کراچی پیارا پاکستان
    پيغامات
    968
    شکریہ
    610
    371 پیغامات میں 497 اظہار تشکر

    جواب: حضرت سلمان فارسی

    بہت خوب بہت زبردست معلومات ماشاءاللہ ہماری معلوما ت مزید اضافہ ہوا ہے
    پاکستان پولیس
    پولیس کی مدہ ہے فرض آپ کا

    https://www.iradeo.com/station/48344

  6. #5
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,868
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    جواب: حضرت سلمان فارسی

    جزاک اللہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



  7. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے تانیہ کا شکریہ ادا کیا:

    شاہنواز (03-11-2014)

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University