نتائج کی نمائش 1 تا: 3 از: 3

موضوع: تو گزر گیا کسی موج میں، جسے توڑ کر میرے کوزہ گر

  1. #1
    رکنِ خاص محمدانوش کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    265
    شکریہ
    76
    75 پیغامات میں 100 اظہار تشکر

    تو گزر گیا کسی موج میں، جسے توڑ کر میرے کوزہ گر



    تو گزر گیا کسی موج میں، جسے توڑ کر میرے کوزہ گر
    میرے خال و خد کے نقوش تھے، اسی چاک پر میرے کوزہ گر

    ترے بعد کوزہ فروش نے، مجھے تاقچے میں سجا دیا
    جہاں ٹوٹ جانے کا خوف تھا، مجھے رات بھر میرے کوزہ گر

    تیری کار گاہ کی خامشی، مجھے نا تمام نہ چھوڑ دے
    تو دوام ہوتے سکوت میں، کوئی بات کر میرے کوزہ گر

    کہیں یوں نہ ہو تیرے بعد میں، یونہی خاک پڑا رہوں
    میرے سونے نقش و نگار میں کوئی رنگ بھر میرے کوزہ گر

    جو ظروف خانہ بدوش تھے، مجھے کوزہ گاہ میں دیکھ کر
    سبھی حیرتوں میں چلے گئے، مجھے چھوڑ کر میرے کوزہ گر

    ابھی آگ سے میری گفتگو کو تمام ہونے میں وقت ہے
    میںہنوز نمہوں کہیں کہیں، ذرا دیر کر میرے کوزہ گر

    مجھے شکل دے کے درود پڑھ، میرے ساتھ اسمِ وجود پڑھ
    کسی صبح اوّلیں وقت میں، مجھے نقش کر میرے کوزہ گر
    Kumhaar.jpg
    میں فقط خاک ہوں مگر محمد مصطفی سے ہے نسبت میری
    بس یہی ایک رشتہ ہے جو میری اوقات بڑھا دیتا ہے

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے محمدانوش کا شکریہ ادا کیا:

    نگار (07-09-2014)

  3. #2
    رکنِ خاص نگار کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2011
    پيغامات
    5,360
    شکریہ
    663
    357 پیغامات میں 424 اظہار تشکر

    جواب: تو گزر گیا کسی موج میں، جسے توڑ کر میرے کوزہ گر

    بہت خوب !!!

    عمدہ شاعری ارسال کرنے پہ آپ کا شکریہ

  4. #3
    رکنِ خاص محمدانوش کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    265
    شکریہ
    76
    75 پیغامات میں 100 اظہار تشکر

    جواب: تو گزر گیا کسی موج میں، جسے توڑ کر میرے کوزہ گر

    بہت بہت شکریہ نگار جی۔
    میں فقط خاک ہوں مگر محمد مصطفی سے ہے نسبت میری
    بس یہی ایک رشتہ ہے جو میری اوقات بڑھا دیتا ہے

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University