ہر سال لڑکیوں کا پیدائش سے قبل ہی قتل کردیا جانا ہندوستان میں عام بات ہے۔ دوسری طرف جہیز ہراسانی کے نتیجے میں بہووٴں کا جلادیا جانا، یا بہووٴں کا خودکشی کرلینا، بھاگ کھڑا ہونا یا پھر کورٹ کچہری پر مجبور ہونا یہ بھی عام طور ہونے والے واقعات ہیں۔ اس جرم کے پسِ پردہ وہ ساسیں اور نندیں ہوتی ہیں جو بہو کا جینا حرام کرڈالتی ہیں۔ یا پھر وہ مائیں خود جو نہیں چاہتیں کہ لڑکیاں پیدا ہوں اور آمدنی پر بوجھ بنیں۔

شہروں میں ایسے بے شمار میٹرنیٹی ہوم ہیں جہاں رات گئے اسقاطِ حمل Abortions کر دیئے جاتے ہیں۔ گاؤں اور دیہاتوں میں ایسے رواج ہیں کہ سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اگرچیکہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) نے لڑکیوں کی پیدائش اور ان کی پرورش اور تربیت پر دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کی بشارت دی ہے۔ لیکن مسلمانوں کا معاشرہ کیا آج اس قابل ہیکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اس خوشخبری کی تعبیر پیش کرسکے؟ کیا کوئی ہندو عورت ایسی ہے جو اپنے پڑوس کی مسلمان عورت کو دیکھ کر یہ کہہ سکے کہ مسلمان لڑکی مانباپ پر واقعی کوئی بوجھ نہیں ہوتی؟ ایک مسلمان کو اپنی بیٹی کے جہیز کیلئے ساری عمر اسطرح فکرمند نہیں رہنا پڑتا جسطرح ایک ہندو کو رہنا پڑتاہے۔حقیقت تو ہیکہ مسلمان عورتیں لڑکیوں کی تربیت اور شادی ہندو سماج سے سیکھ سیکھ کر پور ا کا پورا دوہراتی ہیں، فرق صرف اتنا ہوتا ہیکہ ہندو دلہن پھیرے لے کر رخصت ہوتی ہے اور مسلمان لڑکی کے سر پر قرآن رکھ کر اسکو نیچے سے گزارا جاتا ہے۔

عورت اپنا ماضی کیوں بھول جاتی ہے؟

اس راز کو عورت کی بصیرت ہی کرے فاش
مجبور ہیں معذور ہیں مردانِ خردمند

لڑکی دیکھنے جانا عورتوں کا محبوب مشغلہ ہوتاہے۔ اگر لڑکی پسند نہ آئے تو واپس آکر اسکا اور اسکے گھر والوں کا یہ جسطرح مذاق اڑاتی ہیں،یہ نہیں سوچتیں کہ لڑکی اور اسکے گھر والوں کے دل پر کیا گزرے گی جب انہیں ان باتوں کا علم ہوگا۔ لڑکیاں بے چاری بار بار کی اس رو نمائی سے ذلت محسوس کرتی ہیں اور دل ہی دل میں بد دعائیں دیتی ہیں کہ ان لڑکے والوں نے عورت کو ایک بھینس یا گائے کا درجہ دے دیا ہے جسے جو گاہک جب چاہے آئے ، دیکھے اور چلاجائے۔ لیکن ۔۔۔ حیرت اُس وقت ہوتی ہے جب یہی لڑکی ایک بہن یا ماں کی حیثیت میں بہو دیکھنے جاتی ہے تو اسکو وہ وقت یاد نہیں رہتا جب دوسرے کبھی اسکا بھی اسکے رنگ ، چال، زبان یا خاندان پرمذاق اڑاتے تھے۔ جو کچھ اس پر گزری تھی وہ بالکل فراموش کردیتی ہے اور بے حِس ہوجاتی ہے۔واپس آکر وہ بھی اسیطرح مذاق اڑاتی ہے جیسے کبھی اسکا اڑایا گیا تھا۔ حالانکہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ جس وقت اسے ذلیل کیا گیا تھا اس وقت یہ عزم کرتی کہ جب اسکی باری آئیگی تو وہ کسی دوسری لڑکی کے ساتھ ایسا نہیں ہونے دے گی۔