٭کچھ انٹارکٹکا کے متعلق٭

انٹارکٹکا دنیا کا انتہائی جنوبی براعظم ہے جہاں قطب جنوبی واقع ہے۔ یہ دنیا کا سرد ترین، خشک ترین اور ہوا دار ترین براعظم ہے جبکہ اس کی اوسط بلندی بھی تمام براعظموں سے زیادہ ہے۔ 14.425 ملین مربع کلومیٹر کے ساتھ انٹارکٹکا یورپ اور آسٹریلیا کے بعد دنیا کا تیسرا سب سے چھوٹا براعظم ہے۔ انٹارکٹکا 98 فیصد برف سے ڈھکا ہوا ہے۔ یہاں کوئی باقاعدہ و مستقل انسانی بستی نہیں۔
انٹارکٹکا یونانی لفظ Antarktikos سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے "آرکٹک کے مدمقابل۔"
اس براعظم کو پہلی بار روسی ہوابازوں "میخائل لیزاریف" اور "فابیان گوٹلیب وون بیلنگشاسن" نے 1820ء میں دیکھا۔
1959ء میں 12 ممالک کے درمیان معاہدہ انٹارکٹک پر دستخط ہوئے جس کی بدولت یہاں عسکری سرگرمیاں اور معدنیاتی کان کنی کرنے پر پابندی عائد کی گئی اور سائنسی تحقیق اور براعظم کی ماحولیات کی حفاظت کے کاموں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ ہر سال موسم گرما میں دنیا بھر سے آنے والے سائنسدانوں کی تعداد 4 ہزار سے زائد ہوجاتی ہے جو انٹارکٹکا پر موجود مختلف تحقیقی کام انجام دیتے ہیں جبکہ موسم سرما میں یہ تعداد ایک ہزار رہ جاتی ہے۔
انٹارکٹکا کی بلند ترین چوٹی ونسن ماسف ہے جس کی بلند 4892 میٹر (16050 فٹ ہے۔ یہ دنیا کا سرد ترین مقام ہے اور سب سے کم بارش بھی یہیں ہوتی ہے۔ یہاں کم سے کم درجۂ حرارت منفی 80 سے منفی 90 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے اور موسم گرما میں ساحلی علاقوں پر زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت بھی 5 سے 15 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔ کم بارشوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قطب جنوبی پر بھی سال میں 10 سینٹی میٹر (4 انچ) سے کم بارش پڑتی ہے۔
قطب جنوبی (انٹارکٹکا) میں 23 ستمبر کو سورج چھ ماہ کے لیے نکلتا ہے جو 21 مارچ کو مکمل غروب ہوجاتا ہے اس کے بعد چھ ماہ تک رات رہتی ہے