تبرکات

مولانا محمد اسماعیل شہید کا زمانہ مغل سلطنت کے آخری عہد کا زمانہ ہے-
وه ایک روز دہلی کی جامع مسجد میں اپنے شاگردوں کے ساتهہ حوض کے پاس بیٹهے هوئے تهے-
اتنے میں جامع مسجد کے ایک حجرے سے کچهہ تبرکات برآمد کئے گئے-یہ بال اور جوتے وغیره تهے جن کے متعلق مشہور تها کہ وه رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں-
مجاورین ان کو اکبر شاه ثانی کی زیارت کے لئے لال قلعہ لے جا رہے تهے-جو لوگ اس وقت مسجد میں موجود تهے وه ان تبرکات کی تعظیم میں فورا کهڑے هو گئے مگر مولانا اسماعیل شہید کهڑے نہیں هوئے-
مجاورین خاص اہتمام کے ساتهہ ان تبرکات کو لال قلعہ کے اندر لے گئے-وہاں اکبر شاه ثانی اور دربار کے وزراء اور امراء نے کهڑے هو کر ان کی تعظیم کی اور ان کی زیارت سے مشرف هوئے-
اس موقع پر مجاورین نے اکبر شاه ثانی سے کہا کہ بادشاه سلامت،آج ان تبرکات کی بہت توہین کی گئ ہے-
بادشاه نے پوچها کہ کس نے توہین کی ہے-مجاورین نے کہا کہ تبرکات جب آپ کے حضور لائے جا رہے تهے تو تمام لوگوں نے کهڑے هو کر ان کی تعظیم کی-
مگر شاه عبدالعزیز کے خاندان میں ایک شخص مولوی محمد اسماعیل نامی ہے
تبرکات اس کے سامنے سے گزرے-مگر وه بیٹها رہا-نہ اس نے تبرکات کو تعظیم دی اور نہ اس کے شاگردوں نے-
اکبرشاه ثانی نے اپنا آدمی بهیج کر مولانا اسماعیل کو طلب کر لیا-
مولانا لال قلعہ میں پہنچے تو اکبر شاه ثانی نے مزکوره واقعہ بیان کیا اور پوچها کہ آپ نے رسول اللہ کے تبرکات کی تعظیم کیوں نہ کی-مولانا نے کہا کہ میں اس کا جواب دیتا هوں-
پہلے آپ براه کرم قرآن شریف اور بخاری شریف منگوا دیں -شاه نے حکم دیا اور دونوں کتابیں لا کر رکهہ دی گئیں-اب مولانا اسماعیل نے کہا:دیکهئے یہ قرآن ہے،اس کے کلام اللہ هونے میں کوئی شک نہیں-یہ بخاری شریف ہے جو رسول اللہ کی قولی و فعلی و تقریری احادیث کا مجموعہ ہے-
ان سے بڑا رسول اللہ کا تبرک کیا هو سکتا ہے-وه یہاں لایا گیا مگر آپ ان کی تعظیم کے لئے سروقد کهڑے نہیں هوئے اور نہ ان کی زیارت کے لئے خاص آداب بجا لائے-گویا اصل اور حقیقی چیزوں کی آپ نے تعظیم نہیں کی-
مگر وه تبرکات جو نعلین مبارک یا موئے مبارک وغیره کے نام سے رسول اللہ کی طرف منسوب ہیں ان کی تعظیم آپ کر رہے ہیں-حالاں کہ ان کی نسبت پوری طرح ثابت شده نہیں-
اکبر شاه ثانی اس تقریر سے متاثر هوا اور ہدیہ اور تحفہ دے کے مولانا محمد اسماعیل کو رخصت کیا-

اسباق تاریخ