حضرت فاطمہؓ جوآنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادیوں میں سب سے کمسن تھیں۔ اب اٹھارہ برس کی ہوچکی تھیں اور شادی کے پیغام آنے لگے تھے۔ حضرت علیؓ نے جب درخواست کی تو آپؐ نے حضرت فاطمہؓ کی مرضی دریافت کی۔ وہ چپ رہیں یہ ایک طرح کا اظہارِ رضا تھا ۔آپؐ نے حضرت علیؓ سے پوچھا کہ تمہارے پاس مہر میں دینے کے لیے کیا ہے۔ جواب ملا کچھ بھی نہیں : آپؐ نے فرمایا’’ اور وہ حطمیہ زرہ کیا ہوئی؟ جنگ بدر میں ہاتھ آئی تھی) عرض کی کہ وہ تو موجود ہے۔ آپؐ نے فرمایا۔ بس وہ کافی ہے۔ اس زرہ کے علاوہ حضرت علیؓ کے پاس ایک بھیڑ کی کھال اور بوسیدہ یمنی چادرتھی۔ حضرت علیؓ نے یہ سب سرمایہ حضرت فاطمتہ الزہراؓ کے نذر کیا ۔ حضرت علیؓ اب تک آپؐ ہی کے پاس رہتے تھے۔ شادی کے بعد ضرورت ہوئی کہ الگ گھر لیں۔ حضرت حارثہ بن نعمانؓ کے بہت سے گھرتھے جن میں سے کئی وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نذر کرچکے تھے ۔ حضرت فاطمہؓ نے آپؐ سے کہا ان ہی سے کوئی مکان دلوادیجیے۔ آپؐ نے فرمایا کہ کہاں تک؟ اب تو ان سے کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔‘‘ حضرت حارثہؓ نے سنا تو وہ دوڑے آئے کہ حضور ؐ میں اور میرے پاس جوکچھ ہے سب آپؐ کا ہے۔ خدا کی قسم ! میرا جو مکان آپؐ لے لیتے ہیں مجھ کو اس سے زیادہ خوشی ہوتی ہے کہ وہ میرے پاس رہ جائے چنانچہ انہوں نے اپنا ایک مکان خالی کردیا حضرت فاطمہؓ اس میں رہائش پذیر ہوگئیں نبی اکرم ؐ نے سیدہ عالم کو جو جہیز دیا ،بان کی چارپائی، چمڑے کا گدا جس کے اندر روئی کی بجائے کھجور کے پتے تھے۔ ایک مشکیزہ، ایک چکی اور ایک مٹی کا گھڑا تھا۔ حضرت فاطمہؓ جب نئے گھر میں آباد ہوئیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے۔ دروازہ پر کھڑے ہوکر پہلے اندر آنے کی اجازت چاہی، پھر اندر تشریف لے آئے۔ ایک برتن میں پانی منگوایا۔ دونوں ہاتھ اس میں ڈالے اور حضرت علیؐ کے سینے اور بازئوں پر پانی چھڑکا۔ پھر حضرت فاطمہؓ کو بلایا۔ وہ شرم سے گھبرائی سی آئیں۔ ان پر بھی پانی چھڑکا اور فرمایا کہ ’’میں نے اپنے خاندان میں سے سب سے افضل شخص سے تمہارا نکاح کیا ہے۔‘‘ یہی چادر میرا کفن ایک دفعہ ایک مسلمان خاتون نے اپنے ہاتھ سے ایک چادر بُن کر آپؐ کی خدمت میں پیش کی۔آپؐ نے اس تحفہ کو قبول کرلیا۔ اسی وقت ایک غریب مسلمان نے عرض کی یارسول اللہ ؐ یہ مجھے عنایت ہو، آپ نے اسی وقت اتار کر اس کے حوالے کردی۔ صحابہؓ کو یہ بات ناگوار گزری اور اس شخص سے کہا کہ تم جانتے تھے کہ آپؐ کو اس کی حاجت تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کا سوال رد بھی نہیں فرماتے ، تم نے کیوں مانگ لی؟ وہ بولا’’ہاں میں نے تو برکت کے لیے لی ہے کہ یہی چادر میرا کفن بنے۔‘‘ بدگمانی نہ ڈال دے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ مسجد میں اعتکاف کی حالت میں تھے تو حضرت صفیہ ؓ بنت حیی آپؐ سے ملاقات کے لیے رات کو آئیں اور کچھ گفتگو کرنے کے بعد واپسی کے لیے جب کھڑی ہوئیں تو نبی اکرمؐ ان کو چھوڑنے کے لیے ساتھ کھڑے ہوئے، اس وقت حضرت صفیہؓکا قیام اسامہ بن زید ؓ کے مکان پر تھا۔ اتنے میں دوانصارؓ ادھر سے گزرے جب انہوں نے آنحضرتؐ کو اس حال میں دیکھا تو تیزی سے چلے، رسول اللہ نے فرمایا! ذرا ٹھہرو یہ عورت صفیہ بنت حیی میری زوجہ ہیں، دل میں کچھ خیال نہ کرنا۔‘‘ انہوں نے کہا یارسول اللہؐ! سبحان اللہ ! کیا ہم آپؐ کے بارے میں دوسری قسم کے خیال کرسکتے ہیں۔‘‘ آپؐ نے فرمایا کہ شیطان انسان کے جسم میں خون کی طرح دوڑتا ہے مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں تمہارے دل میں میری طرف سے کوئی بدگمانی نہ ڈال دے۔ کھجور اور ستو کا ولیمہ حضرت صفیہؓ کے نکاح میں رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ولیمہ کا کھانا کھلایا تھا تو صرف کھجور اور ستو تھا ۔ عدل وانصاف کے پیغام رساں یوم الجمعہ 17رمضان 2ھ کو صف بندی ہوئی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ملاحظہ کے لیے صفوں کے سامنے سے گزرے تو دیکھا ایک انصاری صف کے آگے بڑھے ہوئے ہیں ، حضورؐ کے ہاتھ میں پتلی سی چھڑی تھی۔ انصاری کے پیٹ میں چھڑی لگاکر کہا کہ ’’برابر ہوجائو‘‘ اس نے کہا یارسول اللہؐ مجھے تو اس سے سخت تکلیف ہوئی، حضور ؐ عدل وانصاف کے پیغام رساں ہیں، میں تو بدلہ لوں گا۔ حضورؐ نے فرمایا : ’’اچھا‘‘ کہا۔ حضورؐ کرتہ اٹھائیں، حضورؐ نے کرتہ اٹھایا تو اس نے آگے بڑھ کر جھٹ حضور ؐ کے بطن اطہر کو چوم لیا، حضور ؐ نے پوچھا، یہ کیا ؟ وہ بولا۔ حضورؐ دنیا میں شاید یہ آخری گھڑیاں اور آخری سانس ہے ، میں نے چاہا اس شرف سے مشرف ہوجائوں، حضورؐ نے اسے دعا خیر دی۔‘‘ مستقل حیثیت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو ایک مستقل حیثیت عطا کی اور فرمایا کہ جس طرح مردوں کے حقوق عورتوں پر ہیں۔ اسی طرح عورتوں کے حقوق مردوں پر ہیں۔ نکاح کو ایک آزادانہ معاہدہ قرار دیا، جو ہرقسم کی جائز شرائط پر مشتمل ہوسکتا ہے۔ خاص ناموافق حالات پیدا ہو جانے سے مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے سے علیحدگی کا حق رکھتے ہیں۔ عورت خود اپنے سرمایہ اور جائیداد کی شوہر کی شرکت کے بغیر مالک ہوسکتی ہے عورتوں کو مردوں کا ہم دوش قرار دیا۔ تعلیم کے دروازے ان پر کھولے، ماں باپ کی جائیداد میں ان کا حصہ تسلیم کیا، بیوائوں کی شادی کو کہ سماج کی نظر میں مردددتھی ،جائز قرار دیا۔