نتائج کی نمائش 1 تا: 3 از: 3

موضوع: سیدنا حضرت غوث الاعظم شیخ عبدالقادرجیلانی کے ملفوظات

Threaded View

  1. #1
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,871
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    سیدنا حضرت غوث الاعظم شیخ عبدالقادرجیلانی کے ملفوظات


    سیدنا غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں کہ اللہ کی نافرمانی نہیں کر نی چاہیے اور سچائی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اس بات پر یقین رکھنا چاہیے کہ تو اللہ کا بندہ اور اسکی ملکیت میں ہے۔ اس کی کسی چیز پر اپنا حق ظاہر نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کا ادب کرنا چاہیے۔ اللہ کے کاموں کو مقدم رکھنا چاہیے ۔اللہ ہر قسم کے امور سے بے نیاز ہے اور وہی نعمتیں جنت سے عطا فرمانے والا ہے اور اس کی جنت کی نعمتوں کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا کہ اس نے اپنے بندوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لئے کیا کیا کچھ چھپا رکھا ہے ۔اس لئے اپنے تمام کاموں کو اللہ کے سپرد کر نا چاہیے ۔اللہ نے اپنا فضل اور نعمت تم پر پورا کرنے کا عہد کیا ہے اور وہ اسے ضرور پورا کرے گا۔ بندے کا شجر ایمانی اس کی حفاظت ور تحفظ کا تقاضا کرتا ہے۔ شجر ایمانی کی پرورش ضروری ہے ،ہمیشہ اس کی آبیاری کرتے رہو ،اسے نیک اعمال کی کھاد دیتے رہو تا کہ اس کے پھل پھول اور میوے بر قرار رہیں۔ اگر یہ میوے اور پھل گر گئے ،تو یہ شجر ایمانی ویران ہو جائے گا اور اہل ِثروت کے ایمان کا درخت حفاظت کے بغیر کمزور ہے ،لیکن تفکر ایمانی کا درخت پرورش اور حفاظت کی وجہ سے طرح طرح کی نعمتوں سے فیض یاب ہے۔ اللہ اپنے احسان سے لوگوں کو توفیق عطا فرماتا ہے اور ان کو اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرماتا ہے ۔اللہ کریم کی نافرمانی نہ کر سچائی کے دامن کو ہاتھ سے مت چھوڑ اور اس کے دربار میں عاجزی سے معذرت کرتے ہوئے اپنی حاجت دکھاتے ہوئے عاجزی کا اظہار کر آنکھوں کو جھکاتے ہوئے اللہ کی مخلوق کی طرف سے توجہ ہٹا کر اپنی خواہشات پر قابو پاتے ہوئے دنیا اور آخرت میں اپنی عبادت کا بدلہ نہ چاہتے ہوئے اور بلند مقام کی خواہشات دل سے نکال کر رب کی عبادت و ریاضت کرنے کی کوشش کرو۔ ایک مومن کو کیسا ہونا چاہیے، تو آپؒ کا فرمان ہے کہ محبت الٰہی کا تقاضا ہے کہ تو اپنی نگاہوں کو اللہ کی رحمت کی طرف لگا دے اور کسی کی طرف نگاہ نہ ہو،یوں کہ اندھوں کی مانند ہو جائو اور جب تک تو غیر کی طرف دیکھتا رہے گا ،اللہ کا فضل نہیں دیکھ پائے گا۔ پس تو اپنے نفس کو مٹا کر اللہ کی طرف ہو جا۔ اس طرح تیرے دل کی آنکھ فضل عظیم کی جانب کھل جائے گی اور تو اس کی روشنی اپنی آنکھوں سے محسوس کرے گا اور پھر تیرے اندر کا نور تیرے باہر کو بھی منور کر دے گا عطائے الٰہی سے تو راحت پائے گا اور اگر تو نے نفس پر ظلم کیا اور مخلوق کی طرف نگاہ کی تو پھر اللہ کی طرف سے تیری نگاہ بند ہو جائے گی اور فضل خدا رک جائے گا۔ توحید قضائے نفس ،محویت،ذات کے ذریعے دوسرے راستے بند کر دے ،تو تیرے دل میں اللہ کے فضل کا دروازہ کھل جائے گا، تواسے ظاہری آنکھوں سے دل ایمان اور یقین کے نور سے مشاہد ہ کرے گا۔ آپؒ مزید فرماتے ہیں کہ تیرا نفس اور اعضاء غیرا للہ کی عطا اور وعدہ سے سکون نہیں پاتے بلکہ اللہ کے وعدے سے سکون اور آرام پاتے ہیں۔ سیدنا حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا ارشاد گرامی ہے کہ جب بندہ مخلوق ،خواہشات ،نفس،ارادہ، دنیا وآخرت کی آرزوئوں سے فنا ہو جاتا ہے، تو اللہ کے سوا اس کا کوئی مقصود نہیں ہوتا اور یہ تمام چیزیں اس کے دل سے نکل جاتی ہیں، تو وہ اللہ تک پہنچ جاتا ہے۔ اللہ اسے محبوب مقبول بنا لیتا ہے ۔اس سے محبت کرتا ہے اور اپنی مخلوق کے دل میں اس کی محبت ڈال دیتا ہے، پھر بندہ ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ وہ صرف اللہ اور اس کے قرب کو محبوب رکھتا ہے۔ اس وقت اللہ کا خصوصی فضل اس پر سایہ فگن ہو جاتا ہے اور اسکو اللہ اپنی رحمتیں عطا فرماتا ہے اور اس پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور اس سے وعدہ کیا جاتا ہے کہ رحمت الٰہی کے دروازے اس پر کبھی بند نہیں ہوں گے۔ اس وقت وہ اللہ کا ہو کر رہ جاتا ہے اور اس کے ارادے سے ارادہ کرتا ہے۔ اس کے تدبرسے تدبر کرتا ہے ۔اس کی چاہت سے چاہتا ہے ۔اس کی رضا سے راضی ہوتا ہے اور اس کے احکامات کی پابندی کرتا ہے۔غوث الاعظم ؒفرماتے ہیں کہ انسان اپنی طبعی عادات کو چھوڑ کر شریعت مطہرہ کی طرف رجوع کرے، تو حقیقت میں یہی اطاعت الٰہی ہے۔ اس سے طریقت کا راستہ آسان ہو تا ہے۔ اللہ کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے اور اعمال کو شریعت کی پیروی کرتے ہوئے بجا لانا چاہیے۔ بندے کو ہر حال میں اپنے رب کی رضا پر راضی ہونا چاہیے اور اللہ کی نعمتوں سے شریعت کی حدود میں رہ کر لطف و فائدہ اٹھا نا چاہیے اور ان دنیوی نعمتوں سے تو حضور نبی کریم ﷺ نے بھی حدود شرح میں رہ کر فائدہ اٹھانے کی ترغیب دلائی ہے، لہٰذا ان نعمتوں پراللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے ۔انبیاء کرام ؑاور اولیائے کرام کو نعمت الٰہیہ حاصل ہوتی ہے اور وہ اس کو اللہ کی حدود میں رہ کر استعمال کرتے ہیں ۔انسان کے جسم و روح کی ہدایت و رہنمائی کا مطلب یہ ہے کہ اعتدال کے ساتھ احکام شریعت کی تعمیل ہوتی رہے اور اس میں سیرت انسانی کی تکمیل جاری وساری رہتی ہے۔ سیدنا حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒفرماتے ہیں کہ جب اللہ اپنے بندے کی دعا قبول فرماتا ہے اور جو چیز بندے نے اللہ سے طلب کی ہو ،وہ اسے عطا فرماتا ہے، تو اس سے ارادہ خداوندی میں کوئی فرق نہیں آتا اور نہ نوشتہ تقدیر نے جو لکھ دیا ہے، اس کی مخالفت لازم آتی ہے کیونکہ اس کا سوال اپنے وقت پر اللہ کے ارادہ کے موافق ہوتا ہے۔ اس لئے قبول ہو جاتا ہے اور روز ازل سے جو چیز اس کے مقدر میں ہے۔ وقت آنے پر اس کو ملکر رہتی ہے اللہ کے حبیب کریم ﷺنے ارشاد فرمایا کہ اللہ کا کسی پر کوئی حق واجب نہیں ہے۔ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، جسے چاہتا ہے اپنی رحمت سے نواز دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے۔ عرش سے فرش اور تحت الثری تک جو کچھ بھی ہے ،وہ سب کا سب اللہ کے قبضے میں ہے ۔ساری مخلوق اسی کی ہے ہر ایک چیز کا خالق اللہ ہی ہے۔ اللہ کے سوا کوئی پیدا کرنے والا نہیں ہے۔ اللہ جسے چاہے اور جس طرح چاہے حکومت و سلطنت عطا فرماتا ہے اور جس سے چاہتا ہے واپس لے لیتا ہے ،جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اللہ کی بہتری سب پر غالب ہے اور وہ جسے چاہتاہے بے حساب روزی عطا فرماتا ہے۔ حضرت شیخ عبدالقادرجیلانی ؒ نے ارشاد فرمایا کہ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرو اللہ سے اپنے سابقہ گناہوں کی بخشش اور موجودہ اور آئندہ گناہوں سے بچنے کے سوا اور کچھ نہ مانگ اور اللہ سے دنیا طلب مت کر اور آزمائش وتنگ دستی کی بجائے تونگر و دولت مت مانگ بلکہ تقدیر اور تدبیر الٰہی کی دولت کا سوال کر اور جس حال میں اللہ نے تجھے رکھا ہے اس پر ہمیشہ کی حفاظت کی دعا کر کیونکہ تو نہیں جانتا کہ تیری اس میں بھلائی کس میں ہے محتاجی یا فقر وفاقہ میں ہے یا دولت و تونگری میں ہے آزمائش میں ہے یا عافیت میں ہے اللہ نے تجھ پر اشیاء کا علم چھپا رکھا ہے۔ ان اشیاء کی بھلائیوں اور برا ئیوں کو جاننے میں وہ یکتا ہے۔ حضرت غوث الاعظم ؒسے توکل کے بارے میں دریافت کیا گیا ،تو آپ ؒنے فرمایا کہ دل اللہ کی طرف لگا رہے اور اس کے غیر سے الگ رہے، نیز ارشاد فرمایا کہ توکل یہ ہے کہ جن چیزوں پر قدرت حاصل ہے، ان کے پوشیدہ راز کو معرفت کی آنکھ سے جھانکنا اور مذہب معرفت میں دل کے یقین کی حقیقت کا نام اعتقاد ہے کیونکہ وہ لازمی امور ہیں ان میں کوئی اعتراض کرنے والا نقص نہیں نکال سکتا۔ آپؒ سے شکر کے بارے میں دریافت کیا گیا ،تو آپؒ نے فرمایا کہ شکر کی حقیقت یہ ہے کہ عاجزی کرتے ہوئے نعمت دینے والے کی نعمت کا اقرار ہواور اسی طرح عاجزی کرتے ہوئے اللہ کے احسان کو مانے اور یہ سمجھ لے کہ وہ شکر ادا کرنے سے عاجز ہے۔ آپؒ سے صبر کی حقیقت کا پوچھا گیا تو آپؒ نے فرمایا کہ صبر یہ ہے کہ بلا ومصیبت کے وقت اللہ کے ساتھ حسن ادب رکھے اور اس کے فیصلوں کے آگے سر تسلیم خم کر دے۔ آپؒ سے صدق کے بارے دریافت کیا گیا ،تو آپؒ نے فرمایا کہ اقوال میں صدق تو یہ ہے کہ دل کی موافقت قول کے ساتھ اپنے وقت پر ہو اعمال میں صدق یہ ہے کہ اعمال اس تصور کے ساتھ بجا لائے جائیں کہ اللہ اس کو دیکھ رہا ہے اور خود کو بھول جائے احوال میں صدق یہ ہے کہ طبیعت انسانی ہمیشہ حالت حق پر قائم رہے، اگرچہ دشمن کا خوف ہو یا دوست کا ناحق مطالبہ ہو۔۔۔ اللہ کریم ہمیں سیدنا حضرت غوث الاعظم شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کے ملفوظات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے دلوں میں اللہ کے ان اولیاء کرام کی محبت پیدا فرمائے(آمین)۔​
    پروفیسر ڈاکٹر ثناء خالد​



  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے تانیہ کا شکریہ ادا کیا:

    شاہنواز (02-17-2014),انجم رشید (02-17-2014)

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University