نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: غمِ ہجراں کی ترے پاس دوا ہے کہ نہیں

  1. #1
    رکنِ خاص محمدانوش کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    265
    شکریہ
    76
    75 پیغامات میں 100 اظہار تشکر

    غمِ ہجراں کی ترے پاس دوا ہے کہ نہیں

    غمِ ہجراں کی ترے پاس دوا ہے کہ نہیں
    جاں بلب ہے ترا بیمار ، سنا ہے کہ نہیں

    وہ جو آیا تھا، تو دل لے کے گیا ہے کہ نہیں
    جھانک لے سینے میں کم بخت ذرا ، ہے کہ نہیں

    مخمصے میں تری آہٹ نے مجھے ڈال دیا
    یہ مرے دل کے دھڑکنے کی صدا ہے کہ نہیں

    سامنے آنا ، گزر جانا ، تغافل کرنا
    کیا یہ دنیا میں قیامت کی سزا ہے کہ نہیں

    اہل دل نے اُسے ڈھُونڈا ، اُسے محسوس کیا
    سوچتے ہی رہے کچھ لوگ ، خدا ہے ، کہ نہیں

    تم تو ناحق مری باتوں کا برا مان گئے
    میں نے جو کچھ بھی کہا تم سے ، بجا ہے کہ نہیں؟

    آبرو جائے نہ اشکوں کی روانی سے نصیر
    سوچتا ہوں ، یہ محبت میں روا ہے کہ نہیں

    تاجدار گولڑہ حضور نصیرِ ملت پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ اللہ علیہ —
    میں فقط خاک ہوں مگر محمد مصطفی سے ہے نسبت میری
    بس یہی ایک رشتہ ہے جو میری اوقات بڑھا دیتا ہے

  2. #2
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,882
    شکریہ
    952
    881 پیغامات میں 1,108 اظہار تشکر

    جواب: غمِ ہجراں کی ترے پاس دوا ہے کہ نہیں

    بہت خوب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



  3. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے تانیہ کا شکریہ ادا کیا:

    محمدانوش (02-16-2014)

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University