نتائج کی نمائش 1 تا: 3 از: 3

موضوع: اعتماد ایک مختصر کہانی

  1. #1
    رکنِ خاص شاہنواز کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Mar 2012
    مقام
    کراچی پیارا پاکستان
    پيغامات
    968
    شکریہ
    610
    371 پیغامات میں 497 اظہار تشکر

    Lightbulb اعتماد ایک مختصر کہانی

    یہ مختصر شارٹ اسٹوری ہے امید کرتا ہوں کہ پسند آنے اور نہ آنے پر اپنی قیمتی آراء مستفید فرمائیں گے


    حمیرا اور اظہر کی شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی ۔ حمیرا کی زندگی میں ایک نیئ بہار سی آگئی اور اس کے دن رات ایسے گزررہے تھے کہ اس کو اپنا ہوش ہی نہیں تھا کہ باقی دنیا میں کیا ہورہا ہے ہر طرح سے سرشار اور سرشار ہوتی بھی کیوں نہ کہ اس کو اتنا محبت کرنے والا شوہر بزنس ٹھیک چل رہا تھا ہر طرف سکون ہی سکون تھا نہ نند نہ ساس کوئی چھلمیلا کچھ بھی نہیں تھا ۔ اسی دوران اظہر اور حمیرا کے درمیان کئی عہد وہ پیمان ہونا قرار پائے اوران پر قائم رہنے کے وعدے کئے گئے ان میں ایک معاہدہ یہ بھی طے پایا گیا کہ ماڈرن دور ہے اور کئی لوگوں سے ملنا پڑتا ہے تو حمیرا جی آپ میرے کسی کام میں مداخلت نہیں کریں گی اور آپ جسے ملیں گی میں کچھ نہیں کہوں گا ۔ بس کیا تھا یہی تو اعتماد تھا جس پر حمیرا سرشار تھی ۔ قدرت کا کرنا کیا ہوا کہ حمیرا اور اظہر کو ایک محفل میں مشترکہ طورپر جانا تھا وہاں محفل اپنے جوبن پر تھی اظہر اپنی ہمجولیوں میں مست تھا حمیرا کو کوئی اعتراض نہیں تھا کہ ہے تو میرا ہی شوہر نا۔ یہ تو سب عارضی ہیں اتفاق سے اسی محفل میں حمیرا کا ایک کزن بھی خالہ زاد صادق بھی موجود تھا بچپن سے ایک ساتھ کھیلتے اور پڑھتے آئے تھے دوران محفل صادق کی نظر جب حمیرا پر پڑی تو اس کو خوشگوار حیرت ہوئی اور کافی عرصہ بعد ملاقات ہوئی تھی صادق حمیرا کے پاس آیا اور حمیرا سے مخاطب ہوا تو حمیرا چونک پڑی اور خوش ہوکر اس کو ویلکم کیا۔ اس دوران اظہر مصروف رہا اتنے میں ایک ویٹر مشروبات بھری ٹرے اٹھائے ان کے پاس سے گزرتا ہے اور صادق ایک دم پلٹ کر اپنی پیاس بجھانے کی خاطر ایک مشروب اٹھاتا ہے تو اچانک ہی اس سے کوئی ٹکراجاتا ہے اور صادق لڑکھڑاتا ہوا حمیرا کے پاس آجاتا ہے اور مشروب کا کچھ حصہ حمیرا کے لباس پر گرجاتا ہے اس سے صادق گڑبڑا جاتا ہے اور معافی مانگتا ہے حمیرا کوئی بات نہیں کہتی ہے لیکن قدرت خدا کہ اسی وقت جب صادق حمیرا سے ٹکراتا ہے اور مشروب حمیرا پر گرتا ہے تو اظہر اس کو دیکھتا ہے اور خاموش رہتا ہے لیکن اندر ہی اندر سے بے چین ہوجاتا ہے سب کچھ طے پاجانے کے باوجود اندر جلن سی اٹھ جاتی ہے ۔ محفل برخاست ہوتے ہی جب اظہر اور حمیرا گھر واپس جاتے ہیں تو اظہر گھر پہنچتے ہی پوچھتا ہے وہ کون تھا تو حمیرا اس کو بتاتی ہے کہ اس کا کزن تھا کافی عرصہ بعد ملا ہے کافی خوش تھا اس پر اظہر نے غصہ میں کہا کہ اس نے تمہیں چھوا کیوں ؟ تو حمیرا پہلے تو حیرت سے اس کو دیکھتی ہے اور پھر جواب دیتی ہے کہ میں اس سوال کا جواب دینے کی پابند نہیں ہوں؟ تو اظہر اس پر سراپا غصہ میں آکر کہتا ہے کہ تمہارے اس سے تعلقات کب سے ہیں میں تمہیں طلاق طلاق طلاق دیتا ہوں۔
    اب سے کہانی کا فیصلہ آپ سب قارئین کے ہاتھ میں ہے اور یہ میری اپنی تحریر ہے کہیں سے چسپاں نہیں ہے

  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    جواب: اعتماد ایک مختصر کہانی

    کہانی پر فیصلہ سے کیا مراد ہے آپ کی ، کہانی کی تعریف کریں یا اس پر تبصرہ کریں ،
    یا فیصلہ ان دونوں میں کریں اظہر اور حمیرا میں ۔
    شاہنواز بھائی ، یہ کہانی اب گھر گھر کی بن گئی ہے، جب آزاد رہنا چاھتے ہیں اور یک طرفہ آزادی مانگتے ہیں تو دوسرے فریق پر آپ اعتراض نہی کر سکتے ،جہاں تک بیوی کی بات ہے مرد اس کو اپنی امانت اور اپنی منکوحہ سمجھتا ہے اور اس میں کسی کی شرکت گوارا نہیں کرتا ۔ یہی حال بیوی کا بھی ہوتا ہے ،
    اسلام نےمیاں بیوی یعنی دونوں کو ایک دوسرے کا لباس کہاہے ، یعنی جس طرح کپڑے کسی دوسرے کو پہننے کے لئے دیں تو پھر خود دوبارہ پہننا مشکل ہوتا ہے ۔ایک کراہت کا پہلو نکلتا ہے ،یہی حال ازدواجی زندگی میں بھی ہے ،
    باقی آپ سمجھدار ہیں ۔آپ مقصدی کہانی لکھ سکتے ہیں ، معاشرے پر اپنے قلم سے بامقصدتحریریں لکھئے ،
    جزاک اللہ
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  3. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    شاہنواز (02-16-2014)

  4. #3
    رکنِ خاص شاہنواز کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Mar 2012
    مقام
    کراچی پیارا پاکستان
    پيغامات
    968
    شکریہ
    610
    371 پیغامات میں 497 اظہار تشکر

    جواب: اعتماد ایک مختصر کہانی

    جی یہ گھر گھر کی کہانی تو ہے کہنا تو یہ چاہئے کہ دونوں کا معاہدہ درست تھا یا نہیں اگر تھا تو کس نے معاہدے کی خلاف ورزی کی یا ان کو یہ معاہدہ کرنا ہی نہیں چاہئے تھا قصور وار کون ہے ان دونوں میں سے ان تبصروں سے ہی زندگی کے حل نکلتے ہیں

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University