نتائج کی نمائش 1 تا: 3 از: 3

موضوع: فقر (فقیری) کیا ھوتا ھے ؟؟؟

  1. #1
    رکنِ خاص محمدانوش کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    265
    شکریہ
    76
    75 پیغامات میں 100 اظہار تشکر

    فقر (فقیری) کیا ھوتا ھے ؟؟؟

    1653723_473370669436242_1703068079_n.jpg



    فقر (فقیری) کیا ھوتا ھے ؟؟؟


    فقر کے لغوی معنی احتیاج کے ہیں۔ عام طور پر اس سے تنگ دستی' غربت' مفلسی اور ناداری مراد لی جاتی ہے۔ دینِ اسلام میں ''فقر'' سے وہ راہ یا وہ طریق مراد ہے جو بندے اور اللہ کے درمیان سے تمام حجابات کو ہٹا کر بندے کو اللہ کے دیدار اور وصال سے فیض یاب کرتا ہے۔ ''فقر'' دراصل دینِ اسلام کی حقیقت ہے۔ جو اولیاء کرام اور ہمارے سلف صالحین کا اللہ تک رسائی کا طریقہ رہا ہے لیکن دورِ جدید کے علمائے سو اور مغرب زدہ طبقہ نے اس طریق اور علم سے ناواقفیت کی بنا پر عوام الناس کی توجہ اس راہ سے ہٹا کر ظاہریت پرستی کی طرف مبذول کرا دی ہے اور عوام روح اور اللہ کے تعلق کو بھلا کر صرف جسمانی اعمال و عبادات میں الجھ گئے ہیں۔ آج مسلمان بھی اس لفظ ''فقر'' اور اس کی حقیقت سے اتنے ہی ناآشنا ہیں جتنے غیر مسلم ۔حالانکہ ہمارے آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فقر کو اپنا فخر فرمایا ہے اور اسے بطور خاص اپنی ذات سے منسوب فرمایا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد پاک ہے..الفقر فخری:
    ترجمہ: فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بے حساب کمالات اور اوصاف سے نوازا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی کسی خوبی پر فخر نہیں فرمایا۔ صدق پر نہ عدل پر' نہ تقویٰ و صبر پر' نہ سخاوت پر نہ شجاعت پر' نہ ترک نہ توکل پر' نہ فصاحت و بلاغت پر' نہ حسن پر' نہ صادق و امین ہونے پر اور نہ نسب پر حتیٰ کہ مشکوٰۃ المصابیح میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ''میں اللہ کا حبیب ہوں لیکن اس پر فخر نہیں۔'' آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف اور صرف فقر پر فخر فرمایا۔ اسی طرح حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تمام علومِ دین کا منبع اور سرچشمہ ہیں۔ قرآن و حدیث' فقہ' تمام بنیادی عقائد و عبادات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہی اُمت کو حاصل ہوئے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی علم کو اپنی ذات سے منسوب نہ فرمایا سوائے فقر کے۔ ''فقر'' یعنی روح کے اللہ تعالیٰ سے قرب کی وہ انتہا جہاں روح اللہ کا دیدار اور اللہ سے وصال کی تکمیل پاتی ہے' معراج کی رات حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو عطا ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اللہ تعالیٰ سے اپنی امت کے لیے تحفتاً مانگ لیا۔ چنانچہ ظاہری پاکیزگی کے لیے نماز اور روزوں کا تحفہ ملا اور باطنی پاکیزگی کے لیے فقر کا نور عطا کر کے دیدارِ الٰہی کی راہ اُمت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کھول دی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے جب بھی کسی نبی نے دیدارِ الٰہی کی التجا کی تو انہیں '''' یعنی ''تو ہرگز نہیں دیکھ سکتا ''کی صدا سننا پڑی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے وسیلے سے اُن کی اُمت کو اپنے دیدار کی نعمت عطا کی جو اس کائنات کی سب سے اعلیٰ نعمت ہے اور اس لذتِ دیدار سے بڑھ کر اور کوئی لذت نہیں۔ اسی نعمت کے حصول کی خاطر تمام انبیاء نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اُمت میں شامل ہونے کی دعا کی تھی اور اللہ کی اسی عنایتِ خاص کی وجہ سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو تمام انبیاء پر اور اُمت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام امتوں پر فضیلت حاصل ہے جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان مبارک ہے:
    ترجمہ : فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے ۔ اور فقر ہی کی بدولت مجھے تمام انبیاء و مرسلین پر فضیلت حاصل ہے۔ (عین الفقر)
    ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ''فقر لوگوں کی نگاہ میں معیوب و حقیر ہے لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں بے حد گراں قدر چیز ہوگی''۔ (i) ایک اور حدیث پاک میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ''فقر دنیا میں مومن کے لیے (اللہ تعالیٰ کا) تحفہ ہے۔'' (مکاشفۃ القلوب، باب فضیلتِ فقراء از امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ) (ii) مزید فرمایا ۔ترجمہ:''فقر اس کے اہل کے لیے موجبِ عزت ہے''۔

    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیدارِ الٰہی کی نعمتِ فقر کو اللہ کے خزانوں میں سے ایک خزانہ قرار دیا کیونکہ اس خزانے کو حاصل کرنے والا دنیا و آخرت کی تمام نعمتوں' آسائشوں اور خزانوں سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ جسے تمام خزانوں کا مالک (اللہ) مل جائے اسے باقی خزانوں کی کیا ضرورت ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ترجمہ: فقر اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ۔ فقر کا یہ خزانہ روح کی معراج پر بصورتِ وصالِ حق تعالیٰ بندے کو عطا ہوتا ہے۔ معراج کی رات اللہ تعالیٰ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قرب و وصال کی انتہا کو اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر قرآن پاک میں ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے: ترجمہ: پھر( اللہ اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان) صرف دو کمانوں کی مقدار فاصلہ رہ گیا یا اس سے بھی کم۔ (اس سے بھی کم فاصلہ) کی تفصیل کوئی نہیں جانتا کہ اللہ اور اس کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درمیان قرب کی انتہا کیا تھی البتہ معراج کے بعد نازل ہونے والی کچھ آیات اس قرب و وصال کی انتہائی صورت یعنی یکتائی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ ترجمہ: میرے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (میدان جنگ میں) دشمنوں کو جو کنکریاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماریں وہ دراصل (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہیں بلکہ) اللہ نے ماریں تھیں۔ ترجمہ: جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی انہوں نے (درحقیقت) اللہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ ترجمہ: وہ (نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اپنی مرضی سے کچھ نہیں بولتے۔ ایک حدیث قدسی میں بھی بندے کے اللہ سے وصال کی اسی صورت کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ترجمہ: ''جب بندہ زائد عبادات سے میرے قریب ہو جاتا ہے تو میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں وہ مجھ سے دیکھتا ہے میں اس کے کان بن جاتا ہوں وہ مجھ سے سنتا ہے' میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں وہ مجھ سے پکڑتا ہے' میں اس کی زبان بن جاتا ہوں وہ مجھ سے بولتا ہے' میں اس کے پاؤں بن جاتا ہوں وہ مجھ سے چلتا ہے۔'' فقر دراصل روحانیت کی وہ معراج اور کمال ہے جب روح نورانیت اور پاکیزگی کی اس انتہا کو چھو لیتی ہے جہاں وہ اپنے پاک ربّ سے یوں وصال پالیتی ہے جیسے قطرہ سمندر سے مل کر خود سمندر ہو جاتا ہے۔ فقر کی انتہا خود کو اپنے رب کی ذات میں یوں گم کر دینا ہے کہ انسان کا اپنا وجود ختم ہو جائے اور باقی رہے وہ ذات جسے دائمی بقا ہے۔ فقر کے اسی انتہائی مقام پر پہنچ کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ذاتِ الٰہی کے کامل مظہر بن گئے جیسا کہ مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا
    :
    مصطفئ آئینہ روئے خداست
    منعکس دروئے ہمہ خوئے خداست

    ترجمہ: حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے چہرے کا آئینہ ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات اور ہر صفت ان میں منعکس(ظاہر) ہے۔ اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ''فقر (دیدار و وصال الٰہی) مجھ سے ہے۔'' یعنی میری ذات ہی 'فقر' ہے۔ ترجمہ:''جس نے مجھے دیکھا بے شک اس نے حق کو دیکھا۔'' یعنی جس نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حقیقت کو پہچانا اس نے اللہ کو پہچانا ۔ جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فقر حاصل کر لیا وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہی ہوگئے۔ سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فقر کی یہ نعمت فقر کی پہلی سلطان حضرت فاطمتہ الزہرا رضی اللہ عنہا نے حاصل کی یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کی حقیقت تک رسائی حاصل کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ''فاطمہ مجھ سے ہے۔'' پھر بابِ فقر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات میں فنا ہو کر حقیقتِ فقر کو پاگئے تو فرمایا ''علی مجھ سے ہیں۔'' پھر حسنین کریمین رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو یہ خزانہ عطا ہوا تو فرمایا: ''حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھ سے ہیں۔'' پھر یہ خزانۂ فقر سینہ بہ سینہ اُمت کو منتقل ہوا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہر اُمتی جو اُن سے سچا عشق رکھتا ہے اور اُن کے واسطے سے اپنے ربّ سے ملاقات کا خواہاں ہے' اس خزانۂ فقر کا وارث ہے۔جیسا کہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا
    :
    فقر ذوق و شوق و تسلیم و رضاست
    ما امینیم ایں متاع مصطفئ است

    ترجمہ: فقر ذوق و شوق اور تسلیم و رضا کا نام ہے۔ یہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی میراث ہے اور ہم اس کے وارث ہیں۔
    فقر و شا ہی واردات مصطفئ است
    ایں تجلیات ذات مصطفئ است

    ترجمہ: فقر اور سلطانی مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے وارد اور عطا ہوتے ہیں۔ یہ سب ان کی پاک ذات کی تجلیات ہیں۔
    ہر اُمتی اپنی اپنی استعداد اور توفیق کے مطابق راہِ فقر اختیار کر کے روحانیت کی وہ معراج پاسکتا ہے جہاں وہ اپنے رب کا دیدار کرے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرمان ''نماز مومن کی معراج ہے'' میں ہر مومن کو معراج کی خوشخبری سنا دی گئی ہے البتہ خواہش اور کوشش اُس کے اپنے ذمہ ہے۔ راہِ فقر ان تمام مومنین کی راہ ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنا انعام نازل کیا اور جن کی راہ اختیار کرنے کی ہم سورۃ فاتحہ میں دعا مانگتے ہیں۔ فقر ہی وہ صراطِ مستقیم ہے جو بندے کو سیدھا اس کے رب سے ملاتا ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فقر کے متعلق فرماتے ہیں: ترجمہ:''جو اہلِ بیت (علیہم السلام) سے محبت کرے اسے جامۂ فقر پہننے کے لیے تیار ہو جانا چاہیے'' (نہج البلاغہ)

    غوث الاعظم حضرت سیّدنا شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب اللہ تک معراج نصیب ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اُن سے فرمایا: ''اے غوث الاعظم اپنے اصحاب اور احباب سے کہہ دو اگر میری صحبت چاہتے ہیں تو فقر اختیار کریں۔ جب اُن کا فقر پورا ہوجائے تو وہ نہیں رہتے بجز میرے۔ (رسالۃ الغوثیہ)
    پھر فرمایا ''اے غوث الاعظم ! جب تم کسی فقیر (وہ انسان جو فقر کی انتہا تک پہنچ جائے) کو اس حال میں دیکھو کہ وہ فقر کی آگ میں جل گیا ہے اور فاقہ کے اثر سے شکستہ حال ہے تو اس کے قریب ہو جاؤ کیونکہ میرے اور اس کے درمیان کوئی پردہ نہیں۔'' (رسالۃ الغوثیہ) غوث الاعظم حضرت سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی تصنیف سرّ الاسرار میں فقر کی تعریف بڑے جامع انداز میں فرماتے ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ''حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے فرمان ''فقر میرا فخر ہے اور میرے لیے باعث افتخار ہے'' میں 'فقر' سے مراد وہ فقیری (غربت و افلاس) نہیں جو عوام میں مشہور ہے بلکہ یہاں حقیقی فقر مراد ہے جس کا مفہوم اللہ کے علاوہ کسی بھی اور کا محتاج نہ ہونا اور اس ذاتِ کریم کے علاوہ تمام لذات و نعم کا بجان و دل ترک کر دینا ہے۔ جب انسان اس مرتبہ پر فائز ہو جاتا ہے تو یہی مقام فنا فی اللہ ہے کہ اس ذاتِ وحدہ لاشریک کے سوا انسان کے وجود میں کسی اور کا تصور تک باقی نہ رہے اور اس کے دل میں ذاتِ خداوندی کے علاوہ کسی اور کا بسیرا نہ ہو۔'' فقر کے متعلق آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مزید فرماتے ہیں: (i) شانِ فقر موٹے کپڑے پہننے اور بے مزہ کھانا کھانے میں نہیں۔ شانِ فقر تو تیرے دل کے زُہد اختیار کرنے میں ہے۔ (الفتح الربانی) (ii) فقر و تصوف جدوجہد کا نام ہے اس میں کسی بیہودہ چیز کی آمیزش نہ کر۔ اللہ ہمیں ا ور تمہیں اس کی توفیق کی ارزانی کرے۔ (فتوح الغیب) حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ فقر کے متعلق فرماتے ہیں: فقر ایسی صفت ہے کہ اللہ کی خاص مخلوق کے لیے زیبا ہے۔ (کشف المحجوب) حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: فقر دنیا میں آخرت کے غنا کی چابی ہے۔

    حضرت شیخ ابراہیم الخواص رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
    فقر شرف اور بزرگی کی چادر، مرسلین علیہم السلام کا لباس اور صالحین کے اوڑھنے کی چادر ہے۔
    سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تعلیمات کو نہ تو تصوف اور نہ ہی طریقت کا بلکہ 'فقر' کا نام دیا ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی تمام تر تعلیمات راہِ فقر اور اس سے منسلک مقامات اور افکار سے متعلق ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ حقیقتِ فقر ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں: 1- جو شخص اللہ اور اس کا دیدار چاہتا ہے وہ فقر اختیار کرے۔ (عین الفقر) 2- فقر عین ذات پاک ہے۔ (عین الفقر) 3- فقر دراصل دیدارِ الٰہی کا علم ہے۔ (عین الفقر) 4- جس نے بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی راہ کو اختیار کیا' اس نے فقر محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا رفیق بنا لیا۔ فقر سے بلند تر اور فخر والا کوئی دوسرا مرتبہ نہیں اور نہ کوئی ہو سکتا ہے۔ فقر ہمیشہ کی زندگی ہے۔ (نور الہدیٰ کلاں) 5- فقر کے پاس تمام الٰہی خزانے ہوتے ہیں۔ دنیاوی خزانے کو زوال ہے اور دنیا خواب و خیال ہے۔ فقر کا خزانہ معرفت اور توحیدِ لازوال ہے۔ جو بعینہ وصال ہے۔ دنیاوی لذت چند روزہ ہے۔ آخر معاملہ اللہ تعالیٰ سے ہی پڑتا ہے۔ (توفیق الہدایت)
    فقر شاہے دو عالم بے نیاز و با خدا
    احتیاجش کس نہ با شد مد نظرش مصطفئ

    ترجمہ: فقر ایک بادشاہ ہے جو خدا کے قرب میں ہونے کی بنا پر دونوں جہانوں سے بے نیاز ہے اسے کسی کی پرواہ نہیں کہ وہ ہر وقت حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدِ نظر رہتا ہے۔(محک الفقر کلاں) 6- راہِ فقر ہدایت ہے جس کے ہادی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں۔ (عین الفقر)
    جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ''فقر مجھ سے ہے'' راہِ فقر اختیار کرنے والا جب روحانی و باطنی پاکیزگی کی انتہا کو پہنچتا ہے تو اسے روحانی طور پر دیدارِ الٰہی سے اللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دائمی حضوری نصیب ہوتی ہے۔ جہاں آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود اس کی رہنمائی اور تربیت فرماتے ہیں۔ وہ ہر وقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مدِّنظر رہتا ہے اور ان کی مجلس جہاں اُن کے اصحاب رضی اللہ عنہم اور عارفین کی ارواح موجود ہیں' سے باطنی طور پر بلاواسطہ فیض یاب ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہیں جہاں دین کی بنیاد کی تکمیل ہوتی ہے۔ باطن میں ان سے اعلیٰ اور کوئی مقام نہیں۔ جب بندے کا دین ان ٹھوس بنیادوں پر استوار ہوگا اور وہ ہادی عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے رہنمائی حاصل کرے گا تو اس کے دین کی عمارت بھی مضبوط اور مکمل ہوگی۔ اسی لیے علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تک رسائی کو دین کی بنیاد قرار دیا ہے۔ اس مقام تک رسائی کے بغیر دین بے بنیاد اور کھوکھلا ہے۔

    بہ مصطفئ برساں خویش را کہ دین ہمہ است
    اگر بہ او نرسیدی تمام بولہہبی است

    ترجمہ: تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کی مجلس) تک خود کو پہنچا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی مکمل دین ہیں اگر تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک نہیں پہنچتا تو تیرا سارا دین ابولہب کا دین ہے۔(اقبال ) اقبال رحمتہ اللہ علیہ خود بھی راہِ فقر کے راہی ہیں اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کے افکار و اشعار کا محور فقر ہی ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ فقر کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
    فقر کے ہیں معجزات تاج و سریر و سپا ہ
    فقر ہے میروں کا میر فقر ہے شاہوں کا شاہ

    مقام فکر ہے کتنا بلند شا ہی سے
    روش کسی کی گدایانہ ہو تو کیا کہیے

    اک فقر ہےشبیری اس فقر میں ہے میری
    میراث مسلمانی سرمایہ شبیری

    فقر مومن چیست؟ تسخیر جہا ت
    بندہ از تاثیر او مولا صفات

    ترجمہ: مومن کا فقر کیا ہے' جہان کی تسخیر اور اس فقر سے بندہ صفاتِ حق تعالیٰ سے متصف ہو جاتا ہے۔ جس طرح دنیاوی علم کا مقصد دنیا کی اشیاء کے متعلق معلومات حاصل کرنا ہے اسی طرح فقر کا مقصد اللہ کی پہچان اور معرفت حاصل کرنا ہے۔ علم اسی دنیا اور اشیائے دنیا تک محدود ہے جبکہ فقر کی رسائی پروردگار عالم تک ہے۔ اقبال علم اور فقر کا موازنہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
    علم کا مقصود ہے پاکی عقل و خرد
    فقر کا مقصود ہے عفت قلب و نگاہ

    علم فقیہہ و حکیم فقر مسیح و کلیم
    علم ہے جویاے راہ فقر ہے دا نائے راہ

    علم مقام خبر فقر مقا نظر
    علم کا موجود اور،فقر کا موجود اور

    حاصلِ بحث یہ کہ فقر دینِ اسلام کا انتہائی اہم اور بنیادی حصہ ہے جس میں انسان اللہ کا دیدار کر کے اس کی پہچان اور معرفت حاصل کرتا ہے اور باطنی طور پر اپنے محبوب آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے ترجمہ: اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اسلام میں پورے داخل ہو جاؤ۔ اسلام صرف حقوق العباد اور حقوق اللہ کے نام پر صرف نماز روزے کا نام نہیں۔ معرفتِ الٰہی کا حصول بھی دین کا ایک اہم اور بنیادی حصہ ہے لیکن عام مسلمانوں نے اسے دین سے بالا کوئی شے سمجھ کر اسے صرف ایک طبقے (اولیاء اللہ) تک محدود کر دیا اور خود کو اس سے مبرّا سمجھ لیا حالانکہ قرآن کا مخاطب ہر وہ انسان ہے جو خود کو مسلمان کہتا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو فقر ہی اصل دین ہے کیونکہ دین کا مقصد اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے اور یہ مقصد راہِ فقر پر چل کر ہی پورا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا
    :
    لفظ اسلام سے اگر یورپ کو کد ہے تو خیر
    دوسرا نام اسی دین کا ہے فقر غیور

    موجودہ دور میں جب ہم اپنے اردگرد نظر ڈالتے ہیں تو سوائے فتنہ' فساد اور انتشار کے کچھ نظر نہیں آتا اور جب اپنے اندر جھانکتے ہیں' تو بے سکونی' خوف اور فرسٹریشن ہماری حسیات پر غالب نظر آتی ہیں۔ اسلام یعنی سلامتی والے دین کے پیروکار ہوتے ہوئے بھی ہر جگہ سے سلامتی اور سکون مفقود ہے۔ محسنِ انسانیت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو دین لائے ہیں' وہ ہر انسان کی ظاہری و باطنی اور انفرادی و اجتماعی بہتری کا دین ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین کے دور میں اس انفرادی و اجتماعی فلاح کی گواہی تمام تاریخ دیتی ہے لیکن آج اسی دین کی پیروی کرنے کے باوجود مسلمانوں میں کوئی بہتری نظر نہیں آتی۔ وجہ یہی ہے کہ ہم اپنے دین کی ادھوری پیروی کر رہے ہیں اور اسلام میں پورے داخل نہیں ہو رہے۔ صرف ظاہری عبادات اور عقائد پر اپنی تمام تر توجہ مرکوز کر کے دین کی اصل روح یعنی معرفتِ الٰہی کو مجروح کر رہے ہیں۔ معرفتِ الٰہی حاصل کیے بغیر عبادات کی حیثیت ایسے ہی ہے جیسے روح کے بغیر جسم۔ بے روح عبادات بے سود اور بے کار ہیں' ان سے وہ مطلوبہ نتائج کبھی حاصل نہیں کیے جاسکتے جو دینِ اسلام کا مقصد ہیں یعنی روحانی ترقی اور ظاہری فلاح و بہبود__


    میں فقط خاک ہوں مگر محمد مصطفی سے ہے نسبت میری
    بس یہی ایک رشتہ ہے جو میری اوقات بڑھا دیتا ہے

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے محمدانوش کا شکریہ ادا کیا:

    saba (07-06-2014)

  3. #2
    رکنِ خاص saba کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Jan 2014
    پيغامات
    345
    شکریہ
    96
    195 پیغامات میں 273 اظہار تشکر

    جواب: فقر (فقیری) کیا ھوتا ھے ؟؟؟

    اتنی بہتریں معلومات شئیر کرنے پر آپ کا شکریہ ہی ادا کر سکتی ہوں کوئی الفاظ اس قابل نہیں کہ اس کی تعریف میں لکھوں۔جزاک اللہ ۔اللہ آپ کو اس کا اجر دے آمین

  4. #3
    رکنِ خاص محمدانوش کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    265
    شکریہ
    76
    75 پیغامات میں 100 اظہار تشکر

    جواب: فقر (فقیری) کیا ھوتا ھے ؟؟؟

    صبا جی پزیرائی کے لیے بیحد ممنون ہوں اور دعاوں کا طالب ہوں۔ جزاک اللہ
    میں فقط خاک ہوں مگر محمد مصطفی سے ہے نسبت میری
    بس یہی ایک رشتہ ہے جو میری اوقات بڑھا دیتا ہے

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University