نتائج کی نمائش 1 تا: 8 از: 8

موضوع: یوم پاکستان 23 مارچ

  1. #1
    رکنِ خاص شاہنواز کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Mar 2012
    مقام
    کراچی پیارا پاکستان
    پيغامات
    968
    شکریہ
    610
    371 پیغامات میں 497 اظہار تشکر

    Lightbulb یوم پاکستان 23 مارچ

    پاکستان کو قائم ہوئے ہوئے 74 واں سال شروع ہوچکا ہے اس دوران پاکستان نے اپنے قیام سے لے کر اب تک ان گنت مسائل کا سامنا کیا ہے ۔ ہم یوم پاکستان 23 مارچ ہر سال مناتے ہیں اور اس دن کے اختتام پر یہ بھول جاتے ہیں کہ ہماری زندگی میں یوم پاکستان آیا بھی تھا کہ نہیں۔ میں یہاں یوم پاکستان کی قراراداد پر بات نہیں کروں گا کہ لاتعداد تحریریں ، مضامین اور بہت کچھ اس دن کے حوالے سے شائع ہوچکا ہے اور ہوتا رہے گا میں یہاںروائت سے ہٹ کر بات کروں گا کہ ہم یوم پاکستان کی تجدید تو کرتے ہیں لیکن عملی طور پر ہمارے اندر یوم پاکستان کے حوالے سے وہ بات وہ جذبات نہیں پائے جاتے ہیں جب یہ قرارد اد پاکستان پیش کی گئی تھی ۔کیا ہم اپنے پاکستان سے اتنے ہی وفادار ہیں ؟ میرا یہ سوال سب سے نہیں اپنے آپ سے بھی ہے کہ ابھی تک ہم نے پاکستان کی کیا خدمت کی ہے ۔ پاکستان کے قیام کے بعد ہی 1948 کی جنگ ہمارے سر پر کھڑی کردی گئی جیت یا ہار نقصان ہی نقصان ہوا کہ ابھی نوزائیدہ مملکت کو قائم ہوئے ابھی بمشکل 1یک سال بھی پورا نہیں ہوا تھا کہ جنگ و جدل کا بگل بج گیا ۔ 1948 کی جنگ سے فارغ ہی نہیں ہوئے تھے کہ مہاجرین کی آباد کاری کا مسئلہ آن کھڑا ہو جو کہ دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت تھی اللہ اللہ کرکے پاکستان اس معاملے سے بھی سرخرو ہوا اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے جارہا تھا کہ کچھ سال بعد ہی پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو شہید کردیا جاتا ہے اور یوم پاکستان کہاں جاتا ہے ہمارے اندرہی غدار موجود تھے اور ہیں ۔ا س کے بعد ایک مارشل لاء آتا ہے اور کشمیر کا مسئلہ جوں کا تو رہنے دیا جاتا ہے آئندہ آنے والی نسلوں کو عذاب دینے کے لئے، 1965 کی جنگ دوسری جنگ سر پر مسلط کردی جاتی ہے اور اس میں پاکستان قوم نے حقیقی معنوں میں اپنی جان کے نذرانے پیش کرکے یوم پاکستان کے وقار کی لاج رکھی کہ واقعئی ہم زندہ قوم ہے اور پاکستان اس جنگ میں سرخرو تو ہوا لیکن کشمیر کا مسئلہ پھر بھی جوں کا توں رہا۔ 1971 کی جنگ جو کہ ہمارے اپنوں نے لگائی اور پاکستان کا یوم پاکستان کا تصور یہاں دم توڑ گیا او ر پاکستان دولخت جگر ہوگیا اور ہم ابھی تک یوم پاکستان کے نشے سے نہیں نکلے۔ اس مصیبت کی گھڑی میں پوری عالمی دنیا نے پاکستان کو دھوکے میں رکھا اور پاکستان کو ایک ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا جس کاتلخ ذائقہ آج بھی ہمارے ہونٹوں کو محسوس ہوتا ہے ۔ 1973 کا اسلامی آئین تمام پاکستانی جماعتوں کی متفق کوششوں سے پاکستان کو ملتا ہے جس سے پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوتا ہے ۔ پاکستان کے مایہ ناز سائنسداں ڈاکٹر عبدالقدیر کو پاکستان لانے کی کوششیں شروع ہوتی ہیں ان میں ایک بڑا نام سابقہ مرحوم وزیرا عظم ذدالفقار بھٹو کے سر جاتا ہے ان میں کچھ اور نام بھی شامل ہیں ان کا ذکر یہاں کرنا مناسب نہیں ہیں کہ ایک نئی تنازعہ پیدا ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس دوران کسی نہ طور پاکستان آگے بڑھتا رہا اور ترقی کی منازل طے پاتا رہا کھیل اور ہر شعبہ میں پاکستان آگے بڑھ رہا تھا لیکن کچھ مغرب زدہ لوگوں کو اور عالمی دنیا کو یہ بات پسند نہ آئی کہ پاکستان اسلامی بلاک کا سپر پاور بن جائے ان تمام چیزوں کو دیکھتے ہوئے ایک بار پھر ایک مارشل لاء کا کھیل کھیلا گیا ا ور وزیرا عظم کو قید میں ڈال کر تختہ دار پر قبضہ کرلیا گیا۔ ایک منتحب وزیراعظم کو تختہ دار پر چڑھا دیا گیا ۔ دنیا کی تاریخ کا پہلا اور انوکھا واقعہ ہے میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کہ اس کی وجہ کیا بنی ساری دنیا جانتی ہے کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ خیر اس کے بعد مارشل لاء کا دور آیا ہر چیز پر پابندی لگی ہوئی ہے تحریر و تقریر پر پابندی اس کے بعد کیا ہونا تھا سب جانتے ہیں افغانستا ن کی جنگ روس کا حملہ پاکستان کی تباہی کا سلسلہ یہاں سے شروع ہوا افغان مہاجرین کی آمد اور ان کی آباد کاری اور پاکستان کے مسائل میں اضافہ دہشت گردی ، کلاشنکوف کا کلچر، منشیات اور بہت سے معاملات میں پاکستان کی تباہی کا سلسلہ نہ رکنے والا جو کہ آج تک چل رہا ہے ۔ رشیا کا ٹکڑے ہونا یہ سب پاکستان کے لئے ایک نئی مصیبت بن کر آیا اور اس طرح 10 سالہ مارشل کا خاتمہ ایک خوفناک عالمی سازش کے تحت پاکستان کی کریم 17 جرنل ایک ساتھ ایک طیارہ میں اڑادیا گیا دلچسپ بات یہ کہ 17 فائیو اسٹار جرنل کبھی بھی ایک ساتھ سفر نہیں کرتے ، پھر ایک نیا دور جمہوری دور آیا اس ساری سیاسی چپقلش کا سلسلہ جاری رہا باری باری حکومتیں سنبھالی جاتی رہیں اس دوران پاکستان ایٹمی ممالک کا رکن بن گیا اور پھر اس کے بعد ایک نیا سلسلہ شروع ہوا انتقام کا سلسلہ ایک تیسری جنگ کارگل کی شروع ہوئی جوکہ پاکستان نے کشمیر میں اپنا تسلط قائم کرہی لیا تھا کہ عالمی طاقتیں پھر میدان میںکود پڑیں اور پاکستان کو وہ علاقے جو کارگل کی جنگ میں حاصل کئے تھے دشمن کو واپس کرنا پڑے یہاں پر پھر یوم پاکستان کی دھجیاںبکھیر دی گئیں اور ہم پاکستانی اس مستی میں خوش رہتے ہیں لیکن آپس میںتفرقہ پرستی میں پر کر ہم اپنے آپ کو اپنے وطن کو کمزور کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
    پاکستان پولیس
    پولیس کی مدہ ہے فرض آپ کا

    https://www.iradeo.com/station/48344

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 3 اراکین نے شاہنواز کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (02-26-2014),انجم رشید (03-15-2014),تانیہ (03-18-2014)

  3. #2
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    831
    شکریہ
    246
    110 پیغامات میں 168 اظہار تشکر

    جواب: یوم پاکستان 23 مارچ

    آپ نے بلکل سچ کہا کہ ہم صرف یوم منانے تک ہی محدود ہیں عمل سے بہت دور ہیں یہاں تو یہ حال ہے کہ میرے جیسے کو قیام پاکستان کے مقصد کا بھی علم نہیں ہم دو قومی نظریہ کو بحرہ عرب میں ڈبو چکے ہیں جس کی بنیاد پر پاکستان بنا
    اے وطن پیارے وطن پاک وطن

  4. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے انجم رشید کا شکریہ ادا کیا:

    شاہنواز (03-15-2014),تانیہ (03-18-2014)

  5. #3
    رکنِ خاص شاہنواز کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Mar 2012
    مقام
    کراچی پیارا پاکستان
    پيغامات
    968
    شکریہ
    610
    371 پیغامات میں 497 اظہار تشکر

    جواب: یوم پاکستان 23 مارچ

    اقتباس اصل پيغام ارسال کردہ از: انجم رشید پيغام ديکھيے
    آپ نے بلکل سچ کہا کہ ہم صرف یوم منانے تک ہی محدود ہیں عمل سے بہت دور ہیں یہاں تو یہ حال ہے کہ میرے جیسے کو قیام پاکستان کے مقصد کا بھی علم نہیں ہم دو قومی نظریہ کو بحرہ عرب میں ڈبو چکے ہیں جس کی بنیاد پر پاکستان بنا
    بہت خوب انجم صاحب آپ نے بہت اچھا تجزیہ کیا ہے خوب کہا ہے آپ نے
    پاکستان پولیس
    پولیس کی مدہ ہے فرض آپ کا

    https://www.iradeo.com/station/48344

  6. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے شاہنواز کا شکریہ ادا کیا:

    تانیہ (03-18-2014)

  7. #4
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    جواب: یوم پاکستان 23 مارچ


    مسلمانوں کی تاریخ کی بنیادی حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں نے اسلام کو نہیں بلکہ اسلام نے مسلمانوں کو عظمت عطا کی ہے۔ اس تاریخ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہر مشکل وقت میں اسلام نے مسلمانوں کو بچایا ہے، مسلمانوں نے اسلام کو تحفظ فراہم نہیں کیا۔ اس صورت حال کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی تاریخ میں جو توانائی‘ روشنی اور تحرّک ہے وہ انہیں اسلام کے ’’بجلی گھر‘‘ سے فراہم ہوا ہے۔ محمد بن قاسم 712ء میں سندھ آئے تھے تو یہاں مسلمانوں کی موجودگی ’’علامتی‘‘ تھی، لیکن آج برصغیر میں مسلمانوں کی آبادی پچاس سے پچپن کروڑ کے درمیان ہے۔ اسلام کا یہ فروغ تلوار کا کرشمہ نہیں۔ مسلمانوں نے تلوار استعمال کی ہوتی تو آج پورا برصغیر مسلمان ہوتا۔ اسلام کی یہ پیش رفت دلوں اور اذہان کو فتح کرنے کا حاصل ہے۔ اسلام کی عظمت اور قوت کا ایک پہلو یہ ہے کہ مسلمانوں نے ایک اقلیت ہونے کے باوجود ایک ہزار سال تک برصغیر پر حکومت کی۔ برصغیر کی تاریخ کا ایک بنیادی زاویہ یہ ہے کہ ہندو اکثریت کے ہندوستان میں جو مذہب آیا وہ یا تو ہندوستان چھوڑنے پر مجبور ہوگیا یا ہندو ازم میں جذب ہوگیا۔ ’’بدھ ازم‘‘ ہندوستان ہی کی چیز تھا لیکن اعلیٰ ذات کے ہندوئوں نے بدھ ازم کو بھارت کے مرکز میں داخل نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے بدھسٹوں کو مار مار کر ہندوستان کے مضافات میں بلکہ اس سے بھی آگے دھکیل دیا۔ چنانچہ بدھ ازم یوپی‘ بہار اور سی پی میں نہیں اُن علاقوں میں پھیلا جو آج کے پاکستان میں گندھارا تہذیب کا مرکز کہلاتے ہیں۔ بدھ ازم افغانستان میں داخل ہوا۔ مشرقِ بعید میں پھیلا، مگر بھارت کے مرکز میں وہ معمولی قوت بھی نہ بن سکا۔ حالانکہ بدھ ازم اختیار کرنے والے اشوک کی حکومت پورے ہندوستان پر تھی اور بدھ ازم بہار سے نمودار ہوا تھا۔ اسی طرح سکھ ازم بھی ہندوستان کی پیداوار ہے اور اپنے تصورات اور فکری میراث کے اعتبار سے وہ اسلام کے زیادہ قریب تھا۔ لیکن دو ڈھائی سو سال کے تجربے نے سکھ ازم کی یہ حالت کردی ہے کہ سکھ صرف اپنے گردواروں اور پگڑیوں سے سکھ معلوم ہوتے ہیں، ورنہ ان کی پوری معاشرت پر ہندو ازم کی چھاپ لگ چکی ہے۔ لیکن اسلام کی عظمت‘ قوت اور حسن وجمال ایسا ہے کہ مسلمانوں نے ہندوئوں کے سمندر میں ایک جزیرہ ہونے کے باوجود ایک ہزار سال تک اپنے مذہبی اور تہذیبی تشخص کو نہ صرف یہ کہ باقی رکھا بلکہ اسے فروغ بھی دیا۔ مسلمانوں نے اسپین کے ایک وسیع علاقے پر چھ سو سال تک حکومت کی اور ایک بڑا تہذیبی اور فکری تجربہ خلق کیا، مگر چھ سو سال کے بعد مسلمانوں کو اس طرح اسپین چھوڑنا پڑا جیسے وہ وہاں کبھی آئے ہی نہیں تھے۔ لیکن برصغیر کے مسلمانوں نے اسلام سے اس طرح معنی‘ قوت‘ تحرّک اور حسن و جمال کشید کیا کہ وہ اسلام کی بنیاد پر برصغیر کی تقدیر متعین کرنے والی حقیقت بن گئے۔
    اس حقیقت کی تاریخ کا ایک فیصلہ کن مرحلہ برصغیر میں مسلمانوں کی علیحدہ مملکت کے قیام کا مطالبہ تھا۔ اس مطالبے کی پشت پر بھی اسلام کے جلال و جمال کو پوری شدت کے ساتھ کلام کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ اس اجمال کی تفصیل دلچسپ‘ معنی خیز اور بجائے خود تاریخی نوعیت کی حامل ہے۔ جس وقت برصغیر کی ملت ِاسلامیہ نے الگ ریاست کے قیام کا تصور پیش کیا اُس وقت قوموں کی تعریف نسل‘ جغرافیے اور زبان کی بنیاد پر متعین ہورہی تھی۔ برصغیر کی ملتِ اسلامیہ اسلام کا سہارا نہ لیتی تو وہ ایک الگ قوم ہونے کی بنیاد پر جداگانہ ریاست کا مطالبہ کر ہی نہیں سکتی تھی، اور کرتی تو ہندو کہہ دیتے کہ قوم کی تعریف کی رُو سے ہندوئوں اور مسلمانوں میں کوئی فرق نہیں۔ لیکن اسلام نے بڑھ کر مسلمانوں کی دستگیری کی اور انہیں بتایا کہ مسلمان نسل‘ جغرافیے اور زبان کی بنیاد پر نہیں کلمۂ طیبہ کی بنیاد پر ایک قوم ہیں۔
    اسلام نے برصغیر کی ملتِ اسلامیہ کی دوسری بڑی مدد یہ کی کہ اس نے تاریخ کے سفر میں سندھ‘ پنجاب‘ سرحد اور بلوچستان کو مسلم اکثریتی علاقہ بنادیا تھا۔ ایسا نہ ہوتا تو مسلمان 7 کروڑ 70لاکھ کی آبادی رکھنے کے باوجود الگ ریاست کا مطالبہ نہیں کرسکتے تھے، اور کرتے تو ان کی بات میں صرف دعویٰ ہوتا، دعوے کی کوئی منطق ان کے پاس نہ ہوتی۔ مگر اسلام نے برصغیر کے مسلمانوں کو نظریہ بھی دیا، دعویٰ بھی مہیا کیا اور دعوے کی ناقابلِ تردید دلیل بھی فراہم کی۔ مسلمانوں نے اسلام پر اصرار کیا تو تاریخی عمل بھی ان کا مددگار بن گیا۔
    تاریخی عمل کے اعتبار سے یہ بات بھی اہم ہے کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ اسلامی تشخص اور برصغیر کی ملت اسلامیہ کے مفادات کا تحفظ تھا۔ چنانچہ انہوں نے سیاسی جدوجہد کے ایک مرحلے پر متحدہ ہندوستان کے اندر رہتے ہوئے مسائل کا حل ڈھونڈنے کی مخلصانہ کوششیں کیں۔ اس کا ایک ثبوت قائداعظم کے 14 نکات تھے جنہیں کانگریس نے یکسر مسترد کردیا اور 1935ء میں ایک ایسا آئین برصغیر پر مسلط کردیا گیا جو مسلمانوں کے تمام مفادات سے متصادم تھا۔ چنانچہ مسلمانوں نے تلخ تاریخی تجربات سے بھی یہی نتیجہ نکالا کہ برصغیر میں ایک اسلامی ریاست کا قیام ناگزیر ہے۔ اس سلسلے میں علامہ اقبال کے 1930ء کے خطبۂ الہٰ آباد کو تاریخی اہمیت حاصل ہے،کیونکہ اس خطبے میں پہلی بار مسلمانوں کے لیے ایک الگ ملک کا مطالبہ کیا گیا۔ لیکن ایک علیحدہ ریاست کے حوالے سے 23 مارچ 1940ء برصغیر کی ملتِ اسلامیہ کی تاریخ کا سنگِ میل ہے۔
    اس کی وجہ یہ ہے کہ 23مارچ 1940ء کو لاہور میں قراردادِ مقاصد منظور ہوئی، اور اس قرارداد کی منظوری سے پہلے ایک الگ مسلم ریاست کے قیام کا مطالبہ برصغیر کے مسلمانوں کا محض ایک خواب تھا، قراردادِ مقاصد نے اس خواب کو حقیقت بنانے کی جدوجہد کا آغاز کیا۔ قراردادِ مقاصد سے پہلے الگ ریاست کا مطالبہ ایک سیاسی قیاس آرائی تھا، قراردادِ مقاصد کی منظوری نے سیاسی قیاس آرائی کو عملی تحریک میں ڈھال دیا۔ قراردادِ مقاصد میں اگرچہ لفظ پاکستان موجود نہیں تھا مگر ہندو پریس اور کانگریس کی قیادت نے اس قرارداد کو ’’قراردادِ پاکستان‘‘ کا نام دیا۔ چنانچہ قراردادِ مقاصد حقیقی معنوں میں قراردادِ پاکستان بن گئی اور پاکستان کا لفظ مسلم برصغیرکے بچے بچے کی زبان پر آگیا۔ اس کے معنی یہ نہیں کہ پاکستان کا لفظ پہلے سے موجود نہ تھا۔ پاکستان کا لفظ پہلے سے موجو دتھا مگر اسے عوامی مقبولیت قراردادِ مقاصد کی منظوری کے بعد حاصل ہوئی۔ 23 مارچ 1940ء کا اجتماع اگرچہ برصغیر کی پوری ملت ِاسلامیہ کا نمائندہ تھا، مگر اس اجتماع میں برصغیر کے مسلم اقلیتی علاقوں کے مسلمانوں کا کردار زیادہ تھا، اور ا س سے اِس حقیقت کی عکاسی ہورہی تھی کہ پاکستان حقیقی معنوں میں ایک نظریاتی ریاست ہوگا۔ایسا نہ ہوتا تو مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمان قراردادِ مقاصد اور اس کے نتیجے میں برپاہونے والی تحریکِ پاکستان میں پیش پیش نہ ہوتے، کیونکہ اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کو اچھی طرح معلوم تھا کہ ان کے علاقے پاکستان میں شامل نہیں ہوں گے اور انہیں پاکستان کے قیام سے کوئی معاشی یا مالی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ مگر انہیں معلوم تھا کہ پاکستان برصغیر میں اسلام کا قلعہ اور اس کی عظیم تجربہ گاہ ہوگا۔ قائداعظم محمد علی جناح نے 23مارچ 1940ء کے اجتماع سے جو خطاب کیا اس کے دو مرکزی نکتے تھے۔ ایک یہ کہ دو قومی نظریہ ہندوستان کی سب سے بڑی حقیقت ہے اور مسلمان ہر اعتبار سے جداگانہ تشخیص کے حامل ہیں۔ ان کی تقریر کا دوسرا نکتہ یہ تھا کہ اب پاکستان کی صورت میںایک واضح نصب العین مسلمانوں کے سامنے آگیا ہے، چنانچہ انہیں چاہیے کہ وہ متحد ہوکر اس نصب العین کو حقیقت بنانے کے لیے جدوجہد کریں۔ انہوں نے اس سلسلے میں جو زبان اور لب و لہجہ استعمال کیا وہ کوئی عالم دین ہی اختیار کرسکتا تھا ۔ انہوں نے کہا:
    ’’اسلام کے خادم بن کر آگے بڑھو اور اقتصادی‘ معاشرتی ‘ تعلیمی اور سیاسی اعتبار سے مسلمانوں کی تنظیم کرو۔ مجھے یقین ہے کہ تم وہ طاقت بنو گے جسے ہر شخص تسلیم کرے گا۔‘‘
    تحریر شاھنواز فاروقی
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  8. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 3 اراکین نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    شاہنواز (03-18-2014),انجم رشید (03-19-2014),تانیہ (03-18-2014)

  9. #5
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    جواب: یوم پاکستان 23 مارچ

    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  10. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 3 اراکین نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    شاہنواز (03-18-2014),انجم رشید (03-19-2014),تانیہ (03-18-2014)

  11. #6
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    جواب: یوم پاکستان 23 مارچ

    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  12. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    انجم رشید (03-23-2014)

  13. #7
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    جواب: یوم پاکستان 23 مارچ

    یومِ پاکستان اور قومِ پاکستان

    دو روز قبل زندگی سے رہائی پانے والے بھارتی دانشور خشونت سنگھ نے اپنے ایک انٹرویو میں پاکستان کے حوالے سے پوچھے جانے والے ایک سوال پر کہا تھا ’’1947ء میں برصغیر کے مسلمان ایک قوم کی طرح تھے جنہیں ایک ملک کی ضرورت تھی۔ پھر اِس قوم نے محمد علی جناح (قائداعظمؒ) پیدا کیا جس کی عظیم جدوجہد نے پاکستان کے نام سے ایک ملک بنایا‘ جسے اب ایک ’’قوم‘‘ کی ضرورت ہے‘‘۔خشونت سنگھ نے ٹھیک ہی کہا تھا ہم واقعی قوم نہیں ہم ’’زندہ قوم ‘‘ ہیں۔ جسے دنیا کو بار بار یہ بتانے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ ’’ہم زندہ قوم ہیں ‘‘۔ کیونکہ دنیا اندھی ہے اُسے پتہ ہی نہیں چل رہا ’’ہم زندہ قوم ‘‘ ہیں۔ ہمارا صرف کردار مرا ہے ضمیر مرا ہے ہم خود نہیں مرے۔ سو اگر کوئی ہمارے بارے میں یہ سمجھتا ہے ہم’’زندہ قوم‘‘ نہیں ہیں تو اُسے شرم آنی چاہئے اور سوچنا چاہئے ہم ’’زندہ قوم‘‘ تو دہشت گردوں سے مذاکرات کیوں کرتے؟ اپنے معاملات چلانے کے لئے دنیا سے بھیک کیوں مانگتے؟ ہمارے ’’زندہ قوم‘‘ نہ ہوتے ہونے کا اِس سے بڑھ کر ثبوت کیا ہو سکتا ہے کہ ہم خود یہ کہہ رہے ہیں کہ ’’ہم زندہ قوم ہیں‘‘ ۔ اِس کے باوجود دنیا ہم پر یقین نہیں کر رہی تو اصل میں وہ ہم سے ’’جیلس‘‘ ہے جس کی ہمیں ہرگز پروا نہیں کرنی چاہئے۔ جو ہمیں زندہ نہیں سمجھتا اُس سے پوچھنا چاہئے ’’مردہ‘‘ کسی کو دھوکہ دیتا ہے ؟ جھوٹ بولتا ہے؟ کم تولتا ہے؟ کسی ’’مردے‘‘ کے بارے میں سنا ہے کسی نے کہا ہو ’’وہ مردہ بڑا بے ضمیر ہے ؟ ‘‘…مردہ بھیک مانگ سکتا ہے یا کوئی مردہ کسی دوسرے مردے کی قبرپر قبضہ کر سکتا ہے؟ ہمارے یہی کام اِس کا ثبوت ہیں کہ ہم ’’زندہ قوم ہیں‘‘۔ اب بھی کسی کو یقین نہیں آرہا تو آج ’’یوم پاکستان‘‘ پر ٹیلی ویژن پر سب سے زیادہ چلنے والا ہمارا یہ ترانہ سن لے ’’ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں۔ ہم سب کی ہے پہچان…پاکستان پاکستان‘‘…جی ہاں وہ پاکستان جس کی ایک ایک اینٹ سے ہمیں اس قدر عشق ہے کہ اِس کی بنیادوں سے اینٹیں نکال کر ہم نے اپنے اپنے محل تعمیر کر لئے۔ آزادی سے پہلے ہندوستان میں ہندو مسلمانوں کی کھال اُتارا کرتے تھے۔ مسلمانوں کی غیر ت یہ گوارا نہ کر سکی۔ ہندوئوں کی ’’کھال کشی‘‘ سے بچنے کے لئے بے حساب کھالوں کی قربانیاں دے کر پاکستان حاصل کیا گیا لیکن کھال کشی پھر بھی جاری رہی۔ صرف ’’کھال کش ‘‘ بدل گئے۔ اب بھائی بھائی کی کھال اُتارتا ہے۔ ’’مردے ‘‘ ایک دوسرے کی کھالیں نہیں اُتارا کرتے۔ اب بھی دنیا یقین نہ کرے ’’ہم زندہ قوم ہیں‘‘ تو اُس دنیا کا کیا علاج کیا جا سکتا ہے؟ ہم نے پاکستان کا جو حشر کیا قائداعظم ؒ کو اُس سے باخبر رکھنے کے لئے ہم روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں قائداعظم ؒ کے مزار پر حاضری دیتے ہیں۔ یہ ’’خبر رسانی ‘‘ قائداعظم ؒ پر بہت بڑا ’’احسان‘‘ ہے جو صرف ’’زندہ لوگ‘‘ ہی کر سکتے ہیں کیونکہ ’’مردے ‘‘ کسی پر احسان نہیں کرتے۔ ایک بے گھر پاکستانی نے اللہ سے پوچھا ’’میں راتوں کو سڑکوں پر سوتا ہوں‘ اپنا گھر نہ ہونے کا مجھے کوئی افسوس نہیں‘ سڑکیں میری نیند پورا کر دیتی ہیں۔ مگر جب میں اپنی ’’آخری نیند‘‘ کے بارے میںسوچتا ہوں تو خوف سے کانپنے لگتا ہوں۔ سڑکوں پر میں مفت سوتا ہوں مگر قبر میں سونے کے لئے مجھے پیسے دینا پڑیں گے۔ کیا قبر کی خریداری کے لئے مجھے کسی بینک سے قرضہ مل سکتا ہے؟ ‘‘…آپ بتائیے کسی’’مردے‘‘ کو اللہ سے ایسا سوال پوچھنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوگی…ہمارے مقابلے میں دنیا ’’گوروں‘‘ کو ترجیح دیتی ہے حالانکہ گورے تو اب خود ہمیں ’’ترجیح ‘‘ دیتے ہیں۔ ایک امریکی صدر کے پاس اپنا گھر نہیں تھا۔ وہ گھر بنانا چاہتا تھا مگر اِس کے لئے کچھ مالی دشواریاں در پیش تھیں۔ اُسے کسی نے بتایا پاکستانی وزیراعظم کے پاس لوگوں کو کمرشل و رہائشی پلاٹ الاٹ کرنے کے پورے اختیارات ہوتے ہیں۔ اگر وہ ایک درخواست پاکستانی وزیراعظم کو بھیج دے تو اُسے فوراً ایک عالی شان پلاٹ الاٹ کر دیا جائے گا۔ امریکی صدر کو اِس بات پر یقین نہ آیا۔ مگر جب اُس کے خفیہ اداروں نے اِس کی تصدیق کی تواُس نے کہا ’’لعنت ہے امریکی جمہوریت پر کہ امریکی صدر امریکی مٹی کا ایک ذرہ بھی کسی کو الاٹ نہ کر سکے‘‘۔ پاکستانی وزیراعظم کو اُس نے درخواست بھجوائی کہ اپنی پرائم منسٹری ’’امریکی صدارت ‘‘ سے بدل لو۔ پاکستانی وزیراعظم نے انکار کر دیا۔ اِس کے باوجود دنیا اگر ’’گوروں‘‘ کو ہم پر ترجیح دے تو ایسی دنیا کی عقل پر سوائے ماتم کے کیا کیا جا سکتا ہے؟ ایک طالب علم نے ایک وزیر کو ٹیلی ویژن پر کہتے سنا ’’ہم سب بھائی بھائی ہیں‘‘…اُس نے اپنے اُستاد سے پوچھا ’’سڑکوں پر جھاڑو دینے والے پاکستانی اور پاکستان پر حکومت کرنے والے پاکستانی آپس میں بھائی بھائی کیسے ہو سکتے ہیں؟‘‘ اُستاد نے جواب دیا ’’بے شک جھاڑو دینے والوں اور حکمرانی کرنے والوں کو ’’بھائی بھائی‘‘ ماننا مشکل ہے‘ مگر پیشے کے اعتبار سے دونوں بھائی بھائی ہیں۔ جھاڑو دینے والوں نے سڑکیں صاف کیں اور حکمرانی کرنے والوں نے دنیا کے نقشے سے آدھا پاکستان ’’صاف ‘‘ کر دیا‘ جو ظاہر ہے ’’مردے ‘‘ نہیں کر سکتے تھے‘‘۔ اب دنیا کو ہم اور کتنے ثبوت پیش کریں کہ ’’ہم زندہ قوم ہیں…پائندہ قوم ہیں…ہم سب کی ہے پہچان…پاکستان پاکستان‘‘…پاکستان ہم سب کی پہچان ہے مگر کاش ہم اُس پاکستان کی پہچان نہ ہوتے جس کے بارے میں بھارتی دانشوروں کو کہنا پڑتا ہے ’’پاکستان ایک ملک ہے جسے ایک قوم کی ضرورت ہے‘‘… ایک اور الزام بھی دنیا ہم پر لگاتی ہے کہ ’’پاکستان میں جنگل کا قانون ہے ‘‘۔ آج ’’یوم پاکستان‘‘ کے موقع پر اِس الزام کی بھی ہم پر زور مذمت کرتے ہیں۔ دنیا سے کوئی پوچھے ’’جنگل کے قانون ‘‘ میں کوئی بھیڑیا بیمار ہو جائے تو علاج کے لئے برطانیہ یا امریکہ جاتا ہے؟ کسی لومڑی کو اختیار ہوتا ہے اپنے ’’لومڑ‘‘ کو ’’انھی‘‘ڈالنے کی پوری اجازت عنایت فرما دے؟ کوئی ریچھ بینک سے قرضہ لے کر معاف کروا سکتا ہے؟ کوئی بکرا کسی کتے کو پیسے دے کر کوئی ناجائز کام کروا سکتا ہے؟ کوئی بندر کسی کی ’’مورنی‘‘ چھین کر پہلے اُس سے ’’معاشقہ‘‘ پھر شادی رچا سکتا ہے؟ کسی سانڈ کو جرأت ہو سکتی ہے شیر کے اقتدار پر وہ قبضہ کر لے؟ سوپاکستان میں جنگل کا نہیں اپنا بلکہ اپنا اپنا قانون ہے۔ جو طاقتور کے لئے اور کمزور کے لئے اور ہے۔ غریب کے لئے اور امیر کے لئے اور ہے۔ عوام کے لئے اور حکمرانوں کے لئے اور ہے۔ اور یہ سب ہمارے ’’زندہ قوم‘‘ ہونے کی علامات ہیں۔ اِس کے باوجود دنیا ہم پر الزام دھرے ہم ’’زندہ قوم‘‘ نہیں ہیں یا ہمارے ہاں ’’جنگل کا قانون ‘‘ ہے تو آج اپنے ’’یوم پاکستان ‘‘ پر خوش ہونے کے بجائے ہمیں بھرپور احتجاج کرنا چاہئے کہ دنیا ہم پر ایسے الزامات کیوں لگاتی ہے جن کے بارے میں یہ سوچنے کا بھی ہمارے پاس وقت نہیں کہ اُن میں کتنی سچائی ہے؟ ہم ہر سال یوم آزادی اور یوم پاکستان پر اپنے ’’عہد‘‘ کی ’’تجدید‘‘ کرتے ہیں۔ اور یہ ’’تجدید عہد‘‘ ہمیشہ کرتے رہیں گے۔ پر اپنا عہد کبھی پورا نہیں کریں گے۔ کیونکہ عہد پورا کر دیا تو ’’تجدید عہد‘‘ سے محروم ہو جائیں گے۔ اور اگر ’’تجدید عہد‘‘ سے محروم ہوگئے تو یومِ آزادی اور یوم پاکستان پر ہمارے پاس کرنے کے لئے رہ کیا جائے گا؟ کچھ نہ کچھ تو کرنے کے لئے ضرور ایسا ہونا چاہئے جس سے ثابت ہوتا رہے کہ ہم ’’زندہ قوم ‘‘ ہیں…پاکستان’’مرتا‘‘ جا رہا ہے ’’قوم‘‘ اور ’’زندہ ‘‘ ہوتی جا رہی ہے۔ ہم اپنی خرابیوں کے ’’وکیل ‘‘ دوسروں کی خرابیوں کے ’’جج ‘‘ ہیں۔ ہم صرف دوسروں کے گریبانوں میں جھانکنے کے عادی ہیں‘ کیونکہ اپنے گریبانوں میں جھانکنے سے جو بو آتی ہے وہ دوسروں کے گریبانوں سے آنے والی بو سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ ہم نے صرف دوسروں کو ٹھیک کرنا ہے خود نہیں ہونا…اور کتنے ثبوت دیں دنیا ہم تجھے ’’زندہ قوم‘‘ ہونے کے ؟؟؟



    تحریر : توفیق بٹ
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  14. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    انجم رشید (03-23-2014)

  15. #8
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    831
    شکریہ
    246
    110 پیغامات میں 168 اظہار تشکر

    جواب: یوم پاکستان 23 مارچ

    بہت خوب بے باک بھائی ۔
    سب کو یوم پاکستان مبارک ہو آئیں آج عہد کریں کہ جب بھی ضرورت پڑی ہم اس ملک کی جان و مال سے حفاظت کریں گے ۔
    اللہ تبارک وتعالی پاکستان کی حفاظت عطاء فرمائے آمین ثم آمین
    اے وطن پیارے وطن پاک وطن

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University