إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔
محترم حضرات وخواتین !آج کے خطبۂ جمعہ میں ہم جس عنوان کے تحت لب کشائی کرنے کی جرات وہمت کررہے ہیں۔ وہ انتہائی عظیم اور اہم موضوع ہے۔ ایسا موضوع ہے جو اسلام کے چھ ارکان میں سے ایک ہے۔اگر کوئی اس کا انکار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے غیض وغضب کا شکار ہوتا ہے وہ ایسے شخص کا کوئی نیک عمل بھی قبول نہیں فرماتا۔ وہ موضوع ہے۔ "تقدیر یا قسمت پر ایمان لانا"
یقیناً یہ ایسا موضوع ہے جس پر اظہار خیال کرنے والا ہمہ وقت تلوار کی دھار پر ہوتا ہے ، ذراسی لغزش اسے عرش سے فرش پر گراسکتی ہے۔ ذراسی جنبش اسے ثریا سے زمین پر پٹک سکتی ہے۔ ذراسی خطا اسے خدا دشمن افراد کے زمرے میں لاکھڑ ا کر سکتی ہے۔ لہذا دعا کیجئے کہ رب کا ئنات مجھے صحیح بولنے کی توفیق دے کہ اس کی توفیق کے بغیر نہ کوئی پتہ ہل سکتا ہے اور نہ کوئی کچھ کہہ ، بول اور سمجھا سکتا ہے۔
دوستو اور عزیزو!تقدیر یا قسمت پر ایمان لانے کا معاملہ ازل سے اب تک انسانوں کے مابین نزاع کا باعث رہا ہے، بعضوں نے تقدیر کا سرے سے انکار کیا تو ہلاک وبرباد ہوئے اور بعضوں نے تقدیر یا قسمت ہی کو سب کچھ مان لیا اور تدابیر وعلل سے ہاتھ چھڑا کر بیٹھ گئے تو وہ بھی ہلاک وبرباد ہوئے۔ البتہ بیچ کا جو راستہ ہے ، اسی راستہ کو جس نے اپنایا وہی کامیاب وبامراد ہوا۔ لیکن افراط وتفریط کی خوگر انسانیت کی تاریخ میں ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے جنہوں نے راہ اعتدال سے ہو کر اپنی زندگی کی گاڑی گذاری ہو۔ تا ہم ہمیں امید ہے کہ آپ تمام حضرات وخواتین ان خوش نصیبوں میں ہیں جو تقدیر پر کما حقہ ایمان لاتے ہیں، اس کے تعلق سے نہ افراط کے شکار ہوتے ہیں اور نہ تفریط کے، بلکہ راہ اعتدال سے ہو کر گذرتے ہیں جس سے ان کا دین وایمان تو محفوظ رہتا ہی ہے ، وہ اللہ کی خوشنودی ورضا بھی حاصل کرنےمیں کامیاب وبامراد ہوا کرتے ہیں۔
دوستانِ باصفا! تقدیر پر ایمان لانے کا معاملہ نہایت آسان ہے۔ لیکن اسے فلا سفروں نے بےحد مشکل اور پیچیدہ بنا دیا ہے حالانکہ ؎
برسوں فلا سفر کی چناں اورچنیں رہی لیکن خدا کی بات جہاں تھی وہیں رہی
کے مصداق انہیں اس بحرِ بے کر اں میں ایسا کچھ نہیں ہاتھ لگ سکا جس سے یہ ثابت ہوجائے کہ تقدیر پر یا قسمت پر ایمان لانا ایک لایعنی چیزہے لیکن اس خدابیزاری کو کیا کہئے کہ اس نے اس معاملہ میں بھی اپنا رنگ دکھا کے چھوڑا اور آج کی اس سائنٹفک دنیا میں ایسے احمقوں کی کمی نہیں جو تقدیر پر ایمان لانا کارِ عبث اور کارِ زیاں سمجھتے ہیں۔
مگر ایک مومن جو غیبیات پر ایمان رکھتا ہے، جو مانتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جو شریعت ہمیں دی ہے اس کے ایک ایک رکن پر ایمان لانااور ایک ایک نکتے پر یقین کرنا سب سے قیمتی متاع زیست ہے۔ لہذا مومن یہ بھی مانتا ہے کہ تقدیر پر ایمان لانا ایک واجب اور ضروری امر ہے کیوں کہ وہ دیکھتا ہے کہ قرآنی آیات اور صحیح احادیث نے تقدیر پرایمان لانے کو، اس کے خیر وشر پریقین کرنے کو ارکان اسلام میں سےایک رکن قرار دیا ہے ۔
رب کائنات ارشاد فرماتا ہے:
(إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ) (القمر:49)
دوسری جگہ ارشاد فرمایا :
(سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ۔ الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّىٰ ۔ وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَىٰ) (الأعلی:1-3)
ایک اور جگہ پر ارشاد فرمایا:
(تَبَارَكَ الَّذِي نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلَىٰ عَبْدِهِ لِيَكُونَ لِلْعَالَمِينَ نَذِيرًا ۔ الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَلَمْ يَكُن لَّهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرً) (الفرقان: 1-2)
واقعہ یہ ہے کہ ایسی آیتوں کی قرآن مجید میں بھر مار ہے جن میں تقدیر پر ایمان لانے کو واجب قرار دیاگیا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی متعدد احادیث پاک میں تقدیر پر ایمان لانے کو ہر مومن مرد وعورت پر فرض قرار دیا ہے ۔ اس کی سب سے بڑی مثال وہ حدیث ہے جو حدیث جبریل علیہ السلام کے نام سےمشہور ہے ۔
تقدیر اور اس کے خیر وشر پر ایمان لانا واجب اور اس کا انکار کرنا ایک اسلامی رکن کا انکار کرنا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ جو شخص یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ مسلمان ہے لیکن وہ ارکان اسلام میں سے کسی رکن کا انکار بھی کرتا ہے ، چاہے دل ہی دل میں ہو یا علانیہ ، تو وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے ، اس کا کوئي بھی عمل عند اللہ مقبول ومنظور نہیں گردانا جاتا ، اس کے سارے کیے کرائے پر پانی پھر جاتا ہے اور وہ آخرت میں خائب وخاسر ہوگا ، ذلت ورسوائی اس کا مقدر بنےگی ، وہ رحمت ربانیہ سے محروم ہوگا اور جہنم میں جھونک دیا جائےگا ۔
دوستانِ باصفا!تقدیر پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ اس بات کو دل سے مانیں کہ دنیا میں جوکچھ ہو چکا ہے اور جو ہورہا ہے اور جو مستقبل میں ہوگا ، ان سب کا علم اللہ کو ان سب کے منظر عام پر آنے سے پہلے سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کے بارے میں مفصل طور پر لکھ رکھا ہے کہ اس چیز کا آغاز وانجام کیا ہوگا۔ یعنی اس کی تمام جزئیات کو بھی اللہ نے لکھ دیا ہے اور لکھنے کا یہ عمل آسمان وزمین اور ان کے مابین جوکچھ ہے ، سب کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے ہی مکمل کرلیا گیا تھا اور جو کچھ ہورہا ہے وہ اسی کے مطابق ہورہا ہے اور آئندہ جو کچھ ہوگا وہ بھی اللہ کے لکھے ہوئے کے مطابق ہی ہوگا۔
یہی ہے وہ تقدیر پر ایمان لاناجو صحابۂ کرام اور ہر دور کے اہل سنت والجماعت کا عقیدہ رہا اور قیامت تک رہےگا ۔ مختصراً تقدیر پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ بات دل سے مانی جائے کہ اللہ نے جو چاہا ہوا اور جو نہیں چاہا نہیں ہوا۔ اگر کسی امر کو نافذ کرنے پر تمام انسان وجنات مجتمع ہو جائیں اوراللہ نہ چاہے تو اس کا نفاذ یا یوں کہئے کہ اس کو وجود میں لاناممکن نہیں اور وہ جس چیز کو وجود میں لاناچاہے۔ اگر اسے پورے انسان وجنات مل کر، متحد ہو کر روکنا چاہیں تو بھی وہ چیز ہو کررہے گی اوریہ کہ بندے کی مشیئت اللہ کی مشیئت کے تابع وماتحت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی بات کو تمام تفصیلات کے ساتھ قرآن پاک کی اس آیت میں بیان کردیا ہے ۔
وہ ارشاد فرماتا ہے:
(وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا يُدْخِلُ مَن يَشَاءُ فِي رَحْمَتِهِ ۚ وَالظَّالِمِينَ أَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا) (الإنسان: 30۔31)
بندگان الہٰی !سنو اور یاد رکھو کہ یہی ہے وہ تفصیلی ایمان جس کا تقاضا اللہ اور اس کے نبی و رسول دنیا کے تمام مومنوں اور مسلمانوں سے تقدیر کی بابت کرتے رہے ہیں ۔ دیکھو تو سہی!تقدیر پر ایمان لانے کا مسئلہ اسلام میں کتنا سادہ اور کتنا آسان وسہل ہے لیکن اللہ رحم کرے ان عقل کے ماروں پر جنہوں نے اسے عقدۂ لاینحل سمجھ لیا ہے حالانکہ اگر وہ شریعت کے احکام وفرامین کو سمجھنے کی سچی کوشش کرتے، ان میں موشگافیاں نہیں کرتے تو عقیدۂ جبر وجود پذیر نہیں ہوتا یعنی یہ نہ سمجھا جاتا کہ انسان مجبورمحض ہے،وہ افعال کے صدور پر قادر نہیں بلکہ وہ جو بھی کرتا ہے چاہے وہ گنا ہ کا کام ہویا نیکی کا ، اللہ ہی کی مشیئت کے مطابق کرتاہے، اس میں بندے کے ارادے اور عمل کا کوئی دخل ہوتا ہی نہیں۔
دوستو!یہ وہ عقیدۂ باطل ہے جس نے نہ جانے کتنے مسلمانوں کی آخرت تباہ کر دی، جس نے کتنوں کے صحیفۂ اعمال کو سیا ہی سے بھر دیا ، جس نے نہ جانے کتنوں کی آخرت کی بسی بسائی دنیا اجاڑدی۔ یاد رکھو کہ شریعت اسلامیہ میں اس عقیدے کی کوئی وقعت نہیں، بلکہ اس نے اسے کج فکری قرار دیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ بندہ مجبو ر نہیں، وہ اپنے ارادے کے مطابق اعمال انجام دے سکتا ہے، اب یہ اس کی مرضی کہ وہ خیر کے اعمال انجام دیتا ہے یا شر کے اعمال میں اپنی زندگی کے قیمتی اوقات ولمحات کو بسر کرتا ہے۔
ارشاد فرمایا ربِ کا ئنات نے:
(وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ) (البلد: 10)
"اور ہم نے دکھا دیئے اس کو دونوں راستے۔"
لیکن آج بھی امت اسلامیہ کے اندر ایسے لوگ بکثرت پائے جاتے ہیں جو گناہوں کے ارتکاب کا ٹھیکر ا تقدیر پر پھوڑتے ہیں اور نہایت بےشرمی کے ساتھ کہہ دیتے ہیں کہ جو گناہ ہم سے ہوئے ، وہ تو ہونے ہی تھے کہ وہ ہماری تقدیر میں لکھ دیے گئے تھے، اس لیے کہ ہم مجبور ولاچار تھے، اب اگر ان گناہوں کی پاداش میں ہمیں سزادی جاتی ہے تویہ انصاف کی بات نہیں ہوگی ۔
"أعاذنا اللہ منھم" بری بات ہے جو یہ لوگ کہتے ہیں اور جرات رندانہ تو دیکھئے کہ گناہوں کا ٹھیکر ا کس بےشرمی سے اللہ کی مشیئت پر پھوڑ کر اپنا پلو جھاڑ لیتے ہیں۔
اے وہ نادا نو جو اس جرات رندانہ کا اظہار کرتےہو، سنو! تمہاری یہ منطق نہایت بودی ہے ، ہاں مگر یہ سچ ہے کہ تم جو کچھ بھی کرتے ہو، وہ اللہ کی لکھی ہوئی تقدیر ہی ہے لیکن گناہ کے کاموں پر تقدیر سے حجت اور دلیل پکڑنا کئی وجہوں سے صحیح نہیں ہے۔ سنو اور یاد رکھو ان وجوہات کو اور سچے دل سے توبہ کرو رب کریم کے حضور ایسی لایعنی اور لغو بات کہنے سے، میں بتا تا ہوں کہ وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی بناء پر تمہاری یہ حجت بازی کٹ حجتی سے زیادہ کچھ نہیں :
۱۔ یا تو تم تقدیر کو بندے کے برے اعمال پر حجت مانوگے یا پھر نہیں مانوگے ۔ اگر تم مانو کہ تقدیر برے افعال واعمال پر حجت ہے تو تمہیں یہ بھی ماننا ہوگا کہ یہ دنیا کے تمام بندوں کے لیے ان کے برے اعمال پر حجت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی تم پر ظلم کرے تو تم اسے کچھ نہ کہو کیوں کہ تقدیر جس طرح تمہارے لیے حجت ہے، اسی طرح تم پر ظلم کرنے والے، تمہارا مال ودولت لوٹنے والے اور تمہاری عزت وآبروپر حملہ کرنے والے کے لیے بھی حجت ہے۔ بتاؤ، دل سےکہ کیا یہ ممکن ہے؟ ہرگز نہیں اور کسی بھی صورت میں نہیں کیوں کہ اگر ایسا ہوا تو دنیا کا نظام چند منٹوں میں درہم برہم ہوکر ختم ہو جائےگا ۔ اس سےظاہر ہوجاتا ہے کہ عقلی اعتبار سے تمہاری یہ بات نہایت بودی اور شرعی اعتبار سے کفر ہے۔
۲۔ اس سے لازم آئے گا کہ یہ مان لیا جائے کہ ابلیس ، قوم عاد ، قوم ثمود اور قوم نوح نیز وہ تمام قومیں جن کو ان کے کالے کرتوتوں کے سبب ہلاک کردیا گيا ، وہ معذور تھیں اور اللہ نے (نعوذ باللہ) انہیں ظلما ہلاک کیا ہے ۔ یہ بات بھی یقینا لائق اعتناء نہیں بلکہ کفر ہے۔
۳۔ اگر تمہاری بات مان لی جائے تو پھر یہ بھی ماننا ہوگا کہ اللہ کے دوست اور اللہ کے دشمنوں میں کوئی فرق وامتیاز نہیں اور نہ مومنوں اور کافروں میں کوئی فرق ہے۔ بتاؤ کیا روشنی اور اندھیرے میں کوئی فرق نہیں اور کیا گل وخار میں کوئی فرق نہیں؟ ثابت ہوا کہ گناہوں پر تقدیر کو حجت ماننا کجی اور ٹیڑھ پن کے علاوہ کچھ نہیں۔
۴۔ تقدیر پر ہم کو ایمان لانا ہے، استدلال نہیں کرنا ہے کیوں کہ اگر استدلال کریں گے تو ابلیس اور اس کے پیروکاروں کو بھی صحیح ماننا ہوگا، عذاب وثواب بے معنی ہو کررہ جائیں گے، مفسدین اور مصلحین ترازو کے ایک ہی پلڑے میں وزن کیے جائیں گے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بے معنی ہو کر رہ جائے گا، کسی کو برائی پر ٹوکنا اور نیکی کرنے پر ابھارنا لغو ٹھہرےگا۔ چور کو اس کی چوری کی سزا نہیں دی جائے گی ۔ بتاؤ کیا اب بھی تمہاری عقل ٹھکانے نہیں آئی؟ کیا اب بھی تم اپنے گناہوں کا سبب تقدیر کومانوگے ؟
۵۔ اگر تم اپنی بیوی سے نہ ملو پھر بھی اولاد کی تمنا رکھو تو کیا یہ تمہارا احمقانہ فعل نہیں ہوگا ؟ یقینا لوگ اسے احمق ہی کہیں گے۔ معلوم یہ ہوا کہ ہر کسی کو عمل کرنا ہےکیوں کہ ہر آدمی جس کام کے لیے پیدا کیا گیا ہے ، اسے اس کی توفیق دی جاتی ہے بس اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ نیک کا م کا ارادہ کرے۔ (مجموع الفتاوی: 8/263-264)
دوستو! اللہ کے لیے ان وجوہات پر غور کرو اور عقل سلیم کے ساتھ ان پر تدبر کرو۔ تا کہ تمہارے سامنے حق بالکل واضح ہو جائے اوریہ باطل وفاسق عقیدہ تمہارا پیچھا چھوڑدے اللہ سے یہی دعاء ہے کہ وہ ہمیں اور آپ کوجبریہ عقیدے سے محفوظ رکھے اور صحیح اور سچے راستہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین!
http://www.minberurdu.com/%D8%B9%D8%...%A7%D9%86.aspx