نتائج کی نمائش 1 تا: 10 از: 10

موضوع: شریعت کا نفاذ یا فساد کا دروازہ؟

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Nov 2011
    پيغامات
    527
    شکریہ
    31
    49 پیغامات میں 71 اظہار تشکر

    شریعت کا نفاذ یا فساد کا دروازہ؟

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    الحمدلله الحكم العدل الفرد الصمد الذي اذا حكم فهو احكم الحاكمين واذا أرحم فهو أرحم الراحمين واذا أخز فهو قوي العزيز المتين- والصلوة والسلام على النبي الكريم الصادق الوعد الامين.الداعي الى توحيد رب العالمين.المبعوث رحمة للعالمين.وعلى آله وصحبه اجمعين. اما بعد:
    بے شک شریعت الہی کا نفاذ اہم ترین فرا ئض میں سے ایک ہے اور اس سے مسلمانوں معاشرے میں بگاڑ کا سدباب ہوتا ہے۔
    لیکن اگر اس کا نفاذ غیر متعلقہ لوگ ،یعنی جن کو اس کام کا ذمہ دار دین اسلام نے نہیں بنایا اگر وہ اس کام میں طبع آزامائی کریں گے تو یہ مقدس کام فتنہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
    یہاں یہ ضروری بات بھی ذہن نشین کر لینی چاہیئے کہ قرآن و حدیث اور فہم سلف صالحین کی تعلیمات کے مطابق حدود اللہ کا نفاذ مسلم حکمرانوں اور سلاطین کا کام ہے۔ یعنی ایسے افراد کا کام ہے جو زمین پر حکومت دیئے گئے ہیں۔ان کے علاوہ ملک میں موجود کسی گروہ یا تنظیم کا یہ ہر گز کام نہیں ہے اور نہ ہی وہ اسکے مکلف ہیں۔
    اور اگر بالفرض حکمران وقت حدود اللہ کے نفاذ میں کاہلی کا شکار ہوں تو بھی کسی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ یہ فریضہ اپنے ہاتھ میں لیکر اپنے طور پر اس کام میں لگ جائے۔ بلکہ اس مسئلے علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکمران وقت کو نصیحت کرتے رہیں اور حدود اللہ نفاذ کی اہمیت و فوائد سے آگاہ کرتے رہیں ، جیسا کہ الشیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ الہہ اور امام الدعوہ محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ نے مسئلہ نفاذ حدود اللہ میں منہج حقہ پیش کیا ہے۔ (اس بارے محمد بن عبد الوھاب ، ایک مظلوم اور بدنام مصلح نامی کتاب کا مطالعہ نہایت مفید ہے)
    لیکن المیہ یہ ہے کہ، آپ حضرات اکثر انٹرنیٹ پر یا سی ڈی وغیرہ میں ایسے شارٹ ویڈیو کلپس دیکھتے ہوں گے کہ جس میں کوئی تنظیم یا گروہ کسی مسلمان کو آنکھوں پر پٹی باندھ کر یا ویسے ہی، ہاتھوں کو جکڑ کر بٹھایا ہوتا ہے اور اس کے پیچھے چند نقاب پوش افراد جذباتی ہو کر نعرہ تکبیر بلند کر رہے ہوتے ہیں اور حدود اللہ کے نٖفاذ کا شور مچا رہے ہوتے ہیں کہ’’ ہم فلاں شخص پر فلاں مسلمان پر جاسوسی کی حد، قتل کی حد یا گستاخی رسول کی حد نافذ کر نے لگے ہیں ، یہ بندہ جوآپ کے سامنے بیٹھا ہے ، یہ جاسوس ہے، قاتل ہے یا گستاخ رسول ہے۔۔۔‘‘
    یہاں ایک بات مز ید ذہن نشین فرما لیں کہ جس مسلمان شخص پر حد کا نفاذ ہوجائے تو وہ اپنے گناہ کی سزا دنیا میں پانے کی وجہ سے آخرت میں پاک ہوجاتا ہے، اس کا وہ جرم دھل جاتا ہے۔
    مگر آجکل ہائی ڈیفی نیشن ویڈیوز میں اس جکڑے گئے مسلمان آدمی کو گھیرے ہوئے لوگ اس پر الزام لگاتے ہوئے اور اس کی سزا سناتے ہوئے ،نعرے بلند کرنا شروع کر دیتے ہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یا تو اسے بری طرح دردناک انداز میں ذبح کر دیا جاتا ہے یا پھر پوری کلاشن کی مگزین خالی کر دی جاتی ہے حالانکہ یہ کام ایک گولی سے بھی ممکن ہوتا ہے۔ یہ نقاب پوش حد نافذ کرنے کے دعویدار اسے غلیظ ناموں سے پکارتے ہیں اور حد کے نفاذ کے بعد اسکی لاش کو گولیوں کی بوچھاڑ سےمسخ کر دیتے ہیں ، اور نہایت بھیانک لہجے میں اس لاش کو کوستے اور ٹھڈے تک مارنا شروع کر دیتے ہیں
    ایسا مسلمان مرد یا عورت جس پر حد نافذ کر دی گئی ہو، وہ پاک ہوتا ہے اور اگر کوئی اس مرد یا عورت کی تحقیر یا تذلیل کرتا ہے تو اسے اس واقعہ سے عبرت لینی چاہیے کہ جب زمانہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک شادی شدہ عورت کو زنا کی پاداش میں رجم کیا گیا تو اسکے خون کے چھینٹے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ پر پڑے تو انہوں نے اس عورت کو کوسنا شروع کر دیا کہ تیرے پلید خون نے مجھے آلودہ کر دیا ہے۔ جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید کی سخت سرزنش فرمائی۔
    مگر یہاں ایسی ویڈیوز میں حدود اللہ کے نفاذ کے کام سے لیکر ملزم کے انجام تک ، سب کچھ خود شریعت اسلامیہ کے اصولوں برخلاف چل رہاہوتا ہے۔ اور قسم کے حدود اللہ کے نفاذ کے نام پر قتل وغارت کا اسلام سے دور کا بھی تعلق نہیں!!!
    آپ سوچ رہیں ہوں گے کہ وہ کیسے ؟
    تو اس پر میں چند سوالات آپکی خدمت میں رکھوں گا:
    1- اسلام نے حدود اللہ کا نفاذ ان افراد کے ذمہ لگایا ہے جو زمین سلطہ دیئے گئے ہیں، کیا ان کے پاس سلطہ ہے؟
    2- اس مسلمان کو جسے حد کے نام پر قتل کیا جارہا ہے ، اس پر مکمل الزام کیا تھا؟
    3- اس کا کیس کس عدالت میں چلا اور کب چلا؟
    4- اسکے اس فعل پر کس کس نے گواہی دی اور کتنی گواہیاں درج ہوئیں؟
    5- اس شخص نے اپنی صفائی میں کیا کہا، یا اسے صفائی کا موقع دیا گیا ؟
    6- عدالت نے اس شخص کے مجرم ہونے کا فیصلہ کیا کیا، اور کیا سزا سنائی؟
    7- کن لوگوں نے اس پر عمل درآمد کروایا یا حد کو نافذ کیا اور اس مجرم قرار دیئے ہوئے شخص کو قتل کیا؟
    اب اگر آپ انٹرنیٹ پر موجود تمام پرائیویٹ گروہوں اور تنظیموں کے ویڈیو کلپس نکال کر ، سب کا جائزہ لے لیں ، تو آپ بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ حدود اللہ نفاذ کے آخری مرحلے کے سوا باقی تمام مراحل آپ کو ویڈیو میں نظر نہیں آئیں گے۔
    حق تو یہ تھا کہ جہاں حد کے نفاذ کی فلم بندی کی گئی وہی پر باقی مراحل بھی فلمائے جاتے ، تاکہ عام مسلمان بھی جان لیتا کہ یہ جس کو قتل کیا جا رہا ہے یہ واقعی ہی اس کا حقدار ہے۔
    آخر ایسا کیوں نہیں کیا گیا، مکمل کیس کی ویڈیو کیوں نہیں بنائی گئی، یا یہ چند منٹ کی عدالت کہ جس میں نہ گواہ پیش ہوئے نہ ملزم کو صفائی کا موقع ملا ہو ، بس نفاذ ہی دکھایا گیا ہو، یہ کس دین کا طریقہ ہے کم از کم اسلام کا یہ طریقہ نہیں اسلام ایسی کرتوتوں سے بری ہے۔
    مگر ایسا نہیں ہوتا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ دال میں کچھ کالا تھا یا پھر دال ہی ساری کالی ہے ۔
    آپ تمام کلپس اٹھا کر دیکھ لیں چند منٹوں میں ایک آدمی جلدی سے کھڑے کھڑے ،اس جکڑے ہوئے مسلمان پر الزام اور فیصلہ سنا کر فورا اسے وحشیانہ طریقہ سے قتل کر دیتے ہیں۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔
    اس سے کئی باتوں کا اندیشہ پیدا ہوتا ہے کہ یا تو وہ شخص بے قصور تھا مگر کسی عداوت میں اسے شریعت کے نام پر اپنے نفس کی تسکین کی گئی،
    اس شخص کے خلاف کوئی گواہ نہیں تھا اور محض ظن اور گمان بد کی بنیاد پر اسے قتل کر دیا گیا ، جو کہ اسلام کے بالکل مخالف اور ظلم ہے۔
    یا پھر اس بیچارے کا جرم اتنا تھا ہی نہیں کہ اس پر اسے قتل کیا جاسکے اور اگر اپنی ہی عدالت میں یہ تنظیم کیس چلاتی تو وہ بری ہوجاتا یا کم سزا پا تا ، اسی لئے با ہر ہی با ہر اسے اپنی مرضی کی سزا سے دوچار کر دیا گیا۔
    ایسے ویڈیو کلپس سے اسلام اور جہاد ہی کی بدنامی ہی ہوگی، سیکیولر اور لادین حلقوں کو زبان درازیوں جواز ہی فراہم ہوگا، اور غیر مسلم اسلام کو چاہے قبول ہی کیوں نہ کرنا چاہتے ہوں مگر ایسی نامکمل اور بے ہنگم ویڈیوز دیکھ کر اسلام سے متنفر ہی ہوں گے۔ مسلمانوں میں خوف و وحشت ہی پھیلے گی۔ اللہ کی پناہ۔
    اے اہل ایمان ، آپ سے درخواست ہے کہ اللہ کے لئے شریعت اسلامی کے نفاذ کے نام پر فتنہ پھیلانے والوں اور مسلمانوں کا ناحق قتل کرنے والوں کو پہچانیئے اور ان کے کسی ایسے عمل میں تا ئید یا تعریف کے ساتھ شریک یا حمایتی بننے سے اجتناب کیجئے ، یہ نہ ہو کہ کل جب یہ لوگ اس اللہ کے سامنے پکڑے جائیں تو انکے حمایتیوں میں آپ کا نام بھی پکارا جائے ، کیونکہ کراما کاتبین تو بہرحال سب لکھ رہے ہیں ، چاہے آپ پاکستان میں بیٹھے یا کئی اور انکی حمایت و تائید کر رہے ہیں۔
    میرے ذمہ تو محض پہنچانا تھا۔۔۔
    اے اللہ گواہ رہنا میں نے پہنچا دیا
    اے اللہ گواہ رہنا میں نے پہنچا دی
    ا اے اللہ گواہ رہنا میں نے پہنچا دیا
    وما علینا الاالبلاغ المبین

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 5 اراکین نے ایم-ایم کا شکریہ ادا کیا:

    aliimran (03-29-2014),شاہنواز (03-25-2014),بےباک (03-27-2014),انجم رشید (03-26-2014),تانیہ (03-28-2014)

  3. #2
    رکنِ خاص شاہنواز کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Mar 2012
    مقام
    کراچی پیارا پاکستان
    پيغامات
    968
    شکریہ
    610
    371 پیغامات میں 497 اظہار تشکر

    جواب: شریعت کا نفاذ یا فساد کا دروازہ؟

    جی جناب آپ نے بہت اچھا لکھا اور پاکستان میں ہر کوئی اپنی ہی شریعت نافذ کرنا چاہتا ہے اور کون سی شریعت کوئی ایک شریعت پر تو راضی ہی نہیں ہوتا کہ یہ شریعت ہو سب اپنی ہی مرضی کی شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم نعرہ تو لگاتے ہیں کہ قراآن ایک ؛ ایک اللہ اور ایک رسول لیکن پھر وہی مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے
    پاکستان پولیس
    پولیس کی مدہ ہے فرض آپ کا

    https://www.iradeo.com/station/48344

  4. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے شاہنواز کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (03-27-2014)

  5. #3
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    831
    شکریہ
    246
    110 پیغامات میں 168 اظہار تشکر

    جواب: شریعت کا نفاذ یا فساد کا دروازہ؟

    محترم ایم ایم جی بہت بہت شکریہ آپ کا حقیقت میں ایسا ہی ہے جیسا آپ نے فرمایا ہے
    اے وطن پیارے وطن پاک وطن

  6. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے انجم رشید کا شکریہ ادا کیا:

    شاہنواز (03-26-2014)

  7. #4
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,183
    شکریہ
    2,148
    1,247 پیغامات میں 1,621 اظہار تشکر

    جواب: شریعت کا نفاذ یا فساد کا دروازہ؟

    اسلام ایسی غلط روایات کا قطعا قطعا حامل نہی رہا ، اور نہ ہی اس طرز کی سزاؤں کا مذھب ہے ،
    اس جیسی خبروں کو میڈیا پر لگاتار لگانا اور ایسی ویڈیوز کو انٹرنیٹ تک رسائی دینا ۔ حالانکہ ایسی ویڈیوز جن میں اسرائیلی یا امریکن ایسا کام کر رہے ہوں تو ان کو علم ہونےکے فورا بعد ہٹا دیا جاتا ہے ۔مگر نام نہاد اسلامی گروپس کی ویڈیوز کو بار بار لگایا جاتا ہے ،تاکہ مسلمان اور دوسرے سب سمجھ لیں کہ اسلامی سزائیں ظلم عظیم ہے ،اور یہ کہ یہ دھشت گردی ہے اور وحشیانہ عمل ہے اسلامی نظام لانا ، ایسے لوگ اسلامی نظامی عدل کو ظلم ثابت کرنا چاھتے ہیں ، اور اسلام کو ایک وحشی مذھب کے طور پر تعارف کرا رہے ہیں ،
    اس کے پیچھے اکثر ہاتھ میڈیا کا بھی ہوتا ہے ، اسلام کے جو عادلانہ فیصلے ہیں ، ان کو منظر عام سے ہٹا دیا جاتا ہے ، سی آئی اے اور دوسرے سائبر کرائم کے ادارے سب انٹرنیٹ کے کرائم کو سمجھتے ہیں ، ان کو یہ سب معلوم ہوتا ہے کہ کون کہاں سے کیا کر رہا ہے ، کی لوگرkeylogger اور ایسے کئی پروگرام ہیں جو جگہ تک بتا دیتے ہیں کہ فلاں بندہ نے فلاں جگہ سے صرف بن لادن لکھا ہے ، اور فلاں جگہ سے فلاں بندے کےفلاں کمپیوٹر نمبر سے یہ سب مواد پوسٹ کیا ہے اور اس کا حدود اربعہ کیا ہے ، آدھ گھنٹے سے پہلے پہلے پہنچا جا سکتا ہے ۔ آپ کے ذہن میں جو جو سوالات موجود ہیں وہ بالکل حقیقت ہیں ، اور میرا بھی سوال سامنے رکھئے ، خاص خاص موقع پر ہی ایسا کیوں کیا جاتا ہے ، میڈیا عین اسی وقت ایسی ویڈیو ،یا تصاویر کیوں جاری کرتا ہے ، جب جب اسلام کے نفاذ کے بارے بات کی جاتی ہے ،
    معاشرے کے بگاڑ میں میڈیا برے سیاسی عمائد سے زیادہ شریک ہے ۔ ہمارے اسلامی دیس پاکستان میں میڈیا کا ہر ٹی وی چینل اور ہر اخبار تقریبا ہر خبر نامہ میں 24 گھنٹے میں 48 بار سے زیادہ ایڈین ایکٹرسوں کے آئٹم سانگ کس خوشی میں چلاتا ہے ، اور ان کی 20 ، 23،24 ،40 ، سالگرہ پر ان کے سب مشہور واہیات قسم کےآئٹم سانگ ہی کیوں اسلامی دیس کے ہر عورت اور مرد کو دکھائے جاتے ہیں ۔اور بچوں کو دکھائے جاتے ہیں ، جسمانی اعضاء کی یوں کھلے عام تشہیر میں سب میڈیا کے ادارے مذموم کردار کیوں اداکرتے ہیں؟؟؟ ، کوئی تو ہو جو ان کو روکے؟؟؟؟؟ ،
    ایک طرف تو معاشرہ اس طرف جا رہا ہے اور دوسری طرف اسلامی سزائیں وحشیانہ ثابت کرنے پر یہی میڈیا گھٹیا کردار ادا کر رہا ہے ، ہمارے مسلمان ہیروز اور مسلمان بہادر خواتین کے کارناموں کے بجائے وینا ملک اور اس جیسی دوسری خواتین سے اسلامی پروگرام کرائے جائیں گےتو پھر معاشرے میں جو جنسی جرائم ابھرتے ہیں اس میں یہ میڈیا ہی ملوث ہوتا ہے ،
    ان ساری خباثتوں کے درمیان ،عام مسلمان کیسے رہے اور کس کی طرف دیکھے ، ایک طرف کھوہ اور دوسری طرف کھائی ہے ، تیسرا معتدل اسلامی طبقہ وہ دم سادھ کر گھروں میں مقید ہو جاتا ہے ، ایسے میں جب کوئی دوسرا نعم البدل موجود نہ ہو تو لوگ ایسے ہی لوگوں کو جو اسلام کے نام نہاد ٹھیکیدار بن جاتے ہیں ان کی طرف ہی دیکھیں گے ۔ جید علماء کو جو آج بھی موجود ہیں ،ہمارا میڈیا اور باقی ذرائع ابلاغ ان کے نزدیک فالتو ہیں ان کو وقعت ہی نہیں دیتے ، ان کے بقول ہمارے میڈیا یا ٹی وی چینل میں ریٹنگ کے حساب سے اشتہارات ملتے ہیں ، اور ہم ریٹنگ بڑھانے کے لئے حسین ایکٹریسوں کے زیر استعمال جامہ تک دکھا دیتے ہیں ، ہمارے ملک میں ہر ادارے میں بڑے عہدوں پرسیکولر اور مغرب کا نمائیندہ طبقہ موجود ہو جن کے نزدیک فحاشی فیشن ہو ، اور پارلیمنٹ کےوہ اکابر جو ڈانس اور شراب کو اونچی سوسائٹی کا سٹینڈر سمجھتے ہوں ، ان کے سامنے مسلمان کیا کرے اور کیا سوچے ،کیا ہمارے ملک میں ایسے ہی حکمران رہ گئے ہیں ؟؟؟؟؟؟؟، اس بگاڑ کو روکنے والا جو بھی ہو گا ، وہ عوام کی نظروں میں ہیرو بن جائے گا ، بےشک وہ غلط ہی کر رہا ہو،
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  8. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    انجم رشید (04-02-2014),تانیہ (03-28-2014)

  9. #5
    رکنِ خاص سید انور محمود کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Apr 2012
    پيغامات
    754
    شکریہ
    198
    388 پیغامات میں 628 اظہار تشکر

    جواب: شریعت کا نفاذ یا فساد کا دروازہ؟

    بےباک صاحب، کب تک میڈیا کو روتے رہینگے، اگر دیکھا جائے تو یہ جواردو منظر فورم کی دوکان جو میں اورآپ کھول کربیٹھے ہیں یہ بھی تو میڈیا ہی کی ایک برانچ ہے۔ صبح کے پروگرام میں جو خواتین آکر اپنے جسموں کی نمائش کررہی ہوتی وہ امریکہ یا ہندوستان سے نہیں آتیں ہیں سب کی سب پاکستانی ہوتی ہے۔ جید علما تو بہت کام کررہے ہیں، عامر لیاقت کے پروگرام میں بیٹھا ہر ملا مال بنارہا ہے۔ ضیا الحق کو اقتیدار میں لانے کےلیےنظام مصطفی کا نعرہ لگایا گیا، اور اس وقت طالبان درندوں کے بھائی منور حسن اور باپ مولوی سمیع الحق طالبان کی شریعت لانا چاہ رہے ہیں اور پھر آپ جیسے محب وطن دوست اخباری دنیا کے چیتھڑئے "امت" کو روزانہ اس ویب سائٹ پرپرموٹ کررہے ہیں۔ امید ہے جلدہی اس ویب سائٹ کو "اردو منظر فورم" کی جگہ "روزنامہ امت" کی ویب سائٹ کہلائے گی، علی عمران کو نیا نام مبارک ہو۔ ویسے قاضی حسین احمد نے دہشت گردی کا جو بیج بویا تھا اب تو کافی تن آور درخت بن چکا ہے اور منور حسن جیسا منافق، اپنے آپ کو طالبان کا باپ کہلانے والا ملا سمیع الحق، اپنے فائدے کو دیکھ کر قوم کا سودا کرنے والا ملا فضل الرحمان، بزدل عمران خان اور گیدڑوں سے تعلق رکھنے والا نواز شریف، میڈیا میں طابان کے دلال خاص کرانصار عباسی اور اوریا مقبول جان اور آپ جیسے معصوم جب تک طالبان کے ساتھ ہیں اس ملک سے درندگی نہیں ختم ہوگی۔ لازمی بات ہے میرا یہ سب لکھنا آپکو اچھا نہیں لگا ہوگا، لہذا آپ کےلیے ایک دو اچھی باتیں بھی ہونی چاہیں۔ آپ اور آپ کے حواریوں نےجو شریعت کا اوُدھم مچایا ہوا ہے تو عام آدمی پرتو اس کا اثر نہیں ہوا بلکہ سود کا کاروبار کرنے والا "میزان بنک" آجکل ایڈ دے رہا "ہمارئے بنک میں عین اسلامی شریعت کے مطابق سود سے پاک اسلامی کریڈٹ اکاونئٹ کھولیے، مفت چیک بک، مفت کریڈٹ کارڈ"، ذرا غور فرمایں کیا دینا کہ کسی بنک میں کریڈٹ اکاونٹ پر منافع یا سود ملتا ہے، ایک اور شریعت کا بھی سن لیں، ایک صابن کا اشتہار آرہا ہے، جس میں صابن کی تعریف کی جگہ کہا جارہا کہ صابن سو فیصد حلال ہے اسکا مطلب یہ ہوا ابھی تک ہم جو صابن استمال کررہے ہیں وہ سب حرام ہیں، اللہ ہم سب کو معاف کرئے۔ بے باک صاحب بےانتہا معذرت کے ساتھ اللہ حافظ۔ اگر آپ میں سے کسی دوست نے اس تبصرے کے اوپر تبصرہ کیا اور میں جواب نہ دوں تو سمجھ لیں کہ میری طبیعت خراب ہے۔
    سید انور محمود

  10. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے سید انور محمود کا شکریہ ادا کیا:

    شاہنواز (03-29-2014),انجم رشید (04-02-2014)

  11. #6
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,183
    شکریہ
    2,148
    1,247 پیغامات میں 1,621 اظہار تشکر

    جواب: شریعت کا نفاذ یا فساد کا دروازہ؟

    اللہ تعالی آپ کو صحت سے نوازے ،
    مدینہ المنورہ میں ہوں ،آپکے لئے دعا گو ہوں ، اللہ تعالی صحت سے نوازے ، اور جلد تندرست فرمائے ، دنیا اور آخرت میں کامیابی ہو ،
    آپ کی سوچ کی طرز پر میں نے بات لکھی ہے ۔خبریں کہین سے بھی لکھی جا سکتی ہیں ، امت ہو ،جنگ ہو نوائے وقت ہو ،
    حقیقت بات آپ نے عیاں فرما دی ہے ، اللہ تعالی ملک پاکستان پر اپنا کرم فرمائے ، ورنہ ہم نے اپنی لٹیا ڈبونے میں کوئی کثر ھر گز نہیں چھوڑی
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  12. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    aliimran (03-29-2014),سید انور محمود (03-29-2014)

  13. #7
    رکنِ خاص سید انور محمود کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Apr 2012
    پيغامات
    754
    شکریہ
    198
    388 پیغامات میں 628 اظہار تشکر

    جواب: شریعت کا نفاذ یا فساد کا دروازہ؟

    شکریہ بےباک صاحب۔ دعاوں میں ضرور یاد رکھیں۔ شکریہ
    سید انور محمود

  14. #8
    رکنِ خاص شاہنواز کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Mar 2012
    مقام
    کراچی پیارا پاکستان
    پيغامات
    968
    شکریہ
    610
    371 پیغامات میں 497 اظہار تشکر

    جواب: شریعت کا نفاذ یا فساد کا دروازہ؟

    اللہ پاک ہم سب پر اپنا کرم فرمائے ۔
    پاکستان پولیس
    پولیس کی مدہ ہے فرض آپ کا

    https://www.iradeo.com/station/48344

  15. #9
    منتظم اعلی
    تاريخ شموليت
    Feb 2013
    پيغامات
    234
    شکریہ
    291
    119 پیغامات میں 184 اظہار تشکر

    جواب: شریعت کا نفاذ یا فساد کا دروازہ؟

    ارے ارے مجھ بے چارے کو کیوں گھسیٹ لیا ویسے امت فورم نام بُرا نہیں۔ اخبار کے حقوق اخبار کے پاس ہوں گے فورم کے حقوق ہم حاصل کر لیتے ہیں۔۔۔

    میں تو جی پہلے ہی بہت تنگ ہوں اس امت نامی اخبار سے کیونکہ اس کی اب تک کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ہمیشہ کالعدم تنظیموں کے لئے تاویلیں پیش کرنے میں ہی اس نے ساری قوت خرچ کی اس اخبار نے اپنا غیرجانبدارانہ امیج خود ہی برباد کیا اس قدر جانبداری کہ میری زبان نہ ہی کھلوائیں تو اچھا ہے۔۔۔ اور اندر کی باتیں تو ویسے بھی میں کھولنے سے ہچکچاتا ہوں ورنہ کئی کانوں سے دھواں اور کئی سے میل کچیل نکل آئے گا۔۔۔۔
    نحن عشاق الحسین ع
    اگر آپ حق پر کھڑے ہیں توآپ کو چلا کربات کرنے کی ضرورت نہیں
    اور اگر آپ حق پر نہیں ہیں تو چلا کربات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں


  16. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے aliimran کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (03-31-2014),سید انور محمود (03-30-2014)

  17. #10
    رکنِ خاص شاہنواز کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Mar 2012
    مقام
    کراچی پیارا پاکستان
    پيغامات
    968
    شکریہ
    610
    371 پیغامات میں 497 اظہار تشکر

    جواب: شریعت کا نفاذ یا فساد کا دروازہ؟

    میں تو ایک بات جانتا ہوں کہ ہم سب شوشل میڈیا کے ہی نمائندے ہیں اور باقی رہا تعلق کہ چیتھڑے تو میں اس بات کو سمجھ رہا ہوں کہ سید محمود انور صاحب کے خیالات بہت سخت ہیں اور ہمارے ان سیاستدانوں کے کرتا دھرتا ہونے کی وجہ سے نوبت یہاں تک پہنچی ہے ۔ اب اخبارات تو اخبارات ہی ہیں تو تمام اخبارات سچی خبریں کہاں چھاپتے ہیں اور ٹی وی شوز کی بات کی جارہی ہے تو برائے مہربانی ان ملاؤں سے سوال کیا جائے جو شریعت کے نفاذ کی بات ان ہی چینلز پر آکر کرتے ہیں انہی چینلز پر آکر اپنی دل کی بات اپنی بنائی ہوئی شریعت کا نفاذ کرتے ہیں تو سید محمود صاحب ہمارا کام سچائی لوگوں تک پہنچانا ہے اور ہم اپنا کام کررہے ہیں ۔ جیسے پانچوں انگلیاں ایک جیسی نہیں ہوتی اسی طرح دنیا میں بھی ابھی کچھ اچھائیاں باقی ہیں ۔رہی امت اخبار کی بات یہ تو اپنے دل کی آواز ہے کہ جس کو کون سا اخبار اچھا لگتا ہے ۔ بات دور نکل گئی آپ اور ہم سب مل کر آواز بلند کرتے ہیں کہ جو ملا شریعت کے نفاذ اور طالبان کی حمائت کرتے ہیں سب سے پہلے ان چینلز کا بائیکاٹ کریں جو صبح ہی صبح لائٹ لباس پہن کر آتیں ہیں آخر شریعت کے نفاذ کے چاہنے والے ان چینلز کا بائیکاٹ کیوں نہیں کرتے ہیں۔اس کی وجہ ہے اور وہ یہ ہے کہ ان کا حلوہ بند ہوجائے گا بیرونی امداد بند ہوجائے گی اور ان چینلز کو جو امداد ملتی ہے اس کا نقصان ہوجائے گا ۔ یہ ملا مجبور ہیں عوام کو اپنا چہرہ دیکھانے کے لئے کہ آج کل پرنٹ نیوز کا دور ختم ہوتا جارہا ہے ۔
    اور میڈیا ٹرائل پر زور دیا جارہا ان کو پتہ ہے کہ اگر ہم نے ان چینلز کا بائیکاٹ کردیا تو یہ تمام چینلز ان کے خلاف مہم شروع کردیں گے اور آئندہ آنے والے الیکشن اور ان کے خلاف میڈیا ٹرائل کی وجہ سے ان کی کلی کھل جائے گی ۔تو ظاہر ہوا کہ یہ سب عوام کو بے وقوف بنارہے ہیں۔یہ سب ہی دل سے ہی شریعت کا نفاذ نہیں چاہتے ۔ ان کو شریعت کا پتہ ہی نہیں ہے کہ شریعت ہے کیا
    پاکستان پولیس
    پولیس کی مدہ ہے فرض آپ کا

    https://www.iradeo.com/station/48344

  18. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے شاہنواز کا شکریہ ادا کیا:


آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University