صفحہ 1 از 2 12 آخریآخری
نتائج کی نمائش 1 تا: 10 از: 19

موضوع: ڈالر او ر یورو کا ’دشمن‘۔۔۔بٹ کوئن

  1. #1
    رکنِ خاص شاہنواز کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Mar 2012
    مقام
    کراچی پیارا پاکستان
    پيغامات
    968
    شکریہ
    610
    371 پیغامات میں 497 اظہار تشکر

    ڈالر او ر یورو کا ’دشمن‘۔۔۔بٹ کوئن

    ڈالر او ر یورو کا ’دشمن‘۔۔۔بٹ کوئن


    31 مارچ 2014 (23:39)




    لاہور (خصوصی رپورٹ)یہ 20 فروری 2014ء کی بات ہے، لیہہ میگراہ گڈ مین لاس اینجلس کے محلے، ٹیمپل سٹی پہنچی۔ اس کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا اور وہ بہت پرتجسس نظر آتی تھی۔ لیہہ ممتاز انگریزی رسالے، نیوز ویک کی رپورٹر تھی لیکن گزشتہ دو ماہ میں سے وہ سراغ رساں بنی ہوئی تھی۔لیہہ کی چھان بین کا مرکز ایک جاپانی نژاد امریکی تھا۔ اسے شک تھا کہ وہ ادھیر عمر شخص دنیا کی پہلی مشہور ڈیجیٹل کرنسی ”بٹ کوائن“ (Bitcoin) کا خالق ہے۔ آج اس نے آدمی سے ملنے کا فیصلہ کرلیا تاکہ اپنا شک دور کرسکے۔اس نے دروازے پر نصب گھنٹی بجائی، تو ایک ادھیڑ عمر جاپانی نے کھڑی کی پردہ سرکایا، باہر جھانکا اور پھر غاب ہوگیا۔ لیہہ پانچ منٹ وہاں کھڑی رہی مگر آدمی نے دروازہ نہ کھولا۔ اس نے کچھ سوچ کر جاپانی کے نام یہ نوٹ لکھا: ”میں آپ سے بٹ کوائن کے متعلق گفتگو کرنا چاہتی ہوں، مجھے اور کوئی کام نہیں“۔ لییہ نے یہ نوٹ اور اپنا بزنس کارڈ دروازے کی گرل میں اڑ سے اور کھانا کھانے قریبی ریستوران چلی گئی۔جب ڈھائی بجے وہ واپس آئی تو دیکھ کر حیران رہ گئی کہ وہی جاپانی دو سپاہیوں کے ساتھ دروازے پر کھڑا ہے۔ اسے دیکھتے ہی جاپانی نے سپاہیوں کی توجہ لییہ پہ مبذول کرائی۔ تب ایک سپاہی اس سے مخاطب ہوا ”مادام! آپ انہیں کیوں تنگ کررہی ہیں؟ انہیں شکایت ہے کہ آپ ان کو کسی مصیبت میں گرفتار کرادیں گی“۔دال میں کچھ کالا: لیہہ اب تک یہی سمجھے بیٹھی تھی کہ وہ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہی ہے۔ لیکن جب اس شخص نے پولیس بلوالی، تو اسے یقین ہوگیا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ اس نے سپاہی کو بتایا: ”بھئی، میری وجہ سے یہ کیوں کسی مصیبت میں مبتلا ہونے لگے؟ میں تو ان سے صرف بٹ کوائن کے متعلق پوچھنا چاہتی ہوں …… یہ ستوشی ناکاموتو ہیں“۔یہ سن کر سپاہی حیرت زدہ ہوگیا۔ وہ نہ صرف بٹ کوائن کے متعلق جانتا تھا بلکہ اس نے ڈیجیٹل کرنسی پر دو مضامین بھی لکھ ڈالے تھے۔ وہ حیرانی سے بولا ”کیا؟ انہوں نے بٹ کوائن تخلیق کی ہے؟ مگر یہ تو معمولی سے گھر میں رہائش پذیر ہیں“۔سپاہی کی حیرت بجا تھی کیونکہ عام خیال ہے کہ ہٹ کوائن کا خالق کروڑوں ڈالر مالیت کی ڈیجیٹل کرنسی اپنی ملکیت میں رکھتا ہے جبکہ وہ عام سے گھر میں رہ رہا تھا جس کی مالیت چند لاکھ ڈالر تھی۔جاپانی اس گفتگو سے کچھ گڑ بڑا گیا۔ کہنے لگا ”ارے بھئی اب میرا اس معاملے سے متعلق کوئی تعلق نہیں اور میں اس کے متعلق کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔ اب دوسرے لوگ اس کے انچارج ہیں“۔یوں جاپانی نے ایک طرح سے اقرار کرلیا کہ وہی بٹ کوائن کا خالق ہے۔ چونکہ وہ بات کرنے کے لئے تیار نہ تھا، سو لیہہ کو بے نیل مرام واپس آنا پڑا۔ بہر حال اس نے اپنی تفتیشی رپورٹ مکمل کرلی، جو مارچ کے پہلے ہفتے نیوز ویک میں شائع ہوگئی۔رپورٹ شائع ہوتے ہی دنیا بھر کے سائنسی، مالیاتی اور عوامی حلقوں میں ہلچل مچ گئی۔ وجہ یہ کہ 2009ء میں سامنے آنے والی حیران کن ڈیجیٹل کرنسی کے خالف کی اصلیت اب تک پردہ اخفا میں تھی اور لاکھوں لوگ جاننا چاہتے تھے کہ وہ کون ذہین وفطین شخصیت ہے جس نے بٹ کوائن جیسی انقلابی کرنسی تخلیق کی۔ سو رپورٹ کے مندرجات عالمی اخبارات نے نمایاں طور پر شائع کئے اور لیہہ راتوں رات ایک مشہور ہستی بن گئی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ رپورٹ چھپتے ہی ٹیمپل سٹی کے رہائشی، ڈورین سنتوشی ناکاموتو (Dorian Satoshi Nakamoto) نے دعویٰ کر ڈالا کہ اس کا ہٹ کوائن سے کوئی تعلق نہیں۔ سو معاملہ مزید پراسرار ہوگیا جس نے اسے مزید شہرت بخشی۔ لیہہ نے دعویٰ کیا کہ اس کی رپورٹ درست ہے اور اسے ادارے (نیوز ویک) کی بھی پشت پناہی حاصل تھی۔نئی کرنسی کا جنم:یہ 1 نومبر 2008ء کا واقعہ ہے جب ستوشی ناکاموتو نے رمز نویسی (Cryptography) کے لئے مختص ویب سائٹ ”کرپٹو گرافی میلنگ لسٹ“ پر اپنا مقالہ ”Bitcoin: A Peer-to-peer Electronic Cash System“ شائع کیا۔ اس میں ایک نئی ڈیجیٹل کرنسی، بٹ کوائن تخلیق کرنے کا خامہ موجود تھا۔ ویب سائٹ پر آنے والوں میں سے کوئی بھی سنتوشی کو نہیں جانتا تھا۔ اس کی مستور شخصیات کے باوجود رمز نویسی سے دلچسپی رکھنے والے سبھی مرد و زن میں یہ مقالہ بہ سرعت مقبول ہوا۔ وجہ یہ کہ اس میں وہ معمہ حل کردیا گیا جو کئی برس سے ماہرین رمزنویسی کو دق کئے ہوئے تھا۔جب انٹرنیٹ نے جنم لیا تو سرکاری پابندیوں اور بینکوں کی اجارہ داری سے عاجز آئے ماہرین ساچنے لگے کہ ایسی ڈیجیٹل کرنسی ایجاد ہونی چاہیے جو بہ سہولت استعمال ہوسکے اور وہ حکومتوں و بینکاروں کی گرفت سے آزاد ہو۔ اسی نظریے پر عمل کرتے ہوئے 1990ء میں امریکی رمز نویس، ڈیوڈ چاؤم نے ”ای کیس“ نامی ڈیجیٹل کرنسی شروع کی مگر وہ ناکامی رہی۔ وجہ یہ کہ اسے اپنی ترقی کے لئے روایتی بینکوں پہ ہی انحصار کرنا پڑا۔ ڈیجیٹل کرنسی کی تخلیق میں سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا: ایسا کون سا طریق کار ہو کہ ایک ڈیجیٹل نوٹ کی کسی صورت نقل تیار نہ ہوسکے۔ بیشتر ماہرین کے نزدیک قابل عمل طریقہ یہ تھا کہ ایک ویب سائٹ پر مرکزی لیجر یا کھانا کھول لیا جائے جو ڈیجیٹر کرنسی کے ہر لین دین کا حساب رکھے۔ یوں کسی ڈیجیٹل نوٹ کا ناجائز استعمال نہ ہو پاتا۔ یہ لیجر دھوکے بازی تو روک دیتا، مگر ڈیجیٹل کرنسی کو ایک ویب سائٹ کی حدود میں مقید کرڈالتا۔ جبکہ رمز نویس اسے انٹرنیٹ کے مانند آزاد وخودمختار دیکھنا چاہتے تھے۔سنتوشی ناکاموتے نے یہ انقلابی نظریہ پیش کیا کہ کھاتا عوامی سطح پر کھولا جائے گا۔ یعنی کوئی ویب سائٹ یا تیسری پارٹی اس کی رکھوالی ونگرانی نہ کرے بلکہ نیٹ پر آنے والا ہر مرد وزن اسے دیکھ سکے۔ اس لیجر کو سنتوشی نے ”بلاک چین“ (Blockchain) کا نام دیا۔ نظریے کے مطابق بٹ کوائن کا کوئی بھی یہ ستار اپنے طاقتور کمپیوٹر کی مدد سے یہ ڈیجیٹل کرنسی تخلیق کرسکتا ہے۔ ہر نئے بٹ کوائن کا لین دین بلاک چین لیجر پہ آجاتا۔ اگر ہٹ کوائن کے لاکھوں حصے کا بھی لین دین ہوتا، تو وہ بھی دم چین پہ رقم رم ہوتا۔لین دین کی تصدیق: نئے بٹ کوائن تخلیق کرنے کا عمل خاصا دلچسپ ہے۔ جب بلاک چین پہ بٹ کوائن کے لین دین کی ریسدوں کا نجم متعدد ھد تک پہنچ جائے، تو ایک بلاک جنم لیتا ہے۔ (اس بلاگ میں زیادہ سے زیادہ تین ہزار رسیدیں جمع ہوسکتی ہیں۔)اس بلاگ پہ ایک تالا لگا ہوتا ہے یہ اسی وقت کھلتا ہے جب رسیدون کی تصدیق ہوجائے گی کہ وہ واقعی اصلی ہیں۔ یہ تصدیق بلاک چین سے منسلک کرنسی استعمال کرنے والوں کے کمپیوٹر کرتے ہیں جس شخص کا کمپیوٹر سب سے پہلے یہ تصدیق کر ڈالے، اسے محنت کے معاوضہ کی شکل میں 25 نئے بٹ کوائن ملتے ہیں۔جو شخص بٹ کوائن تخلیق کرنا چاہے، وہ پہلے بٹ کوائن فاؤنڈیشن سے متعلقہ سافٹ ویئر لے کر اپنے کمپیوٹر میں انسٹال کرتا ہے۔ یہ سافٹ ویئر بلاک چین کی پوری ویب سائٹ کمپیوٹر میں انسٹال کرتا ہے۔ لیجئے اب کمپیوٹر نئے بٹ کوائن بنانے کی خاطر تیار ہوچکا۔ مگر یہ ضروری ہے کہ اسے ہر وقت…… مسلسل چوبیس گھنٹے چلایا جائے۔ وجہ یہ کہ تبھی وہ بلاک چین پہ ہوئے سارے لین دین کی تصدیق کرکے نئے سکے ڈھاتا ہے۔کرنسی بنانے کا کاروبار: شروع میں بلاک چین پر ہٹ کوائن کا لین دین بہت کم تھا۔ اسی لئے چند رسیدوں پہ مشتمل بلاک ہی وجود میں آتا۔ اس چھوٹے بلاک کا تالا عام گھریلو کمپیوٹر بھی کھول لیتا۔ مگر اب روزانہ ہزاروں رسیدیں جنم لیتی ہییں۔ سو جن لوگوں کے پاس انتہائی طاقتور کمپیوٹر ہیں، وہ پہلے رسیدوں کی تصدیق کرکے نئے بٹ کوائن پالیتے ہیں۔امریکہ و یورپ میں تو نئے بٹ کوائن بنانا اب بڑا اور منافع بکش کاروبار بن چکا۔ مثلاً امریکی شہر سیتل کے رہائشی، ڈیوکارلسن نے کروڑوں روپے خرچ کرکے دو گوداموں میں ”پانچ سو کمپیوٹر“ لگائے۔ ان کمپیوٹروں کی مجموعی قوت ایک سیکنڈ میں ”ایک ہزار کھرب“ پیمائشیں یا حساب کتاب کرسکتی ہے۔ سو اس کے کمپیوٹر دوسروں سے پہلے رسیدوں کی تصدیق کرکے دھڑا دھڑ ہٹ کوائن بنارہے ہین۔ کارلسن ماہانہ 12,500 بٹ کوائن بنا کر 80 لاکھ ڈالر (80کروڑ روپے) کما رہا ہے۔مگر موصوف کے کمپیوٹر بجلی بھی خوب کھاتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق وہ سالانہ 1.4 میگا واٹ بجلی کھا جاتے ہیں۔ اس بجلی کی مقدار کا اندازہ یوں لگائیے کہ وہ ”15 ہزار“ گھر رکھنے والے ایک بڑے قصبے کی سالانہ ضروریات کے لئے کافی ہے۔جیسا کہ بتایا گیا، شروع میں رسیدوں کی تصدیق کرنا آسان تھا اور معاؤضہ بھی اچھا خاصا ملتا یعنی 50 سکے۔ یہ ہٹ کوائن پھر زیر گردش کرنسی میں شامل ہوجاتے۔ مگر اب معاوضہ 25 سکے مل رہا ہے جو ہر چار سال بعد آدھا ہوتا جائے گا۔اسی طرح ہزار ہا رسیدوں کی تصدیق کرنا بھی کٹھن مرحلہ بن چکا۔ اب لوگ کئی کمپیوٹروں کی طاقت سے بہ سرعت تصدیقی مرحلے میں درپیش پیچیدہ ریاضیاتی فارمولے حل کرتے اور نئے بٹ کوائن بطور معاؤضہ پاتے ہیں۔ چونکہ بٹ کوائن بنانا فائدے مند بن چکا، سو سپر کمپیوٹر رکھنے والے بعض نجی ادارے بھی سکے ڈھالنے کی دوڑ میں شریک ہوچکے۔مقبولیت کی وجہ: 2008ء میں جب سنتوشی ناکاموتو کا نظریہ سامنے آیا، تو حکومتیں اور بینک مالی و معاشی مسائل میں مبتلا تھے۔ خصوصاً امریکی و یورپی حکومتیں دھڑا دھڑ نوٹ چھاپ رہی تھیں تاکہ بحران میں پھنسے مالیاتی اداروں کو سہارا دے سکیں۔ اس دوران کئی بینک دیوالیہ ہوئے، تو ہزار ہا لوگ اپنی کچھ جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یوں بینکوں پر سے عوام کا اعتماد جاتا رہا۔دوسری طرف بٹ کوائن کا نااہل سیاست دانوں اور لالچی بینک کاروں سے کوئی تعلق نہ تھا جن کے باعث عالمی معاشی بحران نے نجم لیا۔ پھر بلاک چین کی بدولت نہ صرف فراڈ سے بچاؤ ملتا بلکہ افراط زر بھی نجم نہیں لیتا۔ کیونکہ یہ ڈیجیٹل کرنسی معین وقت ہی میں جنم لیتی ہے اور اس کی تعداد بھی مقرر ہے۔ اسی باعث بٹ کوائن دنیا بھر میں مقبول ہوتی گئی تاہم ترقی کی رفتار سست رہی۔3جنوری 2009ء کو سنتوشی ہی نے اولیں 50 بٹ کوائن تخلقی کئے جنہیں ”تکوینی بلاک“ (genesis block) کا نام ملا۔ اگلے ایک سال تک ڈیجیٹل کرنسی سے شغف رکنے والے ہی بٹ کوائن کے مزید بلاک تخلیق کرتے رہے۔ پھر رفتہ رفتہ اس کی شہرت پھلنے لگی۔ چوٹی کے ماہرین رمز نویسی نے اسے ”انقلابی ایجاد“…… ”دنیا والوں کے لئے بہت مفید“…… اور ”بہت اہم“ قرار دیا۔ساڑھے چھ کروڑ روپے کا پیزا: کئی ماہر بٹ کوائن کے اسی لئے عاشق بنے کے یہ سرکاری نجی جکڑ بندیوں اور آمریت سے آزاد تھی۔ ان میں امریکی کمپیوٹر سائنس دان، گیون ایڈرسن بھی شامل تھا جو آج بٹ کوائن فاؤنڈیشن سے بہ حیثیت چیف سائنٹسٹ منسلک ہے۔ یہی فاؤنڈیشن بٹ کوائن ڈھالنے والے سافٹ ویئر کی دیکھ بھال کرتی اور اسے بہتر وقوی بناتی ہے۔ دسمبر 2009ء میں گوین نے ”بٹ کوائن فوسٹ“ (Bitcoin Facucet) نامی ویب سائٹ بنائی اور لوگوں میں یہ ڈیجیٹل کرنسی مفت بانٹنے لگامئی 2010ء میں بٹ کوائن سے دنیا کا پہلا باقاعدہ لین دین انجام پایا۔ تب امریکی ریاست فلوریڈا کے رہائشی ایک پروگرامر، لاسز لوہینکز (Laszio Hanyecz) نے 10 ہزار بٹ کوائن سے دو پیزے خریدے جن کی مالیت 25 ڈالر تھی۔ (گویا آج کے ھساب سے لاسز لوکو یہ پیزے پاکستانی کرنسی میں ساڑھے چھ کروڑ روپے میں پڑے۔)30مارچ 2010ء کو بٹ کوائن فورم نامی ویب سائٹ پر ایک یوزر، سموک ٹومچ نے 10 ہزار بٹ کوائن برائے نیلامی رکھے۔ اس نے ابتدائی بولی صرف 50 ڈالر سے شروع کی لیکن اسے سکے کریدنے والا کوئی شخص نہیں مل سکا۔ بعض لوگ صرف بیس پچیس ڈالر دینے کو تیار تھے۔ انقلابات ہیں زمانے کے کہ دسمبر 2013ء میں انہی دس ہزار بٹ کوائن کی مالیت پاکستانی کرنسی کے ھساب سے ایک ارب پچاس کروڑ روپے تک جاپہنچی۔گویا صرف چار برس قبل جس کرنسی کو لوگ کوڑیوں کے مول ہی لینا چاہتے تھے، وہ اب سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہوگئی۔ ایسے میں جن لوگوں نے اپنے بٹ کوائن سنبھال کررکھے، وہ دیکھتے ہی دیکھتے ہمارے حساب سے ارب وکروڑ پتی بن گئے۔مٹی سے سونا بننے تک: بٹ کوائن کی مقبولیت میں باقاعدہ اضافہ اس سمے ہوا جب دکان دار وتاجر اسے بہ حیثیت کرنسی قبول کرنے لگے۔ حتیٰ کہ فروری 2011ء میں ایک بٹ کوائن کی مالیت ایک امریکی ڈالر کے برابر پہنچ گئی۔ پھر اس ابھرتی ڈیجیٹل کرنسی نے مڑکر نہ دیکھا اور چھلانگیں مارتی ترقی کرنے لگی۔ اواخر2013ء تک اس کی قدروقیمت اتنی بڑھ گئی کہ یہ ممکن ہوگیا کہ صرف ایک بٹ کوائن (برابر 1151ڈالر) سے 25گرام سانا خریدنا جاسکے۔ گویا بٹ کوائن جو صرف چار برس پہلے مٹی تھی، اب سونے سے بھی زیادہ بیش قیمت شے بن گئی۔ایک طرف نئی ڈیجیٹل کرنسی عالمی مارکیٹوں میں پھل پھول رہی تھی، تو دوسری سمت کمپیوٹر ماہرین اس مخمصے کا نشانہ بن گئے کہ آکر یہ سنتوشی ناکاموتو کون ذات شریف ہے؟ خود سنتوشی کا دعویٰ تھا کہ وہ جاپان کا رہنے والا ہے۔ تاہم اس کی بہترین انگریزی آشکارا کرتی کہ وہ برطانیہ امریکہ یا آسٹریلیا میں رہائش پذیر ہے۔سنتوشی کا اسرار: ایک ماہر رمز نویسی نے تلاش بشیار کے بعد جانا کہ جاپانی زبان میں سنتوشی کے معنی ہیں ”دانشمند“۔ پھر اس نے یہ خیالی گھوڑا دوڑایا کہ شاید یہ نام مشرقی ایشیا کی چار ٹیک کمپنیوں سامس سنگ، توشیبام، ناکامچی اور موٹورولا کا مخفف ہے اور انہی کمپنیوں کے ماہرین مغربی کرنسیوں کی اجارہ داری ختم کرنے کے واسطے بٹ کوائن معرض وجود میں لائے۔بعض ماہرین کا دعویٰ ہے کہ سنتوشی فرد واحد نہیں بلکہ ایک پورے گروہ کا خفیہ نام ہے۔ اس گروہ میں سینکڑوں کمپیوٹر سائنس دان شامل ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ گوگل، کسی اور ملٹی نیشنل کمپنی یا خفیہ ایجنسی مثلاً این اے ایس (امریکہ) سے متعلق ہوں۔ بٹ کوائن کی تشکیل میں اہم حصہ لینے والا امریکی ڈویلپر، لاسز لوہینکز بتاتا ہے:”سنتوشی سے صرف ای میل کے ذریعے ہی رابطہ کرنا ممکن تھا۔ وہ فون پہ کسی سے بات نہ کرتا۔ تھریری گفتگو بھی صرف بٹ کوائن سے تعلق رکھتی۔ اسے ناپسند تھا کہ کوئی نجی نوعیت کے سوال کرے۔ میں بھی بذریعہ ای میل اس سے تبادلہ خیال کرتا رہا اور مجھے ہمیشہ احساس ہوا کہ وہ کوئی ایک آدمی نہیں۔ دراصل بٹ کوائن کا سارا منصوبہ اتنا پیچیدہ ہے کہ اسے کوئی ایک انسان ہرگز تخلیق نہیں کرسکتا“۔دسمبر 2010ء میں عاشقان بٹ کوائن نے چاہا کہ مشہور زمانہ ویب سائٹ، وکی لیکس سے کہا جائے کہ وہ ڈیجیٹکل کرنسی میں عطیات قبول کرنے لگے۔ مدعا بٹ کوائن کو عالمی سطح پہ متعارف کرانا تھا۔ مگر سنتوشی اس تجویز کا کٹر مخالف بن کر سامنے آیا۔ اس نے بٹ کوائن فورم میں لکھا:”ابھی وکی لیکس سے رابطہ نہ کیا جائے۔ ہمارا پروجیکٹ ناپختہ اور ترقی پذیر ہے۔ وہ مزید نشوونما چاہتا ہے تاکہ اس کا سافٹ ویئر توانا ہوسکے۔ اگر ابھی کسی بڑی تنظیم نے اسے اپنالیا، تو ڈر ہے کہ ہماری نوخیز کرنسی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے گی“۔اس گفتگو کے آٹھ دن بعد 12 دسمبر کو سنتوشی کرپٹو گرافی کی سوشل سائٹ سے غائب ہوگیا۔ یوں وہ جس پراسرار انداز میں آیا تھا، اسی طرح چپ چاپ رخصت ہوا۔ تاہم وہ گیون اینڈ سن کے ساتھ بذریعہ ای میل پیغام رسانی کرتا اور اسے سافٹ ویئر بہتر بنانے کے مشورے دیتا رہا۔ حتیٰ کہ اینڈرسن ہی بٹ کوائن سافٹ ویئر کے سلسلے میں ظاہری اتھارٹی بن گیا۔ کچھ عرصے بعد یہ تعلق بھی ختم ہوا، تاہم تب تک نہیں ڈیجیٹل کرنسی میں جان پڑ چکی تھی۔

    پاکستان پولیس
    پولیس کی مدہ ہے فرض آپ کا

    https://www.iradeo.com/station/48344

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے شاہنواز کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (04-04-2014)

  3. #2
    رکنِ خاص شاہنواز کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Mar 2012
    مقام
    کراچی پیارا پاکستان
    پيغامات
    968
    شکریہ
    610
    371 پیغامات میں 497 اظہار تشکر

    جواب: ڈالر او ر یورو کا ’دشمن‘۔۔۔بٹ کوئن

    بٹ کوئنز پر ٹیکس بھی لاگو کردیا گیا ہے
    پاکستان پولیس
    پولیس کی مدہ ہے فرض آپ کا

    https://www.iradeo.com/station/48344

  4. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے شاہنواز کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (04-04-2014)

  5. #3
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,204
    شکریہ
    2,189
    1,260 پیغامات میں 1,635 اظہار تشکر

    جواب: ڈالر او ر یورو کا ’دشمن‘۔۔۔بٹ کوئن

    عجیب معلومات ہیں ،
    میرے علم میں پہلی دفعہ آیا ہے ،
    اس پر میں بھی مطالعہ کروں گا ،
    شاھنواز جی آپ کا شکریہ اس اہم موضوع کی طرف توجہ دلائی ،
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  6. #4
    رکنِ خاص شاہنواز کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Mar 2012
    مقام
    کراچی پیارا پاکستان
    پيغامات
    968
    شکریہ
    610
    371 پیغامات میں 497 اظہار تشکر

    جواب: ڈالر او ر یورو کا ’دشمن‘۔۔۔بٹ کوئن

    اقتباس اصل پيغام ارسال کردہ از: بےباک پيغام ديکھيے
    عجیب معلومات ہیں ،
    میرے علم میں پہلی دفعہ آیا ہے ،
    اس پر میں بھی مطالعہ کروں گا ،
    شاھنواز جی آپ کا شکریہ اس اہم موضوع کی طرف توجہ دلائی ،
    شکریہ بے باک جی میں نے سرچ کی ہے اور لیکن مجھے اجتماعی معلومات نہیں مل رہی ہے ہاں اتنا ملا ہے کہ امریکہ کے ایک میئر نے اس کو کرنسی تسلیم کرنے کی بجائے پراپرٹی قرارد یا ہے اور اس پر اس میئر نے پراپرٹی ٹیکس بھی عائد کردیا ہے ۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اب تک اس کی کیا حیثیت ہے موجودہ ٹائم میں اس کو کون چلارہا ہے
    پاکستان پولیس
    پولیس کی مدہ ہے فرض آپ کا

    https://www.iradeo.com/station/48344

  7. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے شاہنواز کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (04-05-2014)

  8. #5
    مبتدی
    تاريخ شموليت
    Jan 2021
    پيغامات
    15
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    جواب: ڈالر او ر یورو کا ’دشمن‘۔۔۔بٹ کوئن

    جھنڈے اور پینٹ
    جھنڈے اور پینٹ مختصر مدت کے تسلسل کے نمونے ہیں جو پچھلے اقدام کے دوبارہ شروع ہونے سے پہلے ایک چھوٹی سی استحکام کو نشان زد کرتے ہیں۔ یہ نمونے عام طور پر تیز پیش قدمی یا بھاری حجم کے ساتھ کم ہوجاتے ہیں ، اور اس اقدام کے وسط نقطہ پر نشان لگاتے ہیں۔

    تیز حرکت: تسلسل کے نمونے پر غور کیا جائے تو ، اس سے پہلے کے رجحان کا ثبوت ہونا چاہئے۔ جھنڈوں اور پینٹوں میں تیز پیشرفت یا بھاری مقدار میں کمی کے ثبوت کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ حرکتیں عام طور پر بھاری مقدار پر ہوتی ہیں اور اس میں خلاء بھی ہوسکتا ہے۔ یہ اقدام عام طور پر کسی اہم پیشرفت یا زوال کے پہلے مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے اور پرچم / قلمی صرف ایک وقفے کی حیثیت رکھتا ہے۔

    فلیگ پول free forex signals: فلیگ پول قطعہ اول مزاحمت یا حمایت وقفے سے جھنڈے / قلمی کے اعلی یا نچلے حصے تک کا فاصلہ ہے۔ تیز پیش قدمی (یا گراوٹ) جو فلیگ پول کی تشکیل کرتی ہے ، کسی ٹرینڈ لائن یا مزاحمت / حمایت کی سطح کو توڑ دیتی ہے۔ اس وقفے سے لے کر جھنڈے / قلمی عروج تک بلند ہونے والی ایک لائن فلیگ پول کی تشکیل کرتی ہے۔

    جھنڈا: forex trading signals ایک جھنڈا ایک چھوٹا مستطیل نمونہ ہے جو پچھلے رجحان کے مقابلہ میں ڈھل جاتا ہے۔ اگر پچھلی اقدام اوپر ہوتا تو پرچم نیچے ڈھل جاتا۔ اگر اقدام نیچے ہوتا تو پرچم ڈھل جاتا۔ کیونکہ جھنڈے عام طور پر دورانیے میں بہت کم ہوتے ہیں کیونکہ حقیقت میں رد عمل کی اونچائی ہوتی ہے اور رد عمل کم ہوتا ہے ، لہذا قیمت کی کارروائی کو صرف دو متوازی رجحان لائنوں میں شامل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

    عذاب: ایک قلمی ایک چھوٹا سا سڈول مثلث ہے جو وسیع طور پر شروع ہوتا ہے اور جیسے ہی پیٹرن کی پختگی کے ساتھ بدل جاتا ہے (ایک شنک کی طرح)۔ ڈھال عام طور پر غیر جانبدار ہوتی ہے۔ بعض اوقات مخصوص رد عمل کی اونچائی اور کمیاں نہیں ہوں گی جہاں سے ٹرینڈ لائنوں کو اپنی طرف متوجہ کیا جا. اور قیمتوں کا عمل صرف بدلتے ہوئے ٹرینڈ لائنوں میں ہی ہونا چاہئے۔

    دورانیہ: جھنڈے اور پینٹ مختصر مدت کے نمونے ہیں جو 1 سے 12 ہفتوں تک جاری رہ سکتے ہیں۔ ٹائم فریم پر کچھ بحث ہوتی ہے اور کچھ 8 ہفتوں کو قابل اعتماد نمونہ کے لئے حدود کو آگے بڑھاتے ہوئے سمجھتے ہیں۔ مثالی طور پر ، یہ نمونہ 1 سے 4 ہفتوں کے درمیان تشکیل پائیں گے۔ ایک بار جب ایک پرچم 12 ہفتوں سے زیادہ پرانا ہوجاتا ہے ، تو اسے مستطیل کے طور پر درجہ بندی کیا جائے گا۔ 12 ہفتوں سے زیادہ عمر کا قلمی سڈول مثلث میں بدل جائے گا۔ 8 اور 12 ہفتوں کے درمیان نمونوں کی وشوسنییتا قابل بحث ہے۔

    بریک: کسی تیزی والے جھنڈے یا عذاب کے ل resistance https://www.freeforex-signals.com/ ، مزاحمت کے اشارے سے اوپر کا وقفہ جو پچھلی پیشگی دوبارہ شروع ہوا ہے۔ مچھلی پرچم یا تعزیرات کیلئے ، حمایت کے اشارے سے نیچے وقفہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ پچھلی زوال دوبارہ شروع ہوا ہے۔

    حجم: پیشگی یا گراوٹ کے دوران حجم بھاری ہونا چاہئے جو فلیگ پول کی تشکیل کرتا ہے۔ بھاری حجم اچانک اور تیز اقدام کے لئے جواز فراہم کرتا ہے جو پرچم پوپ تخلیق کرتا ہے۔ مزاحمت (معاونت) کے وقفے پر حجم میں توسیع قیام کی صداقت اور تسلسل کے امکان کو ساکھ دیتی ہے۔

    اہداف: فلیگ پول کی لمبائی پیشگی یا زوال کا تخمینہ لگانے کے لئے جھنڈے / قلمی مزاحمت کے وقفے یا معاون وقفے پر لگائی جاسکتی ہے۔

    اگرچہ جھنڈے اور پینٹ عام شکلیں ہیں ، لیکن شناخت کے رہنما خطوط کو ہلکے سے نہیں لیا جانا چاہئے۔ یہ اہم ہے کہ جھنڈے اور پینٹ تیزی سے آگے بڑھنے یا زوال پذیر ہوتے ہیں۔ تیز قدموں کے بغیر ، تشکیل کی وشوسنییتا قابل اعتراض ہو جاتی ہے اور تجارت میں اضافے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ ابتدائی اقدام ، استحکام اور پیٹرن کی شناخت کی مضبوطی کو بڑھانے کے لئے دوبارہ آغاز پر حجم کی تصدیق کے لئے تلاش کریں۔

  9. #6
    مبتدی
    تاريخ شموليت
    Jan 2021
    پيغامات
    15
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    جواب: ڈالر او ر یورو کا ’دشمن‘۔۔۔بٹ کوئن

    فاریکس مارکیٹس کا حصہ 1 کے پانچ اہم ڈرائیور
    فاریکس مارکیٹس کے پانچ کلیدی ڈرائیور
    1. مرکزی بینک کے سود کی شرح
    میکرو سطح پر ، مرکزی بینکوں اور سود کی شرح سے متعلق فیصلوں کے مقابلے میں زر مبادلہ کی شرح اقدار میں اس سے بڑا اثر و رسوخ نہیں ہے۔ عام معنوں میں ، اگر ایک مرکزی بینک سود کی شرح میں اضافہ کر رہا ہے ، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی معیشت ترقی کر رہی ہے اور وہ مستقبل کے بارے میں پرامید ہیں۔ اگر وہ سود کی شرحوں میں کمی کررہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ان کی معیشت مشکل اوقات پر پڑ رہی ہے اور وہ مستقبل پر شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ اس نوعیت کا نظارہ حد سے زیادہ آسان بنایا جاسکتا ہے ، لیکن عام طور پر یہی طریقہ ہوتا ہے کہ مرکزی بینک اپنی معیشت میں ہونے والی تبدیلیوں کا جواب دیتے ہیں۔
    forex trading signals
    اس پیچیدگی میں اس وقت فرق پڑتا ہے جب تاجر یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ مرکزی بینک شرحوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔ اگر تاجر سود کی شرح میں اضافے کی توقع کرتے ہیں تو ، وہ عام طور پر مرکزی کرنسی کے فیصلے کے طے ہونے سے پہلے ہی اس کرنسی کو اچھی طرح سے خریدنا شروع کردیتے ہیں ، اور اس کے برعکس اگر وہ توقع کرتے ہیں کہ مرکزی بینک شرحوں میں کمی کرے گا۔ تاہم ، اگر کہا جاتا ہے کہ مرکزی بینک تاجروں کی توقع کے مطابق کام نہیں کرتا ہے تو ، رد عمل کافی متشدد ہوسکتا ہے کیونکہ تاجر اپنے پہلے سے سمجھے ہوئے عہدوں سے نکل جاتے ہیں۔
    2008 کے عظیم مالی بحران کے بعد ، بیشتر بڑے مرکزی بینکوں نے مستقبل قریب میں اپنے مقاصد کو مارکیٹ میں زیادہ موثر انداز میں اشارہ کرنے کے لئے زیادہ مواصلات کی پالیسیاں چلائیں۔ اگر کوئی مرکزی بینک آپ کو بتا رہا ہے کہ وہ جلد کے بجائے سود کی شرحوں میں اضافہ کرسکتے ہیں تو ، اس کرنسی کو خریدنے کے ل buy اچھا وقت ہوگا۔
    2. سنٹرل بینک مداخلت
    free forex signals

    بعض اوقات کسی کرنسی کی قدر معیشت کو اتنا زیادہ نقصان پہنچا سکتی ہے کہ قوم کا مرکزی بینک اس میں قدم رکھنے اور اس کے حق میں قیمت پر براہ راست اثر ڈالنے کی ضرورت کو محسوس کرتا ہے۔
    مثال کے طور پر ، ایسی قوم جو برآمدات پر منحصر ہے ، جیسے جاپان ، اپنی کرنسی کی قیمت کو بہت زیادہ قیمت دیکھنا نہیں چاہتا ہے۔
    جاپان میں برآمد کنندگان امریکی ڈالر / جے پی وائی (امریکی ڈالر / جاپانی ین) کو 80 سے زیادہ 120 پر دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ اپنی مصنوعات کے لئے بہت زیادہ رقم کما رہے ہوں گے۔ بصورت دیگر ، انہیں اپنی مصنوعات کی فروخت کی قیمت میں اضافہ کرنا پڑے گا جو فروخت ہونے والی رقم پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ اس سے برآمد کنندگان خاص طور پر جب ان کی کرنسی کو سراہا جا رہا ہے کے لئے کافی مخمصہ پیدا کرتا ہے۔
    بڑی تیزی سے ان کی کرنسی کی تعریف کرنے کے ل central ، مرکزی بینک ماضی میں دستیاب نہ ہونے والی رقم (ذخائر) کو جاری کرکے اور عوام کو دستیاب کر کے ان کی کرنسی سے مارکیٹ میں سیلاب ڈال کر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرسکتے ہیں۔ دستیاب کرنسی کی مقدار میں اضافے سے پہلے سے دستیاب رقم کی قدر گھٹ جاتی ہے اور قدرتی طور پر کرنسی کی قدر کم ہوتی ہے۔
    https://www.freeforex-signals.com/
    مداخلت کا فائدہ اٹھانا خاص طور پر چیلنج ہے کیونکہ سود کی شرح میں تبدیلی کے برعکس ، مداخلت عام ہونے تک عام طور پر عوام تک نہیں پہنچائی جاتی ہے۔ تاہم ، یہ اشارے مل سکتے ہیں کہ مداخلت پر عمل آوری ہونے والی ہے ، خاص طور پر اگر ایک مرکزی بینک بار بار یہ کہتا ہے کہ اس کی کرنسی تاریخی اعتبار سے زیادہ قیمت پر ہے۔ تاہم ، اس کے اوقات کا اندازہ لگانا مشکل ہے اور عام طور پر حیرت ہوتی ہے۔

  10. #7
    مبتدی
    تاريخ شموليت
    Jan 2021
    پيغامات
    15
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    جواب: ڈالر او ر یورو کا ’دشمن‘۔۔۔بٹ کوئن

    فاریکس مارکیٹ کے پانچ کلیدی ڈرائیورز حصہ 2
    3. اختیارات
    ایف ایکس کے اختیارات میں تجارت کی جانے والی حجم کی اکثریت بین الاقوامی کاروباری مقاصد کے لئے ہے ، اس کا مطلب ہے کہ کاروباری کرنسی کی قیمت میں بدلاؤ کے خطرہ سے ہیج کرسکتے ہیں۔ تاہم ، تجارت شدہ حجم کا بڑھتا ہوا حصہ قیاس آرائی کی طرف جارہا ہے۔
    ڈبل نو ٹچ (ڈی این ٹی) اختیارات مخصوص قسم کے اختیارات ہیں جو ایف ایکس تاجروں کو سب سے زیادہ دلچسپی دیتے ہیں۔ اس قسم کے اختیارات عام طور پر یورو / امریکی ڈالر یا امریکی ڈالر / جے پی وائی جیسے مشہور کرنسی کے جوڑے میں راؤنڈ نمبر پر رکھے جاتے ہیں اور اکثر انتہائی مائع سرمایہ کاروں کے ذریعہ نشانہ بناتے ہیں۔ اگر کرنسی کی جوڑی تھوڑی بہت حرکت میں آجاتی ہے اور وہ دلچسپی کے ان نفسیاتی نکات کو قریب کرتا ہے تو ، بعض اوقات یہ اس سطح سے آگے بڑھ جاتا ہے اور پھر اس سے اتنی جلدی پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ دوسری بار ، مارکیٹ قریب آجاتا ہے لیکن اس سطح سے پیچھے ہٹنے سے پہلے کبھی نہیں ملتا ہے۔
    F. خوف اور لالچ
    ان کی آسان ترین شکلوں میں ، خوف ایک گرتے ہوئے آلے کو ہر طرح کی گھبراہٹ میں تبدیل کرسکتا ہے اور لالچ ایک بڑھتی ہوئی مارکیٹ کو اندھیرے خریدنے والی منڈی میں تبدیل کرسکتا ہے۔
    1920 کی دہائی کا آخری حصہ ایک مشہور مثال ہے ، جب وال اسٹریٹ میں کچھ بھی اور ہر چیز خریدنا مقبول تھا۔ لالچ عروج پر تھا کیونکہ مقبول سوچ کا عمل یہ ہوگا کہ اسٹاک میں استحکام آجائے گا۔ پھر بلیک منگل کو لپیٹ اور خوف نے شدید افسردگی کا باعث بنا۔
    free forex signals
    دونوں جذبات کے مابین لنک دوسرے راستے پر بھی جاسکتا ہے۔ یورو زون اور خاص طور پر یونان میں 2010 کے بحران میں 2010 کی دہائی میں یورو کرنسی کی انتہائی فروخت ہوئی جس کی وجہ سے مرکزی دھارے کی سوچ پر خوف غالب تھا۔ اس کے فورا بعد ہی ، لالچ نے لات مار کی اور کرنسی کو ان سطحوں تک پہنچا دیا جو روزگار اور افراط زر کی حرکیات کے لri نقصان دہ تھیں ، یوں کہ یوروپی مرکزی بینک کو متعدد مارکیٹ میکانکس کے ذریعہ کمی کو مجبور کرنا پڑا۔
    اگرچہ بازاروں میں ڈر اور لالچ کے اثرات کے بعد ان پر عمل کرنے کے بعد ان کی نشاندہی کرنا آسان ہوسکتا ہے ، لیکن موجودہ لمحے میں پلٹ جانے پر اس لمحے کا انتخاب مشکل ہے۔
    5. خبریں
    forex trading signals

    کچھ خبروں کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور کچھ اس کی منصوبہ بندی نہیں ہوتی ، لیکن دونوں ہی مارکیٹ کو انتہائی انتہائی طریقوں سے منتقل کرسکتے ہیں۔ طے شدہ خبروں کو متعدد سرمایہ کاروں نے قبول کیا ہے اور وہ مارکیٹوں کو باقاعدہ بنیادوں پر منتقل کرسکتے ہیں۔ جہاں تک غیر متوقع واقعات کی بات ہے ، ان کے بارے میں ہم بہت کچھ نہیں کرسکتے ہیں۔ آپ محض رسک کا انتظام کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ کو منفی اثر نہیں پڑے گا۔
    تمام شیڈول شدہ خبروں کے واقعات مارکیٹ میں منتقل نہیں ہوتے۔ بطور تاجر آپ کے ملازمت کا ایک حص recognizeہ یہ تسلیم کرنا ہوتا ہے کہ جب مارکیٹ میں منتقل کرنے والے اہم پیش گو ہو رہے ہیں تو اس کے علاوہ یہ کیسے جائیں۔ مثال کے طور پر ، ایک عام اصول کے طور پر ، بڑے مالیاتی مراکز کی ملازمت کی اطلاعات مارکیٹوں کو مینوفیکچرنگ سیل رپورٹ سے زیادہ منتقل کرتی ہیں ، اور ایک خوردہ فروخت کا اعداد و شمار مالیاتی فراہمی کی رپورٹ سے کہیں زیادہ مشتعل ہوتا ہے۔
    معاشی تقویم ایک بہت بڑا وسیلہ ہے جس کی مدد سے آپ یہ طے کرسکتے ہیں کہ کونسی رپورٹیں سب سے زیادہ کارٹون مہیا کرتی ہیں۔ اگرچہ تمام اہم خبروں کے واقعات جیسے نان فارم پےرول کی رہائی یا مرکزی بینک مانیٹری پالیسی کے فیصلے سے انجکشن کو منتقل نہیں کیا جاتا ہے جب ان کا نمبر بلایا جاتا ہے ، لیکن ایسا کرنے کا ان کا زیادہ امکان ہوتا ہے ، اور یہ جانتے ہوئے کہ مارکیٹ کب حرکت کرے گی اس میں سے ایک ہوسکتا ہے۔ بطور تاجر آپ کو سب سے بڑا فائدہ ہوتا ہے
    https://www.freeforex-signals.com/

  11. #8
    مبتدی
    تاريخ شموليت
    Jan 2021
    پيغامات
    15
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    کلیدی معاشی اعلانات

    کلیدی معاشی اعلانات
    اقتصادی اعلانات ، یا نئے واقعات ، مالیاتی اور سیاسی پالیسی پر ان کے اثر و رسوخ کی وجہ سے تجارت کا وسیع پیمانے پر پیروی کیا جاتا ہے۔ لہذا ، یہ جاننا ضروری ہے کہ کون سے اعلانات سب سے زیادہ اثر اور اتار چڑھاؤ پیدا کرنے جارہے ہیں تاکہ ان کی نقل و حرکت سے فائدہ اٹھاسکیں۔ یہاں کچھ سب سے زیادہ مشہور واقعات اور ان کے معنی ہیں۔
    روزگار
    چاہے ہم امریکہ میں نان فارم پےرول (NFP) کے بارے میں بات کر رہے ہوں یا آسٹریلیا میں روزگار کی تبدیلی ، ملازمتوں کے بارے میں معاشی اعلانات کسی خاص خطے کی نمو اور سنکچن کا ایک حیرت انگیز اہم اقدام ہے۔ دنیا بھر کے بہت سے مرکزی بینکوں کے پاس "صحت مند ملازمت" ہے یا کچھ ان کے مینڈیٹ کی حیثیت سے اس سے مشتق ہیں۔ لہذا اگر ملازمت ان کی ترجیحی سطح پر کام نہیں کررہی ہے تو ، وہ اس کی ترقی کے ل boo اپنی مالیاتی پالیسی کو ایڈجسٹ کرسکتے ہیں ، لہذا متعدد دیگر عوامل کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
    صارفین کی قیمت میں افراط زر (سی پی آئی)
    free forex signals

    تقریبا banks ہمیشہ ہی دنیا بھر کے مرکزی بینکوں کے مینڈیٹ پر روزگار کے ساتھ کام کرنا "قیمت استحکام" ہے۔ اگرچہ مہنگائی کے لئے بہت سارے اقدامات ہیں جن میں پروڈیوسر پرائس انڈیکس (پی پی آئی) ، درآمد / برآمد قیمتیں ، فوڈ پرائس انڈیکس (ایف پی آئی) ، پرچون قیمت اشاریہ (آر پی آئی) ، تھوک قیمت اشاریہ (ڈبلیو پی آئی) ، دوسروں کے علاوہ ، سی پی آئی عام طور پر ہوتا ہے سب سے زیادہ صارفین کی قربت کی وجہ سے اس کا احترام کیا جاتا ہے۔ زیادہ تر ترقی یافتہ معیشتیں اپنی سی پی آئی کو 1٪ -3٪ کے لگ بھگ ترجیح دیتی ہیں۔
    سنٹرل بینک کے اجلاس
    ہم دیگر اقتصادی اعلانات کو اتنی مستعدی سے دیکھنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ مرکزی بینک ان کی آئندہ مانیٹری پالیسی کے ساتھ کیا کریں گے اس کی کوشش اور پیش گوئی کرنا۔ لہذا اس سے صرف یہ احساس حاصل ہوتا ہے کہ جب وہ اپنے فیصلے بھی کرتے ہیں تو ہم واقعتا what ان کے کاموں پر پوری توجہ دیتے ہیں۔ شرح سود میں اضافے یا کٹوتی ، مستقبل کی پالیسی کے بارے میں آگے رہنمائی ، یا حتی کہ غیر روایتی اقدامات کا تعارف ایسی چیزیں ہیں جن کی ہم ان ملاقاتوں سے توقع کرتے ہیں اور ان کے اثرات فوری اور دیرپا ہیں۔
    صارفین اور کاروباری جذبات
    https://www.freeforex-signals.com/

    ماہرین کی بنیاد پر پوری دنیا میں جاری کی جانے والی صارفین اور کاروباری جذبات کی بہت سی اطلاعات حیران کن ہیں۔ تاہم ، وہ سب مستقبل کے لئے مارکیٹ کی توقع کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ واقعی طور پر ، کاروبار عام طور پر مستقبل کے بارے میں خوف زدہ یا امید مند محسوس کرنے میں صارفین سے آگے ہوتے ہیں ، اور اگر دونوں جذبات کے اشارے ایک ہی سمت جارہے ہیں تو یہ عام طور پر ایک مضبوط سگنل ہے۔
    خوردہ فروشی
    forex trading signals

    ترقی یافتہ معیشتوں میں سے ایک اہم ڈرائیور ان کی کھپت میں شامل ہونا ہے۔ پرچون فروخت اس اقدام کا استعمال کرتی ہے کہ کھپت کے چلنے کا عمل دوسرے اشارے سے بہتر ہے اور اس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر اس کی پیروی کی جاتی ہے۔

  12. #9
    مبتدی
    تاريخ شموليت
    Jan 2021
    پيغامات
    15
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    جواب: کلیدی معاشی اعلانات

    بنیادی تجزیہ کا استعمال کرتے ہوئے تجارت
    بنیادی تجزیہ ایک وسیع اصطلاح ہے جو عالمی پہلوؤں پر مبنی تجارت کی وضاحت کرتی ہے جو کرنسیوں ، اشیاء اور مساوات کی فراہمی اور طلب کو متاثر کرتی ہے۔ اگر آپ کسی ایسے شخص کے ساتھ پیش آتے ہیں جس کے پاس چارٹ پیٹرن یا زیادہ خریداری / اوور سیل فروخت کی سطحیں ہیں ، تو آپ تکنیکی تجزیہ کے دائرے میں داخل ہو گئے ہیں۔ بہت سارے تاجر یہ فیصلہ کرنے کے لئے کہ بنیادی تجارت اور تکنیکی دونوں طریقوں کا استعمال کریں گے کہ تجارت کو کب اور کہاں رکھنا ہے ، لیکن وہ ایک دوسرے کے حق میں بھی پسند کرتے ہیں۔ تاہم ، اگر آپ صرف بنیادی تجزیہ ہی استعمال کرنا چاہتے ہیں تو ، اپنی رائے کو قائم کرنے کے لئے متعدد ذرائع موجود ہیں۔
    مرکزی بینک
    forex trading signals
    معاشی ریلیز
    تجارتی اقتصادی ریلیز ایک بہت ہی سخت اور غیر متوقع چیلنج ہوسکتا ہے۔ دنیا بھر کے بڑے انویسٹمنٹ بینکوں کے بہت سے بڑے ذہنوں کو یہ مشکل پیش گوئ کرنا پڑتا ہے کہ آخر معاشی رہائی آخر کیا ہوگی۔ ان کے پاس ایسے ماڈل ہیں جو بہت سے مختلف پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہیں ، لیکن پھر بھی وہ اپنی پیش گوئوں میں شرمناک طور پر غلط ہوسکتے ہیں۔ لہذا اس کی وجہ یہ ہے کہ اہم اقتصادی ریلیز کے بعد بازار اتنے تشدد کے ساتھ حرکت کرتے ہیں۔ بہت سے سرمایہ کار ان ماہرین کی "اتفاق رائے" کے ساتھ چلتے ہیں ، اور عام طور پر مارکیٹیں ریلیز سے پہلے اتفاق رائے کی پیش گوئی کی سمت بڑھ جاتی ہیں۔ اگر اتفاق رائے حتمی نتائج کی پیش گوئی کرنے میں ناکام رہتا ہے تو ، مارکیٹ عام طور پر اصل نتائج کی سمت بڑھ جاتی ہے - اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر یہ اتفاق رائے سے بہتر ہوتا تو ، ایک مثبت رد عمل سامنے آتا ہے اور اس کے برعکس اتفاق رائے سے کم نتائج مل جاتے ہیں۔
    https://www.freeforex-signals.com/

    معاشی ریلیز کے بنیادی پہلو کو تجارت کرنے کی چال یہ طے کرنا ہے کہ آپ کب اپنا عہد کرنا چاہتے ہیں۔ کیا آپ اعداد و شمار کے اجراء سے پہلے یا بعد میں تجارت کرتے ہیں؟ دونوں میں ان کی خوبیاں اور ان کی مداخلت ہے۔ اگر آپ رہائی سے پہلے اچھی تجارت کرتے ہیں تو ، آپ اتفاق رائے کی توقع کی سمت بہاؤ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں ، لیکن دنیا بھر کے دیگر بنیادی واقعات اتفاق رائے کے پڑھنے سے کہیں زیادہ مارکیٹ کو متاثر کرسکتے ہیں۔ معاشی رہائی سے پہلے کے لمحوں میں تجارت کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی رائے ہے کہ اصل رہائی اتفاق رائے سے بہتر ہوگی یا بدتر ،
    free forex signals

  13. #10
    مبتدی
    تاريخ شموليت
    Jan 2021
    پيغامات
    15
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    مالیاتی منڈیوں میں تجارت کیوں؟

    مالیاتی منڈیوں میں تجارت کیوں؟
    ذرا تصور کریں کہ آپ نے ایک دن اپنی تمام بچت کو توشکست کے لئے توشک کے نیچے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگر آپ پھر اس رقم کے بارے میں سب بھول جاتے ، اور اسے ایک سال کے لئے تنہا چھوڑ دیتے تو ، اس میں اضافہ نہیں ہوتا۔ بالکل اتنی ہی رقم ہوگی جتنی آپ نے پہلے جگہ رکھی ہو۔
    دراصل ، حقیقی معنوں میں ، شاید اس وقت سے کم قیمت ہوگی جب آپ اسے وہاں رکھیں گے ، کیوں کہ ممکنہ طور پر اس میں رہنے والے اخراجات میں عبوری طور پر اضافہ ہوا ہے۔
    اب ذرا تصور کریں کہ آپ نے اس رقم کو مالیاتی اثاثوں جیسے حصص یا اشیا خریدنے کے لئے استعمال کیا تھا۔ غیر فعال جھوٹ بولنے کی بجائے ، آپ کے پیسے میں نمو کے امکانات بہت زیادہ ہوں گے کیونکہ ان حصص یا اشیا کی قیمت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اگرچہ ، یقینا ، ہمیشہ خطرہ ہوتا ہے کہ وہ قیمت میں بھی کمی کرسکتے ہیں۔
    مالیاتی منڈیوں میں تجارت کرنا ، اس خطرے کو متوازن کرنے کے بارے میں ہے جو ممکنہ انعام کے ساتھ ہے ، اور اثاثوں کا انتخاب آپ کے حق میں ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ ہم دیکھیں گے ، اگر آپ سمجھداری اور ہوشیاری کے ساتھ ایسا کرتے ہیں تو ، انعامات اس سے کہیں زیادہ ہوسکتے ہیں کہ صرف آپ کے پیسے کو بینک اکاؤنٹ میں بیٹھنے دیا جائے (یا توشک کے نیچے)۔
    بمقابلہ تجارت
    free forex signals

    جو کچھ ہم نے اوپر بیان کیا ہے اسے 'سرمایہ کاری' کہا جاتا ہے ، بنیادی طور پر مالی تجارت کی ایک طویل المیعاد شکل ہے جس میں متعدد مہینوں یا سالوں میں مالیاتی اثاثوں کی خریداری اور انعقاد شامل ہے۔
    در حقیقت ، اس کا کافی امکان ہے کہ آپ پہلے سے ہی کسی مالی صلاحیت میں مالیاتی منڈیوں میں سرمایہ کاری کر رہے ہو۔ مثال کے طور پر ، اگر آپ کے پاس پنشن کا منصوبہ ہے ، تو آپ اس وقت کی توقع کے ساتھ جو پیسہ آپ کما رہے ہو اس کی سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور جب آپ ریٹائر ہوجائیں گے تو اس کی قیمت بڑھ جائے گی اور اس کی قیمت زیادہ ہوگی۔
    پینشن فرمیں عام طور پر اس رقم کو آپ کے ل a منیجمنٹ فیس کے بدلے میں لگاتی ہیں۔ تاہم ، زیادہ تر معاملات میں ، آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ نے اپنا مال کس مالیاتی سامان میں ڈالا ہے۔ اور جیسا کہ نیچے دیئے گئے چارٹ میں ظاہر ہوتا ہے ، اب کچھ آسان فیصلے مستقبل میں ڈرامائی اثر ڈال سکتے ہیں۔

    forex trading signals
    چارٹ پر نظر ڈالتے ہوئے ، آپ دیکھ سکتے ہیں کہ افراط زر کی وجہ سے 1986 میں in 100 کی نقد رقم 2014 میں صرف 38 ڈالر ہوگی۔ اگر آپ نے برطانیہ اسٹاک مارکیٹ میں £ 100 کی سرمایہ کاری کی ہوتی تو آپ کو تقریبا around 1120 ڈالر کی واپسی مل سکتی تھی۔
    لیکن طویل مدتی سرمایہ کاری مالیاتی منڈیوں میں حصہ لینے کا واحد طریقہ نہیں ہے ، وہاں ایک فعال تجارت بھی ہے ، جسے بعض اوقات قیاس آرائیوں کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
    اگرچہ سرمایہ کار عام طور پر اثاثوں کی طویل مدتی قیمت اور ایک ایسا پورٹ فولیو بنانے کی کوشش پر توجہ دیتے ہیں جو مستقبل میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا ، فعال تاجر مختصر مدتی مارکیٹ کی نقل و حرکت پر توجہ مرکوز کرتے ہیں ، کچھ شرکاء روزانہ سیکڑوں تجارت کرتے ہیں۔
    https://www.freeforex-signals.com/

    چاہے آپ طویل کھیل پر توجہ مرکوز کرنے کا انتخاب کرتے ہو ، ہر سال صرف چند تجارت کرتے ہیں ، یا آپ کو یقین ہے کہ قیمت میں ہر چھوٹی موٹی حرکت ایک موقع کی نمائندگی کرتی ہے ، مکمل طور پر آپ کی شخصیت ، آپ کی شخصیت اور آپ کے کاروبار پر کتنا وقت خرچ کر سکتی ہے۔ .
    ہم 'منصوبہ بندی اور رسک مینجمنٹ' کورس میں اس موضوع کو تفصیل سے دیکھتے ہیں ، لیکن اب کے لئے یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ تجارت کرنے کے بہت سے مختلف طریقے ، اور بہت سارے تاجر مختلف قسم کے ہیں۔ اور آپ کی دلچسپی ، مہارت یا ترجیحات جو بھی ہوں ، ہمیشہ تجارت کی ایک شکل ایسی ہوتی ہے جو آپ کے موافق ہوگی۔
    تاجروں کے مابین ایک اہم فرق یہ ہے کہ وہ جس اثاثے میں تجارت کرتے ہیں ، اور یہی ہے کہ ہم اگلے اسباق میں تلاش کرنا شروع کریں گے ...
    سبق کا خلاصہ
    • مالی تجارت آپ کے پیسے کے بڑھنے کا امکان فراہم کرتی ہے ، لیکن آپ کے پیسے کھونے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے
    • سرمایہ کاری اثاثوں کی طویل مدتی قیمت پر مرکوز ہے
    • فعال تجارت میں قیمت میں کم مدت کی نقل و حرکت پر توجہ دی جاتی ہے

صفحہ 1 از 2 12 آخریآخری

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University