نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: بے چین مزاجی میں عجب کچھ بھی نہیں تھا

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    483
    شکریہ
    9
    64 پیغامات میں 88 اظہار تشکر

    بے چین مزاجی میں عجب کچھ بھی نہیں تھا




    بے چین مزاجی میں عجب کچھ بھی نہیں تھا

    سوچا تو بچھڑنے کا سبب کچھ بھی نہیں تھا
    اس بخت میں اب لاکھ زمانہ تجھے چاہے
    ہم نے تو تجھے چاہا، تُو جب کچھ بھی نہیں تھا
    تُو نے میری جاں! جھانک کے دیکھا نہ تھا دل میں
    چہرے پہ جو تھا وہ تو غضب کچھ بھی نہیں تھا
    جو مجھ سے فقیروں کے دلوں میں تھا، وہی تھا
    لوگوں نے جسے پُوجا وہ رب کچھ بھی نہیں تھا
    فرحتؔ جو کوئی بھی تھا کہاں سے تھا بس اس کا
    اک عشق سوا نام و نسب کچھ بھی نہیں تھا


    فرحتؔ عباس شاہ

    ہم کو یہ کمال حاصل ہے، ہم لیموں نچوڑ لیتے ہیں

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے زیرک کا شکریہ ادا کیا:

    نگار (07-13-2014)

  3. #2
    رکنِ خاص نگار کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2011
    پيغامات
    5,360
    شکریہ
    663
    357 پیغامات میں 424 اظہار تشکر

    جواب: بے چین مزاجی میں عجب کچھ بھی نہیں تھا

    تُو نے میری جاں! جھانک کے دیکھا نہ تھا دل میں
    چہرے پہ جو تھا وہ تو غضب کچھ بھی نہیں تھا


    خوبصورت شاعری ارسال کرنے پہ آپ کا شکریہ

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University