نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: بے چین مزاجی میں عجب کچھ بھی نہیں تھا

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    2,595
    شکریہ
    9
    120 پیغامات میں 149 اظہار تشکر

    بے چین مزاجی میں عجب کچھ بھی نہیں تھا




    بے چین مزاجی میں عجب کچھ بھی نہیں تھا

    سوچا تو بچھڑنے کا سبب کچھ بھی نہیں تھا
    اس بخت میں اب لاکھ زمانہ تجھے چاہے
    ہم نے تو تجھے چاہا، تُو جب کچھ بھی نہیں تھا
    تُو نے میری جاں! جھانک کے دیکھا نہ تھا دل میں
    چہرے پہ جو تھا وہ تو غضب کچھ بھی نہیں تھا
    جو مجھ سے فقیروں کے دلوں میں تھا، وہی تھا
    لوگوں نے جسے پُوجا وہ رب کچھ بھی نہیں تھا
    فرحتؔ جو کوئی بھی تھا کہاں سے تھا بس اس کا
    اک عشق سوا نام و نسب کچھ بھی نہیں تھا


    فرحتؔ عباس شاہ
    پاکستانی قوم ، مادرِ وطن اور افواجِ پاکستان کے لیے جان بھی حاضر ہے لیکن
    نااہل جرنیلیہ، سیاسیہ، عدلیہ، میڈیا اور کرپٹ اداروں کیلئے کوئی معافی نہیں

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے مٹھے کریلے کا شکریہ ادا کیا:

    نگار (07-13-2014)

  3. #2
    رکنِ خاص نگار کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2011
    پيغامات
    5,360
    شکریہ
    663
    357 پیغامات میں 424 اظہار تشکر

    جواب: بے چین مزاجی میں عجب کچھ بھی نہیں تھا

    تُو نے میری جاں! جھانک کے دیکھا نہ تھا دل میں
    چہرے پہ جو تھا وہ تو غضب کچھ بھی نہیں تھا


    خوبصورت شاعری ارسال کرنے پہ آپ کا شکریہ

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University