نتائج کی نمائش 1 تا: 4 از: 4

موضوع: دعوت و تبلیغ کی محنت

  1. #1
    ناظم جاذبہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2013
    مقام
    کراچی ، پاکستان
    پيغامات
    603
    شکریہ
    814
    382 پیغامات میں 575 اظہار تشکر

    دعوت و تبلیغ کی محنت



    جاذبہ


    اردومنظرفورم

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے جاذبہ کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (05-22-2014)

  3. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,204
    شکریہ
    2,188
    1,260 پیغامات میں 1,635 اظہار تشکر

    جواب: دعوت و تبلیغ کی محنت

    یہاں پر لفظ محبت ہے ، یہ میرا خیال ہے ، ہو سکتا ہے میں غلطی پر ہوں ،
    خیال ہے کہیں یہ ،ٹائپسٹ کی غلطی سے محنت لکھا گیا ،

    اگر محنت بھی سمجھا جائے تو بھی بات سمجھ آتی ہے ،کہ ہر کام میں محنت کریں تو کامیابی ملتی ہے ،
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  4. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    جاذبہ (05-23-2014)

  5. #3
    ناظم
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    1,307
    شکریہ
    0
    50 پیغامات میں 68 اظہار تشکر

    جواب: دعوت و تبلیغ کی محنت


    [size=x-large] ناراضگی ظاہر کرنا دل میں برائی رکھنے سے بہتر ہے[/size]

  6. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے گلاب خان کا شکریہ ادا کیا:

    جاذبہ (05-23-2014)

  7. #4
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Dec 2010
    مقام
    کراچی
    پيغامات
    393
    شکریہ
    65
    55 پیغامات میں 107 اظہار تشکر

    جواب: دعوت و تبلیغ کی محنت

    ماشاء اللہ ! دعوت و تبلیغ کا مقصد اور محنت انسان کو انسانیت کی معراج تک پہنچانا ہے۔ اکابر علماء نے معاشرہ کی پستی اور زوال کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک ایسی محنت کی داغ بیل ڈالی جو کہ اصلاح معاشرہ اور تقویٰ کی بنیاد پر مسلمان کو اس مقام پر لاکھڑا کردے جہاں سے وہ گرا تھا۔ بے باک بھائی، آپ کی بات اپنی جگہ پر ٹھیک ہے کہ محبت کا لفظ ہوگا لیکن حقیقتا یہاں پر اکرام کی محنت ہے۔ یعنی اپنے آپ پر محنت کرکے اس قابل بنانا ہے کہ دوسرے مسلمان کا اکرام کیا جاسکے۔ جب تک اپنے نفس پر محنت نہ ہوگی یہ مقام حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے کہ ’’ان النفس لأمارۃ بالسوء ، الا ما رحم ربی‘‘ مفہوم ہے کہ بے شک نفس برائی کی دعوت دیتا ہے مگر اللہ تعالیٰ اس نفس پر اپنا رحم فرمادیں تو پھر یہ برائی سے بچ کر اچھائی کی طرف آتا ہے۔ اس لیے محنت تو شرط ہے۔ ایک بزرگ نے فرمایا کہ ’’مال بقدرِ قسمت ہے اور دین بقدرِ محنت‘‘ یعنی مال تو اللہ تعالیٰ نے جو قسمت میں لکھ دیا ہے وہ مل کر رہے گا، لیکن دین اللہ تعالیٰ نے محنت پر رکھ دیا ہے جو جتنی محنت کرے گاجتنا اللہ تعالیٰ کو راضی کرے گا اور اپنے نفس کو مٹائے گا تو اتنا ہی اسے قربِ الٰہی عطا کیا جائے گا۔
    جب مٹی اپنی خودی تب خدا مجھ کو ملا
    مجھ کو زندہ کردیا شوقِ فنا فی اللہ نے


    -------------------------
    اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
    ہم نے تو دل جلاکے سرِ راہ رکھ دیا
    ---------------------

  8. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے سرحدی کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (05-24-2014),جاذبہ (05-25-2014)

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University