نتائج کی نمائش 1 تا: 3 از: 3

موضوع: سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2014
    پيغامات
    732
    شکریہ
    171
    123 پیغامات میں 141 اظہار تشکر

    سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ

    نام: حسین کنیت: ابو عبد اللہ
    لقب: ریحانۃ النبی، سید شباب اہل الجنۃ
    علی المرتضیٰ والد اور سیدہ بتول جگر گوشہ رسول والدہ تھیں، اس لحاظ سے آپ کی ذات گرامی قریش کا خلاصہ اور بنی ہاشم کا عطر تھی،
    شجرہ نسب: حسین بن علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف قریشی ہاشمی
    آپ کی پیدائش: ابھی آپ شکم مادر میں تھے کہ حضرت حارث رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی نے خواب دیکھا کہ کسی نے رسول اکرم ﷺ کے جسم اطہر کا ایک ٹکڑا کاٹ کر ان کی گود میں رکھ دیا ہے۔ انہوں نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! میں نے ایک ناگوار اور بھیانک خواب دیکھا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ بیان کرو، آخر کیا ہے؟ چنانچہ آپ ﷺ کے اصرار پر انہوں نے اپنا خواب بیان کیا ، آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تو نہایت مبارک خواب ہے، اور فرمایا کہ فاطمہ کے ہاں لڑکا پیدا ہوگا اور تم اسے گود میں لوگی۔(مستدرک حاکم ج۳ صفحہ۱۷۶)
    کچھ دنوں کے بعد اس خواب کی تعبیر ملی اور ریاض نبوی ﷺ میں وہ خوش رنگ ارغونی پھول کھلا جس کی مہک حق و صداقت، جرات و بسالت، عزم و استقلال، ایمان و عمل اور ایثار و قربانی کی وادیوں کو ابد الآباد تک بساتی اور عقیق کی سرخی طرح چمکاتی رہے گی، یعنی ماہِ شعبان ۴ ھجری میں علی رضی اللہ عنہ کا کاشانہ حسین کے تولد سے رشک گلزار بنا، ولادت باسعادت کی خبر سن کر آپ ﷺ تشریف لائے اور فرمانے لگے بچہ مجھے دکھاؤ، اس کا نام کیا رکھا ہے؟ آپ ﷺ نے نومولود بچے کو منگوا کر اس کے کان میں اذان دی، اس طرح گویا پہلی مرتبہ خود زبانِ وحی و الہام نے اس بچے کے کان میں توحیدِ الٰہی کا صور پھونکا۔
    پھر فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کو عقیقہ کرنے اور بچے کے بالوں کے مطابق چاندی خیرات کرنے کا حکم دیا، آپ ﷺ کے حکم کے مطابق فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا نے عقیقہ کیا۔(موطا مام مالک، کتاب العقیقۃ)
    اوروالدین نے بچے کا نام حرب رکھا تھا، لیکن آپ ﷺ کو یہ نام پسند نہ آیا پھر نبی ﷺ نے نام بدل کر حرب سے حسین رکھا۔(اسد الغابۃ، ج۲ ص ۱۸)
    حسین اور عہدِ نبویﷺ:
    سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بچپن کے حالات میں صرف ان کے ساتھ آپ کے پیار اور محبت کے واقعات ملتے ہیں، آپ ﷺ نے ان کے ساتھ خلاف معمول شفقت فرماتے تھے، آپ ﷺ تقریباً روزانہ دونوں بھائیوں کو دیکھنے کے لئے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے اور دونوں بھائیوں کو بلا کر پیار کرتے اور کھلاتے، دونوں بھائی آپ ﷺ نے بے حد مانوس اور شوخ تھے، لیکن آپ ﷺ نے کبھی کسی شوخی پر انہیں تنبیہ نہیں فرمائی بلکہ ان کی شوخیاں دیکھ کو خوش ہوتے تھے، اور جب آپ ﷺ کا سایہ شفقت سر سے اٹھ گیا تو اس وقت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی عمر سات برس کی تھی۔
    عہد صدیقی اور حسین رضی اللہ عنہ:
    سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں سیدنا حسین کی عمر ۷ ,۸ سال سے زیادہ نہ تھی اس لئے ان کے عہد کا کوئی خاص واقعہ قابلِ ذکر نہیں ہے۔
    عہدِ فاروقی اور حسین رضی اللہ عنہ:
    سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی عہد خلافت میںبھی سیدنا حسین کم سن تھے، البتہ آخری عہد میں سنِ شعور کو پہنچ چکے تھے، لیکن اس عہد کی مہمات میں ان کا نام نظر نہیں آتا۔اورسیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ پر بڑی شفقت فرماتے تھے اور قرابت رسول ﷺ کا خاص خیال رکھتے تھے، چنانچہ جب بدری صحابہ کے لڑکوں کا دو دو ہزار وظیفہ مقرر کیا تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا قرابتِ رسول ﷺ کا خیال رکھتے ہوئےپانچ ہزار ماہوار وظیفہ مقرر کیا۔(فتوح البلدان، بلاذری عطا عمر بن الخطاب)
    سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کسی بھی چیز میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی کو نظر انداز نہ ہونے دیتے ایک مرتبہ یمن سے بہت سے حلّے آئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تقسیم کر دیئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ روضہ نبوی اورمنبر کے درمیان تشریف فرماتھے لوگ ان حلّوں(جبُّوں) کو پہن کو شکریہ کے طور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو آکر سلام کرتے تھے، اسی دوران سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما اپنے گھر سے نکلے تو ان کا گھر(حجرہ) مسجد کے درمیان میں تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی نظر ان دونوں بھائیوں پر پڑی تو ان کے جسموں پر حلے نظر نہ آئے یہ دیکھ کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو تکلیف پہنچی اور لوگوں سے فرمانے لگے کہ تمہیں حلے پہنا کر مجھے کوئی خوشی نہیں ہوئی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے جسم ان حلوں سے خالی ہیں، اس کے بعد یمن کے حاکم کو خط بھیجا کہ جلد از جلد دو جبے بھیجیں۔ چنانچہ جبے منگوا کر دونوں بھائیوں کو پہنانے کے بعد فرمایا، اب مجھے خوشی ہوئی ہے، ایک روایت میں ہے کہ پہلے والے جبے سیدنا حسن و حسین کے لائق نہ تھے،(ابن عساکرج۴ ص۳۲۱/۲۳۲)
    سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے صاحبزادے عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے بھی زیادہ پسند کرتےتھے، جو عمر اور ذاتی فضل و کمال میں ان دونوں پر فائق تھے، ایک مرتبہ عمر رضی اللہ عنہ منبر نبوی خطبہ دے رہے تھے، اتنے میں حسین رضی اللہ عنہ آئے اور منبر پر چڑھ کر کہا کہ میرے باپ(رسول اللہ ﷺ) کے منبر سے اترو اور اپنے باپ کے منبر پر جاؤ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس طفلانہ شوخی پر فرمایا کہ میرے باپ کا تو کوئی منبر ہی نہیں تھا،، اور انہیں اپنے پاس بٹھالیا اور خطبہ ختم کرنے کے بعد انہیں اپنے ساتھ گھر لے گئے، راستے میں سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یہ تم کو کس نے سکھایا؟سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ واللہ ! کسی نے نہیں۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کبھی کبھی میرے پاس آیا کرو، چنانچہ اس ارشاد کے بعد ، ایک مرتبہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے، اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے اور ابن عمر رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے تھے، سیدنا حسین بھی ان ہی کے پاس کھڑے ہوگئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بغیر ملے واپس چلے گئے اس کے بعد جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو پوچھا کہ تم آئے کیوں نہیں؟ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں ایک مرتبہ آیا تھا، مگر آپ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ محو گفتگو تھے، اس لئے میں عبد اللہ کے ساتھ کھڑا رہا، پھر ان کے ساتھ لوٹ گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم ان کا ساتھ دینے کی کیا ضرورت تھی، تم تو ان سے زیادہ حقدار ہو، جو کچھ ہماری عزت ہے، وہ اللہ کے بعد تم ہی لوگوں کی دی ہوئی ہے۔(اصابہ ج ۲ ، ص ۱۵۰)
    عہدِ عثمانی اور حسین رضی اللہ عنہ:
    سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں سیدنا حسین پورے جوان ہوچکے تھے۔
    چنانچہ سب سے پہلے اسی عہد میں میدانِ جہاد میں قدم رکھا اور س ۳۰ ھجری میں طبرستان کی فوج کشی میں مجاہدانہ شریک ہوئے۔(ابن اثیرج۳ ص ۸۳)
    پھر جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کےخلاف بغاوت برپا ہوئی اور باغیوں نے قصر خلافت کا محاصرہ کیا تو سیدنا علی نے دونوں بھائیوں سیدنا حسن و حسین رضی اللہ عنہما کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ جو کہ ان دونوں بھائیوں کا خالو تھا، کی حفاظت پر مامور کیا کہ باغی اندر گھسنے نہ پائیں، چنانچہ حفاظت کرنے والوں کے ساتھ ان دونوں نے بھی نہایت بہادری کے ساتھ باغیوں کو اندر گھسنے سے روکے رکھا اور جب باغی مکان پر چڑھ کر اندر گھس گئے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر ڈالا اور جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شہادت کی خبر ہوئی تو انہوں نے دونوں بیٹوں کو بلا کر سخت ڈانٹا، اور باز پرس کی کہ تمہاری موجودگی میں باغی اندر کیسےگھس گئے؟(تاریخ الخلفا للسیوطی، ص ۱۵۹)
    میرے عزیز دوستو ! اس تمام مندرجات بالا کا خلاصہ کلام یہ ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ جن کے بارے میں رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا اہل جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں، اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ بن عبد المطلب کے متعلق فرمایا کہ سید الشہداء ہیں۔

  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    جواب: سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ

    جزاک اللہ ، بہت ہی معلوماتی مضمون تھا ،
    جنت میں جوانوں کے سردار ہیں ، جناب سیدنا حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما ۔
    ہمیں ان کی تعلیمات پر عمل کرکے ان سرداروں کی معیت میں آخرت میں رہنا ہے ،اور اے اللہ تعالی ہمیں ان کی مصاحبت نصیب فرما ، آمین
    پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، امام حسن اورامام حسین ، جوانان جنت کے سردار ہیں
    عن ابی سعید الخدری:'' عن النبی ۖ انہ قال الحسن والحسین سید اشباب اھل الجنة''۔(١)ترجمہ۔:ابی سعید خدری سےروایت ہے کہ حضور اکرم ۖ نے فرمایا: حسن اورحسین جوانان جنت کے سردار ہیں ۔نوٹ ابن ماجہ کی روایت میں یہ کلمات بھی موجود ہیں :''ابو ھما خیر منھما''.حسنین کے والد گرامی حضرت علی ان سے بھی بہتر ہیں ۔

    دوسری حدیث میں اس طرح بیان ہوا ہے : کچھ لوگ رسول خدا کے ساتھ ایک مہمانداری میں گئے، آن حضرت ان سب کے آگے آگے چل رہے تھے، راستے میں آپ نےحضرت حسین علیہ السلام کو دیکھا ، پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ
    حسین رضی اللہ عنہ کو اپنی آغوش میں لیں لیکن حضرت حسین رضی اللہ عنہ ادھر ادھر چلے جاتے تھے ، پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ حالت دیکھ کر مسکرائے ، اس کے بعد آپ کو آغوش میں لے کرپیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک ہاتھ امام حسین رضی اللہ عنہ کے سر پر رکھا اوردوسرا ہاتھ آپ کی ٹھوڑی کے نیچے رکھ کر آپ کے ہونٹوں کا بوسہ لیا اور فرمایا:
    حسین منی و انا من حسین احب اللہ من احب حسینا، حسین ۔۔۔مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں جو حسین کو دوست رکھے گا خدا اس کو دوست رکھے گا١۔
    ۔ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وسلم ،جناب حسن وامام حسین رضی اللہ عنہم کو اپنے کندھوں پر سوار کرتے تھے اور ان سے محبت کا اظہار کرتے تھے٢۔
    اور کبھی ایسا ہوتا تھا کہ رسول اکرم منبر پر خطبہ پڑھ رہے ہوتے تھے اور حسن وحسین کو دیکھ کر منبر سے نیچے آجاتے تھے اورسب کے سامنے ان کو گود میں لیتے تھے اور ان سے محبت کرتے تھے۔
    جب آپ سے سوال کیا جاتھا کہ گھر میں آپ سب سے زیادہ کس سے محبت کرتے ہیں تو آپ فرماتے تھے : ""حسن وحسین""ہمیشہ ان دونوں کی خوشبو کو سونگھتے رہتے تھے اور اپنے سینے سے لگائے رکھتے تھے۔
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  3. #3
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2014
    پيغامات
    732
    شکریہ
    171
    123 پیغامات میں 141 اظہار تشکر

    جواب: سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ

    اقتباس اصل پيغام ارسال کردہ از: بےباک پيغام ديکھيے
    جزاک اللہ ، بہت ہی معلوماتی مضمون تھا ،
    جنت میں جوانوں کے سردار ہیں ، جناب سیدنا حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما ۔
    ہمیں ان کی تعلیمات پر عمل کرکے ان سرداروں کی معیت میں آخرت میں رہنا ہے ،اور اے اللہ تعالی ہمیں ان کی مصاحبت نصیب فرما ، آمین
    پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، امام حسن اورامام حسین ، جوانان جنت کے سردار ہیں
    عن ابی سعید الخدری:'' عن النبی ۖ انہ قال الحسن والحسین سید اشباب اھل الجنة''۔(١)ترجمہ۔:ابی سعید خدری سےروایت ہے کہ حضور اکرم ۖ نے فرمایا: حسن اورحسین جوانان جنت کے سردار ہیں ۔نوٹ ابن ماجہ کی روایت میں یہ کلمات بھی موجود ہیں :''ابو ھما خیر منھما''.حسنین کے والد گرامی حضرت علی ان سے بھی بہتر ہیں ۔

    دوسری حدیث میں اس طرح بیان ہوا ہے : کچھ لوگ رسول خدا کے ساتھ ایک مہمانداری میں گئے، آن حضرت ان سب کے آگے آگے چل رہے تھے، راستے میں آپ نےحضرت حسین علیہ السلام کو دیکھا ، پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ
    حسین رضی اللہ عنہ کو اپنی آغوش میں لیں لیکن حضرت حسین رضی اللہ عنہ ادھر ادھر چلے جاتے تھے ، پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ حالت دیکھ کر مسکرائے ، اس کے بعد آپ کو آغوش میں لے کرپیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ایک ہاتھ امام حسین رضی اللہ عنہ کے سر پر رکھا اوردوسرا ہاتھ آپ کی ٹھوڑی کے نیچے رکھ کر آپ کے ہونٹوں کا بوسہ لیا اور فرمایا:
    حسین منی و انا من حسین احب اللہ من احب حسینا، حسین ۔۔۔مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں جو حسین کو دوست رکھے گا خدا اس کو دوست رکھے گا١۔
    ۔ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وسلم ،جناب حسن وامام حسین رضی اللہ عنہم کو اپنے کندھوں پر سوار کرتے تھے اور ان سے محبت کا اظہار کرتے تھے٢۔
    اور کبھی ایسا ہوتا تھا کہ رسول اکرم منبر پر خطبہ پڑھ رہے ہوتے تھے اور حسن وحسین کو دیکھ کر منبر سے نیچے آجاتے تھے اورسب کے سامنے ان کو گود میں لیتے تھے اور ان سے محبت کرتے تھے۔
    جب آپ سے سوال کیا جاتھا کہ گھر میں آپ سب سے زیادہ کس سے محبت کرتے ہیں تو آپ فرماتے تھے : ""حسن وحسین""ہمیشہ ان دونوں کی خوشبو کو سونگھتے رہتے تھے اور اپنے سینے سے لگائے رکھتے تھے۔

    ماشا اللہ بہت جامع جواب دیا ہے اللہ رب العزت آپ کے علم اورنیک عمل میں اضافہ فرمائے۔ آمین
    جزاک اللہ خیر

  4. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے حبیب صادق کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (06-11-2014)

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University