تو جو اللہ کا محبوب ہوا خوب ہوا

یا نبی خوب ہوا خوب ہوا خوب ہوا


شب معراج یہ کہتے تھے فرشتے باہم
سخن طالب و مطلوب ہوا خواب ہوا

حشر میں امت عاصی کا ٹھکانا ہی نہ تھا
بخشوانا تجھے مر غوب ہوا خوب ہوا

تھا سبھی پیش نظر معرکہ کرب و بلا
صبر میں ثانی ایوب ہوا خوب ہوا

داغ ہے روز قیامت مری شرم اسکے ہاتھ
میں گناہوں سے جو محبوب ہوا خوب ہوا
٭٭٭