نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: بہاریں، خزائیں، بدلتے ہوئے موسموں کے ترانے

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2014
    پيغامات
    5,512
    شکریہ
    654
    715 پیغامات میں 742 اظہار تشکر

    بہاریں، خزائیں، بدلتے ہوئے موسموں کے ترانے


    یہ سب چاند، تارے
    بہاریں، خزائیں، بدلتے ہوئے موسموں کے ترانے

    ترا حسن، میری نم آلود آنکھیں
    تصور کے ایواں، نگاہوں کی کلیاں، لبوں کے افسانے
    یہ سب میرے سانسوں کی جادوگری ہے
    مگر مجھ کویہ غم ہے کہ جب میں مروں گا
    یہ سب چاند، تارے
    بہاریں خزائیں
    بدلتے ہوئے موسموں کے ترانے
    ترا حسن، دنیا کے رنگیں فسانے
    یہ سب مل کر زندہ رہیں گے
    فقط اک مری اشک آلود آنکھیں نہ ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

    ٭٭٭




  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے حبیب صادق کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (06-11-2014)

  3. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,205
    شکریہ
    2,192
    1,260 پیغامات میں 1,635 اظہار تشکر

    جواب: بہاریں، خزائیں، بدلتے ہوئے موسموں کے ترانے

    بہت ہی خوب ، شاندار
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University